پی این اے کی کوآرڈی نیشن کمیٹی کے سیکرٹری مالیات نے عہدے سے استعفیٰ دیدیا

کشمیری قوم پرست اور ترقی پسند تنظیموں کے اتحاد پیپلز نیشنل الائنس کی کوآرڈی نیشن کمیٹی کے سیکرٹری مالیات سجاد افضل نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا ہے۔ اپنا استعفیٰ انہوں نے جمعرات کی شب چیئرمین کوآرڈی نیشن کمیٹی پیپلز نیشنل الائنس راجہ ذوالفقار احمد کو ارسال کرنے کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی جاری کیا۔

استعفیٰ میں سجاد افضل نے لکھا کہ انہوں نے اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی مقدور بھرکوشش کی جبکہ انکی پارٹی نے بھی مجموعی طور پر اس نازک مرحلہ پر تحریک کو مضبوط کرنے اور اسے تسلسل بخشنے کیلئے اپنے حصے کا کردار ادا کیا۔

انہوں نے استعفے کی تحریر میں الزام عائد کیا کہ متعدد بار تحریکی سرگرمیوں کے متعلق سرد مہری، منصوبہ بندی کے فقدان اور جتھے بندیوں کے ماحول پر کڑی تنقید اور صائب مشاورت دینے کے باوجود کہیں بھی شنوائی نہ ہو پائی۔ اس صورتحال میں پارٹی نے مجھے ذمہ داری سے مستعفی ہونے کا حکم دیا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ وہ بوجوہ بطور سیکرٹری مالیات استعفیٰ پیش کرتے ہیں، لیکن تفصیلات متعلقہ فورم پر بتائی جائیں گی۔

تاہم سوشل میڈیا پر ہی چیئرمین کوآرڈی نیشن کمیٹی راجہ ذوالفقار احمد نے استعفیٰ منظور نہ کئے جانے کا عندیہ دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر استعفیٰ شیئر کئے جانے کے عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس پانچ اگست کو بھارت زیر انتظام جموں کشمیر کو وفاق کے زیر انتظام دو الگ الگ حصوں میں تقسیم کئے جانے کے بھارتی قانون کی منظوری کے بعد لاک ڈاؤن اور احتجاج کی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں بھی ایک معمولی عوامی تحرک دیکھنے کو ملا تھا۔

مذکورہ تحرک کو ہی دیکھتے ہوئے دس اگست کو چیئرمین لبریشن فرنٹ سردار محمد صغیر خان کی کال پر قوم پرست اور ترقی پسند تنظیموں کاایک اجلاس منعقدہوا تھا جس میں تحریک کو منظم کرنے اور جموں کشمیر کے لوگوں کو درپیش فوری مسائل کے خلاف جدوجہد کرنے کیلئے چار نکاتی چارٹرپر اتفاق رائے کرتے ہوئے ایک اتحاد کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ پیپلز نیشنل الائنس کے نام سے قائم اتحاد میں ابتدائی طو رپر ستائیس پارٹیاں شامل تھیں، جو بعد ازاں کم ہو کر پندرہ رہ گئی تھیں۔

مذکورہ الائنس کو چلانے کیلئے رکن پارٹیوں اور تنظیموں کے ایک ایک ممبر پر مشتمل کوآرڈی نیشن کمیٹی قائم کی گئی تھی۔ اورعبوری طورپرراجہ ذوالفقار احمد ایڈووکیٹ کو کمیٹی کا چیئرمین، سردار لیاقت حیات خان کو جنرل سیکرٹری، میر افضال سلہریا کو سیکرٹری اطلاعات نامزد کیا گیا تھا، جبکہ کمیٹی کے نامزد عہدیداران کی درخواست پر سردار سجاد افضل کو سیکرٹری مالیات نامزد کیا گیا تھا۔

مذکورہ کوآرڈی نیشن کمیٹی نے دو ماہ کے اندر اندر الائنس کاضابطہ اخلاق، اہداف اور لائحہ عمل مرتب کرتے ہوئے الائنس کے عہدیداران کے انتخاب سمیت چار نکاتی چارٹر کے گرد اس تحریک کو آگے بڑھانے کیلئے فیصلہ جات کرنا تھا۔

تاہم بعد ازاں کوآرڈی نیشن کمیٹی کے عہدیداران نے اپنے آپ کو الائنس کے عہدیداران کے طورپر پیش کرتے ہوئے یہ قرار دیدیا کہ انہیں ایک سال کیلئے عہدیداران منتخب کر لیا گیا تھا۔ لیکن بعض تنظیمیں اور پارٹیاں عہدیداران کو ایک سال کی توسیع دیئے جانے کے فیصلے سے لاعلمی کا اظہار کر تی آئی ہیں۔

الائنس کی سرگرمیوں کے ساتھ ہی رکن تنظیموں کے خلاف مہم چلائے جانے کے الزامات بھی سامنے آتے رہے، بعض تنظیموں کی جانب سے یہ الزامات بھی عائد کئے گئے کہ عہدیداران کی ایماء پر انکے خلاف سوشل میڈیا پر اور رابطہ مہم کے دوران ایک پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے، انہیں آزادی کا دشمن اور ایجنٹ بنا کر پیش کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

الائنس کے زیر اہتمام گزشتہ برس بائیس اکتوبر کو مظفرآباد میں ایک مرکزی سرگرمی منعقد کی گئی تھی، جس کے بعد بعض تنظیموں کی جانب سے سوشل میڈیا پر فنڈز کے خرد برد کے الزامات بھی عائد کئے تھے۔