پاکستانی کشمیر: تعلیمی اداروں کی نجکاری کا آغاز،38ادارے فاٹا کی این جی او کے حوالے

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ کے نام پرتعلیمی اداروں کی نجکاری کے منصوبے کا آغازکر دیاگیا ہے۔ابتدائی طور مظفرآباد اور پونچھ ڈویژن کے 38پرائمری سکولوں کو سابق فاٹامیں کام کرنے والی ایک غیر معروف این جی او کے حوالے کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ جبکہ نوٹیفکیشن کے مطابق کل 55ادارے مذکورہ این جی او کے حوالے کئے جائیں گے۔ مذکورہ این جی او نے کچھ مقامی اخبارات میں 55پرائمری تعلیمی ادارے چلانے کےلئے 100اساتذہ کی کنٹریکٹ پر بھرتی کےلئے اشتہار بھی جاری کر دیا ہے۔

تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ مذکورہ پرائمری تعلیمی اداروں کی عمارتیں اور اراضی ایک این جی او کے حوالے کرنے کےلئے کیا شرائط عائد کی گئی ہیں۔ نہ ہی یہ واضح کیا جا رہا ہے کہ مذکورہ این جی او تعلیمی اداروں میں تدریس کےلئے فیس کے تعین کےلئے کس قانون اور ضابطے کی پابندی ہوگی۔

محکمہ تعلیم کے حکام نے مذکورہ منصوبے سے متعلق معلومات فراہم کرنے سے محکمہ تعلیم کے ذمہ داران کو مبینہ طو رپر باز وممنوع رکھا ہوا ہے۔ ایک اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پربتایا ہے کہ پہلے پہل تو ان پرائمری تعلیمی اداروں کا انتظام و انصرام این جی او (غیر سرکاری تنظیم) کے حوالے کیا جا رہا ہے جنہیں اسلامی ترقیاتی بینک کے تعاون سے تعمیر کیا گیا ہے۔ اور یہ منصوبہ ”بنیادی تعلیم سب کےلئے“(بیسک ایجوکیشن فار آل) کے نام سے اسلامی ترقیاتی بینک کے تعاون سے چلایا جائے گا۔ جبکہ بعد ازاں دیگر پرائمری، مڈل اور ہائی سکولوں کو بھی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے منصوبے کے تحت مختلف این جی اوز کے حوالے کیا جائے گا۔ لیکن ابھی تک اس منصوبے سے متعلق قیاس آرائیاں ہی جاری ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سرکاری آسامیوں کو آہستہ آہستہ ختم کرتے ہوئے پورا تعلیمی نظام پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کرنے اورکنٹریکٹ کی بنیادوں پر چلائے جانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ جس پر بتدریج عمل درآمد کرتے ہوئے تعلیم کو مکمل طور پر پرائیویٹائز کیاجائے گا۔

ابھی تک سامنے آنے والی دستاویزات میں سیکرٹری ایلیمنٹری اور سیکنڈری ایجوکیشن کی جانب سے اٹھائیس ستمبر کو جاری ہونے والا ایک نوٹیفکیشن، یکم اکتوبر کو 38تعلیمی اداروں کی حوالگی کا نوٹیفکیشن، ایک اخباری اشتہار اور 38تعلیمی اداروں کی فہرست شامل ہیں۔

28ستمبر کو سیکرٹری ایلیمنٹری اور سیکنڈری ایجوکیشن کے دفتر سے جاری کردہ حکم نامہ کے تحت ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ مذکورہ کمیٹی اسلامی ترقیاتی بنک کے تعاون سے پرائمری ماڈل سکولوں کو پارٹنر تنظیم ”رورل امپاورمنٹ اینڈ انسٹیٹیوشنل ڈویلپمنٹ “ (ریپڈ) کو پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ کے تحت چلانے کےلئے اقدامات کرے گی۔ صفدر حسین بخاری کو کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔ سید علی حیدر بخاری کو سیکرٹری کمیٹی مقرر کیاگیا۔ جبکہ متعلقہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز اور ریپڈ کا ایک نمائندہ کمیٹی کے ممبران ہونگے۔ کمیٹی کا کام سکولوں کو پراجیکٹ منیجر ریپڈ کے حوالے کرنا، ہر سکول کی ہینڈنگ ٹیکنگ کرنا، ریپڈ کے حوالے کئے گئے سکولوں کا ریکارڈ مرتب کرنا اور تمام ریکارڈ اور حتمی رپورٹ محکمہ تعلیم کو جمع کروانا ہوگا۔

تشکیل کے دو روز بعد یکم اکتوبر کو کمیٹی کے چیئرمین صفدر حسین بخاری کی جانب سے میرپور اور پونچھ ڈویژن کے ضلعی تعلیمی افسران کو ایک مکتوب تحریر کیا۔ جس کے مطابق محکمہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے تحت اسلامی ترقیاتی بینک کے تعاون سے چلنے والے منصوبے ”بنیادی تعلیم سب کےلئے“ کے جزو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت 55ماڈل پرائمری سکولوں کا نظم و نسق پارٹنر تنظیم (این جی او) کے تحت چلانے کےلئے پونچھ اور مظفرآباد ڈویژن کے سکولوں کےلئے ریپڈ این جی او منتخب ہوئی ہے۔ مذکورہ این جی او کو ہینڈ اور کئے جانے والے سکولوں کی فہرست بھی مذکورہ مکتوب کے ساتھ ارسال کی گئی ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کن اصولوں کے تحت مذکورہ این جی او منتخب کی گئی ہے۔ نہ ہی اس متعلق کوئی اشتہار دیا گیا ہے اور نہ اس سے متعلق کوئی معلومات کسی فورم پر فراہم کی گئی ہے۔

مذکورہ این جی او کو فراہم کئے جانے والے سکولوں میں ضلع حویلی کے پانچ، ضلع باغ کے پانچ، پونچھ کے پانچ، سدھنوتی کے چھ، مظفرآباد کے چھ، نیلم کے پانچ اور جہلم (ہٹیاں بالا) کے چھ پرائمری سکول شامل ہیں۔

این جی او (ریپڈ) کی جانب سے پچپن سکولوں کو چلانے کےلئے کنٹریکٹ پر مرد و خواتین اساتذہ کی بھرتی کےلئے اشتہار بھی اخبارات کو جاری کر لیا ہے۔ مذکورہ اشتہار میں مظفرآباد اور پونچھ ڈویژن کی مختلف تحصیلوں سے کل 100مرد اور 90خواتین کی آسامیوں پر بھرتی کےلئے درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔ یہاں یہ واضح رہے کہ محکمہ تعلیم کے مکتوب کے مطابق تاحال پونچھ اور مظفرآباد ڈویژن کے 38پرائمری تعلیمی اداروں کا نظم و نسق سنبھالنے کےلئے مذکورہ بالا این جی او منتخب ہوئی ہے لیکن اخباری اشتہار کے تحت مذکورہ این جی او نے دیگر 17تعلیمی اداروں کےلئے بھی اپنے انتخاب کا دعویٰ کر دیا ہے۔

آسامیوں کےلئے طلب کی گئی درخواستوں کےلئے 580روپے فیس مقرر کی گئی ہے۔ درخواستیں ”الائیڈ ٹیسٹنگ سروس “ کی ویب سائٹ سے ڈاﺅنلوڈ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے لیکن مذکورہ ٹیسٹنگ سروس کی ویب سائٹ پر اس طرح کی کوئی درخواستیں تاحال موجود نہیں ہیں۔ پندرہ ایام کے اندر درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔

سکولوں کو چلانے کےلئے منتخب کی جانیوالی این جی او(غیر سرکاری تنظیم) کی ویب سائٹ پر فراہم کردہ معلومات کے مطابق یہ تنظیم 2007میں قائم کی گئی اورپاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقوں میں مختلف منصوبہ جات پر کام کر رہی ہے۔ تاہم ویب سائٹ پر فراہم کردہ معلومات میں کوئی ایسا منصوبہ موجود نہیں ہے جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ یہ این جی او پچپن سکول چلانے کی اہلیت رکھتی ہے۔ مذکورہ این جی او کی ویب سائٹ کو تاحال ماہانہ تین ہزارسے کم افراد وزٹ کرتے ہیں۔ ویب سائٹ پر موجودہ منصوبہ سمیت ماضی کے بھی کسی تکمیل شدہ یا زیر کار منصوبہ کی کوئی تفصیل بھی موجود نہیں ہے۔

طلبہ تنظیموں اورٹریڈ یونینز کے رہنماﺅںنے پرائمری سکولوں کو ایک این جی او کے حوالے کرنے کے منصوبے کو محکمہ تعلیم کی نجکاری کے خفیہ منصوبے کا حصہ قرار دیا ہے اور فوری طو رپر اس منصوبے کو واپس لینے اور محکمہ تعلیم میں سٹرکچرل اصلاحات کرنے،نصاب تعلیم کو جدید طرز پر رائج کرنے اور تعلیم کے کاروبار پر پابندی عائد کرتے ہوئے سرکاری سطح پر تعلیم کی مفت فراہمی کو یقینی بنانے کےلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان رہنماﺅں کا کہنا تھا کہ نااہل بیوروکریسی اور بوسیدہ نصاب سمیت رشوت اور سفارش کی بنیاد پر بھرتی کئے گئے نااہل سٹاف سمیت تعلیم کے کاروبارکے فروغ کی حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے سرکاری تعلیمی اداروں میں بچوں کو بھیجنے سے لوگ کترا رہے ہیں۔ تدریسی کوالٹی اور نصاب کو بہتر کرنے کی بجائے سرکاری اداروں کو پرائیویٹائز کرنا غریب عوام سے تعلیم کا حق چھیننے کے مترادف ہے۔

انہوںنے الزام عائد کیا کہ چند بیوروکریٹ اپنے کمیشن اور لوٹ مار کےلئے اس طرح کے منصوبہ جات بنانے اور ان پر عملدرآمدکرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ جس کی وجہ سے نہ صرف بڑے پیمانے پر روزگار کے ذرائع ختم ہونگے بلکہ بچوں کی ایک بڑی اکثریت تعلیم کے حق سے محروم ہو جائیگی۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: