راولاکوٹ تا اسلام آباد ” آزادی مارچ“، راہ میں رکاوٹیں، مظاہرین نے دھرنا دیدیا

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے شہر راولاکوٹ سے اسلام آباد کی جانب جانیوالا آزادی مارچ افسر مارکیٹ(شاہراہ غازی ملت) پردھرنا میں تبدیل ہو گیا ہے۔ یہ مارچ معروف آزادی پسند جماعت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ(صغیر) کی کال پر منعقد کیا گیا تھا۔ پوسٹ گریجویٹ کالج گراﺅنڈ راولاکوٹ سے ہفتہ کے روز اڑھائی بجے کے قریب پیدل مارچ کا آغاز ہوا۔ چیئرمین لبریشن فرنٹ سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ کی قیادت میں اس احتجاجی مارچ میں انجمن تاجران، نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن سمیت دیگر ترقی پسند تنظیموں کے کارکنان نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی۔

راولاکوٹ شہر بھر کا چکر لگانے کے بعد احتجاجی مارچ کے شرکاءنے بلدیہ اڈہ کے مقام سے گاڑیوں پر اسلام آباد کی طرف سفر شروع کیا لیکن راولاکوٹ کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے ملانے والی مرکزی شاہراہ کو انتظامیہ نے نصف درجن کے قریب مقامات سے رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر رکھا تھا۔ مظاہرین نے کچھ رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کی لیکن افسر مارکیٹ کے مقام پر سڑک پر پھینکے گئے پتھر ہٹانے میں مظاہرین ناکام ہو گئے۔ جس کے بعد انہوں نے وہیں پر دھرنا دے دیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک رکاوٹیں نہیں ہٹائی جاتیں اور انہیں اسلام آباد نہیں جانے دیا جاتا تب تک احتجاجی دھرنا جاری رہے گا۔

قبل ازیں مارچ کے آغاز کے موقع پر شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین لبریشن فرنٹ سردار محمد صغیر خان نے کہا کہ یہ احتجاجی مارچ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کو پاکستان کے صوبے بنانے کے منصوبہ اور جموں کشمیر کی تقسیم کو مستقل شکل دینے کے خلاف منعقد کیا جا رہا ہے۔ بڑی تعداد میں جموں کشمیر کے شہری اسلام آباد میں جا کر پاکستانی عوام کے نمائندوں اور محنت کشوں تک یہ پیغام پہنچانا چاہتے ہیں کہ وہ اس غیر جمہوری اقدام میں پاکستانی حکومت کا ساتھ نہ دیں۔ ہم ایک یادداشت پاکستانی پارلیمنٹرینز کو دینا چاہتے ہیں کہ وہ اس طرح کی کسی بھی قانون سازی کا حصہ نہ بنیں جس میں کشمیریوں کی رائے لئے بغیر انکے مستقبل کا کوئی فیصلہ کیا جائے اور ریاست جموں کشمیر کی تقسیم کو مستقل کرنے کا کوئی اقدام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر بشمول گلگت بلتستان کے مستقبل کا فیصلہ کرنا اس خطے کے باسیوں کا بنیادی انسانی حق ہے۔ ہم اس حق کے حصول کےلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم انتہائی پر امن انداز میں اسلام آباد جانا چاہتے ہیں، کوئی سڑک نہیں روکیں گے، کوئی دھرنا نہیں دینگے، کوئی پرتشدد اقدام نہیں کرینگے، پاکستانی عوام کے ٹیکسوں سے بنی کسی عمارت کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ پر امن احتجاج ہمارا بنیادی حق ہے اور اس حق کو استعمال کرنے سے روکنے کی کوششیں ترک کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں راستے میں کہیں روکا گیا تو ہم اسی جگہ پر دھرنا دینگے، سڑکیں اور راستے انتظامیہ نے خود بند کر رکھے ہیں۔ اس کے ذمہ دار ہم کسی طور نہیں ہیں، ہمیں پر امن احتجاج کا حق استعمال کرنے سے جہاں روکا گیا ہم وہیں پردھرنا دینگے اور یہ دھرنا غیر معینہ مدت تک دیا جائے گا۔

آخری اطلاعات تک آزادی مارچ کے شرکاءنے شاہراہ غازی ملت پر افسر مارکیٹ کے مقام پر دھرنا دے دیا ہے اور راستوں میں کھڑی کی گئی رکاوٹیں ہٹانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: