‌14ویں ترمیم کا مجوزہ ڈرافٹ کونسل کے اختیارات بحال، 12 نشستوں‌کے اضافے کی تجویز

پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر میں‌نافذ العمل عبوری آئین 1974ء میں‌چودہویں‌ترمیم کے لئے مجوزہ ڈرافٹ تیار کر لیا گیاہے. کہا یہ جا رہا ہے کہ مجوزہ ڈرافٹ پاکستان کی وفاقی حکومت کے وزیر قانون فروغ نسیم کی سربراہی میں‌تیار کیا گیا ہے جسے پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر کی حکومت کو اسمبلی سے منظور کروانے کےلئے بھیجا گیا ہے.

دس صفحات پر مشتمل مذکورہ مجوزہ ڈرافٹ گزشتہ روز ہی سامنے آیا ہے. جس میں‌مجموعی طور پر پندرہ بڑی تبدیلیاں کرتے ہوئے نہ صرف کشمیر کونسل کے قانون سازی کے اختیارات بحال کرنے کی ترامیم تجویز کی گئی ہیں‌بلکہ ساتھ ہی بھارتی زیر انتظام جموں‌کشمیر کےعلاقوں (جموں5 ، کشمیر5 اور لداخ2 )کےلئے 12 نشستیں‌مختص کرتے ہوئے کل نشستوں‌کی تعداد 65 کرنے کی تجویز دی گئی ہے. تاہم نئی شامل ہونے والی بارہ نشستوں‌ پر بھارتی زیر انتظام جموں‌کشمیر کی آزادی تک انتخابات نہیں‌کروائے جائیں‌گے. اس کے علاوہ ججز کی تقرری کے طریقہ کار میں‌ایک مرتبہ پھر ردو بدل کیا گیا ہے. انجمن سازی، یونین سازی اور سیاسی جماعتوں کے قیام سے متعلق شقوں میں‌بھی تبدیلیاں‌کی گئی ہیں. پاکستان مخالف نظریات رکھنے والی جماعتوں پر پابندی اور ہر جماعت کے فنڈنگ سورس کی تحقیقات کا طریقہ کار بھی تجویز کیا گیا ہے.

ذیل میں‌چودہویں‌ترمیم کے مجوزہ ڈرافٹ میں‌تجویز کی گئی ترامیم کا مختصر جائزہ لیا گیا ہے:-

اس ایکٹ کو آزاد جموں‌و کشمیر عبوری دستور (چودہویں ترمیم) ایکٹ 2020 کہا جائیگا.اور یہ ایک ہی بار میں‌نافذ ہو جائیگا.

عبوری دستور 1974 کے آرٹیکل 04 کے ذیلی آرٹیکل 04 کے پیرا گراف 7 کو تبدیل کیا گیا ہے. جس کے مطابق:

انجمن کی آزادی:-
1). ریاست کے ہر باشندہ کو یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ پاکستان یا آزاد جموں‌و کشمیر (پاکستانی زیر انتظام کشمیر) کی خودمختاری اور سالمیت اور اخلاقیات و پبلک آرڈر کے مفاد میں‌قانون کی طرف سے عائد کردہ کسی بھی معقول پابندی کے تحت انجمن یا یونین تشکیل دے.
2).پاکستان اور آزاد جموں‌و کشمیر کی خودمختاری اور سالمیت کے مفاد میں‌قانون کی طرف سے عائد کردہ کسی بھی معقول پابندی پر عمل پیرا رہتے ہوئے ہراس سٹیٹ سبجیکٹ (باشندہ ریاست) کو کوئی سیاسی جماعت تشکیل دینے یا اسکا رکن بننے کا حق حاصل ہو گا جو سروس آف پاکستان یا آزاد جموں و کشمیر میں شامل نہ ہو. ‌یہ قانون حکومت پاکستان کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت کے پاکستان یا آزاد جموں‌و کشمیر کی سالمیت اور خودمختاری کے خلاف کام کرنے کی نشاندہی کر سکے گی. حکومت پاکستان اس طرح کے اعلان کے پندرہ دن کے اندر معاملہ سپریم کورٹ کے پاس بھیجے گی جس کا فیصلہ حتمی ہوگا.
3). آزاد جموں و کشمیر(پاکستانی زیر انتظام کشمیر) میں‌کسی بھی فرد یا سیاسی جماعت کو اجازت نہیں‌ہو گی کہ وہ ریاست کے پاکستان سے الحاق کے نظریہ (نظریہ الحاق پاکستان) کے خلاف کوئی پروپیگنڈہ کرنے، متعصبانہ یا مضر سرگرمیوں میں‌حصہ لے.
4). ہر سیاسی جماعت قانون کے مطابق اپنے فنڈز کے ذرائع کا محاسبہ کرے گی.

ٰ(ب) پیرگراف 17 میں درج لفظ ریاست کو آزاد جموں‌و کشمیر سے تبدیل کیا جائے گا.

عبوری آئین کے آرٹیکل 19 کے ذیلی آرٹیکل (1) کو تبدیل کرتے ہوئے درج ذیل شق شامل کی گئی ہے:-

1). قانون ساز اسمبلی کو حاصل قانون سازی کے اختیارات بشمول تھرڈ شیڈول میں‌درج کشمیر کونسل کی قانون سازی کی فہرست میں‌ شامل معاملات میں‌حکومت کی ایگزیکٹو اتھارٹی کو توسیع کا اختیار ہوگا جسے درج ذیل طریقے سے استعمال کیا جائے گا:
(الف) شق نمبر 31 کی ذیل شق 4 میں بیان کردہ معاملات کے سلسلہ میں حکومت پاکستان کی ذمہ داریوں‌میں‌مداخلت نہیں‌کرنی؛ اور
(ب) کونسل قانون سازی فہرست میں‌بیان کردہ معاملات کے سلسلہ میں‌بنائے گئے قوانین کی تعمیل کو یقینی بنایا جائے گا.

عبوری دستور کے آرٹیکل 21 کے سب آرٹیکل 8 کوتبدیل کر دیا گیا. جس کی جگہ درج ذیل سب آرٹیکل شامل کیا گیا:

(8) تیسرے شیڈول میں طے شدہ امور اور مضامین کے سلسلے میں کونسل کو قانون ساز اختیارات حاصل ہوں گے۔

آرٹیکل نمبر 21 کے سب آرٹیکل 8 کے بعد سب آرٹیکل 9، 10، 11 اور 12 کو شامل کیاجائے گا، جو درج ذیل ہونگے:

9). تیسرے شیڈول میں‌بیان کردہ مضامین اور معاملات کے سلسلہ میں ایگزیکٹو اتھارٹی کا استعمال حکومت عبوری آئین کی شق نمبر 19 کی ذیلی شق نمبر 01 کے مطابق کرے گی.

10)کونسل اپنے طریق کار اور اپنے کاروبار کو منظم کرنے کے لئے قواعد تشکیل دے سکتی ہے ، اور اس کی رکنیت میں خالی جگہ کے باوجود عمل کرنے کا اختیار رکھ سکتی ہے ، کونسل کی کوئی بھی کارروائی اس بنیاد پر باطل نہیں ہوگی کہ جو شخص ایسا کرنے کا اہل نہیں تھا وہ کارروائی میں‌شریک ہوا ، اس نے ووٹ دیا یا کسی اور طرح سے اس کارروائی میں حصہ لیا۔

11) کونسل چیئرمین کونسل کے بزنس کو باقاعدہ بنا سکتاہے، بزنس کےلئے کوئی بھی کام حکام یا ماتحت افسروں کو تفویض کر سکتا ہے.

12) وزیراعظم پاکستان کے الفاظ اس شق میں‌جہاں‌بھی پائے جاتے ہیں وہاں اس شخص کو تصور کیا جائے گا جو اس وقت پاکستان کے چیف ایگزیکٹو کے اختیارات استعمال کر رہا ہو.

عبوری آئین کے آرٹیکل نمبر 22 کے سب آرٹیکل 1 میں‌53 کی جگہ 65 لکھا جائےگا. اور شق ای کے بعد شق ایف بھی شامل کی جائیگی، جو درج ذیل ہوگی:

(ایف) ریاست جموں و کشمیر کے مندرجہ ذیل علاقوں سے 12 ممبران جو اس وقت انڈیا کے کنٹرول میں‌ہیں:
i) وادی (کشمیر) سے پانچ
ii) جموں سے پانچ؛ اور
iii) لداخ سے دو
تاہم اس شق میں مذکور ممبران کا انتخاب نہیں‌ہوگا یا وہ اسمبلی کی ممبرشپ کی گنتی میں‌شامل نہیں‌ہونگے، اس وقت تک کہ جب ریاست جموں‌کشمیر کے ان حصوں سے بھارت کا قبضہ ختم نہیں‌ہوتا اوروہاں‌کے لوگ اپنے نمائندوں‌کا خود انتخاب نہیں‌کرتے. یعنی یہ بارہ نشستیں قانون سازی کے عمل، صدر، وزیراعظم، سپیکر یا ڈپٹی سپیکر کے عہدے کےانتخاب کےلئے گنتی میں شمار نہیں‌کی جائیں گی.

سی). سب آرٹیکل چار میں‌60 کی جگہ 90 لکھا جائیگا. (یعنی اسمبلی کی مدت مکمل ہونے کے ساٹھ ایام کی بجائے اب نوے ایام کے اندر الیکشن کا انعقاد یقینی بنایا جائیگا)

عبوری دستور کے آرٹیکل 31 کے ذیلی آرٹیکل 2، 3 اور چار کو درج ذیل آرٹیکلز سے تبدیل کر دیا گیا ہے:-

2) اسمبلی کو خصوصی اختیار حاصل ہوگا کہ وہ کسی بھی ایسے معاملے پرقوانین بنائے جو تھرڈ شیڈول میں شامل نہ ہو۔

3) کونسل کو خصوصی اختیارات حاصل ہوں گے کہ وہ تھرڈ شیڈول میں درج کسی بھی معاملے کے سلسلے میں قانون بنائے۔

4) کونسل اوراسمبلی کو درج ذیل معاملات سے متعلق قانون سازی کا اختیارنہیں‌ ہوگا: –
(الف) UNCIP قراردادوں کے تحت حکومت پاکستان کی ذمہ داریاں۔
(ب) آزاد جموں و کشمیر کا دفاع اور سلامتی۔
(ج) موجودہ سکے یا بل ، نوٹ یا دیگر کاغذی کرنسی کا اجرا؛ یا
(د) آزاد جموں و کشمیر کے بیرونی امور بشمول غیر ملکی تجارت اور غیر ملکی امداد۔

عبوری آئین کے آرٹیکل 34 کے بعد ایک نیا درج ذیل آرٹیکل 35 شامل کیا گیا ہے:-
35). کونسل کے ذریعے منظور کردہ بل کے لئے صدر کی رضامندی کی ضرورت نہیں ہوگی اور کونسل کے چیئرمین کے ذریعہ اس کی توثیق ہونے پر وہ قانون بن جائے گا اور کونسل کا ایکٹ کہلائے گا۔

عبوری آئین کے آرٹیکل 41 میں‌ترمیم کے بعد ایک نیا آرٹیکل 41-Aشامل کیا گیا جو درج ذیل ہے:-

41-اے). آزاد جموں وکشمیر کا جوڈیشل کمیشن ہوگا ، جو سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز کی تقرری کےلئے تجاویز تیار کرے گا۔

(2) سپریم کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے کمیشن درج ذیل ممبران پر مشتمل ہوگا:
(i) چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر (چیئرمین)
(ii) سپریم کورٹ سینئر ترین جج (ممبر)
(iii) سپریم کورٹ کا دوسرا سینئر ترین جج (ممبر)
(iv) وزیر برائے قانون آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر( ممبر)
(v) ایک سینئر وکیل جو ایک سال کی مدت کے لئے آزاد جموں‌و کشمیر بار کونسل کے ذریعہ نامزد ہوگا

3) ذیلی آرٹیکل (1) یا ذیلی آرٹیکل (2) میں شامل کسی بھی چیز کے باوجود صدر آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج کی بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ تقرری کرے گا۔

4) کمیشن اپنے طریقہ کار کو باقاعدہ بنانے کے قواعد وضع کرسکتا ہے۔

5) ہائیکورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے ، ذیلی آرٹیکل (2) میں کمیشن مندرجہ ذیل ممبران بھی شامل کرے گا:
(i) ہائی کورٹ کے چیف جسٹس(ممبر)
(ii) سینئر ترین جج ہائی کورٹ (ممبر)
بشرطیکہ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی تقرری کے لئے ، سب سے سینئر جج ذیلی آرٹیکل (5) کے سیریل نمبر (II) میں مذکور ہے ، کمیشن کا ممبر نہیں ہوگا۔

6) کمیشن کے ممبران اکثریتی رائے سے سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ میں جج کی ہر خالی جگہ کے لئے تین افراد کا پینل تیار کر کے وزیراعظم آزاد جموں‌و کشمیر کو ارسال کرینگے.

عبوری آئین کے آرٹیکل 42 کے ذیل آرٹیکل 4 کو تبدیل کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ آزاد جموں‌و کشمیر کے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے ہر جج کی تقرر صدر آزاد جموں‌و کشمیر وزیراعظم کے مشورے پر کرے گااور یہ کام آرٹیکل 41-اے کے مطابق سرانجام دیا جائے گا.(اس کے علاوہ ایڈہاک جج کی تقرری کےلئے بھی مخصوص وقت اور مقصد کی وضاحت پیشگی شامل کرنے کا اضافہ بھی کیا گیا ہے)

آرٹیکل 43 کے ذیلی آرٹیکل 2-اے کو بھی تبدیل کرتے ہوئے چیف جسٹس ہائی کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز کے تقرر کا طریقہ کار بھی سپریم کورٹ کی طرز پر کرنے کی تجویز دی گئی ہے.

اسی طرح‌ارٹیکل 43 کے ذیل آرٹیکل 3 میں‌ترمیم کر کے ہائی کورٹ کے جج کےلئے دس کی بجائے 15 سال تجربہ بطور ہائی کورٹ لازمی قرار دیا گیا ہے. اسی طرح‌شق الف میں ایک نئے پیرا گراف کا اضافہ کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے جج کی قابلیت میں‌شامل کیا گیا ہے کہ اس کے کم از کم 25 سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے فیصلہ جات قومی جریدہ برائے قانون میں‌شامل ہونے چاہئیں. اس کے علاوہ ہائی کورٹ کے جج کےلئے کم از کم عمر کی حد 50 سال بھی مقرر کی جانی تجویز کی گئی ہے.

ہائی کورٹ کے جج کی تقرری کےلئے 70 فیصد کوٹہ وکلاء کےلئے اور 30 فیصد جوڈیشل افسران کےلئے مختص کرنے کی بھی تجویز ہے.

عبوری دستور کے تھرڈ شیڈول کو بھی تبدیل کرنے کی تجویز دی گئی ہے جو درج ذیل ہے:-
(نوٹ:‌تھرڈ شیڈول میں‌شامل معاملات پر قانون سازی کا اختیار کشمیر کونسل کو دیئے جانے کی تجویز ہے)

1.پوسٹ اور ٹیلی گراف ، بشمول ٹیلیفون ، وائرلیس ، براڈ کاسٹنگ اور دیگر جیسے مواصلات؛ پوسٹ آفس بچت بینک۔

2.ایٹمی توانائی ، بشمول:

(a) جوہری توانائی کی پیداوار کے لئے ضروری معدنی وسائل؛

(ب) جوہری ایندھن کی پیداوار اور ایٹمی توانائی کی پیداوار اور استعمال۔ اور

(c) آئیونائزنگ تابکاری۔

3.ہوائی جہاز اور ہوائی نیویگیشن؛ ایروڈوم کی فراہمی؛ ہوائی ٹریفک اور ایروڈروم کی تنظیم سازی۔

4.ہوائی جہاز کی حفاظت کے لئے بیکنز اور دیگر دفعات۔

5.مسافروں اور سامان کے ذریعے ہوائی جہاز۔

6.کاپی رائٹ ، ایجادات ، ڈیزائنز ، ٹریڈ مارک اور تجارتی نشانات۔

7.افیون کی برآمد اور فروخت۔

8.اسٹیٹ بینک آف پاکستان؛ بینکنگ ، یعنی یہ کہنا ہے کہ ، آزاد جموں و کشمیر کی ملکیت یا ان کے زیر انتظام کارپوریشنوں کے علاوہ کارپوریشنوں کے ذریعہ بینکنگ کاروبار کا انعقاد اور صرف آزاد جموں و کشمیر میں ہی کاروبار جاری ہے۔

9.انشورنس قانون ، سوائے آزاد جموں و کشمیر کے ذریعہ کئے گئے انشورنس کا احترام اور انشورنس کاروبار کے انعقاد کے ضوابط ۔

10۔ اسٹاک ایکسچینجز اور فیوچر مارکیٹ اور اشیاء جن کا کاروبار آزاد جموں و کشمیر تک ہی محدود نہیں۔

11.سائنسی اور تکنیکی تحقیق کی منصوبہ بندی اور کوآرڈینیشن سمیت معاشی ہم آہنگی کی منصوبہ بندی۔

12.شاہراہیں جو آزاد جموں و کشمیر کے علاقے سے آگے جاتی ہیں اور حکومت پاکستان کی جانب سے اعلان کردہ سڑکیں بھی جو اسٹریٹجک اہمیت کی حامل ہیں۔

13.بیرونی امور؛ دیگر ممالک کے ساتھ تعلیمی اور ثقافتی معاہدے اور معاہدوں سمیت معاہدوں کا نفاذ بشمول پاکستان سے باہر کی حکومتوں میں مجرموں اور ملزموں کی حوالگی.

14.زرمبادلہ؛ چیک ، بل کا تبادلہ ، وعدہ نوٹوں اور ایسے ہی دوسرے آلات۔

15.لائبریریاں ، عجائب گھر اور ایسے ادارے جو حکومت پاکستان کے زیرانتظام ہیں یا مالی تعاون حاصل ہے۔

16.حکومت پاکستان کی ایجنسیوں اور انسٹی ٹیوٹ کو مندرجہ ذیل مقاصد کے لئے ، یعنی تحقیق کے لئے ، پیشہ ورانہ یا تکنیکی تربیت کے لئے ، یا خصوصی مطالعات کے فروغ کے لئے۔

17.آزاد جموں و کشمیر کے طلباء اور آزاد جموں و کشمیر میں غیر ملکی طلبا کے احترام کے طور پر تعلیم۔

18.حکومت پاکستان کی تعریف کے مطابق کسٹم فرنٹیئرز میں درآمد اور برآمد۔

19.بین الاقوامی معاہدے ، کنونشن ، معاہدے اور بین الاقوامی ثالثی۔

20.جیولوجیکل سروے اور موسمیاتی تنظیموں سمیت سروے

21.وزن اور اقدامات کے معیار کا قیام۔

22.کسٹم کے فرائض ، بشمول ایکسپورٹ ڈیوٹی۔

23.ریلوے۔

24.معدنی تیل اور قدرتی گیس۔ حکومت پاکستان کی جانب سے اعلان کردہ مائعات اور مادے خطرناک طور پر جلانے کے قابل ہیں۔

25.قومی منصوبہ بندی اور قومی معاشی ہم آہنگی ، بشمول سائنسی اور تکنیکی تحقیق کی منصوبہ بندی اور ہم آہنگی۔

26.عوامی قرضوں کی نگرانی اور انتظام۔

27.بوائلر

28.مردم شماری۔

29.سامان یا مسافروں پر ریلوے یا ہوائی جہاز سے ٹرمینل ٹیکس ، ان کے کرایوں اور مال برداروں پر ٹیکس۔

30.آزاد جموں و کشمیر سے پاکستان یا پاکستان سے آزاد جموں و کشمیر میں‌بیماریوں ، انفیکشنز ، جانوروں، یا پودوں کے انفیکشنز کے پھیلاؤ کی روک تھام کےلئے اقدامات.

31.میڈیکل اور دیگرشعبے بشمول پیشہ قانون.

32.اس فہرست میں شامل کسی بھی معاملے کے حوالے سے قوانین کے خلاف جرائم۔

33.اس فہرست میں شامل کسی بھی معاملے کے مقاصد کے لئے پوچھ گچھ اور اعدادوشمار

دوسری طرف حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ بالا چودہویں‌ترمیم کے ڈرافٹ کی منظوری کےلئے وفاقی حکومت کی طرف سے شدید دباؤ ہے. فاروق حیدر حکومت کا آئندہ سال بھی مذکورہ ترمیم کی منظوری سے مشروط کیا گیا ہے. تاہم وفاق کی جانب سے اس متعلق کوئی رد عمل سامنے نہیں‌آیا ہے. نہ ہی ڈرافٹ مرتب کرنے والے کے دستخط شامل ہیں اور نہ ہی اس ڈرافٹ پر کہیں‌یہ لکھا گیا ہے کہ یہ ڈرافٹ وفاق کی جانب سے تیار کیا گیا ہے یا پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر کی حکومت کی طرف سے تیار کیا گیا ہے.

تاہم پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر کی بار کونسل کے وائس چیئرمین چوہدری الیاس ایڈووکیٹ نے مذکورہ مجوزہ ڈرافٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے عبوری آئین کو مکمل طور پرمفلوج کرنے سے تعبیر کیا ہے.

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: