سید علی گیلانی کی حریت کانفرنس سے علیحدگی، پس پردہ کہانیاں کیا ہیں…؟

بھارتی زیر انتظام جموں‌ کشمیر میں‌علیحدگی پسند سمجھی جانیوالی سیاسی قیادت پر مشتمل آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نےحریت کانفرنس سے علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کردیا ہے. انکی جانب سے جاری کردہ آڈیوپیغام اور دو صفحات پر مشتمل خط کو دیکھتے ہوئے بظاہر تو یہ علیحدگی حریت کانفرنس کے پاکستانی زیر انتظام کشمیر چیپٹر کے نمائندگان کی کرپشن، مالی بےضابطگیوں اور فنڈز میں غبن کےالزامات کے باوجود حریت کانفرنس کی قیادت کی جانب سے ان (بےضابطگیوں‌میں‌ملوث)نمائندگان کی مبینہ حمایت اور دھڑے بندی کا باعث بننے کی وجہ سے اختیار کی گئی ہے.

لیکن اس کے پس پردہ ایک اہم کہانی بھی منظر عام پر آئی ہے. جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ علیحدگی حریت کانفرنس کی دھڑے بندیوں ہی کہ وجہ سے نہیں‌ بلکہ مسئلہ کشمیر کو منطقی انجام تک پہنچائے جانے کے مبینہ منصوبہ میں‌حریت کانفرنس کے ایک بڑے دھڑے کی حمایت کی بنیاد پر عمل میں‌آئی ہے.

پاکستانی حکام کی جانب سے گلگت بلتستان کے مستقبل کے فیصلے کی کوششوں، پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر تک محدود حکمت عملی اور بھارتی زیر انتظام کشمیر کی آزادی کےلئے عسکری اور سیاسی حمایت کی حکمت عملی میں‌مبینہ تبدیلی کے خلاف رد عمل نہ صرف حریت کانفرنس میں‌دھڑے بندیوں‌کا باعث بن چکا ہے بلکہ ایک عسکری رہنماء کی رہائش گاہ پر دھماکے کا واقعہ بھی رونما ہو چکا ہے.

سید علی گیلانی کا آڈیو پیغام اور خط
رواں ماہ اٹھائیس جون کو آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی کیجانب سے پہلے ایک پریس ریلیز اور آڈیو پیغام جاری کیا گیا، بعد ازاں‌دو صفحات پر مشتمل ایک خط بھی جاری کیا گیا. جس میں‌حریت کانفرنس سے سید علی گیلانی نے علیحدگی کا اختیار کرتے ہوئے عبداللہ گیلانی کو اسلام آباد میں‌ اپنا نمائندہ مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے.

اپنے خط میں‌سید علی گیلانی نے تحریر کیا ہے کہ حریت کانفرنس کی پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں‌قائم شاخ‌ کی حیثیت محض نمائندہ فورم کی ہے. وہ کوئی بھی فیصلہ انفرادی یا اجتماعی طور پر کرنے کے اہل نہیں‌ہیں. لیکن گزشتہ لمبے عرصہ اور بالخصوص دو سال سے ان نمائندگان سے متعلق مختلف طرح کی شکایات سامنے آرہی ہیں. نمائندگان پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت میں‌حصہ داری کےلئے کوششوں کے علاوہ مالی بے ضابطگیوں، آپسی دھڑے بندیوں‌سمیت دیگر کاموں‌میں‌مشغول ہیں. جس کی تحقیقات کا عمل شروع کیاگیا اور چند ایک کوبرطرف کیا گیا تو انہوں‌نے متوازی اجلاس بلانے شروع کر دیئے. نامزد کردہ کنونیئرکے خلاف سرگرمیاں شروع کر دیں. میری وصیت کے حوالے سے تحقیقاتی کمیشن قائم کیا اور تمام اخلاقی، آئینی اور قانونی ضوابط کو توڑ کر نئی شوریٰ‌اور متوازی ڈھانچہ تشکیل دیا گیا. پانچ اگست کے بعد جب بھارتی زیر انتظام کشمیر میں‌قیادت زیر عتاب تھی تو انکی ذمہ داری تھی کہ وہ لوگوں‌کی رہنمائی کریں‌لیکن ایسا کچھ نہیں‌کیا گیا. خط میں‌سید علی گیلانی نے حریت کانفرنس کے قائدین پر بھی الزام عائد کیا کہ تمام تر بےضابطگیوں اور غیر آئینی اور خلاف ضابطہ اقدامات کی حمایت اور تصدیق کی انوکھی مثال قائم کی گئی. اس طرح‌کے متعدد دیگر الزامات عائد کرتے ہوئے سید علی گیلانی نے مستقبل میں‌تنہاء جدوجہد کا سفر جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا.

علیحدگی کے اعلان کے پس پردہ دوسری کہانی
گزشتہ ایک دہائی سے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی خبریں سامنے آتی رہیں پھر سرکاری طور پر ان خبروں کی تردید ہوتی رہی۔ شاید کہیں نا کہیں ایسی باتیں ہوتی رہیں جو ان خبروں کا موجب بنتی رہیں ہیں تاہم پانچ اگست 2019 کے بعد ہندوستان کے ریاست کی مزید تقسیم کے بعد یہ خدشات حقیقت کا روپ دھارتے نظر آئے۔

بتایا جا رہا ہے سی پیک کی تکمیل کیلئے گلگت بلتستان کو صوبہ بنایا جانا ناگزیر ہے اور اس سلسلے میں پانچ اگست کے بعد پاکستان میں یکے بعد دیگرے تین اعلی سطحی اجلاس ہوئے، جنہیں‌پاکستانی حکام کی ایک طاقتور شخصیت نے کنڈیکٹ کیا، ان اجلاسوں میں پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم اور وزیر قانون، گلگت بلتستان کے وزیر اعلی اور گورنر کے ساتھ حریت کانفرنس کے دو کنوینئر اور لبریشن فرنٹ کے ترجمان کو مدعو کیا گیا۔ ان اجلاسوں میں گلگت بلتستان کو باضابطہ صوبہ بنانے کے حوالے سے مشاورت کی گئی جسے حریت کانفرنس اور پاکستانی زیرانتظام کشمیر کے نمائندگان کے ردعمل کے باعث التوا میں رکھا گیا.

پہلے تینوں‌اجلاسوں‌کے بعد یہ بات واضح‌ہو چکی تھی کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ بنایا جانا ممکن نہ ہے. تاہم فروری 2020ء کے اواخر میں ایک ہنگامی اعلی سطحی اجلاس طلب کیا گیا، جسے پاکستانی حکام کی جانب سے ایک نئی شخصیت نے کنڈیکٹ کیا اور اس اجلاس میں ایک پریزینٹیشن دی گئی جس کا لب لباب یہ بتایا گیا کہ گلگت بلتستان کبھی ریاست جموں کشمیر کا حصہ نہیں رہا اور اسے زبردستی مسئلہ کشمیر سے جوڑا گیا ہے۔ اس کے بعد جب تجاویز لی جانے لگیں تو اچانک حریت کانفرنس کے ایک نمائندے(جو پہلے اجلاسوں میں بات نہیں کرتے تھے) نے موقف اپنایا کہ پاکستانی حکومت گلگت بلتستان کو صوبہ بنا سکتی ہے۔ حریت کانفرنس کو صوبہ بنانے میں کوئی اعتراض نہیں ہوگا.

جس کے بعد پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے نمائندوں نے کہا کہ ”ہم تو کشمیریوں کی وجہ سے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ اگر آپ کو کوئی دقت نہیں تو ہم یہ الزام اپنے سر نہیں لے سکتے۔ ہماری جانب سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے”۔

ایسے میں سید علی گیلانی نے نمائندے نے زبردستی بات کرتے ہوئے کہا کہ جو بات حریت کے دوسرے نمائندے نے کی وہ ان کا ذاتی موقف ہو سکتا ہے۔ یہ حریت کا موقف نہیں ہے۔ہم مقبوضہ کشمیر(بھارتی زیر انتظام کمشیر) میں موجود قیادت کے نمائندے ہیں اور انہی کی بات کو آگے بڑھانا ہمارا کام ہے۔ حریت کانفرنس گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے حق میں کبھی نہیں ہے کیونکہ اگر گلگت بلتستان کو صوبہ بنایا جاتا ہے تو مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی اخلاقی برتری ختم ہو جاتی ہے اور کشمیر میں جاری تحریک کا کوئی مقصد باقی نہیں رہتا۔ جس کے بعد لبریشن فرنٹ کے نمائندہ نے بھی عبداللہ گیلانی کی تائید کی. جس کے بعد اعلی سطحی اجلاس میں کشمیری قیادت کو اعتماد میں لینے تک فیصلہ موخر کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ سید علی گیلانی نے مشرف فارمولے کی مخالفت بھی اس لئے کی تھی کیونکہ وہ تقسیم کشمیر کا فارمولا تھا اور 5 اگست کے بعد سید علی گیلانی مسلسل پاکستان کے اقدامات سے غیر مطمئن رہے جن کا اظہار انہوں نے کئی مرتبہ کیا۔اس دوران سید علی گیلانی کے اسلام آباد میں موجود نمائندے سید عبداللہ گیلانی نے میڈیا پر کھل کر پاکستانی اقدامات پر تنقید کی اور سنجیدہ اقدامات کا مطالبہ کیا۔ جس کے بعد حریت کانفرنس کے اندر عبداللہ گیلانی کی سخت پالیسیوں کے باعث نالاں گروپ کو فعال انداز میں سامنے آتے اور ان کے خلاف ایک محاذ بنتا نظر آیا اورعبداللہ گیلانی کے کردار کو انتہائی محدود کر دیا گیا۔

سید علی گیلانی کی جانب سے جب حریت سے علیحدگی کا اعلان سامنے آیا تو تفصیلی خط میں عبداللہ گیلانی کو انہوں نے اپنا نمائندہ کہا اور حریت سے علیحدگی کے بعد بھی وہ ان کی نمائندگی کے فرائض سر انجام دیتے رہیں گے۔

سید صلاح الدین کی رہائش گاہ پر دھماکہ
گزشتہ عرصہ میں اسلام آباد میں حریت سے متعلق ایک اور خبر بھی سامنے آئی جس میں یہ بتایا جانے لگا کہ سات افراد پر مشتمل ایک گروپ بنا جس نے پاکستان کی کشمیر پالیسی پر شدید تنقید کی۔ اس سات رکنی گروہ میں حریت کانفرنس کے چھ لوگوں کے ساتھ حزب المجاہدین کے سربراہ بھی شامل تھے۔ یہ سات رکنی گروہ دباؤ نہ برداشت کرتے ہوئے چار افراد تک جا پہنچا اور پھر اچانک 25 مئی2020کو انڈین میڈیا میں سید صلاح الدین پر حملے کی خبر سامنے آئی.

پاکستان کی جانب سے تاحال ایسے کسی حملے کی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ، حزب المجاہدین نے ایسے کسی بھی حملے کی تردید کی ہے تاہم ڈی سی اسلام آباد نے مذکورہ دھماکے کو گیس سلنڈر پھٹنے کا ایک واقعہ قرار دیا تھا۔

مذکورہ دھماکے کے بعد مکمل خاموشی چھائی رہی اور اب ایک دھماکہ خیز خبر کے ساتھ سید علی گیلانی نے حریت کانفرنس سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔پانچ اگست کے بعد ایک اور افواہ بھی گردش کرتی رہی کہ اب حریت کانفرنس کے کردار کو ختم کر دینا چاہئیے کیونکہ اب اس کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

کئی باخبر لوگ تجزیہ کرتے ہوئے پانچ اگست سے ابتک کے حالات و واقعات اور پڑوسی ممالک کے اقدامات کو ایک سکرپٹ کا حصہ قرار دیتے ہیں اور تقسیم کشمیر کو طے شدہ منصوبہ مانتے ہیں۔ ان خیالات کو حالیہ اقدامات سے خاصی تقویت ملتی ہے جس میں گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کیلئے اعلی سطحی اجلاسوں‌کا انعقاد کیا جانا، پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں چودہویں آئینی ترمیم کا مبینہ مسودہ سامنے آنا اور وزیراعظم فاروق حیدر کی سرپرستی میں‌پیپلزپارٹی کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس میں‌گلگت بلتستان میں‌سٹیٹ سبجیکٹ قانون کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ ترک کرنے کا مطالبہ کرنا، چودہویں‌ترمیم کے مجوزہ مسودہ میں‌پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر کے سرکاری سطح‌پر متعین کئے گئے نام (آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر) سے لفظ (ریاست) کو ختم کرنے کی تجویز اور پاکستانی اداروں کو براہ راست پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں رسائی دینے جیسے اقدامات شامل ہیں.

اس کے علاوہ پاکستان کے ایک سابق فوجی افسر کی جانب سے کشمیریوں کو اپنی تحریک کا غدار قرار دینا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی بتایا جا رہا ہے۔ یہ بھی خیال کیا جا رہا ہے کہ حریت کانفرنس کے چئیرمین کی دستبرداری کی اصل وجہ بھی پاکستان کے اقدامات سے ناراضگی اور اپنوں پر عدم اعتماد ہی ہے ۔

حریت کانفرنس میں اس تبدیلی کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اور اس سے حکومت پاکستان مسئلہ کشمیر کے حوالے سے آئندہ کیا فائدہ اٹھاتی ہے۔ کچھ چیزیں تو سامنے عام آدمی کو بھی سامنے نظر آتی ہیں تاہم مستقبل قریب میں کئی اہم فیصلے متوقع ہیں ۔

3 تبصرے “سید علی گیلانی کی حریت کانفرنس سے علیحدگی، پس پردہ کہانیاں کیا ہیں…؟

  1. Pingback: sonsofheaven.com
  2. Pingback: Devops solution

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: