آئینی ترامیم کا غیر مصدقہ مسودہ وائرل: پاکستانی کشمیر اور جی بی کی قومی اسمبلی اور سینٹ میں نمائندگی کی تجویز

آئین پاکستان میں ترمیم کے ایک غیر مصدقہ مجوزہ مسودہ کے پانچ صفحات سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ہیں، پاکستان کی وفاقی حکومت اور پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی حکومت نے مذکورہ مسودہ کی تردید یا تصدیق نہیں کی۔مذکورہ مسودہ کے پانچوں صفحات پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کے پاکستان کے ساتھ تعلق کی وضاحت کے حوالے سے تجویز کردہ ترامیم سے متعلق ہیں۔

مبینہ مسودہ کے مطابق ریاست جموں کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں رائے شماری کے ذریعے کئے جانے سے قبل پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کو پاکستان کے دو صوبوں کی طرز پر رکھے جانے کی تجویز ہے،قومی اسمبلی میں پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی آٹھ اور گلگت بلتستان کی تین نشستیں مقرر کرنیکی تجویز ہے،جبکہ سینٹ میں پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کی مشترکہ طور پر پانچ،  پانچ نشستیں رکھنے کی تجویز ہے، جن کا انتخاب دونوں خطوں کی اسمبلیوں سے مشترکہ طو رپرکیا جائےگا۔ صوبائی اسمبلیوں کے اراکین صدر پاکستان کے انتخاب کے لئے ووٹ دینے کے اہل ہونگے، آئین پاکستان کی تمام شقیں دونوں خطوں پر لاگوہونگی۔

وائرل ہونے والے پانچ صفحات پر 91سے 95تک صفحہ نمبر لگے ہوئے ہیں۔ مختلف صحافیوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر یہ صفحات شیئر کئے گئے ہیں لیکن کسی نے بھی مسودہ کے حصول کے ذرائع کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی ہے۔

واضح رہے کہ رواں ماہ وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈہ پور نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے گلگت بلتستان کو پاکستان کا آئینی صوبہ بنائے جانے کےلئے تیاریاں مکمل کئے جانے کا دعویٰ کیا تھا۔ بعد ازاں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کی زیر صدارت پارلیمانی جماعتوں کی قیادت کے اجلاس کی خبریں بھی منظر عام پر آئیں ، مذکورہ خبروں کے حوالے سے تمام پارلیمانی قیادت نے وضاحت کی کہ گلگت بلتستان کے حوالے سے وہ اجلاس منعقد کیا گیا تھا۔ ماضی میں حریت کانفرنس میں تقسیم اور اختلافات کے حوالے سے بھی خبریں منظر عام پر آچکی ہیں ، جن کی بنیاد بھی گلگت بلتستان کوپاکستان کا صوبہ بنائے جانے کے فیصلہ پر مختلف حریت قائدین کی متضاد رائے سے جوڑا گیا تھا۔

تاہم پاکستان کی گیارہ اپوزیشن جماعتوں کی کثیر الجماعتی کانفرنس کے بعد بننے والے پاکستان ڈیموکریٹک الائنس کے مشترکہ اعلامیہ میں گلگت بلتستان میں پہلے شفاف انتخابات کروانے کا مطالبہ کیا گیا اور انتخابات کے بعد گلگت بلتستان کو قومی دھارے میںشامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ماضی میں پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی حکومت کے وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر بھی ایک تقریر میں اپنے آپ کو اس خطے کا آخری وزیر اعظم قرار دے چکے ہیں۔ اس طرح کی اطلاعات کے بعد ایک غیر مصدقہ مسودہ سوشل میڈیا پر لیک ہونا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔

گزشتہ سال پانچ اگست کو بھارتی حکومت نے بھی آئین کے آرٹیکل 370اور 35اے کو غیر موثر کر کے جموں کشمیر تنظیم نو بل پیش کیا تھا، جس کے بعد بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرتے ہوئے اسے مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ جس کے بعد یہ الزامات سامنے آرہے ہیں کہ ایسا ہی کچھ پاکستانی حکومت کی طر ف سے بھی کیا جا سکتا ہے۔

غیر مصدقہ مسودہ کے وائرل ہونے والے صفحات میں کیا ہے۔۔۔؟

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے آئین پاکستان میں‌ترمیم کے مجوزہ مسودہ کے غیر مصدقہ صفحات میں‌مجموعی طور پر سات ترامیم تجویز کی گئی ہیں. یہ تمام ترامیم پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر اور گلگت بلتستان سے متعلق ہیں.

آئین کے آرٹیکل ون(جمہوریہ اور اس کے علاقہ جات)کی دوسری شق کے بعد نئی شق شامل کرنے اور شق نمبر تین کو شق نمبر چار قرار دینے کی تجویز ہے۔ نئی شامل ہونے والی شق نمبر تین میں تجویز کیا گیا ہے کہ ”ریاست جموں و کشمیر کا حتمی انتقال(حتمی حیثیت کا تعین) ریاست کے عوام کی خواہش کے مطابق کیا جائے گا، جس کا اظہار وہ اقوام متحدہ کی زیر سرپرستی آزاد اور غیر جانبدار رائے شماری کے ذریعے کریں گے۔ یہ رائے شماری اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل اور اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انڈیا و پاکستان کی قراردادوں کی روشنی میں کی جائیگی۔“

دوسری ترمیم آرٹیکل چالیس کے بعد ایک نئے آرٹیکل کی شمولیت کی تجویز کی گئی ہے۔ آرٹیکل چالیس (الف) میں تجویز کیا گیا ہے کہ ”ریاست عالمی سطح پر تمام ضروری کوششیں کرے گی تاکہ ریاست جموں کشمیر حتمی انتقال کےلئے اقوام متحدہ کی زیر سرپرستی اور اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انڈیا و پاکستان کی قراردادوں کے مطابق آزاداور غیر جانبدار رائے شماری ہو سکے۔“

تیسری ترمیم آرٹیکل 41میں تجویز کی گئی ہے جو صدر پاکستان کے انتخاب سے متعلق ہے۔آرٹیکل 41کی ذیلی شق کے پیرا (الف) اور (ب) کے ساتھ پیرا (ج) کا اضافہ بھی کیا جائے گا۔ پیرا (الف) اور (ب) کے مطابق صدر کا انتخاب دونوں ایوانوں کے ارکان اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کے ذریعے ہوتا ہے۔ پیرا (ج) کی شمولیت کے تجویز کے بعد صدر کے انتخاب کےلئے آزاد جموں و کشمیر (پاکستانی زیر انتظام کشمیر)اور گلگت بلتستان کی اسمبلیوں کے اراکین بھی ووٹ دینے کے حق دار ہونگے۔یہ حق انہیں صدر پاکستان کی جانب سے دونوں اسمبلیوں کے اتفاق کے بعد جاری کئے گئے حکم کے بعد حاصل ہو سکے گا۔

چوتھی آئینی ترمیم آرٹیکل 51میں تجویز کی گئی ہے۔ آرٹیکل 51کی ذیلی شق 1 (جو وضاحت کرتی ہے کہ قومی اسمبلی میں خواتین اور غیر مسلموں کےلئے مخصوص نشستوں کے بشمول ارکان کی تین سو بیالیس نشستیں ہونگی) کے آخر میں یہ شامل کیا جائے گا کہ”آرٹیکل ون کی شق تین کے تحت ریاست جموں کشمیر کی حتمی شکل کے تعین کے التواءتک آزاد جموں و کشمیر کی 8اور گلگت بلتستان کی تین نشستیں مقرر ہونگی۔ جو صدر پاکستان کی جانب سے آرٹیکل257کی شق 2کے تحت جاری کئے گئے حکم کے ذریعے مقرر ہونگی“

پانچویں ترمیم آرٹیکل59میں تجویز کی گئی ہے ،جو سینیٹ سے متعلق ہے۔ آرٹیکل انسٹھ کی شق 1کے آخر میں یہ شامل کیا جائے گا کہ”آرٹیکل ون کی شق تین کے تحت ریاست جموںو کشمیرکے حتمی انتقال کے التواءتک آزاد جموں و کشمیراور گلگت بلتستان کےلئے پانچ پانچ نشستیں بھی شامل کی جائینگی۔ جو صدر کی جانب سے آرٹیکل257کی شق 2کے تحت جاری کردہ فرمان کے تحت پر کی جائینگی“ ۔

چھٹی ترمیم آرٹیکل 257کی تبدیلی سے متعلق ہے،مجوزہ ڈرافٹ میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 257کو مکمل تبدیل کرتے ہوئے پانچ نئی شقیں تجویز کی گئی ہیں:
1)۔ جب ریاست جموں کشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کرینگے ، تب پاکستان اور ریاست کے درمیان تعلق کا تعین ریاست کے عوام کی خواہشات کے مطابق کیا جائے گا۔
2)۔آئین کے آرٹیکل 1کی شق 3کے مطابق ریاست جموں کشمیر کا حتمی انتقال (حتمی حیثیت کا تعین) ہوگا۔ اس کے باوجود اس آئین کی تمام شقیں بالترتیب آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان پرصدر کے فرمان تحت تمام مستثنیات اور ترمیمات ، اگر ہوں، کے تابع پر لاگو ہونگی۔ بشرطیکہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتوں کے اتفاق رائے کے علاوہ اس طرح کا کوئی حکم جاری نہ کیا جائے۔
3)۔ آئین کی ان شقوں ،جوان پر لاگو ہوتی ہیں کے نفاذ کے مقصد کے لئے آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کوصوبوں کی طرح سمجھا جائے گا۔
4)۔ آزاد جموں و کشمیر میں اس کے اطلاق کے بعد جہاں بھی ”صوبہ“، ”صوبائی اسمبلی“، ”صوبائی گورنر“، ”گورنر“، ”وزیر اعلیٰ“، ”صوبائی وزیر“، ”سٹیزن آف پاکستان“کے الفاظ استعمال ہوں انہیں ”آزاد جموں و کشمیر“، ”قانون ساز اسمبلی آف آزاد جموں و کشمیر“، حکومت آزاد جموں و کشمیر“، ”صدر آزاد جموں و کشمیر“، ”وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر“، ”وزیر حکومت آزاد جموں و کشمیر“، اور ”باشندہ ریاست جموں و کشمیر“ پڑھا جائے۔
5)۔ گلگت بلتستان پر اطلاق کے بعد جہاں بھی ”صوبہ“، ”صوبائی حکومت“، ”صوبائی وزیر“، ”صوبائی اسمبلی“کے الفاظ استعمال ہوں انہیں ”گلگت بلتستان“، ”حکومت گلگت بلتستان“، ”وزیر حکومت گلگت بلتستان“، اور ”گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی“ پڑھا جائے گا۔ اور ”سٹیزن آف پاکستان“ کے الفاظ کا مطلب ہو گا کہ پاکستان کے وہ شہری جن کے پاس گلگت بلتستان کا ڈومیسائل ہوگا۔

ساتویں ترمیم جدول دوم میں تجویز کی گئی ہے جو صدارتی انتخاب سے متعلق ہے۔ جدول دوم کے پیراگراف اٹھارہ کے ذیلی پیرا1کی شق (ب) کے اختتام پر درج ذیل شق شامل کی جائیگی:
”آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں ہر ایک امیدوار کے حق میں ڈالے ہوئے ووٹوں کی تعداد کو اس صوبائی اسمبلی میں نشستوں کی مجموعی تعداد سے ، جس میں فی الوقت سب سے کم نشستیں ہوں ضرب دیا جائے گا ۔ اور قانون ساز اسمبلی میں نشستوں کی مجموعی تعداد سے جس میں ووٹ ڈالے گئے ہوں چار مرتبہ تقسیم کیا جائے گا۔ “

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: