لبریشن فرنٹ کا چوبیس اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان، عوامی مسلح جدوجہد کی دھمکی

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے گلگت بلتستان کو صوبہ بنائے جانے اور مبینہ انیسویں ترمیم سمیت پاکستانی حکمرانوں کی پالیسیوں کے خلاف اور چار اور چوبیس اکتوبر کی حکومت کی اعلامیہ کی روح کے مطابق بحالی کے لئے چوبیس اکتوبر کو راولاکوٹ سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کےلئے عوامی رابطہ مہم چلانے کا اعلان کر دیا ہے، مبینہ انیسویں ترمیم جیسے کسی فیصلہ پر عملدرآمد کی صورت عوامی مسلح جدوجہد کے آغاز کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔ لانگ مارچ کے دوران پاکستانی عوام، سیاسی قائدین اور عالمی طاقتوں تک پیغام پہنچایا جائے گا، گلگت بلتستان اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے وسائل پروہاں کے بسنے والے عوام کو اجارہ دیئے جانے، مستقبل کے فیصلہ کا اختیار دیئے جانے اور دیگر بنیادی مسائل کے حل کے مطالبات کے ساتھ ساتھ حکمرانوں کی ایماءپر حقوق کے نام پر وسائل پر قبضہ کرنے کے حکمران طبقات کے منصوبہ کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروایا جائے گا۔

یہ اعلانات جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین سردار محمد صغیر خان نے یہاں راولاکوٹ میں غازی ملت پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کئے ہیں۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ سیکرٹری جنرل سردار شعیب خان، زونل صدر سردار انصاف خان، سردار شاہد شریف، سردار عمر نذیر کشمیری، سردار عبدالحمید خان سمیت دیگر درجن بھر رہنماءو قائدین بھی موجود تھے۔

پریس کانفرنس کے دوران سردار محمد صغیر خان نے کہا کہ 73سالہ تجربہ سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ حکمران طبقات اور مقامی نام نہاد قائدین و رہبرین کا جو بیانیہ رہا وہ بری طرح ناکام ہو ا اور جموں کشمیر کی تقسیم کا باعث بنا۔ 1947ءمیں مہاراجہ کے شخصی راج اور سامراجی دلالی کے خلاف عوامی مسلح جدوجہد کے نتیجہ میں چار اور چوبیس اکتوبر کی انقلابی اور جمہوری حکومت کا اعلان ہوا جو جموں کشمیر کے لوگوں کی نمائندہ اور ترجمان تھی۔ اعلامیہ کے مطابق آزاد، جمہوری اور انقلابی حکومت کے عزم کا اظہار ہوا۔ لیکن معاہدہ کراچی کو سامراجی بنیادوں پر مسلط کرتے ہوئے گلگت بلتستان اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر کو تقسیم کیا گیا۔ جعل سازی اور دھوکہ دہی کے ذریعے ہر بار حقوق کے نام پر معاہدہ کراچی، پھر ایکٹ 47اور گلگت بلتستان آرڈر2018ءتک وسائل کی لوٹ مار کی راہ ہموار کی گئی اور حقوق سلب کئے جاتے رہے۔ معاہدہ کراچی، ایکٹ 74ءاور جی بی آرڈر 2018ءکو فی الفور منسوخ کر کے دونوں خطوں کے دو آزاد ، خودمختار صوبوں پر مشتمل نمائندہ انقلابی، جمہوری حکومت قائم کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کی عارضی تقسیم کو مستقل کرنے کا گھناﺅنا کھیل شروع ہونے جا رہا ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ دھوکہ او ر فریب حقوق کے نام پر کیا جا رہا ہے۔ پاکستانی حکمران اسٹیبلشمنٹ جو اٹھارہویں آئینی ترمیم سے پاکستان کے چار صوبوں کو ملنے والے اختیارات کو چھیننے کےلئے انیسویں ترمیم لانے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ مظلوم و محکوم قومیتوں کو مزید غلامی میں دھکیلنے اور انکے وسائل کی لوٹ مار کرنے کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔ اسی مجوزہ انیسویں ترمیم میں گلگت بلتستان اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر کو عبوری صوبائی حیثیت دینے کی تجاویز بھی منظر پر آئی ہیں۔ جس کے خلاف ہم بھرپور جدوجہد کریں گے۔

جو حکمران چار صوبوں کو اختیارات دینے پر راضی نہیں ہیں وہ گلگت بلتستان اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے لوگوں کو کس طرح عبوری صوبے بنا کر حقوق دے سکتے ہیں۔ درحقیقت سی آئی اے، راءاور پاکستانی سٹیبلشمنٹ کا یہ مشترکہ منصوبہ ہے، جو جی ایچ کیو میں بیٹھ کر بنایا جا رہا ہے۔ انیسویں ترمیم کا ڈرافٹ ایم کیو ایم کا رہنما فروغ نسیم بطور وزیر قانون بنا رہا ہے۔ جو بھارتی ایجنسیوں اور اسٹیبلشمنٹ کی نہ صرف تنخواہ دار ثابت ہو چکی ہے بلکہ ایک فاشسٹ پارٹی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ان لیڈروں کو بھی شرم آنی چاہیے جو گلگت بلتستان کے لوگوں کی رائے کا راگ الاپ رہے ہیں۔اگر اس طرح سے رائے جانچی جا سکتی تو پھر شیخ عبداللہ دو تہائی اکثریت کے ساتھ منتخب ہو کر بھارت کے ساتھ ریاست کے الحاق کا اعلان کر چکا تھا ، اس رائے کو بھی تسلیم کر لینا چاہیے تھا۔ ہم نے اس موقع پر بھی کہا تھا کہ بھارتی حکمران اور مقامی حکمران اشرافیہ عوام کو دھوکہ دیکر ٹریپ کر رہی ہے اور آج گلگت بلتستان کے حوالے سے بھی ہمارا واضح موقف ہے کہ حقوق کے نام پر مقامی اور سامراجی قیادتیں انہیں ایک لولی پاپ دے رہی ہیں، درحقیقت پس پردہ وہ وسائل پر قبضے اور لوٹ مار کا راستہ ہموار کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 73سال سے اقوام متحدہ کشمیریوں کو کچھ نہیں دے سکا۔ آج اگر اقوام متحدہ کے جھانسے پر عبوری صوبے کے نام پر اپنی شناخت اور وسائل پر کمپرومائز کیا تو مستقبل میں حصے بخرے کر کے خیبرپختونخوا اور پنجاب میں جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کو ضم کرنے کے منصوبے پر کام شروع ہو جائے گا۔ حقوق جدوجہد کے ذریعے آزادی حاصل کرنے سے ملا کرتے ہیں۔ سامراجی معاہدوں اور حکم ناموں کے ذریعے حقوق نہیں دیئے جاتے بلکہ قبضہ مستحکم کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام تک بھی آواز پہنچانا چاہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے محنت کش عوام ہمارے اتحادی اور ساتھی ہیں جبکہ حکمران طبقات ہمارے قابض اور غاصب ہیں۔ ہم سیاسی ، سفارتی محاذ پر بھرپور جدوجہد کرینگے۔ بیرون ملک موجود آزادی پسند اور ترقی پسند کارکنان پاک بھارت سفارتکاروں کا ناطقہ بند کر دیں اور بھرپور سفارتی جدوجہد کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم میدان میں پوری قوت سے کھڑے ہونگے اور صرف یادداشت تک شاید محدود نہ رہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم مقبول بٹ شہید کی فکر کے پیروکار ہیں۔ اس دھرتے سے تعلق رکھتے ہیں کے جس کے بزرگوں نے 47، 50اور 55میں عوامی مسلح جدوجہد کے محاذ پر قابض اور غاصب قوتوں کے خلاف لہو رنگ جدوجہد کی اور لاکھوں کی تعداد میں قربانیاں دے رکھی ہیں۔ اگر حکمرانوں نے ہماری پر امن جدوجہد کی بنیاد پر اپنے عزائم ترک نہ کئے تو ہم عوامی مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کرنے سے گریز نہیں کرینگے۔ اپنے بزرگوں کی سنت کو زندہ کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران اشرافیہ کنفیوز ہے، قیادتیں سراب میں ہیں، عوام کنفیوز نہیں ہیں۔ عوامی طاقت ہی کی بنیاد پر ہم آگے بڑھیں گے، اصولوں پر کمپرومائز کئے بغیر واضح اور دو ٹوک موقف کے ساتھ اس جدوجہد کو آگے بڑھائیں گے۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: