پاکستانی دانشور حلقوں کی جموں کشمیر کی تاریخ سے چھیڑ چھاڑاور مغالطے (قسط اول)

مجیب اکبر

پاکستان کی جانب سے نیا سیاسی نقشہ جاری کرتے ہوئے جموں کشمیر کو باضابطہ طو رپر اپنے نقشے میں شامل کرنے کے بعد پاکستانی دانشوروں نے ایک مہم شروع کر رکھی ہے۔ جس کا مقصد پاکستان کی کشمیر پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے جموں کشمیر میں قومی آزادی کی تحریک کو تخریب کاری اور پاکستان دشمنی پر مبنی دشمن کا ایجنڈا قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

لیکن المیہ یہ ہے کہ جن پاکستانی دانشور حلقوںکو اس طرح کی رائے عامہ ہموار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ان کی کشمیر سے متعلق معلومات بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔
سب سے بنیادی بات جو کلیئر کرنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ ہم یا پاکستان یا ہندوستان جس ریاست کا مطالبہ کر رہے ہیں اس ریاست کی تشکیل کیسے ہوئی ؟ مسئلہ کشمیر کیسے پیدا ہوا؟

انیسویں صدی کا وسط تھا یا اس کی چوتھی دہائی تھی جب کشمیر پر خالصہ سرکار کی حکومت تھی ، رنجیت سنگھ وفات پا چکا تھا اس کے جانشین آپس بھی گتھم گتھا تھے آخر چھ سال کی کشمکش کے بعد رنجیت سنگھ کی بیوہ رانی جنداں تخت نشیں تھی ، پھر اس نے انگریزوں سے جنگ چھیڑ دی ( جنگ کی وجوہات کیا تھی یہ الگ بحث ہے اور ضروری بھی نہیں) جنگ ہوئی انگریزوں نے لاہور دربار پر قبضہ کیا مگر انگریز اس پوزیشن میں نہیں تھے کہ اس اتنے بڑے علاقے پر کنٹرول کریں جس کا اظہار لارڈ ہنری ہارڈنگ گورنر جنرل آف انڈیا کے خط سے ہوتا ہے جو انہوں نے چودہ مارچ اٹھارہ سو چھیالیس کو خفیہ کمیٹی برائے اوورسیز ڈومین کو لکھا۔

انگریزوں نے ڈیڑھ کروڑ نانک شاہی تاوان جنگ طلب کیا جو کہ لاہور دربار نہ دے سکا اس وقت کشمیر کے علاقے جموں کے رہنے والے ایک ڈوگرہ گلاب سنگھ جس کا بھائی دھیان سنگھ رنجیت سنگھ کا وزیر خاص رہ چکا تھا اور اپنے دوسرے بھائی اور گلاب سنگھ کا بیٹا بھی لاہور دربار کی خانہ جنگی کے نظر ہو چکے تھے ، گلاب سنگھ اس وقت خالصہ دربار کی فوج کا جرنیل تھا ۔ اس نے انگریزوں کے ساتھ معاہدہ میں اہم کردار ادا کیا، جب لاہور دربار تاوان جنگ کی ادائیگی نہ کر سکا تو گلاب سنگھ نے پونچھ جو اس کے بھائی کی جاگیر تھی ، جموں جو گلاب سنگھ کی جاگیر تھی اور کشمیر جس کا گورنر شیخ امام الدین تھا ان علاقوں کی عملداری کے بدلے تاوان ادا کرنے کی پیشکش کی معاہدہ امرتسر کی دفعہ نمبر ایک کے مطابق برطانوی حکومت دریائے سندھ کے مشرق اور دریائے راوی کے مغربی علاقے بشمول چمبہ ماسوائے لاہور گلاب سنگھ اور اس کی اولاد نرینہ کے مستقل اور کلی اختیار میں دیتی ہے۔

مگر اس معاہدہ کے دفعہ دس کی رو سے اقتدار اعلیٰ برطانوی حکومت کے پاس ہو گا۔

یوںجموں کشمیر کی اس شخصی ریاست کی تشکیل ہوئی اور جموں کشمیر خالصہ سرکار کی طرح برطانوی ہند میں ضم ہونے کی بجائے برطانوی ہندوستانی ریاستوں میں شامل ہو گیا۔

مہاراجہ کی شخصی حکمرانی کے خلاف تحریکیں اٹھیں جن میں تیرہ جولائی انیس سو اکتیس کی تحریک سب سے مضبوط بھی تھی اور اور کامیاب بھی ، کامیاب اس طرح کے اس تحریک نے نتیجے پر ہی ہری سنگھ نے گلانسی کمیشن بنایا جو انتہائی شفاف کمیشن تھا آج تک کوئی مسلمان اس کمیشن پر تنقید نہ کر سکا۔ اس کمیشن میں دو نمائندے صوبہ کشمیر سے اور دو نمائندے صوبہ جموں سے لیے گئے۔ دونوں صوبوں کے دو دو نمائندوں میں سے ایک ہندو تھا اور دوسرا مسلمان۔ صوبہ کشمیر سے خواجہ غلام احمد عشائی اور پنڈت پریم ناتھ بزاز اور جموں سے چوہدری غلام عباس اور لوک ناتھ شرما چنے گئے۔

جب کمیشن کے کام سے ہندو ناراض ہوئے اور ان کی مہاراجہ نے شنوائی نہیں کی تو انہوں نے اپنے ممبران پر کمیشن کے بائیکاٹ کے لیے دباو ڈالا جس پر لوک ناتھ شرما نے کمیشن کا بائیکاٹ کیا مگر پنڈت پریم ناتھ بزاز نے کمیشن سے علیحدگی سے انکار کر دیا۔

یوں اس کمیشن نے چار ماہ کی محنت کے بعد اپنی سفارشات پیش کین جن میں ریاست کی نمائندہ اسمبلی کا قیام بھی ایک مطالبہ تھا جس پر اسمبلی کا قیام عمل میں آیا

برطانیہ میں لیبر ہارٹی کی حکومت آئی تو اس نے کابینہ مشن پلان کو برصغیر بھیجا تاکہ ہندوستان کو اقتدار منتقل کیا جائے۔

کابینہ مشن نے آٹھ مئی انیس سو چھیالیس کو اپنا چار نکاتی ایجنڈا کانگریس اور مسلم لیگ کے سامنے رکھا جس پر کانگریس نے آٹھ نکات اور مسلم لیگ نے دس نکات پر مشتمل سفارشات پیش کیں۔

کابینہ مشن نے اپنی تجاویز مشتہر کرنے کے چار روز پہلے ریاستوں کے اقتدار اعلی پر ایک یادداشت پیش کی جس کے چار نکات کافی اہم ہیں جو یہاں لکھا ضروری ہیں۔

1۔ ملک معظم کے ہندوستان چھوڑنے کے ساتھ ہی ریاستوں کو تکنیکی اور قانونی لحاظ سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہو جائے گا۔
2۔ نئی قائم ہونے والی حکومت یا حکومتوں میں سے ریاستوں کا الحاق بھی ممکنات میں سے ہے اور اسے تسلیم کیا گیا ہے۔
3۔ الحاق پر رضامند نہ ہونے کی صورت میں نئی حکومت یا حکومتوں سے خصوصی نوعیت کے روابط استوار کیے جا سکتے ہیں۔
4۔ اور اس سلسلہ میں سب سے اہم صورت ایک سے زائد حکومتوں کا قیام نظر آتا ہے۔

سولہ مئی انیس سو چھیالیس کو وزیراعظم ہند اور کابینہ مشن کے سربراہ سر سٹیفرڈکرپس نے اپنی نشری تقریر میں کہا کہ ” تاج برطانیہ کو جو بالا دستی ریاستوں پر حاصل ہے وہ کسی اور کو منتقل نہیں کی جائے گی، ہندوستان اور ریاستوں کے آئندہ تعلقات باہمی گفت و شنید سے ہی طے ہو سکتے ہیں“

اکیس دسمبر انیس سو چھیالیس کو دستور یہ ہند نے باہمی گفت و شنید کے لیے ایک کمیٹی بنائی جس کا کام ریاستوں کے ساتھ مل کر ان کی نمائندگی کا مسئلہ طے کرنا تھا۔ نہرو نے اس کمیٹی کی مخالفت کی تھی جبکہ مسلم لیگ پہلے ہی ریاستوں کے اقتدار اعلی کسی دوسرے کو مستقل کرنے کے خلاف تھی۔

انتیس جنوری انیس سو سینتالیس کو ریاستوں کی اس کمیٹی نے باہمی مشاورت سے سات نکات پر مشتمل مطالبات پیش کر دئے۔
وہ نکات بھی پیش کرنا اہم ہے۔

1۔ انڈین یونین میں ریاستوں کی شرکت بات چیت سے ہو سکتی ہے تاہم حتمی فیصلہ ریاست ہی کے ہاتھ میں ہو گا۔
2۔ دستوریہ ہند ریاستوں کی شمولیت پر کسی قسم کی پابندی عائد نہی? کرتی آخری فیصلہ اس وقت ہو گا جب پورا دستور سامنے آئے گا۔
3۔ ریاستیں جو اختیارات یونین کو تفویض کریں گی اس کے علاوہ سارے اختیارات کی وہ غیر مسول± طور پر مالک ہوں گی۔
4۔ بالادستی کا سلسلہ بالکل ختم ہو جائے گا۔
5۔ یونین ہرگز ریاستوں کے منظور شدہ دستور، ان کی علاقائی سالمیت اور خاندان شاہی کے قیام و بقا ءکے سلسلے میں کوئی مداخلت نہیں کرے گی۔
6۔ ریاستوں کی موجودہ سرحدوں میں تبدیلی ریاستوں کی آزادانہ رضامندی کے بغیر عمل میں نہیں آئے گی۔
7۔ دستور یہ ہند ریاستوں کے اندرونی و دستوری معاملات میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کر سکے گی۔

بیس فروری انیس سو سینتالیس کو وزیر اعظم برطانیہ مسٹر اٹیلی نے نئے واسترئے لارڈ ماو¿نٹ بیٹن کی تقرری کا اعلان کرتے ہوئے ریاستوں کے بارے میں کہاکہ ” ملک معظم کی حکومت کا قطعا یہ ارادہ نہیں کہ وہ اپنے اختیاراتِ بالادستی کسی اور حکومت یا حکومتوں کومنتقل کرے“

تیرہ جون کو پارٹی لیڈرز کانفرنس منعقد ہوئی جس میں کانگریس کی نمائندگی نہرو ، پٹیل اور کرپلانی کر رہے تھے مسلم لیگ کی نمائندگی قائداعظم ، لیاقت علی خان اور عبدالرب نشتر کر رہے تھے۔ سکھوں کی طرف سے سردار بلدیو سنگھ تھے پولیٹیکل ایجنٹ سر کانرائڈ فیلڈ اور ماو¿نٹ بیٹن بھی موجود تھے جہاں پر نہرو اور سر کانرائڈ کی ریاستوں کے معاملے پر تلخ کلامی ہوئی۔

گفتگو کا اختتام اس طرح ہوا کہ نہرو نے کہا کہ”ریاستیں پاکستان یا ہندوستان کے ساتھ ملحق رہ سکتی ہیں لیکن وہ آزاد نہیں رہ سکتی “جس پر سر کانرائڈ نے جواب دیا “ رہ سکتی ہیں یہ ان کا دستوری و قانونی حق ہے“

اس پر قائد اعظم بھی سر کانرائڈ کے حق میں بول دیے اور کہا کہ ان کے خیال میں ریاستوں کو یہ مکمل حق حاصل ہے کہ وہ کسی قانون ساز اسمبلی میں شامل نہ ہوں ، کیونکہ ہندوستان کی ہر ریاست ایک آزاد و خودمختار ریاست ہے۔

اس کے چار دن بعد سترہ جون کو قائداعظم نے مسلم لیگ کی طرف سے ریاستوں کے بارے میں کافی تفصیل سے اعلان کیا ۔انہوں نے کہاکہ” الحاق کا اختیار صرف پاکستان یا ہندوستان تک محدود نہیں اقتدار اعلی ختم ہو سکتا ہے مگر کسی دوسرے کو منتقل نہیں کیا جا سکتا “

پھر تین جون کو دوبارہ بیان جاری کیا کہ” اقتدار اعلی کی ریاستوں کو منتقلی کے ساتھ ہی ہندوستانی ریاستیں خودبخود آزاد و خودمختار ہو جائیں گی ، وہ اس سلسلے میں مکمل آزاد ہوں گی کہ دونوں مملکتوں میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کریں یا آزاد و خودمختار رہیں“

گیارہ جولائی کو کشمیر کے متعلق سوال پر قائداعظم نے کہا کہ” کشمیر کے متعلق مجھ سے پوچھا گیا کہ آیا کہ کشمیری مسلمان ہاکستان کے ساتھ الھاق کر رہے ہیں؟ میں اس بات ہر پہلے ہی وضاحت کر چکا ہوں کہ ریاستیں اس معاملے میں آزاد ہیں کہ پاکستان سے الحاق کریں ہندوستان سے کریں یا آزاد و خودمختار رہیں“

تیس جولائی کو ایک اور بیان میں قائد اعظم نے نہایت واضع انداز میں ریاستوں کے متعلق اپنا موقف بیان کیا۔

لارڈ برٹرورڈ لکھتے ہیںکہ ” جب دوسری ریاستوں کو الحاق کی ترغیب دی گئی کو پندرہ اگست تک بہت سے ریاستوں نے الحاق کی دستاویزات ہر دستخط کر دیے۔ مہاراجہ کشمیر نے ایسا نہ کیا وہ ریاست کو آزاد و خودمختار رکھنے کے خیال کو عملی جامہ پہنانے کی فکر میں تھا“

مہاراجہ کے وزیراعظم وی پی مینن لکھتے ہیں کہ” مہاراجہ نے شخ چلی کا دماغ پایا تھا کچھ نہ کرنا اور اچھے کی امید کرنا۔ وہ جموں و کشمیر کی آزادی و خودمختاری کا خواب دیکھ رہا تھا“

سولہ جولائی کو مہاراجہ کا وزیر اعظم پنڈت کاک جو وی پی مینن سے پہلے وزیر اعظم تھا اس نے قائد اعظم سے ملاقات کی اس کے بعد وہ بھی کشمیر کی خودمختاری کی کوششیں کرنے لگا۔

قائد اعظم نے مسلم کانفرنس کے صدر چوہدری حمید اللہ اور اسحاق قریشی سے ملاقات کی اور انہی کے کہنے ہر چوہدری حمید اللہ نے کشمیر کی اسمبلی میں کشمیر کی خودمختاری کی قرارداد پیش کی۔

پندرہ اگست کو ہندوستان تقسیم ہو گیا اور چودہ اگست کو مہاراجہ نے قائداعظم کے ساتھ معاہدہ قائمہ کر لیا اور اپنی پوزیشن جوں کہ توں رکھنے کا اعلان کیا۔

ادھر پورے ہندوستان میں تقسیم کے بعد فسادات شروع ہو گئے۔ اور ستمبر میں کشمیر میں بھی اکا دکا جگہوں ہر یہ فسادات نظر آئے۔

قائد اعظم زیارت میں تھے اور ان کی صحت کافی خراب تھی لیاقت علی خان زیادہ تر معاملات خود دیکھ رہے تھے۔

لیاقت علی خان حیدرآباد اور جوناگڑھ میں کافی دلچسپی رکھتے تھے اور وہاں ہونے والے معاملات پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ ادھر کشمیر میں چار اکتوبر کو راولپنڈی میں ایک ہوٹل میں باغی حکومت کا اعلان کیا گیا۔

لیاقت علی خان پہلے ہی پرتول کر بیٹھے تھے انہوں نے پہلے ہی کشمیر میں آپریشن کی پلاننگ کی تھی۔ اور سردار شوکت حیات کو آپریشن کشمیر نامی مشن کا سربراہ بنایا اور ان کے ساتھ برگیڈئر اکبر خان جو کشمیر میں جنرل طارق کے نام سے مشہور ہوئے اور برگیڈئر شیر خان کو شامل کیا۔سردار شوکت حیات اپنی کتاب کے صحفہ دو سو اٹھہتر پر لکھتے ہیں کہ” اس وقت غلام محمد جو وزیر خزانہ تھے انہیں نے سپنے رشتے دار میجر خورشید انور جو ریلوے بٹالین کا ریزرو آفیسر تھا اسکی سفارش کی کہ اسے بھی ہائی کمان میں شامل کیا جائے۔ میں نے مخالفت کی لیکن غلام محمد اور لیاقت علی خان کے دباوہ پر ساتھ شامل کرنا پڑا“

سردار شوکت حیات اسی صفحہ پر آگے لکھتے ہیںکہ ”خورشید انور قبائلیوں کو اگھٹا کرنے مہند ایجنسی گیا اور محسود علاقے سے مہند علاقے تک لانے پر چالیس ہزار ضائع کر دیا“

” ہمارا یہ فیصلہ تھا کہ ہم سوات کے قبائلیوں کو استعمال کریں گے اور دورداز کے قبائلیوں کو اس جنگ سے دور رکھا جائے گا تاکہ رازداری اور اچانک حملہ دونوں قائم ہو سکیں“
ایک اور جگہ سردار شوکت حیات لکھتے ہیں کہ” ہمیں اطلاع ملی کہ خورشید انور میرے احکامات کی پرواہ کیے بغیر محسود قبائل کو وزیرستان سے بلا چکا ہے“

” ہمارے دوسرے حکم کی خلاف ورزی اس نے اس طرح کی کہ نوشہرہ کے برگیڈئر افتخار کے پاس گیا اور کشمیر میں جہاد کے کئے مشین گنیں طلب کیں۔ برگیڈئر افتخار نے وہ مطالبہ کمانڈر ان چیف پاکستان آرمی تک پہنچا دیا“

” اس طرح ہمارا جائے معینہ پر پہنچ کر اچانک للکار کا منصوبہ جو اس پلان کی روح تھی اس شخص کی نا سمجھی کی وجہ سے تباہ ہو گیا۔ پھر ہم نے ڈی ڈے کے طور ہر ستمبر کا ایک دن مقرر کیا تھا۔ پتہ چلا کہ خورشید انور غائب ہو گیا ہے اس نے پشاور میں ایک مسلم لیگی خاتون کارکن سے شادی رچا لی اور ہنی مون بنانے کہیں غائب ہو گیا۔ حملے میں ایک بار پھر تاخیر ہو گئی “

سردار شوکت حیات اسی کتاب کے صفحہ نمبر دو سو نواسی پر لکھتے ہیںکہ ” میں مظفر آباد بارڈر پر پہنچا۔ جہاں سے آگے جانے کی مجھے اجازت نہ تھی۔میرے لیے یہ واضع ہدایت تھی کہ میں میدان جنگ سے دور رہوں مبادا کوئی پاکستانی وزیر کشمیر میں گرفتار نہ ہو جائے اور یہ جنگ ایک عوامی بغاوت کی صورت میں رہنی چاہیے “

بریگیڈئر اکبر خان جو آپریشن کشمیر کے اہم ستون تھے اپنی کتاب کشمیر کے حملہ آور اور پنڈی سازش کیس کے صفحہ انتیس پر لکھتے ہیں کہ” سردار صاحب ( شوکت حیات جب کی کتاب کا پہلے حوالہ دیا گیا ہے جو آپریشن کے سربراہ تھے) اپنا پلان اس بنیاد ہر تیار کر رہے تھے کہ سابقہ انڈین نیشنل آرمی کے افسروں اور جوانوں اور افسروں کی خدمات حاصل کی جائیں اور انہیں مسٹر زمان کیاینی کی کمان میں رکھا جائے یہ لوگ پنجاب کی سرحد پار کر کے کاروائیاں کریں گے راولپنڈی کے شمال کا سیکٹر مسلم لیگ نیشنل گارڈ کے ایک کمانڈر میجر خورشید انور ( جن کا پہلے بھی زکر ہو چکا ) کی زیر کمان ہو گا۔ پلان کے مطابق جنگی کاروائیاں دو سیکٹروں میں ہوں گی اور دونوں کی کمان سردار شوکت حیات کریں گے“

دو سیکٹروں کی وضاحت بریگیڈئر اکبر اس طرح کرتے ہیںکہ” ہمیں اپنی کاروائیاں اور سرگرمیاں اس پر مرکوز کرنی تھیں کہ کشمیریوں کو کشمیر میں مضبوط کیا جائے اور اس کے ساتھ ہی ہمیں ہندوستان کی طرف سے مسلح شہریوں اور فوجی امداد کو کشمیر میں آنے سے روکنا تھا“

اکبر خان اپنی کتاب کے صفحہ نمبر تیس پر لکھتے ہیں کہ” کانفرنس ( لیاقت علی خان سے کی گئی میٹنگ جس میں لیاقت علی خان ، غلام محمد خان، میاں افتحار الدین، زمان کیانی ، خورشید انور اور شوکت حیات خان شامل تھے) کے کمرے سے باہر نکلے تو خورشید انور مرحوم مجھے ایک طرف کے گئے انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ سردار شوکت حیات خان کا کوئی بھی حکم ماننے کو تیار نہیں میں نے انہیں یہ ذہن نشیں کرانے کی کوشش کی کہ اس وقت مکمل تعاون کی ضرورت ہے اور تعاون کے بغیر حالات بگڑ جائیں گے اس لیے وہ اپنے رویے میں بہتر تبدیلی لائیں۔ ابھی میں سوچ رہا تھا کہ اس صورت حال کو کیسے سنبھالوں کہ سردار شوکت حیات باہر آئے اور مجھے الگ لے جا کر کہنے لگے انہیں خورشید انور پر زرہ بھر اعتماد نہیں۔ بد اعتمادی کی ایسی فضا ختم کرنے کے لیے میں نے سردار شوکت حیات کو کہا کہ وہ فورا لیاقت علی خان سے ملیں اور انہیں کہیں کہ وہ خورشید انور کی جگہ کوئی اور آدمی رکھ لیں مگر سردار شوکت حیات خان بولے کہ خورشید انور انہی کا انتخاب ہے اس لیے انہیں تبدیل نہیں کرایا جا سکتا “

صفحہ نمبر چھتیس پر لکھتے ہیںکہ ” اچانک صورتحال بدل گئی جس کی صورتحال ایک انقلاب کی سی تھی یہ انقلابی تبدیلی پٹھانوں کی یلغار سے آئی۔ قبائلی تئیس اکتوبر ( ہمارا خیال ہے یہ تاریخ بائیس تھی کیونکہ کئی مستند زرائع سے یہ تاریخ بائیس ہی ہے مگر اکبر خان نے اسے تئیس لکھا ہے ) کو کشمیر میں داخل ہوئے اس سے ایسی صورتحال پیدا ہوئی کہ مہاراجہ نے چار دنوں میں ہندوستان سے الحاق کا اعلان کر دیا“

”مجھے بالکل علم نہیں تھا کہ قبائلیوں کے حملے کا فیصلہ کب کیا گیا کس طرح کیا گیا تھا کہ قبائلیوں کا حملہ اس نوعیت کا ہو گا اس سے پہلے قدر سنتا رہا تھا کہ خورشید انور قبائلیوں کا لشکر اگھٹا کر رہا ہے بھارت کو قبائلیوں کے حملے کی اطلاع ہماری طرف سے ملی تھی “۔

ایک انگریزی کتاب ” مشن ود ماونٹ بیٹن “میں انکشاف کیا کہ” بیس اکتوبر کے روز ہندوستان کے کمانڈرانچیف کو پاکستان کے کمانڈر ان چیف نے تار بھیجی کہ کم از کم پانچ ہزار قبائلیوں نے کشمیر پر حملہ کر دیا ہے اور مظفر آباد اور دو میل پر قبضہ کر لیا ہے “ اس تار کا اوپر ذکر ہو چکا ہے جب خورشید انور نے بریگیڈئر افتخار سے مشین گنوں کا مطالبہ کیا تھا تو اس نے یہ مطالبہ کمانڈر انچیف تک پہنچا دیا تھا۔

جب قبائلیوں نے حملہ کیا تو خورشید انور نے ان سے صرف علاقہ پر قبضے کا کام لینا تھا وہ جیسے ممکن تھا ان سے کروانا تھا انہیں مال غنیمت کی لالچ دی گئی تھی ایک جگہ پر خورشید انور اور قبائلیوں کے درمیان جھگڑا ہوا جس کو سردار شوکت حیات اس طرح لکھتے ہیں ۔(صفحہ نمبر دو سو اسی)

” قبائلی بارہ مولا پہنچ کر رک گئے ( بارہ مولا سرینگر سے تقریباً تیس کلو میٹر دور ہے) جہاں قبائلیوں نے خورشید انور کا حکم ماننے سے انکار کر دیا ان کے مابین جھگڑا اس معمولی بات پر ہوا کہ کشمیر کے خزانہ سے برآمد شدہ تین لاکھ روپے حکومت پاکستان کے خزانہ میں جائیں گے یا قبائلیوں میں تقسیم ہوں گے قبائلی اس بات ہر بھی اڑ گئے کہ عید الاضحی منانے کے بعد آگے بڑھیں گے۔ تین دن تک انہوں نے یہ بحث جاری رکھی اور آگے نہ بڑھے اس دوران انہوں نے مقامیوں میں لوٹ مار شروع کر دی۔“

قبائلیوں کی اخلاقی اقدار کے بارے میں اس وقت مظفرآباد کے ڈپٹی کمشنر دونی چند مہتا ( وہ یلغار کے پہلے دن ہی قتل کئے جا چکے تھے ) کی بیوی کرشنا مہتا اپنی کتاب ”ایک ماں کی سچی کہانی“ کے صفحہ چوبیس پر لکھتی ہیںکہ” ہمارا ایک پرانا ملازم ہسپتال سے دوڑتا ہوا آیا مجھے معلوم تھا اس کے پاس کوئی اہم معلومات ہو گی ، میں نے اس سے پوچھا تم اتنے پریشان کیوں ہو تووہ بولا میرا بارہ سالہ بچہ ہسپتال میں تھا۔ اب وہ جل رہا ہے سارے کے سارے مریض جل کر راکھ ہو چکے ہیں۔ وہ زندہ جلائے جا رہے ہیں۔او میرے خدا میں اپنے چھوٹے بچے کو کہاں سے لاو¿ں گا ؟ وہ ہسپتال کی طرف دوڑ پڑا بعد میں اس کی کہانی پتہ چلی کہ اس بیچارے کی اپنی لاش ہسپتال کے قریب سے ملی جبکہ اس کے ہاتھوں میں بچے کی جلی ہوئی لاش بھی تھی “

اسی کتاب کے صفحہ نمبر اکاون میں کرشنا مہتا لکھتی ہیںکہ ” تھوڑی دیر کے بعد ہمیں کچھ دیر کے لیے باہر جانے کو کہا گیا۔ حملہ آور ہمیں کمرے سے باہر لے کر آئے اور دریا کے کنارے چلتے چلتے دو میل کے پل تک پہنچ گئے۔ وہاں جو کچھ میں نے دیکھا وہ میں کبھی بھول نہیں سکوں گی۔اس سے پہلے تو میں سنتی رہی کہ کئی خواتین نے دریا میں چھلانگ لگائی لیکن یہ المناک منظر میں پہلے بار دیکھ رہی تھی جس میں انسانیت رضاکارانہ طور پر زندگی کی نعمت سے دستبردار ہو رہی تھی وہ بھی کسی بڑے مقصد کے بغیر کچھ خواتین جن کے چہروں ہر پہلے ہی ہوائیں اڑی ہوئی تھیں ابھی دریا کے کنارے ہر کھڑی تھیں اور کچھ پہلے ہی گھٹنوںگھٹنوں پانی میں ڈوبی ہوئی تھیں۔ انہوں نے سب سے پہلے اپنے بچوں کو دریا کی تیز ہواو¿ں کے حوالےکیا اور ان کی چیخ و پکار کی کوئی پرواہ نہ کی“

شوکت حیات اپنی کتاب کے صفحہ دو سو اسی پر لکھتے ہیںکہ ” بجائے اس کے کہ آگے بڑھ کر سرینگر کے ہوائی اڈے پر قبضہ کیا جاتا، قبائلیوں نے بازار میں لوٹ مار شروع کر دی اور اس طرح قیمتی وقت ضائع کر دیا “

اکبر خان اپنی کتاب کے صفحہ چوون پر لکھتے ہیں کہ” میں سوچ رہا تھا کہ بارہ مولا میں دو دن ضائع کیوں ہوئے ؟ اگر یہ دو دن ضائع نہ ہوتے توآج کشمیر کی کہانی بالکل مختلف ہوتی مجھے اس سوال کا جواب نہیں مل رہا تھا “

اسی صفحہ پر وہ آگے لکھتے ہیں کہ” میرے لیے اور کشمیر کی جنگ آزادی کے لیے یہ بہت اہم تھا میں اس سوال کا جواب ڈھونڈنے لگا بار بار خیال آتا کہ ان قبائلیوں کا کمانڈر انچیف خورشید انور تھا ضرور اس نے کسی معقول وجہ سے دو دنوں کے کیے تعاقب ملتوی کیا ہو گا۔آخر مجھے جواب مل گیا بارہ مولا کے بہت سے مسلمان وہاں موجود تھے میں نے ان میں اے چند ایک معتبر اور زمہ دار لوگوں سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ خورشید انور کو یقین ہو چکا تھا وہ سرینگر پر قبضہ کر لے گا اس لیے اس نے اس نے سری نگر میں پیشقدمی روک دی اور کشمیری لیڈروں کو بلا بھیجا۔ وہ ان کے ساتھ طے کرنا چاہتا تھا کہ کشمیر کی حکومت میں اس کی پوزیشن کیا ہو گی۔وہ سیاسی لیڈروں کا انتظار کرتا رہا۔ اسی انتظار میں ہندوستانی فوج آگئی اور سری نگر کے راستے میں باقاعدہ مورچہ بند ہو گئی“

کشمیر میں لوٹ مار و قتل و غارت گری کا بازار گرم تھا اور اس آپریشن کشمیر کی پلاننگ کرنے والے صرف اس بات کی رپورٹ لے رہے تھے کہ کتنے علاقے پر قبضہ کر دیا گیا ہے ۔

شوکت حیات خان اپنی کتاب کے صفحہ نمبر دو سو اسی، اکیاسی پر لکھتے ہیںکہ ” جب کشمیر پر حملہ ہو گیا لیاقت علی خان لاہور آئے۔ لیکن بیمار ہو گئے۔انہی دنوں نہرو نے لیاقت علی خان کو پیغام بھیجا کہ اسے اور ماو¿نٹ بیٹن کو لاہور میں ملنے کی رضامندی دیں۔ لیکن آخری وقت پر نہرو کام کے بہانے نہ آ سکے اور ماو¿نٹ بیٹن اکیلے آئے۔ میں اپنے چار ساتھی وزرا اور گورنر سمیت اس ڈنر میں موجود تھا جس کے اختتام پر ماو¿نٹ بیٹن نے لیاقت علی خان کو کہاکہ مجھے افسوس ہے نہرو بوجہ خرابی صحت نہیں آ سکے مگر پٹیل، جو ہندوستانی حکومت کا مردآہن ہے ،اس نے آپ کو پیغام بھیجا ہے کہ کھیل کے اصولوں ،جو ہم نے ہندوستان کی تقسیم کے سلسلہ میں اپنائے ہوئے ہیں، کے مطابق کھیلیں، یعنی ریاستیں جن کی آبادی ہندو اکثریت پر مشتمل ہیں اور ہندوستان سے ملحق ہیں وہ ہندوستان میں شامل ہوں اور جن کی آبادی مسلم اکثریت پر مشتمل ہو اور پاکستان سے متصل ہوں وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کریں گی میں اس معاہدے کی پابندی پر قائم ہوں۔تم لوگ حیدرآباد اور جوناگڑھ سے نکل جاو¿ جہاں کچھ مقامی مجاہدین نے شورش مچا رکھی ہے ورنہ ہمیں اس کے خلاف فوجی اقدام کرنا پڑے گا۔ چونکہ اس ریاست کی آبادی کی اکثریت ہندو ہے اور پاکستان کے ساتھ مواصلاتی ذرائع بھی کوئی نہیں لہٰذا یہ ریاست ہندوستان کے لیے چھوڑ دی جائے اس کے بدلے ہندوستانی فوجیں کشمیر سے واپس آ جائیں اور کشمیر پاکستان سے الحاق کر سکتا ہے۔“

وہ آگے لکھتے ہیں کہ ”یہ پیغام پہنچانے کے بعد ماو¿نٹ بیٹن گورنر کی رہائش گاہ گورنر ہاو¿س آ کر سو گیا ہم میں سے دو یا تین لیاقت علی خان کے پاس گئے اور کہا کہ ہمارے پاس فوج کو کشمیر بھیجنے کی گنجائش بھی نہیں جب میں بٹالین کا مطالبہ کرتا ہوں تو ایک کمپنی دی جاتی ہے ۔ہم یہ جنگ ہارنے کے لیے لڑ رہے ہیں کیوں نہ پٹیل کی یہ پیشکش، کہ حیدرآباد کے بدلے کشمیر کولے کیا جائے، قبول کر لی جائے اس لیے کہ حیدرآباد پر ہمارا اصولی حق بھی نہیں بنتا۔لیاقت علی خان نے میری طرف گھوم کر جواب دیا۔۔۔ سردار صاحب کیا سمجھتے ہو کہ میں پاگل ہو گیا ہوں ؟ جو یہ تجویز مان لوں کہ میں حیدرآباد جو صوبہ پنجاب سے بڑا ہے اسے کشمیر کے چند پہاڑوں کے عوض چھوڑ دوں۔۔۔“

یوں کشمیر پر قبضے کی کوشش ناکام تو ہوئی مگر کشمیر کا الحاق ہندوستان سے کروا دیا دیا اور اس کے بعد جو قتل غارت اس حصہ میں ہوا تھا یہاں نہیں رکا بلکہ چڑھتا نومبر ایک سیاہ نومبر بن چکا تھا اور جموں میں مسلمانوں کا قتلِ عام شروع ہو چکا تھا پھر چھ نومبر کا وہ منحوس دن بھی آیا جس نے کشمیر کی تاریخ کی مذہبی ہم آہنگی کی تاریخ کو شرمندہ کر دیا۔

قائد اعظم کو کشمیر ہر حملہ کی خبر اس وقت ملی جب کشمیر کا الحاق انڈیا سے ہو چکا تھا۔ اور کچھ نہیں کیا جا سکتا تھا سوائے ایک سرد جنگ کے جب پاکستان کا زور ٹوٹ گیا تو یکم جنوری انیس سو اڑتالیس کو ہندوستان مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ لے گیا اور شکایت کی کہ پاکستان نے کشمیر پر حملہ کر کے قبضہ کرنے کی کوشش کی ہے اس لیے پاکستان کو کشمیر سے نکالا جائے۔

سلامتی کونسل نے دونوں ممالک کا موقف سنا اور اس مسئلہ کوThe Situation In Jammu and Kashmirکا نام دیا لیکن پاکستانی نمائندے ظفر اللہ خان کے احتجاج پر اسے India Pakistan Questionکا نام دے دیا گیا۔

یوں مسئلہ کشمیر کی پیدائش ہوئی اور کشمیری آج تک ظلم و بربریت کا شکار ہیں۔

مذکورہ بالا تحریر میں ان تصانیف کے حوالے دیئے گئے ہیں جن کے مصنفین براہ راست اس سارے عمل میں شریک رہے۔ اس سب کا مقصد یکطرفہ مہم چلانے والے دانشوروں کو نہ صرف تصویر کا دوسرا رخ دکھانا تھا بلکہ پاکستان اور کشمیر کے نوجوانوں تک تاریخ کی درست وضاحت پہنچانا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کی حکومت (آزادحکومت ریاست جموں و کشمیر) قائم ہونے اور اس کی دستوری، قانونی، جغرافیائی اور حکومتی تبدیلیوں، ان میں پاکستانی حکمران طبقاتکے کردار، کشمیر میں مسلح جدوجہد کے آغاز سمیت دیگر موضوعات کو زیر بحث لانا بھی ضروری ہے۔ جس کےلئے مذکورہ بالا تحریر کی مزید اقساط بھی تحریر کی جائیں گی۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: