جموں‌کشمیر:‌سامراجی جبر کے خلاف مزاحمت کا استعارہ

ایک سال سے زائد عرصہ تک کی طویل خاموشی، نظر بندیوں اور گرفتاریوں کے بعد بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کی ہند نواز سمجھی جانیوالی چھ بڑی جماعتوں نے ”گپکار اعلامیہ“ کے مطابق مشترکہ سیاسی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ان جماعتوں نے جموں کشمیر کو مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں میں تقسیم کرنے اور خصوصی حیثیت، آئین اور سٹیٹ سبجیکٹ قوانین کو ختم کرنے جیسے اقدامات کو غیر آئینی، غیر قانونی قرار دیاہے اور ان کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ بھارت کی سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی گروہوں اور دانشور حلقوں سے بھی بھارتی حکومت کے غیر آئینی، غیر قانونی اور جبری اقدامات کے خلاف حمایت کی اپیل کی گئی ہے۔

”گپکار اعلامیہ“ گزشتہ سال چار اگست کو نیشنل کانفرنس کے سربراہ و سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ (گپکار ریزیڈنس) پر منعقدہ اجلاس کے بعد جاری کیا گیا تھا۔ رواں سال بائیس اگست کو فاروق عبداللہ ہی کی سربراہی میں اجلاس ہوا جس میں پی ڈی پی کی محبوبہ مفتی، پرادیش کانگریس کمیٹی کے جی اے میر، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ کے یوسف تاریگامی، پیپلز کانگریس کے سجاد غنی لون اور عوامی نیشنل کانفرنس کے مظفر شاہ نے شرکت کی۔

گزشتہ برس پانچ اگست کو مودی حکومت نے بھارتی آئین میں جموں کشمیر کی حیثیت وضع کرنے والے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو غیر موثر کرتے ہوئے نہ صرف بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا تھا بلکہ جموں کشمیر کو بھارتی وفاق کے زیر انتظام دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔ اس فیصلہ کے بعد بھارتی حکومت نے نیا سیاسی نقشہ جاری کیا اور پاکستانی و بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کے علاقوں بشمول گلگت بلتستان کو بھارت کا حصہ ظاہر کیا گیا۔ اس فیصلہ پر عمل درآمد کےلئے پورے جموں کشمیر میں کرفیو اور لاک ڈاﺅن کا نفاذ کیا گیا۔ ہر طرح کی سیاسی سرگرمی پر پابندی عائد کی گئی اور مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق بارہ سے پندرہ ہزار افراد کو پبلک سیفٹی ایکٹ اور دیگر کالے قوانین کے تحت پابند سلاسل کیا گیا۔ جبکہ کچھ سیاسی قائدین کو گھروں میں نظر بند کیا گیا۔ گرفتار کیے جانے والے افراد میں کم عمر نوجوانوں سے لیکر عمر رسیدہ سیاسی رہنماﺅں تک ایسے تمام لوگ شامل تھے جن پر بھارتی فورسز اور انتظامیہ کو کسی بھی قسم کا ایسا شبہ تھا کہ وہ بھارتی فیصلے کے خلاف رد عمل کا اظہار کر سکتے ہیں۔ گرفتار شدگان کو بھارت کی مختلف ریاستوں کے دور دراز اضلاع کی جیلوں میں منتقل کیا گیا۔ ان کو تشدد اور انسانیت سوز مظالم کا نشانہ بنایا گیا۔ اکثریت کو ایسے سکیورٹی بانڈ پر دستخط کرنے کے بعد رہا کر دیا گیا جس میں یہ یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ وہ بھارتی آئینی ترامیم اور جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے سے متعلق کوئی سیاسی رائے نہیں دیں گے۔ تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھی بھی سینکڑوں افراد مختلف جیلوں اور فورسز کے کیمپوں میں مقید ہیں۔

بھارتی تسلط سے آزادی اور فورسز کے جبر کے خلاف مزاحمت کی ہر آواز کو کچلنے اور جموں کشمیر کے قدرتی وسائل اور قیمتی زمینوں تک بھارتی سرمایہ داروں کی رسائی کو آسان بنانے کےلئے نریندر مودی کی نیم فسطائی حکومت نے جبر و استبداد کی ایک تاریخ رقم کی۔ پوری وادی کو ایک جیل میں تبدیل کر دیا گیا۔ چھ ماہ تک تمام تر کاروبار زندگی، ذرائع مواصلات، انٹرنیٹ اور موبائل سروس کو معطل رکھا گیا۔ اور رہی سہی کسر کورونا وبا کے بعد ایک نئے لاک ڈاﺅن نے پوری کر دی۔ گزشتہ ایک سال سے کاروبار زندگی مفلوج اور تعلیمی ادارے بند ہونے کی وجہ سے نہ صرف اس خطے کی معیشت بری طرح سے متاثر ہوئی ہے بلکہ طلبہ کا ایک قیمتی تعلیمی سال بھی ضائع ہو چکا ہے۔ میڈیا پر پابندیوں کے اختیارات سمیت فورسز کے اختیارات میں لا محدود اضافہ کر کے انہیں کشمیریوں کا قتل عام کرنے کی کھلی چھٹی دی گئی ہے۔ مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران سینکڑوں نوجوانوں کوجعلی انکاﺅنٹروں میں قتل کر کے نا معلوم قبرستانوں میں ان کی تدفین کی گئی ہے۔ فوجی چھاﺅنی میں تبدیل کی گئی پوری وادی میں فورسز کی جانب سے جگہ جگہ چوکیوں پر تلاشیوں، تشدد، تضحیک اور تذلیل کے مختلف واقعات سامنے آ رہے ہیں۔

حال ہی میں ایک غیر سرکاری تنظیم کی طرف سے 196 صفحات پرمشتمل رپورٹ شائع کی گئی ہے۔ جس میں جموں کشمیر کے زمینی حقائق سے متعلق اندوہناک انکشافات کئے گئے ہیں۔ رپورٹ میں ایک فیکٹری مالک سے بیگار لیے جانے کے ایک واقعہ کا حوالہ دیاگیا۔ پلوامہ کے رہائشی فیکٹری مالک کے مطابق فورسز اہلکاروں نے اسے کہا کہ کشمیری اب غلامی کی زندگی گزارنا سیکھیں اور غلاموں کی طرح ہی رہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس فیکٹری مالک سے اینٹوں اور گارے کی ایک ٹرالی لوڈ کروائی گئی۔ رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کر کے فورسز کےلئے مخبری کرنے کےلئے مجبور کیا جا رہا ہے۔ نوجوانوں کو پوچھ گچھ کےلئے فوجی کیمپوں میں لے جایا جاتا ہے اور پھر پولیس کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ اس عمل کو ایک کاروبار بھی بنا دیا گیا ہے۔ ہزاروں روپے رشوت لیکر نوجوانوں کو رہا کیا جاتا ہے۔ اگر رشوت نہ دی جاسکے تو پبلک سیفٹی ایکٹ اور دیگر کالے قوانین کے تحت بھارت کی مختلف ریاستوں کے دور دراز اضلاع کی جیلوں میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں عدالتوں اور انصاف کے اداروں کی بے بسی سے متعلق بھی کچھ واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔ عدالت عالیہ کے مختلف فیصلوں کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جن میں کچھ نوجوانوں کی رہائی اور بھارتی جیلوں سے کشمیر کی جیلوں میں منتقل کرنے کے احکامات پرعملدرآمد نہیں ہو سکا۔ فورسز کی یہ کھلی بدمعاشی نوجوانوں کو مزاحمت کےلئے بندوق اٹھانے پر مجبور کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پڑھے لکھے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد میں پہلی مرتبہ عسکریت کی طرف راغب ہونے کا رجحان بڑھا ہے۔

مودی حکومت نے خصوصی حیثیت ختم کرنے کے فیصلہ کو جموں کشمیر کے روشن مستقبل سے تعبیر کیا تھا۔ تعمیر و ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے دعوے اور اعلانات کیے گئے تھے۔ جبکہ کارپوریٹ میڈیا کے ذریعے حکمران ابھی تک یہ ثابت کرنے میں مصروف ہیں کہ جموں کشمیر میں خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد بیش بہا ترقی ہو رہی ہے۔ خصوصی حیثیت کو شیخ عبداللہ اور مفتی خاندان کے مفادات کا محافظ اور غریب کشمیریوں کےلئے زہر قاتل قرار دیا جا رہا تھا۔ جموں اور لداخ میں بھی صورتحال اس سے کچھ بہتر نہیں ہے۔ نجی شعبہ مکمل طور پر ختم ہونے کی وجہ سے لاکھوں افراد کا روزگار ختم ہو چکا ہے۔ جموں کشمیر میں بے روزگاری کی شرح بھارت کی قومی اوسط سے دوگنا ہو چکی ہے۔ سیاحت کا شعبہ مکمل طور پر بند ہو چکا ہے۔ وادی میں ہوٹل، شکارے، ہاﺅس بوٹ، ٹرانسپورٹ اور سیاحت سے منسلک دیگر کاروبار مکمل طور پر ٹھپ ہو چکے ہیں۔ جموں میں مذہبی سیاحت کا شعبہ مکمل طور پر بیٹھ چکا ہے۔ جس کی وجہ سے ہزاروں افراد کا روزگار ختم ہوا ہے۔ دستکاری، شال بافی، باغبانی، چاول کی کاشت اور سبزیوں کی کاشت کے شعبہ جات سے بھی لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ تھا۔ لاک ڈاﺅن اور مواصلاتی رابطے نہ ہونے کی وجہ سے سیب اور دیگر پھلوں کی فصلیں وادی میں ہی گل سڑ کر خراب ہوئیں۔

بھارتی حکومت نے رواں سال ڈومیسائل کے اجرا کے نئے قوانین اور میڈیا پالیسی کا اجرا کیا۔ جس کے بعد حکومت کو صحافت کا گلہ گھونٹنے کا مکمل اختیار حاصل ہو گیا۔ بھارتی فورسز کو صحافیوں اور صحافتی اداروں کو دھمکانے، ڈرانے اور سیلف سنسرشپ پر مجبور کرنے کا اختیار دے دیا گیا۔ جبکہ ڈومیسائل قوانین میں تبدیلی کے ذریعے غیر ریاستی افراد پر اراضی اور ملازمتوں کے حصول کے راستے کھول دیئے گئے ہیں۔ کشمیری ان قوانین کو لاکھوں بنگالی مہاجرین اور دیگر ہندو آبادکاروں کو جموں کشمیر میں آباد کرنے کی اسرائیلی طرز کی پالیسی کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ بھارتی فورسز کو بھی جموں کشمیر میں زمینوں کے حصول کےلئے درکار عدم اعتراض سرٹیفکیٹ کی شرط کو ختم کر دیا گیا ہے۔ جبکہ اسی اثنا میں ہزاروں ایکڑ اراضی بھارتی سرمایہ کاروں کو لیز پردیئے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دریاﺅں کے کناروں پر کی گئی ان الاٹ منٹوں کی وجہ سے کان کنی، ریت اکٹھا کرنے والے مزدوروں اور ٹھیکیداروں کا روزگار چھین لیا گیا ہے۔ دیگر سیاحتی علاقوں میں بھی بھارتی سرمایہ کاروں کو بڑے پیمانے پر زمینوں اور وسائل پراختیاردینے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

پانچ اگست کے بعد پے درپے بھارتی اقدامات کے بعد نہ صرف وادی بلکہ جموں اور لداخ کے شہریوں میں بھی ایک بے چینی پھیل چکی ہے۔ چین اور بھارت کے مابین لداخ میں سرحدی تنازعہ پر ہونے والی جھڑپوں کے بعد لداخ کے شہری دوہرے خوف کا شکار ہیں۔ وادی کشمیر کی مسلم آبادی میں پاکستان کی ریاست سے جو امیدیں وابستہ کی جا رہی تھیں و ہ بھی پاکستان کی سفارتی سطح پر بدترین ناکامیوں اور بھارتی اقدامات پر منافقانہ پالیسیوں کی وجہ سے ختم ہو چکی ہیں۔ کشمیری صحافی ریاض ملک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی ناکام پالیسیوں نے کشمیریوں کو نہ صرف متنفر کیا بلکہ کشمیر میں دونوں ملکوں سے آزادی حاصل کرنے کے جذبات کو مزید بڑھاوا ملا ہے۔

پے در پے سیاسی ناکامیوں کے بعد رواں سال چار اگست کو پاکستانی حکومت نے بھی نیا سیاسی نقشہ جاری کیا ہے۔ جس میں نہ صرف جموں کشمیر کو پاکستان کا حصہ قرار دیا گیا ہے بلکہ بھارتی ریاست جونا گڑھ اور متنازعہ سر کریک کے علاقوں پر بھی اپنا دعویٰ ظاہر کیا ہے۔ جبکہ سیاسی اور سفارتی حلقوں کی جانب سے متعدد فورمز پر یہ اظہاربھی کیا جا رہا ہے کہ پاکستان نے بھی اپنے زیر انتظام جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقوں کو ضم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر تیاریاں عروج پر ہیں۔ ایسے مختلف اقدامات کی وجہ سے پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے شہریوں میں بھی شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ چودہویں آئینی ترمیم کی بازگشت اور گلگت بلتستان میں پاکستانی شہریت کے قوانین کے نفاذ اور سٹیٹ سبجیکٹ قوانین کے خاتمے کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان کے قوانین کا نفاذ کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔

سعودی عرب سمیت اسلامی ملکوں کی تنظیم (او آئی سی) کے ممبران، امریکی سامراج اور دیگر قوتوں کی طرف سے پاکستان کی کوئی سفارتی مدد نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کا چین کی طرف جھکاﺅ اور انحصار پہلے سے زیادہ ہو چکا ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبہ کی وجہ سے چین کی اس خطے میں نہ صرف مداخلت بڑھی ہے بلکہ امریکہ سمیت دیگر سامراجی قوتیں بھی اس خطے میں اپنے سامراجی مقاصد کے حصول کےلئے سرگرداں ہیں۔ اس سامراجی کھلواڑ میں جموں کشمیر کے باسیوں کی زندگیاں اجیرن بن چکی ہیں۔ دراصل گزشتہ تہتر سال سے پاکستان اور بھارت کے حکمران جموں کشمیر کے مسئلہ کو داخلی تنازعات سے توجہ ہٹانے اور سرمایہ دارانہ حکمرانی اور جبر کو جاری رکھنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ کنٹرول لائن پر دو طرفہ فائرنگ اور جنگی جنون کو برقرار رکھتے ہوئے لاکھوں انسانوں کی زندگیوں پرمسلسل خوف کی فضا مسلط کی جا رہی ہے۔ جب بھی داخلی بحران گہرا ہوتا ہے تو کنٹرول لائن پر فائرنگ کا سلسلہ بڑھا دیا جاتا ہے۔ 2008ءمیں سنگ باز کشمیری نوجوانوں کی تحریک کے بعد کنٹرول لائن پر فائرنگ کا سلسلہ ایک بار پھر بڑھایا گیا تھا جس میں گزشتہ سال اگست کے بعد مزید شدت آئی ہے۔

چالیس سے زائد جماعتوں پرمشتمل آل پارٹیز حریت کانفرنس اور پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی حکمران اشرافیہ کےلئے مسئلہ جموں کشمیر ایک منافع بخش کاروبار سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ اقوام متحدہ جیسے سامراجی اداروں اور امریکہ، چین اور سعودی عرب جیسی سامراجی ریاستوں سے توقعات وابستہ کرنے اور قراردادوں کا راگ الاپنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اس خطے کے چالیس لاکھ سے زائد انسانوں کی ہڈیوں سے عرق تک نچوڑ کر نوکری کی طرز کی حکمرانی جاری رکھی گئی ہے۔ حریت قیادتیں کرپشن اور بدعنوانی میں ملوث ہو کر پاکستانی ریاست سے وظائف اور مالی مدد کے نام پر دولت کے انبھار اکٹھے کرنے میں مصروف رہیں۔ جبکہ ہند نواز سیاسی قیادتیں اور کمیونسٹ پارٹیاں آئین، جمہوریت اور سیکولرازم کے بچاﺅ کے نام پر سرمائے کی حاکمیت کےلئے سہولت کاری کا کردار ادا کرنے سے زیادہ کچھ کرنے سے قاصر ہیں۔ قوم پرست اور ترقی پسند قیادتیں بھی نظریاتی دیوالیہ پن، تنگ نظری اور فرقہ پروری کا شکار ہو کرحکمران اشرافیہ کو مضبوط کرنے کا اپنا تاریخی کردار جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جبکہ بنیاد پرستی کو حکمران طبقات دونوں طرف ایک مہرے کے طورپر فرقہ وارانہ تقسیم کو پروان چڑھانے اور دیگر مذموم مقاصد کے حصول کےلئے پراکسی کے طورپر استعمال کر رہے ہیں۔

جموں کشمیر بشمول لداخ اور گلگت بلتستان میں مختلف قومیتیں موجود ہیں۔ برصغیر کی تقسیم کے دوران اس خطے پر بالواسطہ اقتدار اور سرمایہ دارانہ حاکمیت کو جاری رکھنے اور مذہبی بنیادوں پر اس خطے کی تقسیم کو برقرار رکھنے کےلئے مصنوعی دشمنی کو قائم رکھنا ناگزیر تھا۔ اس لئے انگریز سامراج نے جموں کشمیر کو ایک ایسے تنازعہ کی شکل دینے کی راہ ہموار کی کہ جس کی وجہ سے دونوں نو مولود ریاستوں میں ایک دشمنی کا ماحول برقرار رہ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اس خطے میں بسنے والی تمام قومیتوں کی آزادی کا راستہ نہ صرف ایک دوسرے سے جڑ اہوا ہے بلکہ اس خطے سے سرمایہ دارانہ حاکمیت کے خاتمے سے مشروط ہو چکا ہے۔ اس خطے میں سرمایہ دارانہ حاکمیت اور طرز پیداوار کی موجودگی میں جموں کشمیر کے مسئلہ کا نہ تو کوئی مستقل حل ممکن ہے اور نہ ہی اس خطے میں بسنے والے ڈیڑھ ارب انسانوں کی غربت، جہالت، بیروزگاری، لاعلاجی، بے گھری اور محکومی سے نجات کا کوئی راستہ موجود ہے۔ اس جدوجہدمیں نہ صرف جموں کشمیر کی تمام اکائیوں میں بسنے والے محکوموں بلکہ برصغیر پاک و ہند میں موجود تمام قومیتوں کے محنت کشوں کے دکھ اور مفادات ایک ہیں جبکہ ان تمام مظلوم و محکوم قومیتوں کے حکمران طبقات و اشرافیہ کے مقاصد و مفادات ایک ہیں۔ اس لئے اس جدوجہد کو قومی بنیادوں پر نہیں بلکہ طبقاتی بنیادوں پر نہ صرف استوار کیا جا سکتا ہے بلکہ حقیقی آزادی کا راستہ بھی محنت کش طبقے کی مشترکہ فتح میں ہی پنہاں ہے۔

بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کی ہند نواز سمجھی جانیوالی قیادت کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیہ سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ بڑی لڑائی لڑنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ بلکہ اپنے حق حکمرانی کے دوبارہ حصول کےلئے بھارتی جبر و استبداد کے خلاف کشمیری محنت کشوں میں موجود غم و غصے کا استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گزشتہ تہتر سال میں کشمیری محنت کشوں اور نوجوانوں نے روایتی قیادتوں اور حکمران اشرافیہ کو بار ہا آزمایا ہے۔ سامراجی اداروں اور ملکوں کی مدد کی توقعات اور امیدیں اب ٹوٹ کر بکھر چکی ہیں۔ بھارت کی حکمران جماعتوں اور روایتی قیادتوں سے مدد کی امیدیں بھی دم توڑ چکی ہیں۔ پاکستانی حکمرانوں اور قیادتوں کے اعلانات بھی مذاق بن کے رہ گئے ہیں۔ لیکن غلامی کے خلاف نفرت اور مزاحمت کا سلسلہ ترک نہیں ہوا۔ جبر کا سلسلہ جس قدر بڑھ رہا ہے اسی جواں مردی سے کشمیری نوجوان اس جبر کا مقابلہ کرنے کےلئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ مسلح سرگرمیوں کے برعکس ماضی میں کشمیری نوجوانوں کی سیاسی تحریک نے بھارت اور پاکستان کے نوجوانوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔

عسکریت کے ذریعے وقتی جذبات کا اظہار تو ہو سکتا ہے لیکن آزادی کے عظیم مقصد کے حصول کےلئے نوجوانوں کو ایک قدم اور آگے آنا ہوگا۔ جس طرح روایتی قیادتوں کو مسترد کیا گیا ہے اسی طرح نئی قیادتوں کو تراشنا بھی ہو گا۔ سرمایہ دارانہ حاکمیت کے خاتمے کےلئے سائنسی سوشلزم کے نظریات کی بنیاد پر ہی وہ حقیقی قیادت تراشی جا سکتی ہے جو نہ صرف اس خطے کی محکومی کے خاتمے کی راہ ہموار کر سکتی ہے بلکہ برصغیر پاک و ہند کے محنت کشوں اور نوجوانوں کو منظم کرتے ہوئے سرمایہ دارانہ حاکمیت اور استحصال کی ہر شکل کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہے۔ کشمیر کے پہاڑوں پر پنپنے والی مزاحمت برصغیر جنوب ایشیا کے سوشلسٹ مستقبل کا پیغام بنے گی۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: