کشمیر سے غداری اور لوگوں کی تذلیل کی گئی……(یوسف تاریگامی کا کالم)

جموں کشمیر کے عوام نے مسلم پاکستان کی بجائے سیکولر انڈیا کے ساتھ الحاق صرف الحاق کی دستاویز کی اساس کی بنیاد پر نہیں کیا، جو الحاق کی قانونی بنیاد تھی، بلکہ اس الحاق کی سب سے اہم وجہ تکثیری اور سیکولر انڈیا کی تعمیر کے وہ وعدے تھے جن کے تحت جموں و کشمیر کے عوام کو ایک خصوصی حیثیت اور زیادہ سے زیادہ داخلی خودمختاری حاصل ہونا تھی۔ یہ وعدے انڈین آئین کے آرٹیکل 370اور جموں کشمیر کے اپنے آئین پر مشتمل تھے۔ یہ آئینی ذمہ داریاں ہیں جن کے بغیرالحاق کی دستاویز خود بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے۔

لیکن بدقسمتی سے ان آئینی ضمانتوں کو آہستہ آہستہ ختم کرتے ہوئے ان لوگوں کو مسائل پیدا کرنے کا موقع فراہم کیا گیا جو جموں و کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کے مخالف رہے ہیں۔

اور 1990سے ہی کشمیر نے تشدد کے ایسے چکر کا سامنا کیا جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر اموات اور تباہی ہوئی۔ اس عرصے میں اس خطے میں بہت سے سانحات گزرے ہیں۔ جب 1947 میں تقسیم ہند کے وقت برصغیر فرقہ وارانہ فسادات کی وجہ سے جل رہا تھا ، تب کشمیر میں فرقہ وارانہ تشدد کے ایک بھی واقعے کی اطلاع نہیں ملی تھی۔ تاہم ، بدقسمتی سے ، 1990 میں کشمیر کی سیکولر شناخت کی قابل فخر وراثت اس وقت دھندلا گئی، جب اقلیتی برادری کو خوف کے مارے اپنے گھروں کو چھوڑنا پڑا۔

اس کے بعد بڑے پیمانے پر سیاسی بدامنی سے نمٹنے کے لئے ابھی تک کوئی بڑی پیشرفت نہیں ہو سکی ہے ، اگرچہ انتخابات ہوئے اور ریاست کو ختم شدہ خودمختاری کی بحالی کے لئے قراردادیں منظور کی گئیں۔لیکن بدقسمتی سے یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوسکیں۔

تاہم ، پچھلے سال 5 اگست کے بدقسمت دن ، ایک بڑے پیمانے پر کریک ڈاو¿ن کے ذریعے ، پورے سیاسی اراکین اسمبلی اور سول سوسائٹی کے کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا اور پوری وادی عملی طور پر بڑے قید خانہ میں تبدیل ہوگئی۔ بڑے پیمانے پر پابندیاں عائد کردی گئیں اور تمام مواصلات بند کردیئے گئے۔ اور یہاں پارلیمنٹ میں بی جے پی کی حکومت نے ڈھٹائی اور غیر آئینی طور پر آرٹیکل 370 کے تحت جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیا اور اس سے پہلے کی ریاست کی مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں میں درجہ بندی کر دی۔ ریاست جموں و کشمیر کو تنظیم نوایکٹ -2019 کے تحت تقسیم کیا گیا ، جس نے کشمیر ، جموں اورلداخ کی عوام کوورطہ حیرت میں ڈال دیا۔

مارچ میں ایک حد بندی کمیشن قائم کیا گیا تھا اس حقیقت کے باوجود کہ جموں و کشمیر کی نمائندگی پیپلز ایکٹ 1957 اور 2002 میں بنائے گئے جموں و کشمیر کے آئین کے سیکشن 47 (3) میں ترمیم کے ذریعے ، اسمبلی نے حد بندی مشق کو 2026تک منجمد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہاں تک کہ 2010 میں ، سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر اسمبلی کی طرف سے حد بندی کو منجمد کرنے کے عمل کو برقرار رکھا۔ اس مشق کو وادی سے اسمبلی نشستوں کی تعداد کم کرنے کی کوشش سمجھا جارہا ہے۔

جب کہ پوری دنیا ، ملک اور جموں و کشمیر کوویڈ 19 کے وبائی مرض سے دوچار ہیں ، مرکز نے غیر جمہوری اور من مانے انداز میں خطے کے لوگوں کوبے اختیار کرنے کے لئے نئے ڈومیسائل قوانین پاس کیے۔ سابقہ ریاست میں غالب خیال یہ ہے کہ نیا نوٹیفکیشن بی جے پی کی ایک چال ہے کہ وہ اس خطے کی آبادکاری کو تبدیل کرے اور سیاسی ، معاشی اور ثقافتی طور پر لوگوں کو مزید بے اختیار اور بے دخل کرے۔

جب تک جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر کے اسے مرکز کے زیر انتظام دو حصوں میں تقسیم نہیں کیا گیا تھا، تب تک بھارتی آئین کا آرٹیکل35A ریاستی اسمبلی کو یہ اختیار دیتا تھا کہ وہ جموں کشمیر کے رہائشی کی وضاحت کرے۔ صرف جموں و کشمیر کے رہائشی رہائشی ہی ملازمت کے لئے درخواست دہندگی کے قابل تھے یا ریاست میں غیر منقولہ جائیداد کے مالک تھے۔

نہ صرف وادی کے لوگ ، بلکہ جموں اور لداخ کے علاقوں کے رہائشی بھی نئے ڈومیسائل قانون کے بارے میں خوف زدہ ہوگئے ہیں۔ آبادی کے تمام طبقات میں گہرا صدمہ اور غصہ ہے۔

اراضی کے حصول سے متعلق مرکزی قانون کو جے اینڈ کے تک بڑھایا جانے کے بعد ، انتظامیہ نے 1971 کا ایک سرکلر واپس لے لیا ہے جس میں فوج ، بی ایس ایف ، سی آر پی ایف اور اسی طرح کی دیگر تنظیموںکو اراضی کے حصول کے لئے محکمہ داخلہ سے این او سی درکارہوتا تھا۔ یہ اقدام بھی آبادی میں بدامنی کو مزید گہرا کرنے کاموجب بن رہا ہے۔

آرٹیکل 370کی منسوخی کے بعد سے صرف ایک چیز ابھی تک حاصل ہوئی ہے ، وہ جموں کشمیر میں جمہوریت کا مکمل خاتمہ اور شہری اور جمہوری حقوق پر غیر انسانی جبر ہے۔ یو اے پی اے ، پبلک سیفٹی ایکٹ وغیرہ جیسے مکروہ قوانین کے اندھا دھند استعمال نے لوگوں کی زندگی بالخصوص نوجوانوں کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ سیکیورٹی فورسز پر اس طرح کے اقدامات اور خصوصی انحصار نے کشمیری عوام اور بھارتی ریاست کے مابین کسی بھی طرح کے تعلقات کو عملی طور پر ختم کردیا ہے۔

ایک سال کے دوران کے حقائق مودی اور امت شاہ کے ترقی کے دعوﺅں کو جھٹلا رہے ہیں،بی جے پی حکومت یہ دعوی کر رہی تھی کہ آرٹیکل 370 جموں و کشمیر میں ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ کوئی پوچھ سکتا ہے کہ اس کے بعد سے اب تک کتنی ترقی ہوئی ہے۔ سرمایہ کاری ، اور ملازمت کے مواقع کہاں ہیں جن کا انھوں نے دعوی کیا تھا؟

ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کو ایک طرف رکھیں، ہزاروں دیہاڑی دار مزدور ، عام مزدور ، سکیم ورکرز اور دیگر مہینوں سے اجرتوں سے محروم ہیں۔ بی جے پی، جو گذشتہ چھ برسوں سے اقتدار میں ہے جموں وکشمیر میں ترقی کے بارے میں فخر کررہی ہے ، لیکن قومی شاہراہ پر رام بن سے رامسو تک ایک پیچ کی مرمت نہیں کر سکی ہے۔ جموں و کشمیر کی انتظامیہ لوگوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں ہر پیمانے پر بری طرح ناکام رہی ہے۔

5 اگست کے بعد بی جے پی حکومت کے اقدامات کا معاشی ، معاشرتی اور سیاسی اثر تباہ کن رہا ہے۔ اس لاک ڈاو¿ن کے ایک سال کے عرصہ کے دوران ، وادی کی معیشت کو کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (کے سی سی آئی) کی خسارے کی تشخیص کی رپورٹ کے مطابق چالیس ہزار کروڑ روپے کا نقصان پہنچا ہے۔ اس دوران جموں کی معیشت کو بھی بہت بڑا نقصان ہوا۔ اس عرصے کے دوران نجی شعبے میں کئی لاکھ ملازمتوں ختم ہو گئیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر کی بے روزگاری کی شرح قومی اوسط سے تقریبا دوگنا ہے۔

سیاحت کی صنعت کے اسٹیک ہولڈرز کو صدمہ پہنچا ہے۔ تمام ہوٹل والے ، ہاو¿س بوٹ مالکان ، ٹرانسپورٹرز ، شکار ے والے ، دکاندار ، پونی والے ، سیاحتی رہنما اور سیاحت سے متعلق تمام ایجنٹ معاشی طور پر برباد اور بے روزگار ہوگئے ہیں۔ جموں خطے میں یاتری سیاحت عملاً منہدم ہوگئی اور اس مذہبی سیاحت سے وابستہ ہزاروں افراد کا روزگار بکھر گیا۔

گذشتہ 5 اگست سے وادی میں ہزاروں کاریگر بے کار ہیں۔ مواصلاتی ناکہ بندی اور مجموعی طور پر شٹ ڈاﺅن ہونے سے وادی کا رخ کرنے والے سیاحوںکی آمد میں کمی کا سامنا کرنا پڑا ، دستکاری کی صنعت کو دھچکا ،لگا جو اگست کے بعد بھاری نقصانات سے دوچار ہے۔

باغبانی کے شعبے سے وابستہ لاکھوں افراد کی بقاءخطرے میں ہے۔ اس شعبے سے وابستہ افراد خطے میں روزگار کی کافی فیصد ہیں۔ گذشتہ نومبر کے اوائل میں برفباری کے سبب باغبانی کو بڑے پیمانے پر نقصان ہوا۔ جموں وکشمیر نیشنل ہائی وے کی مسلسل بندش سے بیرونی منڈیوں تک آسانی سے آمدورفت میں خلل پڑاہے۔ جموں میں باسمتی اور سبزیوں کے کاشتکاروں کو بھاری بارش اور بازاروں تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے بھاری نقصان ہوا۔

جموں کشمیر میں بہنے والے دریاﺅں پر غیر مقامی لوگوں کو کان کنی کے معاہدوں کی الاٹ منٹ ان ہزاروں ریت کھودنے والوں ، مزدوروں ، چھوٹے ٹھیکیداروں اور ٹرانسپورٹرز کے لئے ایک اور دھچکا ہے ،جو براہ راست یا بالواسطہ معدنیات کی کھدائی سے وابستہ ہیں۔ وہ اپنی روزی روٹی سے محروم ہونے کے خطرہ سے دوچار ہیں۔

فور جی انٹرنیٹ سروس کی مسلسل معطلی نے طلبہ کو مایوسی کی حالت میں دھکیل کر پریشان کردیا ہے۔ فور جی انٹرنیٹ پر عائد پابندیاں ایک ایسے وقت میں جاری ہیں جب وزیر اعظم ملک میں تبدیلی اور ڈیجیٹل انڈیا انیشیٹو کے ذریعہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کو استعمال کرکے تمام شہریوں کے لئے مواقع پیدا کرنے کا دعوی کرتے ہیں۔

اس سال جون میں نئی میڈیا پالیسی تشکیل دی گئی ہے جو تحریر و تقریر کی آزادی کا گلہ گھونٹنے کی ایک کوشش ہے،جس نے جموں و کشمیر میں کام کرنے والے صحافیوں میںبے چینی کوفروغ دیا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد حکومت کو آزادی صحافت کو منہ بند کرنے کا مکمل اختیار فراہم کرنا ہے۔ اہم آوازوں کو خاموش کرنے اور صحافیوں کو سیلف سنسرشپ پر مجبور کرنے کے لئے حکام ہراساں کرنے ، دھمکانے ، نگرانی اور آن لائن انفارمیشن کنٹرول کے طریقہ کار استعمال کرتے ہیں۔

مقامی مقتول عسکریت پسندوں کے اہل خانہ کو ان کے لواحقین کی آخری رسومات ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی اور اس کے بجائے لاشوں کو دوردرازنامعلوم قبروں میں دفن کیا جانا بدقسمتی ہے۔

بی جے پی حکومت کا یہ دعوی، کہ آرٹیکل 370 کو منسوخ کرکے عسکریت پسندی کا خاتمہ ہوجائیگا، حقائق کے منافی ہے۔ متعدد عسکریت پسندوں کے مارے جانے کے دعوو¿ں کے باوجود ، مبینہ طور پر نئے مقامی نوجوان عسکریت کی صفوں میں شامل ہو رہے ہیں۔ دراندازی کی اطلاعات کا سلسلہ جاری ہے۔ ایل او سی پر غیر معمولی حالات بدستور جاری ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ سال 5 اگست کو جموں و کشمیر کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا ، وہ ہندو راشٹر کے قیام کے آر ایس ایس کے ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہے۔ سیکولر جمہوری قوتوں کو لازمی طور پر موروثی خطرات کا ادراک کرنا چاہئے اور ہماری تحریک آزادی کی کامیابیوں پر اس بے مثال حملہ کے خلاف وسیع مزاحمت کے لئے متحد ہوکر کام کرنا چاہئے۔

(محمد یوسف تاریگامی ،چار بار ممبر قانون ساز اسمبلی رہے ہیں،اور کلگام کے حلقہ کی نمائندگی کرتے ہیں، اس کے علاوہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ( سی پی آئی ایم) سنٹرل کمیٹی کے ممبر ہیں۔)

مترجم: حارث قدیر

کشمیر سے غداری اور لوگوں کی تذلیل کی گئی……(یوسف تاریگامی کا کالم)” ایک تبصرہ

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: