جموں کشمیرکی تحریک: شکست سے بہت دور۔۔۔سوشلسٹ فتح کی منتظر۔۔۔۔۔!

تاریخ کو سماجی اور فطری ارتقائی عمل کے طور پر دیکھنے کے بجائے اگر حکمران طبقے کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو تاریخ مٹھی بھر انسانوں کے کارناموں کی داستان ہے جن میں سپہ سالار، مذہبی پیشوا،بادشاہ وغیرہ شامل ہیں۔جنگی فتوحات کو قومی اور اور مذہبی برتری کے طور پر پیش کیا جاتا ہے لیکن یہ نہیں بتایا جاتا ان جنگوں میں کس طبقے کے مفادات پوشیدہ تھے۔ حکمران طبقے کی غلاموں کے حصول سے لے کر خام مال پر قبضے کی جنگوں کو مقدس اور ضروری بنا کر پیش کیا جاتا ہے.طبقاتی معاشرے میں حکمران طبقے کی تاریخ کے علاوہ محنت کشوں کی تاریخ بھی شامل ہے جسے چھپانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے.وہ تاریخ حکمران طبقے کے ظلم کے خلاف محنت کشوں اور محکوموں کی بغاوتوں اور انقلابات کی تاریخ ہے. حکمران طبقہ اپنی تاریخ کے ذریعے ماضی کو بہت حسین قرار دیتا ہے اور بادشاہوں کی زندگیوں کو ہی تمام انسانوں کی زندگی بتاتا ہے. انسانوں کو ماضی میں دھکیلنے کی کوشش کرتے ہیں.وہ اس طریقے سے سماجی ترقی میں اکثریتی انسانی آبادی کے کردار کو چھپا لیتے ہیں. طبقاتی سماج کی تاریخ حکمران طبقے کے جبر و استبداد کی تاریخ ہے اور محکموں کی طبقاتی غلامی سے نجات حاصل کرنے کی جدوجہد کی تاریخ ہے.دنیا کے دیگر علاقوں کی تاریخ کی طرح کشمیر کی تاریخ کا اہم پہلو ظالموں کا جبر اور مظلوموں کی جدوجہد ہے۔ اشوکا وہ پہلا بادشاہ تھا جس نے کشمیر پر قبضہ کیا۔ اس وقت کشمیر مورین سلطنت کا حصہ تھا ،جو بنگال سے افغانستان اور دکن سے پنجاب تک پھیلی ہوئی تھی۔ اشوکا کی وفات کے بعد کشمیر جلکہ کی حکمرانی میں ایک بار پھر آزاد ہو گیا۔ پہلی صدی عیسوی میں شمال مغربی چین کی طرف سے کشنوں نے وادی پر حملہ کیا ،جو پورے ہندوستان کو فتح کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ کشنوں کا عہد حکومت 178ءتک جاری رہا اور پھر براہمن ازم کو ایک بار پھر عروج ملا۔ نیا مذہب جو کشمیر میں پروان چڑھا شیو ازم کے نام سے مشہور ہوا۔ ہیرا گولا کا آمرانہ دورِ حکومت 530 صدی عیسوی تک چلتا رہا۔ کلہانا کے بقول”وہ انسانیت کا ایک خوفناک دشمن تھا جس کے دل میں نہ بچوں اور نہ عورتوں کے لئے کوئی ہمدردی اور ترس تھا نہ بزرگوں کا کوئی احترام کرنا جانتا تھا“ اس کے بعد قائم ہونے والی کرکوتا سلطنت کا سب سے مشہور بادشاہ للیتا دِتہ تھا۔ اس نے آٹھویں صدی عیسوی کے اوائل میں حکمرانی کی۔ اسی طرح مختلف حکمرانوں کے بعد 939 ءصدی عیسوی میں واساکارہ کی موت کے ساتھ ہی اتپالا سلطنت کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ لیکن اس کے بعد بھی مختلف حکمرانوں کی لوٹ مار اور عیاشیاں چلتی رہیں۔ اسی تسلسل میں مغلوں کی آمد ، افغانیوں کی جارحیت، سکھوں، وغیرہ کا دورانیہ نظر آتا ہے جو ایک دوسرے سے بڑھ کر عوام کا خون نچوڑتے رہے۔

10 فروری 1946 کو دریائے ستلج کے کنارے پر واقع ایک گاو¿ں سوبارون میں سکھ انگریز جنگ لڑی گئی۔ جس میں گلاب سنگھ نے سکھوں کے ساتھ غداری کی جس کی وجہ سے وہ جنگ ہار گئے۔ اسی وجہ سے برطانیہ نے 75 لاکھ کے عوض جموں اور کشمیر گلاب سنگھ کے حوالے کر دیا۔ لارڈ ہارڈنگ معاہدہ امرتسر کا بڑا منصوبہ ساز تھا اور اسی نے کشمیر گلاب سنگھ کے ہاتھوں فروخت کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ تا ہم برطانیہ کے لیے یہ اچھا سودا تھا۔ اب کشمیر کی ریاست میں ان کے پاس ایک وفادار ایجنٹ موجود تھا۔ ڈاکٹر لال خان اپنی تصنیف ”کشمیر کی آزمائش “میں لکھتے ہیں کہ” جموں و کشمیر کا تحفہ قبول کر لینے کے بعد گلاب سنگھ نے اپنے آپ کو زر خرید غلام جانا تھا“

ایک طرف حکمرانوں کی عیاشیوں کی تاریخ ہے تو دوسری طرف کشمیر کی تاریخ مزدوروں کسانوں اور نوجوانوں کی جدوجہد سے مزئین ہے۔1924ءمیں کشمیری مزدور بغاوت پر اتر آئے۔ اگلے ہی دن انہوں نے سرکاری زمین پر قبضہ کر لیا اور سارہ شہر بند کر دیا۔ مہاراجہ نے فوج طلب کرتے ہوئے انہیں بے رحمی سے کچل دیا۔ لیکن یہ جدوجہد کا آغاز تھا جسے ابھی شروع ہونا تھا۔

جس طرح مسلمانوں نے مذہبی اقلیتوں کو جبر کا نشانہ بنایا تھا اسی طرح ہری سنگھ کی حکومت نے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا۔ معاشی اعتبار سے ریاست کی طرف سے بے تحاشا ٹیکس، زمین کی ملکیت کی پابندی اور چھوٹے سرکاری اہلکاروں کی بے پنا بدعنوانیوں نے مسلمانوں پر ظلم کی انتہا کر دی۔ مہاراجہ نے 75 لاکھ روپے پورے کرنے کا عزم کیا ہوا تھا۔ نہ صرف ٹیکسوں کی شرح بہت زیادہ تھی بلکہ کوئی بھی چیز ٹیکس سے مستثنیٰ نہیں تھی۔ فصلیں، پھل، جانوروں کی چراگاہیں، دستکاریاں، شادیاں، تقریبات، مزدوری اور حتیٰ کہ جسم فروشی پر بھی ٹیکس لاگو ہوتا تھا۔

1931 ءمیں عبدالقدیر نامی ایک شخص نے تقریر کی جس میں ہندوو¿ں اور ہری سنگھ کو نشانہ بنایا جس کی وجہ سے اس کو سرکشی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ جب اس کے خلاف مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی تو تقریباً 7ہزار لوگوں کا ہجوم جمع ہو گیا۔ اس سے عوام اور پولیس کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ پولیس نے فائر کھول دیا اور22 افرادمارے گئے۔ اس وجہ سے ہندو مسلم فسادات شروع ہو گئے، اس پورے واقعے میں تقریباً 163 افراد زخمی ہوئے۔ اگر چہ ان واقعات کا ظاہری اسباب مذہبی نظر آتے ہیں لیکن اصل اسباب معاشی اور سماجی حالات تھے۔ اس واقع کے بعد 14 اگست یوم کشمیر بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس میں ایک ردعمل سامنے آیا جو خود ریاستی سرحدوں سے باہر نکل گیا۔ برطانوی ہندوستان میں ممبئی، کلکتہ اور دہلی جیسے بڑے شہروں میں جلسے منعقد ہوئے۔یہ خود رو عوامی اٹھان تھی جس کو مسلمان اشرفیہ کی طرف سے مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔

ڈاکٹر لال خان لکھتے ہیں کہ” برصغیر کی تقسیم سے پہلے کشمیر دراصل عوام کے لیے ایک جہنم تھا ،جہاں ڈوگروں کی ظالمانہ حکومت کے ساتھ ساتھ انتہائی غربت، بدحالی اور بیماری تھی۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ جدوجہد کا ایک مینارا بھی تھا۔“

تقسیمِ ہند برطانوی سامراج کے انتہائی گھناﺅنے جرائم میں سے ایک نظر آتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد نہ مسلمانوں اور نہ ہی ہندوو¿ں کے مفادات کا تحفظ کرنا تھا بلکہ برصغیر کی مسلم اور ہندو سیاسی اشرفیہ کی برطانوی سامراج سے ملی بھگت کے ذریعے سماجی انقلاب کا راستہ روکنا تھا۔ برطانوی سامراج اس بات سے آگاہ تھا کہ اگر انہوں نے اپنے پیچھے ایک متحدہ ہندوستان چھوڑا تو پھر ہندوستان کی محنت کش عوام کی جدوجہد محض قومی آزادی تک محدود نہیں رہے گی بلکہ وہ آگے بڑھ کر ایک انقلاب کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ کر کہ سماجی،معاشی اور سیاسی آزادی کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ اس بندر بانٹ میں ایک منصوبے کے تحت سامراجی ایک منقسم کشمیر بھی ایک تنازعہ کے طور چھوڑ گئے۔ یہ منصوبہ اس مقصد کے لیے بنایا گیا تھا کہ ان کے جانے کے بعد بھی مذہبی فرقہ وارانہ تعصب اور نفرت کی آگ کو ہوا ملتی رہے .حکمران طبقات کی طرف سے مسلط کردہ مصنوعی دشمنی چلتی رہے.اسی دشمنی کو بنیاد بنا کر امریکی سامراج اور دیگر سامراجی ممالک کی اسلحہ ساز کمپنیوں کے اسلحے کے سودے بازی کی جاتی ہے. برصغیر کی پاکستان اور بھارت کے روپ میں تقسیم نہ صرف ایک رجعتی سیاسی قدم تھا بلکہ اس تقسیم کے باعث معصوم انسانوں کے خون سے سب سے بڑی ہولی کھیلی گئی۔ لاکھوں لوگ اس بربریت کا شکار ہوئے پورا معاشرہ اس بربادی کی لپیٹ میں آ گیا۔ یہ ایک غیر معمولی تاریخی حقیقت ہے کہ تقسیمِ ہند کے وقت برصغیر کے زیادہ تر علاقے فرقہ وارانہ قتل وغارت اور مذہبی جنون کے قرب میں مبتلا تھے، کشمیر نسبتاً اس پاگل پن سے محفوظ رہا۔ لیکن جغرافیائی قربت کے باعث پنجاب میں ہونے والے واقعات کی بدولت بالآخر تشدد جموں تک جا پہنچا۔ تقسیم کے وقت فرقہ وارانہ قتل وغارت کا ایک طوفان برپا ہوا اس کے ساتھ ہندوو¿ں اور سکھوں کی مشرق کی طرف ہجرت اور مسلمانوں کی مغرب کی طرف ہجرت ہوئی جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ جارحیت کا شکار ہوئے۔

تقسیم کے بعد ستمبر کے وسط میں محمد علی جناح نے اپنا سیکرٹری کشمیربھیجا کہ دو ہفتے کے لیے میرے رہنے کا بندوست کر آئے۔ تاکہ میں کشمیر کی خوبصورت اور پر سکون وادی میں آرام فرما سکوں۔ دوسرے ہموطنوں کی طرح یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ کشمیر جس کی دو تہائی سے بھی زیادہ آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے تقسیم کے بعد وہ پاکستان کا حصہ نہیں ہو گا۔ تا ہم جب وہ شخص واپس آیا تو اس نے کہا کہ مہاراجہ ہری سنگھ نے جناح کو کشمیر میں قدم رکھنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا خوا وہ سیاح کی حیثیت سے ہی کیوں نہ آئے۔ چنانچہ جناح نے خفیہ ایجنٹ بیجھا جس نے واپس آ کر رپورٹ دی کہ مہاراجہ ہری سنگھ پاکستان کے ساتھ الحاق کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ اس وقت کے وزیراعظم لیاقت علی خان نے اپنے قریبی رفقاءکے مخصوص گروپ کی میٹنگ کی تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ مہاراجہ کو کس طرح پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ چنانچہ یہ منصوبہ بنایا گیا کہ شمال مغربی سرحدی وزیر اعلیٰ کی معاونت سے قبائلیوں کو کشمیر میں خفیہ طور پر داخل کرنا ہے اور 26 اکتوبر تک سری نگر پر قبضہ کرنا تھا۔اس منصوبے کی خبر جب نہرو کو ملی تو اس نے گلہ پھاڑ کر کہا” جس طرح کائلے کوئین میری کے دل پر لکھا ہے اسی طرح کشمیر میرے دل پر لکھا ہے“23،24 اکتوبر قبائلی پٹھان دریائے جہلم پار کر کے کشمیر میں داخل ہوئے۔ سری نگر پیش قدمی کرنے کی بجائے مظفرآباد اور گردونواح میں لوٹ مار کرنے لگے تاہم مقررہ وقت میں وہ صرف بارہ مولا پہنچ پائے۔ اس سے بھارتی فوجیوں کو وقت مل گیا اور انہوں نے فوجی دستے تیار کر کے حملہ آوروں کو روک لیا۔ یوں برصغیر کے مقدر نے حیران کن کروٹ لی۔ کشمیر کے دو تہائی حصے پر بھارت نے قبضہ کر لیا اور باقی ماندہ ایک تہائی حصہ پاکستان کے قبضے میں آیا۔ 1948 میں پاکستان نے سرکاری طور پر اپنی فوج کشمیر میں بھیج دی۔ 27 جولائی 1949 کو باقاعدہ جنگ بندی لائن لگائی گئی۔ اس طرح کشمیر تین مختلف علاقوں میں تقسیم ہو گیا۔ پہلا علاقہ جو گلگت اور بلتستان (شمالی علاقہ جات) پر مشتمل تھا جو براہ راست پاکستان کے کنٹرول میں تھا۔ دوسرا علاقہ آزاد کشمیر تھا(صوبہ کشمیر کا کچھ حصہ پونچھ کا زیادہ تر حصہ اور جموں کا ضلع میرپور شامل تھا) اور تیسرا حصہ وہ تھا جس پر بھارتی فوج کا قبضہ تھا۔

تقسیم ہند اور براہ راست برطانوی راج کے خاتمے کے 73 سال بعد تک بھی کشمیر ایک رستہ ہوا زخم ہے۔ 4 جنگیں کئی دہائیوں کی سرکاری اور غیر سرکاری کوششیں، اقوام متحدہ اور عالمی سامراج بھی اس سلگتے ہوئے مسئلے کا کوئی حل نہیں نکال سکے۔ اصل میں پاکستان اور بھارت کشمیر کے مسئلے کا کبھی بھی کوئی حل نکال ہی نہیں سکتے کیونکہ وہ سیاسی، فوجی اور سفارتی سطح پر جو بھی کوشش کرتے ہیں وہ تاریخی طور پر متروک نظام کے تنگ دائروں پر مقیّد ہیں۔ ان کا مسئلہ یہی ہے کہ یہ اسی سرمایہ دارانہ نظام میں رہتے ہوئے کشمیر کے مسئلہ کا حل ڈھونڈتے ہیں۔ یہی وہ صورتحال ہے جو کشمیر کے تنازع کی بنیادی وجہ بنی ہوئی ہے۔

کشمیر کا کٹھ پتلی حکمران طبقہ جمہوریت کے گن گاتے نظر آتا ہے اور تمام تر مسائل کا حل جمہوریت سے ہی کرنے کے دعوے کرتا ہے۔ پاکستان اور بھارت میں جمہوریت مالیاتی سرمائے کے تابع ہے۔ جیسے لینن بیان کرتا ہے کہ”اگر ہم عمومی تصورات اور تاریخ کا مذاق نہیں اڑا رہے تو ظاہر ہے جب تک طبقات موجود ہیں ہم حقیقی جمہوریت کی بات نہیں کر سکتے بلکہ ہم صرف طبقاتی جمہوریت کی بات کر سکتے ہیں“

طبقاتی جمہوریت سرمایہ داروں کی محافظ ہوتی ہے اور حکمران طبقہ کبھی بھی محنت کشوں کے مسائل کے حل کے لیے کوئی اقدامات نہیں کرتا بلکہ سرمائے کی بڑھوتری کے لیے نت نئے اقدامات کرتا ہے۔ جو کبھی بھی ان سلگتے ہوئے طبقاتی مسائل، جن کا کشمیر سمیت برصغیر کی عوام کو سامنا ہے ،کو حل نہیں کر سکتے۔ دونوں غاصب ممالک کے حکمران کشمیر کے مسئلے کو اپنے مخصوص مفادات اور جابرانہ مقامی حکومت کو دوام بخشنے کے لئے استعمال کرتے آ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کشمیر میں ان کے سٹریٹیجک اور معاشی مفادات ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ زیادہ تر کشمیری لیڈروں، مسلح تنظیموں اور سیاسی پارٹیوں نے بھارت اور پاکستان کے حکمرانوں اور جرنیلوں کے دلالوں کا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کشمیر کی آزادی کی تحریک کا رخ موڑنے کے لیے اقوامِ متحدہ کی طرف محکوم عوام کو امیدیں دلانے کی کوشش کی ہے کہ اقوامِ متحدہ کشمیر کی آزادی کا کردار ادا کر رہی ہے۔

ڈاکٹر لال خان” کشمیر کی آزمائش“ میں لکھتے ہیں کہ”اقوامِ متحدہ پر اعتبار کرنا کہ یہ کشمیر کا مسئلہ حل کروا سکتی ہے اور کشمیریوں کو آزادی دلوا سکتی ہے آزادی کی اس عظیم جدوجہد سے غداری ہے جو کشمیر کی عوام کئی نسلوں سے لڑتے آ رہے ہیں۔ یہ پالیسی شکست خوردگی پر مبنی ہے جو آزادی کی تحریک کو پر امن رکھنے کے لیے اپنائی جاتی ہے“۔

ایک طرف ہمیں پاکستان، بھارت اور کشمیر کے کٹھ پتلی حکمرانوں کی آزادی کی جدوجہد میں رکاوٹ نظر آتے ہیں تو دوسری طرف ہمیں تنگ نظر قوم پرستوں اور مذہبی بنیاد پرستوں کا کردار بھی نظر آتا ہے۔ یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ بورژوا اور پیٹی بورژوا قوم پرستوں کے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ بنیاد پرست تو بالکل خالی ہاتھ ہیں۔ ان میں سے کسی کے پاس آزادی حاصل کرنے کا کوئی سنجیدہ منصوبہ یا حکمت عملی نہیں۔ صرف وہی پرانے کھنڈرات ہیں جو ماضی میں کئی بار ناکام ہو چکے ہیں۔ جہاں ایک طرف مذہبی بنیاد پرستوں نے کشمیر کی آزادی کو مسلمانیت کا رنگ دے کر لاکھوں نوجوانوں کو شہید کروایا اور کشمیر کی آزادی کی تحریک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایاہے ۔وہاں دوسری طرف سیکولر ازم کی جدوجہد کا دیوالیہ پن بھی نظر آتا ہے۔ گاندھی کی سیکولر ریاست ہمارے سامنے ہے، جس میں آج کل جیسا مودی فاشسٹ حکمران اپنا جبر جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کشمیر کو سرمایہ دارانہ حاکمیت کے تحت سیکولر بنیادوں پر استوار کرنے کا خواب کبھی پورا نہیں کیا جا سکتا ہے اور اگر ایسا ہو بھی جاتا ہے تو کشمیر کی عوام کی ذلتوں میں کمی نہیں آئے گی بلکہ اور مشکلات بڑھ جائیں گی۔ یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ مرحلہ واریت کی جدوجہد کرنے والے مارکس اور لینن کے اقتباسات کے حوالے دیتے ہیں اور قومی سوال پر مارکسیوں کے موقف کی نہ صرف غلط تشریحات کی جاتی ہیں بلکہ اس قدر مسخ کیا جاتا ہے کہ یہ قوم پرست قائدین کے مقاصد کی تکمیل کر سکے۔

کشمیر ایک کثیر المذہبی اور کثیر القومی ریاست ہے۔ لیکن یہاں مہاراجہ پرست جبراً خود مختار کشمیر بنانے کی جدوجہد کرتے نظر آتے ہیں۔ اگر چہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کیا جانا ضروری ہے لیکن آزادی کی ٹھوس سماجی اور معاشی بنیادوں کو واضح کرنا اہم ہے۔ عالمگیر سرمایہ داری کے عہد میں ہمارے لئے خودمختار کشمیر کی صحیح سمجھ بوجھ اور کشمیری عوام کے لیے اس کے مفہوم سے مکمل طور پر آشنا ہونا ضروری ہے۔ ہمیں دیکھنا ہو گا کہ منڈی کے اصولوں پر عالمگیر سرمایہ داری نظام سے کسی بھی ملک کی بقاءممکن نہیں۔ عالمی سیاسی قیادتیں جن کی بنیادیں سرمایہ دارانہ معیشتوں پر ہیں، غلامانہ انداز میں مالیاتی اداروں کے حکم کی تکمیل کرتی ہیں یا پھر برباد کر دی جاتی ہیں۔ عالمی بنک اور آئی ایم ایف معاشی پالیسیوں کی ایسی طرز پر تشکیل کو یقینی بناتے ہیں کہ جن سے سامراجی اجارہ داریوں کے منافعوں میں مسلسل بڑھوتری ہوتی رہے۔ سرمایہ دارانہ نظام اور سامراجی جکڑ میں ایک الگ ریاست کے طور پر قائم جموں کشمیر کبھی حقیقی معنوں میں خودمختار نہیں ہو سکتا ،وہ نہ صرف مستقل بحران کا شکار رہے گا بلکہ کشمیر کے مظلوم عوام بھی مسلسل معاشی بدحالی اور انتشار میں دھنس کر رہ جائیں گے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں خودمختار کشمیر کا نہ صرف قیام ممکن نہیں بلکہ اگر کوئی معجزہ ہوبھی جائے تو اس کی بقاءممکن ہی نہیں۔

ہمیں یہ ذہن نشین کرنا ہو گا کہ کشمیر کی آزادی نہ تو کھوکھلے نعروں سے، نہ سامراجی خیرات سے اور نہ ہی اقوامِ متحدہ کی قراردادوں سے حاصل ہو سکتی ہے۔ کشمیر کی آزادی اور ایک کامیاب انقلاب کی تکمیل صرف اسی وقت کی جا سکتی ہے، جب ایک انقلاب کے ذریعے پاکستان اور بھارت کے سرمایہ داروں کو شکست دی جائے۔ حکمرانوں اور ان کے نظام کو اکھاڑے بغیر کشمیر سے ان کا غاصبانہ قبضہ کبھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس انقلاب کی چنگاری اگر کشمیر سے ابھرتی ہے تو وہ پورے برصغیر کو اپنی لپیٹ میں لے گی۔ یہی وہ جدلیاتی رشتہ ہے جو کشمیر کے انقلاب اور برصغیر کے انقلاب میں پایا جاتا ہے۔ وہ حکمران جو کشمیر پر جبر کرتے ہیں وہی سرمائے کے استحصال کو برقرار رکھنے کے لیے پورے برصغیر کے عوام کو بھی کچلتے ہیں۔ ان حکمرانوں کے خلاف عوام میں غصّے اور بغاوت کا ایک احساس موجود ہے۔ حکمران طبقات کے خلاف تمام قومیتوں کے اس غیض و غضب کو سرمایہ داری کو اکھاڑنے کے لیے ایک ہی جدوجہد میں یکجا ہونا پڑے گا۔ ہم صرف سرمایہ داری نظام کی مکمل تبدیلی کے خلاف کی جانے والی اجتماعی جدوجہد میں متحد ہو سکتے ہیں۔ یہ لڑائی صرف اور صرف طبقاتی بنیادوں پر لڑی اور جیتی جا سکتی ہے۔ صرف برصغیر کے مظلوم طبقات کی ایک انقلابی تحریک طبقاتی جڑت قائم کرتے ہوئے اس تقسیم کو ختم کر کے واپس اس عمل کی طرف لوٹ سکتی ہے جس کو روکنے کے لیے یہ تقسیم کی گئی تھی۔

ڈاکٹر لال خان لکھتے ہیں کہ”کشمیر کی تحریک شکست سے بہت دور ہے، ہر عوامی تحریک مدوجذر کے مختلف ادوار میں تھوڑا سا وقفہ لیتی ہے۔ برصغیر کے حکمران جنہوں نے کشمیر کو استعمال کیا ہے اور اس کی حرمت کو پامال کیا ہے ان کو پورے خطے کی طبقاتی جنگ کے ذریعے شکست دی جا سکتی ہے۔ کشمیر کے اندر سوشلسٹ فتح ایک انقلابی آتش فشاں کو پھاڑ سکتی ہے۔
دکھ، درد، غربت، بیماری اور ماحول کو دو چار خطرات سے پاک کشمیر اور سوشلسٹ منصوبہ بند صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر، زراعت، سیاحت اور معیشت پر مبنی خطہ اس دنیا میں اور زمین پر ایک حقیقی جنت ارضی بن جائے گا۔ آنے والی نسلیں ان ثمرات سے لطف اندوز ہوں گی۔
ہمالیہ کی برفیلی چوٹیوں کے سائے تلے وادیاں اور باغات لہرائیں گے اور سرخ گلاب پوری آب و تاب سے کھلیں گے جو آزادی کشمیر کے لیے خونِ جگر دینے والے شہداءکو خراج تحسین پیش کریں گے“۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: