تاریخ کو سماجی اور فطری ارتقائی عمل کے طور پر دیکھنے کے بجائے اگر حکمران طبقے کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو تاریخ مٹھی بھر انسانوں کے کارناموں کی داستان ہے جن میں سپہ سالار، مذہبی پیشوا،بادشاہ وغیرہ شامل مزید پڑھیں
تاریخ کو سماجی اور فطری ارتقائی عمل کے طور پر دیکھنے کے بجائے اگر حکمران طبقے کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو تاریخ مٹھی بھر انسانوں کے کارناموں کی داستان ہے جن میں سپہ سالار، مذہبی پیشوا،بادشاہ وغیرہ شامل مزید پڑھیں
تحریر: ڈاکٹر لال خان آج سے 52 سال قبل، یکم دسمبر1967ء کو لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر ایک نئی سیاسی پارٹی کے سنگِ بنیار رکھنے والے دو روزہ تاسیسی کنونشن کا اختتام ہو ا تھا۔ تقریباً 300 افراد مزید پڑھیں
تحریر: لال خان 1945ء کے بعد سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا عظیم الشان اجلاس ہر سال ستمبر میں منعقد ہوتا چلا آرہا ہے۔ 1952ء کے بعد سے اس اجلاس کا انعقاد نیویارک میں قائم اقوام متحدہ کے ہیڈ مزید پڑھیں
لال خان اگر ہم غور کریں تو ایک طویل عرصے سے پاکستان کی رائج الوقت ایلیٹ سیاست عوام کی عدالت سے فرار ہو کر ”قانون کی عدالت“ میں اْدھم مچائے ہوئے ہے۔ انگریز سامراج، اسلامی اور پاکستانی ماہرین کے متضاد مزید پڑھیں
لال خان تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی نظام تاریخی طور پر متروک ہوجائے تو اسکے سیاسی ڈھانچے شدید تضادات اور تصادموں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں نیچے سے کوئی بڑی بغاوت نہ بھی ہو رہی ہو مزید پڑھیں
لال خان ایک وقت تھا جب سفارش سے بڑے کام کروائے جاتے تھے۔ ان زمانوں میں منافع خوری کے لئے ذخیرہ اندوزی بھی ہوا کرتی تھی۔ آج کے زمانے میں یہ طریقے بہت ’’کمزور‘‘ ہوگئے ہیں۔ حکمران طبقے اور سامراجی مزید پڑھیں