آزاد کشمیرعبوری آئین ایکٹ 1974 اور جی بی آرڈر 2018 کا تقابلی جائزہ

اشفاق احمد ایڈوکیٹ

یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ وفاق پاکستان کے زیر انتظام خطہ گلگت بلتستان کو آئین کی بجاۓ آرڈرز پر چلانے کی بنیادی وجہ تنازعہ کشمیر بتلائی جاتی ہے.

سپریم کورٹ اف پاکستان کےچیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سات رکنی بنچ نے 17 جنوری 2019 کو گلگت بلتستان کی آئینی حثیت پر دائر کئی درخواستوں کو یکجا کر کے ایک ساتھ سول ایوی ایشن اتھارٹی بنام سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان وغیرہ نامی مقدمہ میں ایک تاریخی فیصلہ صادر کیا اور مسلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر مہر ثبت کرتے ہوۓ گلگت بلتستان کو متنارع ریاست جموں اینڈ کشمیر کا حصہ قرار دیا اور اس فیصلہ کے پیرگرف 13میں یہ لکھا

“جیسا کہ نوٹ گیا گیا ہے کہ پاکستان پر دو خطوں آزاد کشمیر(پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر) اور گلگت بلتستان کے حوالے سے ذمہ داریاں عائد ہیں.
1948میں UNCIP نے ان علاقوں کے لیےلوکل اتھارٹیزز یعنی مقامی حکام کی موجودگی کو تسلم کیا ہے (جو کہ حکومت پاکستان سے مختلف ہے)یہاں ہم بے شک صرف گلگت کے بارے میں فکر مند ہیں۔ یہ خطہ پاکستان میں شامل نہیں کیا گیا چونکہ اسے متنازعہ ریاست جموں اینڈ کشمیر کا حصہ سمجھا جاتا ہے.تاہم یہ ہمیشہ سے پاکستان کے انتظامی کنٹرول میں رہا ہے”.

مسئلہ کشمیر پر ریاستی بیانیہ کی مزید وضاحت کے لیے سپریم کورٹ نے آئین پاکستان کے آرٹیکل 257 کا حوالہ دیتے ہوۓ اپنے فیصلہ کے پیرگراف نمبر پندرہ میں لکھا کہ
“آج تک ، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان دونوں کے لئےصورت حال بالآخر ابھر کر سامنے آئے گی اور بقیہ سابقہ ریاست کے لیے بھی اس امنگ کا اظہار آئین کے آرٹیکل 257 میں شامل کیا گیا ہے. جس میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ “جب ریاست جموں و کشمیر کے عوام پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کریں گے تو پاکستان اور مذکورہ ریاست کے درمیان تعلقات مذکورہ ریاست کے عوام کے خواہشات کے مطابق متعین ہوں گے”.

اقوام متحدہ کی مندرجہ بالا قرادار میں تسلیم کی گئی لوکل اتھارٹیڑ کی بنیاد پر حکومت پاکستان نےآزاد کشمیر کو ایک آئین، صدر ،وزیراعظم، جھنڈا، ترانہ، قانون ساز اسمبلی، داخلی خودمختاری اور شناخت دی ہے جبکہ دوسری طرف گلگت بلتستان میں لوکل اتھارٹیز کی موجودگی تسیلم کرنے کی بجائے حکومت پاکستان نےاس خطے میں پہلے تو فرنٹیر کرائمز ریگولیشن نامی کالا قانون نافذ کیا پھر آرڈر پر آرڈر ہی نافد کئے جارہے ہیں.

چنانچہ گلگت بلتستان کے نوجوان اس کھلے تصْاد کا ادراک کرتے ہوۓ یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر حقوق کی راہ میں رکاوٹ مسئلہ کشمیر ہے تو پھر گلگت بلتستان کے برعکس حکومت پاکستان نے آزاد کشمیر کو داخلی خودمختاری اور آیئنی حقوق کیسے اور کن وجوہات کی بنا پر دیئے؟

اس سوال کا جواب ہمیں آزاد جموں و کشمیر کے عبوری آیئن ایکٹ 1974 کے صفحہ نمبر 1 میں ملتا ہے جس میں آزاد کشمیر(پاکستانی زیر انتظام کشمیر) کو بااختیار بنانے کی مندرجہ زیل وجوہات بیان کی گئی ہیں.

چونکہ ریاست جموں اینڈ کشمیر کی حثیت کا تعین ریاست کے عوام کی آزادانہ مرضی کے مطابق اقوام متحدہ کے زیر نگرانی اقوام متحدہ کے کمیشن براۓ انڈیا اینڈ پاکستان کی قراردادوں میں دئیے گیے آزادانہ اور شفاف جمہوری طریقے سے بذریعہ استصواب راۓ فیصلہ ہونا باقی ہے.

حالانکہ ریاست جموں اینڈ کشمیر کے علاقوں کا ایک حصہ لوگوں نے آزاد کروایا ہے جو اس وقت آزاد جموں اینڈ کشمیر کے نام سے پہچانا جاتا ہے.

درحقیقت آزاد کشمیر کی حکومت اور قانون ساز اسمبلی کو مذید بااختیار بنانے کے مقصد کے لیےیہ لازمی ہے.

آزاد کشمیر حکومت اور قانون ساز اسمبلی کے منتخب نمائندے بھرپور طریقے سے اپنی قانون سازی اور ایگزیٹیو اختیارات حسب ضرورت اچھی حکومت، سماجی و معاشی ترقی اور خاص کر آزاد جموں و کشمیر کے لوگوں کی مستقل بنیادوں پر فلاح عامہ کے لیے استمال کریں اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور UNCIP کی قرارداروں کے تحت اقوام متحدہ کی زیر نگرانی بذریعہ آزاد و شفاف جمہوری طریقے سے حق استصواب راۓ اور حق خود ارادیت حاصل کرنے کے ہمارے مقصد کو مزید اگے بڑھانے اور اسے حاصل کرنے کی جستجو کریں.

چنانچہ جب تک ریاست جموں اینڈ کشمیر کی حثیت کاتعین نہیں ہوتا جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے تب تک آزاد کشمیر کی حکومت اور ایڈمنسٹریشن کو بہتر کرنا صْروری ہے.

اس لیے اقوام متحدہ کی کمیشن براۓ انڈیا و پاکستان کی قراردادوں کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے حکومت پاکستان آزاد کشمیر ایکٹ 1970 کی مجوزہ معطلی اور دوبارہ نافذ کرنے کی اجازت دیتی ہے اور ریاست آزاد کشمیر کے صدر کو اختیار دیتی ہے کہ وہ موجودہ بل کو آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں متعارف کرائے تاکہ وہ اسے پاس کریں.

اسطرح آزاد جموں اینڈ کشمیر عبوری ائین ایکٹ 1974 کو حکومت پاکستان کی منظوری سے آزاد کشمیر اسمبلی نے اکثریتی راۓ سے پاس کیا اور صدر آزاد کشمیر نے منظوری دی اور اس ایکٹ کو نافذ کرکے آزاد کشمیر کو داخلی خودمختاری دی گئی.

دوسری طرف گلگت بلتستان کے لیے حکومت پاکستان کی منسٹری آف کشمیر افیرز اور گلگت بلتستان کے نوٹیفیکیشن مورخہ 1 جون 2018 کے تحت ایک آرڈر جاری کیا گیا اور ایس ار او نمبرS.R.O.704(1)/2018میں گلگت بلتستان میں آرڑر لاگو کرنے کی وجہ یہ بتلائی گئی ہے کہ”اسلامک ریپبلک آف پاکستان کے صدر نے وزیر اعظم پاکستان کے مشورے پر گورنمنٹ آف گلگت بلتستان آرڈر 2018 کا نفاز کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کرتا ہے، اس آرڑر کا مقصد گلگت بلتستان میں سیاسی امپاورمنٹ اور گڈ گورننس مہیا کرنا ہے”.

آزاد کشمیر عبوری آئین ایکٹ 1974 اور گلگت بلتستان آرڑر 2018 کے تقابلی جایزے سے پتہ چلتا ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے نظام میں زمین اور اسمان کا فرق ہے.

پہلا بنیادی فرق آئین اور آرڑر کا ہے- Black,s لا ڈکشنری کے مطابق آئین کسی قوم کا بنیادی اور نامیاتی قانون ہوتا ہے جو انفرادی شہری حقوق اور شہری آزادیوں کی صْمانت دیتا ہے.
جبکہ آرڑر سے مراد حکم نامہ ہوتا ہے، جس کے تحت نافذ کیا گیا قانون یکطرفی اور جمہوریت کی روح کے خلاف ہوتا ہے چونکہ آرڑر بنیادی انفرادی شہری حقوق اور شہری آزادیوں کی صْمانت نہیں سکتا ہے.

آزاد جموں و کشمیر میں مہاراجہ ہری سنگھ کا قانون”سٹیٹ سبجکٹ رول”نافذ ہے مثلا آئین
آزاد کشمیر کے ارٹیکل 2 میں لکھا ہے کہ
” State Subject’ means a person for the time being residing in
Azad Jammu and Kashmir or Pakistan who is a State Subject, as
defined in the late Government of the State of Jammu and Kashmir
Notification No. I-L/84, dated the 20th
April,1927, as amended
from time to time.”

آزاد کشمیر کے برعکس گلگت بلتستان میں نافذ کسی بھی قانون میں سٹیٹ سبجکٹ رول کا زکر تک نہیں ہے.

درحقیقت گلگت بلتستان میں سال 1974 سے ہی سٹیٹ سبجیکٹ رول کا قانون معطل ہے.
ڈپٹی سیکرٹری برائے حکومت پاکستان چنان خان کی دستخط سے جاری کردہ نوٹیفیکش نمبر LA-Res-9( 1)/76 مورخہ 12 جون 1978 میں لکھا گیا ہے کہ

Nautor Rules mean Government Khalisah Land and Berune Line Land.

اس طرح ناردن ایریاز ناتوڑ رولز 1978 کے اطلاق کے زریعے یہاں کی بنجر اراضیات کو خالصہ سرکار قرار دیا گیا ہے, حالانکہ کشمیر میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں.

گلگت بلتستان میں لاگو آرڑرز میں باشندہ ریاست کی بجاۓ لفظ شہری استعمال کیا گیا ہے مثلا گلگت بلتستان آرڑر 2018 میں باشندہ ریاست کی بجاۓ ارٹیکل 2(بی) میں شہری کی یہ تعریف بیان کی گئی ہے.

2(b) Citizen ” means a person who has a domicile or resident of Gilgit Baltistan and who is a citizen under the Pakistan Citizenship Act , 1951(ll of 1951)

شہریت کی اس تعریف کے تحت آزاد کشمیر کے برعکس گلگت بلستان میں باقاعدہ قانونی طور پر غیر مقامی افراد کے لئے آباد کاری کے دروازے کھول دیئے گئے ہیں.

آزاد کشمیر میں ریاست باشندہ قانون کی نفاز کی وجہ سے غیر مقامی افراد مستقل آباد کاری نہیں کرسکتے ہیں نہ ہی کوئی سرکاری ملازمت حاصل کر سکتے ہیں جبکہ گلگت بلتستان میں غیر مقامی باشندوں کو آباد کاری کرنے اور سرکاری ملازمتیں حاصل کرنے کی قانونی طور پر اجازت ہے.

جی بی آرڑر 2018 کے شیڈول چار کے تحت گریڈ 17سے 21 تک کی تمام ملازمتوں میں پاکستان کے شہریوں کے لئے کوٹہ مقرر کیا گیا ہے-

جس کے تحت پاکستان کے شہریوں کے لئے 17گریڈ میں 18 فیصد جبکہ 18گریڈ میں 30فیصد اور 19 گریڈ میں 40 فیصد جبکہ گریڈ 21میں 60 فیصد کوٹہ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ آزاد کشمیر میں اس طرح کا کوئی قانون سرے سے موجود نہیں.

آرڑر 2018 کے آرٹیکل 64 کے تحت حکومت پاکستان گلگت بلتستان میں واقع کوئی بھی زمین حاصل کرسکتی ہے اور جو اراضی حکومت گلگت بلتستان کی ہو وہ ایسی اراضیات حکومت پاکستان کو منتقل کرسکتی ہے جبکہ آزاد کشمیر میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے.

آزاد کشمیر آیئن ایکٹ 1974 کے ارٹیکل 33 کے تحت ائین کے ارٹیکل 31,33,اور 56میں ترمیم سے قبل حکومت پاکستان سے اجازت لینا لازمی ہے البتہ آیئن کی دیگر تمام شقوں میں ترمیم کرنے کا مکمل اختیار آزاد کشمیر اسمبلی کو حاصل ہے جبکہ گلگت بلتستان اسمبلی کے پاس آرڑر 2018میں ترمیم کرنے کا کوئی اختیار بھی نہیں ہے.

جی بی آرڑر 2018 کےارٹیکل 118( 2) کے تحت گلگت بلتستان کی عدالتوں کو اختیار نہیں کہ وہ اس آرڑر کی validity پر سوال کریں .

گلگت بلتستان کی اعلی عدلیہ کے پاس جوڈیشل ریویو کا اختیار نہیں ہے,اس کے علاوہ اعلی عدلیہ کے ججزز کی تقرری کا اختیار بھی وزیراعظم کے پاس ہے.

آزاد کشمیر کے برعکس آرڑر 2018 کے تحت تمام تر اختیارات وزیراعظم پاکستان کے پاس ہیں .

مختصراً اس تقابلی جائزے سے یہ بات واضع ہو جاتی ہے کہ اگرچہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر دونوں ریاست پاکستان کے انتظامی کنٹرول میں ہیں مگر ایک طرف آزار کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت تسیلم شدہ لوکل اتھاریٹیز اور داخلی خودمختاری دینے سے مسئلہ کشمیر متاثر نہیں بلکہ مضبوط ہوتا ہے جبکہ دوسری طرف گلگت بلتستان میں لوکل اتھارٹیز کو تسلیم کرنے اور حقوق دینے سے مسئلہ کشمیر متاثر ہونے کا ڈرامہ رچایا جاتا ہے جوکہ کھلا تضاد ہے.

اس صورتحال کی بہترین عکاسی کرتے ہوۓ معروف لکھاری عزیز علی داد نے 25 آگست 2020 کو ایک امریکی جریدے https://politicalandlegalanthro.org
میں شائع ہونے والے اپنے ایک اہم مضمون بعنوان
Social Contract and Its Discordance in Gilgit-Baltistan.
میں لکھا ہےکہ”گلگت بلتستان کی نمایندہ اسمبلی بامعنی اور جمہوری انداز میں گلگت بلتستان کے عوام کی حقیقی نمایندگی کرنے میں ناکام ہوچکی ہے.

گلگت بلتستان میں متعارف کروآئی گئی تمام تر تبدیلیاں اس خطے کی حثیت کو محض التواء میں رکھنے کی ایک مشق کی تشکیل ہے جس کا مقصد اس خطے میں جمہوری اداروں کی تشکیل کی آڑ میں درحقیقت وفاقی حکومت کی گلگت بلتستان میں گرفت کو برقرار رکھنا ہے .

یہ تمام حکم نامے درحقیقت اس خطے کی شناخت کے بحران کو برقرار رکھنے کے حیلے بہانے ہیں.

اس طرح کےجمہوری دھوکے کی نسبت ایک معاہدہ عمرانی کے زریعے معاشرے میں بہتر طور پر حکومت کی جاسکتی ہے.”

لہذا اہم بات یہ ہے کہ اکیسویں صدی کے تقاضوں کے مطابق اس خطے کے معروضی حالات کو مدنظر رکھتے ہوۓ آرڈر پر آرڈر کی بجائے تا تصفیہ مسئلہ کشمیر گلگت بلتستان کے لوگوں کو بھی آزاد کشمیر طرز پر لوکل اتھارٹیز کے تحت داخلی خودمختاری دی جائے تاکہ اس علاقے کے باسیوں میں پائی جانے والی ستر سالہ احساس محرومی اور شناخت کا بحران ختم ہو سکے .

4 تبصرے “آزاد کشمیرعبوری آئین ایکٹ 1974 اور جی بی آرڈر 2018 کا تقابلی جائزہ

  1. Pingback: btc loophole
  2. Pingback: w88 lite
  3. Pingback: 토토

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: