فقیر بابا

مارکیٹ میں متوسط عمر کے دو آدمی سگریٹ کے کش لگاتے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ فقیر بابا ان کے پاس آۓ اور بڑی مشکلٕ سے کانپتے لبوں سے ان کی زبان سے کوٸی بات نکلی جو دور سے مجھے سناٸی نہیں دی میری دوست عالیہ کپڑے پسند کر رہی تھی اور میری نظریں نجانے کیوں فقیر بابا پہ جمی ہوٸی تھیں ۔ ان میں سے ایک شخص نے زور سے چند سکے فقیر بابا کے ہاتھ پہ مارے اور ذور دار آواز میں دھاڑا چلو ”جاٶ یہاں سے نظر نہیں آنا ۔ پتا نہیں کہاں سے آجاتے ہیں“ وہ مسلسل کچھ کہے جا رہا تھا ۔

فقیر بابا کی حالت غیر ہو گٸی ۔ وہ تقریبًا گرنے والے تھے کہ قریب کھڑے ایک بچے نے انھیں سہارا دیا اور پکڑ کے اس دوکان پہ لایا جدھر ہم کپڑے دیکھ رہی تھیں ۔ میں نے اور عالیہ نے حسب توفیق ان کی مدد کی۔ باباجی نے سرد آہ بھری ۔ آنسو مسلسل ان کی داڑھی کو تر کر رہے تھے ۔ انھوں نے اٹھنے کی نا کام کوشش کی لیکن ان کا جسم کانپ رہا تھا ۔

بہت تکلیف ہو رہی تھی فقیر بابا کو اس حالت میں دیکھ کے ۔ یوں لگ رہا تھا دل میں تیز نوک والی سوٸی چبھ گٸی ہے جو اسے مسلسل تیزی سے کاٹ رہی ہے ۔ میں نے عالیہ کی طرف دیکھا وہ میری ان کہی بات سمجھ گٸی ۔اور ہم فقیر بابا کو پکڑ کے نومان بھاٸی (عالیہ کے بھاٸی) کی دوکان پہ لے آٸیں ۔ نومان بھاٸی بہت نیک دل ور خدا ترس انسان ہیں ۔ فقیر بابا کو دیکھ کے انھوں نے کچھ نہیں پوچھا جلدی سے انھیں پانی پلایا اور اپنے ملازم کو بھیج کے چاۓ منگواٸی ۔

نجانے اپناٸیت اور توجہ نے اپنا اثر دکھایا یا چاۓ پی کے فقیر بابا کی حالت سنبھلی ۔ اب وہ اس پرندے کی طرح دکھ رہے تھے جو اپنے غول سے بچھڑ گیا ہو اور اچانک اسے اپنے دوستوں کا سہارہ مل گیا ہو۔ نومان بھاٸی کا یہ رویہ جہاں آنکھوں کو نم کر رہا تھا وہیں دل تھوڑا مطمین ہورہا تھا ۔

بابا تھوڑے نارمل ہوۓ تو گویا ہوۓ ”بچو ۔ میں کوٸی پیشہ ور بھکاری نہیں ہوں مجھے بس تھوڑی مدد چاہیے اور مدد بھی اپنی مرتی ہوٸی بیٹی کے لیے ۔۔۔۔ بابا جی کی آواز کہیں سسکیوں میں دب گٸ۔ تھوڑا ان کی حالت کا اندازہ تو ہو گیا تھا سوہم تینوں نے ان کی ڈھارس بندھاٸی تو بابا پھر گویاہوٸے ۔۔۔ بابا نےاشکوں کی روانی میں اپنی داستان سناٸی ۔ جومختصرًا یہ کہ ۔۔۔۔۔۔۔

ان کا اپنا کاروبار تھا اللہ پاک نے انھیں دولت عزت محبت اور اولاد سے نواز رکھا تھا ۔ اپنے فراٸض پورے کرنے کےساتھ اس بات سے بہت ڈرتے کہ کسی کا دل نہ دکھے ۔ دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی ۔ بڑے بیٹے نے ابھی ہاٶس جاب شروع کی تھی جبکہ چھوٹا انجیرینگ کے دوسرے سال میں تھا اور بیٹی میٹرک میں ۔ زندگی اپنے ڈگر پہ بڑی خوبصورتی سے چل رہی تھی.کہ قدرت نے انھیں آزمانا چاہا یا بقول فقیر بابا کہ اللہ کو ان کی کوٸی بات بری لگی اور ان پہ برا وقت شروع ہو گیا ۔ ان کی بیگم اپنے دونوں بیٹوں کےساتھ اپنے بانجھے کی شادی میں جا رہی تھی بیٹی کے پیپرز چل رہے تھے سو باپ بیٹی گھر رہ گٸے ۔ قدرت کو نہ ان کا شادی میں پنہچنا منظور تھا نہ واپس گھر آنا ۔۔ راستے میں گاڑی کا بہت برا حادثہ ہوا اور تینوں لقمحہ اجل بن گٸے ۔ یہ حادثہ نہیں قیامیت تھی ۔ سو بابا اس قیامیت سے گزرتے اپنا کاروبار بھی کھو بیٹھے ۔ وقت جوں توں گزرتا رہا ۔ زندگی کی امنگ ختم ہو گٸ۔ اپنوں نے برے وقت میں منہ موڑ لیا۔ ۔۔

مگر قسمت نے آخری دکھ بھی دینا تھا بابا کی بیٹی کو ٹیومر ہو گیا۔ اور وہ بستر پہ پڑی اپنے بابا کو اپنا درد بھی نہیں بتاسکتی ۔ بابا کا چہرہ اور داڑھی آنسوٶں سے تر تھی اور بار بار آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے ۔ ان تلخ لفظوں اور نفرت آمیز رویے نے فقیر بابا کے دل کو چھلنی کیا ہوا تھا ۔ ہم نے اپنی شاپنگ کے پیسے بابا جی کو دےدیے۔ عالیہ پہ نہ جانےکون سا جذبہ غالب آیا کہ اس نے اپنی سونے کی انگوٹھی اتار کے بابا کو دے دی ۔

نومان بھاٸی جو کسی این جی او سے بھی منسلک تھے نہ صرف بابا کی بیٹی کے علاج کروانے کا وعدہ کیا بلکہ ان کے گزر اوقات کے لیے بھی کسی مستقل حل کی یقین دہانی کرواٸی اور دونوں وعدے پورے بھی کیے ۔

اس دن نے جہاں اطمینان دیا وہیں بہت آزاردہ بھی کیا۔ کسی کی دل آزاری کا حق کسی کو کیسے اور کس نے دیا ؟؟؟

لفظوں کے زخم کبھی نہیں بھرتے ۔

زندگی ایک آزماٸش ہے اس کے لیے بھی جو کسی مسلے یا مشکل میں مبتلا ہے اور ان کے لیے بھی جو کسی کو مشکل میں مبتلا دیکھیں ۔ ہم کسی کی مدد نہیں کر سکتے تو دل آزاری کا بھی کوٸی حق نہیں ۔ میرے مذہب نے اچھی اور میٹھی بات کو ایسے ہی تو صدقہ نہیں کہا۔ مدد کا طلبگار دامن میں دعاٶں کی کیا سوغات رکھتا ہے ہم نہیں جانتے اور کسی زخم زخم دل پہ ہمارے کرخت الفاظ ہمارے لیے کن انگاروں کا انتخاب کر رہے ہیں ہمیں احساس نہیں ۔ وقت کب اور کیسے پلٹا کھا سکتا ہے ہماری عقل سوچنے سے قاصر ہے۔ معاشرے میں بھیک کے رواج کو فروغ مت دیں لیکن اللہ پاک نے ہمیں عقل بھی تو دی جو کھرے کھوٹے میں فرق کر سکے ۔

ہمیں اپنی آتی ےجاتی سانس تک پر اختیار نہیں ۔اپنی دولت ملازمت عالی شان گھر یا عزت کیا چیز تفاخر کا باعث بن سکتی ہے ۔

ابھی کل کی بات ہے ہم نٸے سال کی پلاٸنگ کر رہے تھے ۔ ورکنگ ڈیز ، چھٹیاں ،ٹسٹ ، ایکٹیویٹز اور ایسی کہیں چیزیں ہم نے بھی پلان کی مگر دوسرے ہی دن پتا چلا اللہ کے ہاں سب مسترد ہو گیا ۔ ہر پیپر پہ کراس لگ گیا ۔ اگلا حکم کیا ہے پتا نہیں۔۔ مصرووف تھے بہت فرصت ہی فرصت مل گٸی۔

اللہ نہ کرے پر ہمارے گھر کے در ہم پہ بند ہو سکتے ہیں۔ نعمیتں سامنے ہونے کے باوجود ہم ایک لقمحہ کھانے سے قاصر ہو سکتے ہیں ۔ اللہ نے ہمیں جو جیسے دیا اس کی عطا اس کی امانت ہے ۔ جب جب فقیر بابا کو کہے اس شخص کے الفاظ یاد آتے ہیں دل خوں آب روتا ہے۔
اللہ پاک ہمیں دل آزاری کے گناہ سے بچا کے زخمی دلوں پہ مرہم رکھنے کی توفیق دے آمین

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: