موجودہ تعلیمی نظام سے اختلاف

سردار وصی طاہر

شاید کُچھ لوگوں کو موجودہ تعلیمی نظام پہ فخر ہو اور شاید وہ اس تعلیمی نظام سے مطمئین بھی ہوں مگر مجھے اس تعلیمی نظام پہ نہ کوئی فخر ہے اور نہ میں اس سے مطمئن ہوں۔اس نظام کو انگریز نے ترتیب دیا تھا تاکہ چپڑاسی اور نوکر پیدا کیے جا سکیں یہی تب بھی ہوتا تھا اور اب بھی ہوتا آ رہا ہے۔یہ تعلیمی نظام صرف اور صرف نوکر ہی پیدا کر رہا ہے۔میرے نزدیک اچھا تعلیمی نظام وہ ہے جو ایک اچھا اور باوقار شخص پیدا کرے۔یہ تعلیمی نظام صرف تاجر پیدا کر رہا ہے اور پھر یہی تاجر اس تعلیم کو مزید آگے بیچتے ہیں۔ کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار اس کی تعلیم پر ہوتا ہے مگر افسوس کہ آج ہمارے معاشرے کے اندر سکول کالج ، یونیورسٹی محض کاروباری مراکز بن چکے ہیں۔ ہمارے معاشرے کو جہاں ایک اچھے انجینئر ، ڈاکٹر پروفیسر کی ضرورت ہے وہاں پر اتنی ہی ضرورت ذمہ دار محب، الوطن اور ایک اچھے شہری کی بھی ہے۔

تعلیمی نظام اور تعلیمی اداروں کے خلاف میں اس وجہ سے لکھ رہا ہوں کیونکہ میری نظر میں تعلیمی نظام ہی کسی بھی ایک معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔ہر ادارے میں میں چپڑاسی سے لے کر کسی بھی اعلیٰ عہدے پر فائز شخص اسی تعلیمی کا نظام کا پیدا کردہ ہے۔اگر یہ موجودہ تعلیمی نظام درست ہے تو پھر ہر ادارے میں ہمیں لوٹ مار ، افراتفری، کرپشن ، قتل و غارت اور سودے بازی کا بازار کیوں گرم نظر آتا ہے؟۔اگر یہ نظام درست ہے تو پھر ہمارے معاشرے میں اتنی سماجی برائیوں کیوں موجود ہیں؟. افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں نے ہمیں نمبروں کی دوڑ میں لگا کر تعلیم کو بھی میدان جنگ بنا دیا ہے ہے۔مارکس کی دوڑ میں ہم گھوڑے کی دوڑتے دوڑتے اتنے آگے نکل چکے ہیں کہ عقل و شعور کہیں بہت پیچھے رہ گیا ہے۔زیادہ مارکس کی دوڑ میں میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کی کریٹیویٹی کہیں دور رہ گئی ہے۔بنگلہ، گاڑی، اچھی نوکری اور اچھی چوکری ان چیزوں کے سوا ہمارا تعلیمی نظام ہمیں دیا ہی کیا ہے۔؟بلکہ اکثر پڑھے لکھے لوگوں کو تو یہ چیزیں بھی میسر نہیں۔جہاں تک میرا مشاہدہ ہے ہمارا معاشرہ صرف انگریز اور ٹاپر پیدا کر رہا ہے۔اگر بغور مشاہدہ کیا جائے تو یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں بڑے بڑے اور مہنگے تعلیمی اداروں میں صرف انگریزی کو بیچا جا رہا ہے۔ جس کی آڑ میں ہزاروں کی تعداد میں فیسیں وصول کی جاتی ہیں۔ہمارے معاشرے میں انگریزی محض ایک زبان نہیں بلکہ لوگوں کا معیار زندگی بن چکا ہے۔جس کا سب سے زیادہ نقصان یہ ہوا ہے کہ ہم اپنی تہذیب و ثقافت اور ثقافتی تعلیمات کو مکمل طور پے بھول چکے ہیں۔

یہ تعلیمی نظام ٹاپر تو پیدا کر رہا ہے مگر پھر بھی اچھے ڈاکٹر، وکیل، انجینئر، سیاستدان اور سائنسدانوں کا فقدان کیوں۔؟اس تعلیمی نظام میں پڑھے لکھے جاھل والا جملہ عروج پر جا رہا ہے ہے۔ اچھی تعلیم و تربیت، ادب و احترام اور اچھی اخلاقیات ان میں سے کچھ بھی تو ہمارا موجودہ تعلیمی نظام ہمیں نہیں دے رہا۔اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ہمارے معاشرے میں ڈگریوں کے سیلاب میں علم اور شعور کا قحط ہے۔

اگر ہمارا تعلیمی نظام درست ہے تو آئے روز مختلف تعلیمی اداروں میں بچوں کو ہراساں کرنے کے واقعات کیوں سننے میں آتے ہیں ہیں؟ اگر یہ تعلیمی نظام درست ہے تو آئے روز طالب علم خودکشیاں کیوں کر رہے ہیں؟

اگر سب کچھ درست ہے تو پھر کچرے کے ڈھیر سے نومولود بچوں کے جسم کیوں برآمد ہوتے ہیں؟

ہمارا تعلیمی نظام اس قدر بگاڑ کا شکار ہو چکا ہے کہ یہ اکثریت کی تعداد میں ہے اچھے ڈگری یافتہ افراد تو پیدا کر رہا ہے مگر اکثریت کی تعداد میں اچھے انسان نہیں۔

ہمارے معاشرے میں ڈگریوں کے انبار ہیں مگر تربیت کا فقدان ہے۔علم اور تعلیم میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے ۔صرف کتابیں پڑھ لینے سے ہی انسان تعلیم یافتہ نہیں ہو جاتا تعلیم کے ساتھ اچھی تربیت کی ضرورت ہے۔مگر افسوس ہمارا موجودہ تعلیمی نظام تعلیم تو دے رہا ہے مگر اچھی تربیت نہیں۔جب تعلیم سے زندگی میں عمل اور رویوں میں عاجزی آتی ہے تو پھر تعلیم علم بنتا ہے ۔ یہ کون سی تعلیم ہے جو اس نوجوان نسل کو مغرور بنا رہی ہے؟ تعلیم کا مقصد تو انسان کے اندر عاجزی پیدا کرنا ہوتا ہے. کسی دانا کا قول ہے کہ” تعلیم یا علم جیسے جیسے بڑھتا ہے انسان میں ویسے ویسے عاجزی کا مادہ بھی بڑھ جاتا۔کوئی انسان جتنا زیادہ علم رکھتا ہے اس میں انا اور تکبر اتنا ہی کم ہو جاتا ہے”۔جو تعلیمی نظام آپ کو انسانیت سے محبت اور ہمدردی کا درس نہ دے سکے تو ایسا تعلیمی نظام اور تعلیم کس کام کی نہیں۔کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ کی تعلیم آپ کو کہاں لے کے جا رہی ہے؟ آپ کیا آپ کو اپنی تعلیم کا غرور تو نہیں؟

کسی بھی معاشرے میں عام شخص سے زیادہ تعلیم یافتہ شخص پر زیادہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ معاشرے کی اصلاح کرے مگر افسوس جیسے جیسے ہم تعلیم یافتہ ہوتے جا رہے ہیں ویسے ویسے ہمارے اندر جہالت اور نفرت بڑھتی ہی جا رہی ہے ۔ہر سال ڈگری کی صورت میں بس ایک کاغذ اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ہم اپنی اخلاقیات سے ایک قدم پیچھے اور اپنے غرور اور تکبر میں ایک قدم آگے بڑھتے جا رہے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں اپنے طور پر کوشش کرنی ہوگی۔ اگر حکومتین اس معاملے میں سنجیدگی سے کام کرتیں تو بہت کُچھ بدلہ جاسکتا تھا۔مگر ہمارے معاشرے میں المیہ تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں ظالم کے خلاف قانون بنانے کا اختیار بھی ظالم کے پاس ہوتا ہے۔ہمارے معاشرے میں تو ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ فیکٹری کا مالک انگوٹھا چھاپ اور اس میں کام کرنے والا ملازم اعلی تعلیم یافتہ ہوتا ہے۔اگر ہمارا تعلیمی نظام درست ہے تو پھر ایسا کیوں؟

اگر ہمارے معاشرے میں ایک شخص تعلیم یافتہ ہو کے بھی ظالم ،چور، بد معاش اور برا ہے تو پھر دوسرے عام لوگوں کی اصلاح کون کرے گا؟ ہمارے معاشرے میں “جس کی لاٹھی اس کی بھنس” اور “الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے” والا نظام ہے. جس کو جو دل آتا ہے وہ اس معاشرے میں کرتا پھرتا ہے۔اگر پولیس کو کوئی مسئلہ درپیش آتا ہے تو وہ تھانہ بند کر دیتی ہے ،اگر ڈاکٹر کو کوئی مسئلہ آتا ہے تو وہ ہسپتال بند کر لیتا ہے، اگر وکیل کو کوئی مسئلہ درپیش آتا ہے تو وہ کچہری بند کر دیتا ہے ، اگر ٹرانسپورٹروں کو کوئی مسئلہ آتا ہے تو وہ اسپورٹ بند کر دیتے ہیں ہیں۔اس طرح کے تمام مسائل سے اذیت صرف وہ صرف ایک عام ، غریب اور متوسط طبقے کو ملتی ہے۔اگر ہمارا تعلیمی نظام درست ہے تو پھر اتنے پڑھے لکھے لوگ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟

یہ سب تمام اذیتیں غریب اور متوسط طبقے کے لیے ہی ہیں۔ اگر ٹرانسپورٹ بند ہے تو امیر کے لیے کوئی بات نہیں وہ اپنی لگژری گاڑی میں جا سکتا ہے ،اگر ہسپتال بند ہے تو ان کی کال پہ ڈاکٹر گھر آ سکتا ہے۔ اگر میڈیکل سٹور بند ہے تو وہ کسی بھی شہر یا ملک سے ادویات حاصل کر سکتے ہیں کچہری بند ہونے کی صورت میں وکیل خود اُن کے گھر آ سکتا ہے۔تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ کیسا تعلیمی نظام ہے جو پڑھے لکھے لوگوں کو امیر اور غریب میں فرق کرنا سکھا رہا ہے کہ حالانکہ تعلیم کا مقصد تو لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کرنا ہوتا ہے ؟ سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر یہ ہمارا موجودہ تعلیمی نظام پڑھے لکھے لوگوں کو کہاں لے جا رہا ہے ہے؟

بے شک کسی نے خوب کہا ہے کہ خدا اس وقت تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے حالات نہ بدلنا چاہیے۔خدارا ہر اس شخص کی قربانی کو بچا لیں جس نے اس قوم کو بنانے کی خاطر اپنی جان تک قربان کر دیں اور اپنے وطن کو حاصل کرنے کے لئے خون کا آخری قطرہ تک بہایا۔

میرے ساتھ ساتھ آواز بلند کریں اور انفرادی طور پر کوشش بھی کریں ۔ میں ان لوگوں سے خاص طور پر درخواست کروں گا جو اس تعلیمی نظام کی برائیوں کو سمجھتے ہیں کہ وہ تعلیمی نظام کے خلاف جہاد کریں۔کیونکہ ان سب مسائل کا حل تعلیمی نظام کی تبدیلی اور اس میں بہتر اور باعمل تعلیمات کا شامل کرنا ضروری ہے جو ان سب مسائل کا حل کر سکے اور معاشرے میں فتنہ و فساد اور جہالت ختم کر کے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے جو عدل و انصاف پر مبنی ہوں جہاں ہر فرد باشعور ہو اور اس معاشرے میں امن و سکون ہو۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: