کورونا وائرس، بھوک وائرس اور منافع وائرس

یاسرخالق

کرونا وباء کی عالمی لہر نے عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے مروجہ نیو لبرل معاشی نظریے کی تاریخی ناکامی اور متروکیت کو زوردار طریقے سے عیاں کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ستر کی دہائی کے بعد نیو لبرل منڈی کی معیشت کے عالمی نظام نے تعلیم, صحت, خوراک, روزگار سمیت تمام تر بنیادی انسانی ضروریات اور پیداواری عمل کو ریاستی کنٹرول سے نکال کر نجی ہاتھوں میں منتقل کیا۔ اس عمل کا ناگزیر نتیجہ انپڑھتا, لاعلاجی, بھوک مری اور بیروزگاری میں شدید اضافہ کی صورت برآمد ہوا۔ کورونا وباء اونٹ کی پیٹھ پر وہ آخری تنکا ثابت ہوئی جس نے سرمایہ دارانہ نظام کی ناکامیوں، نااہلیوں اور نسل انسانی کے پہلو سے اس کی مکمل متروکیت کو عوام کے سامنے بے نقاب کر کے رکھ دیا۔ اس کیفیت نے دنیا پر عیاں کیا کہ موجودہ معاشی نظام، اسکی ریاستوں اور حکمران طبقات کی ترجیحات انسانی ضرورت کی تکمیل ہرگز نہیں ہیں بلکہ ان کی ترجیحات سرمایہ داروں کے منافعوں کا تخفظ اور بڑھوتری ہیں اور ان کی تمام پالیسی سازی اسی کے گرد گھومتی ہے۔

ایک طرف صحت کے ریاستی نظام کی ابتر, مخدوش و محدود حالت نے لوگوں کو مرنے پر مجبور کیا تو دوسری طرف صحت کا نجی شعبہ وباء کے خلاف لڑنے کے بجائے اپنے بل میں گھس گیا۔ جس کے نتجے میں ابھی تک نا تو کورونا وائرس کے خلاف کوئی ویکسین ایجاد ہو سکی ہے اور نا ہی لوگوں کو بہتر صحت کی سہولیات مہیا کی جا سکی ہیں۔ اب تک کورونا کے باعث لاکھوں لوگ لقمہ اجل بن چکے اور لاکھوں انتظار میں کھڑے ہیں۔ لاعلاجی سے اموات تو ایک پہلو ہے جبکہ خوفناک بیروزگاری نے لوگوں کو غربت کی اتہاہ گہرایوں میں دھکیل کر بھوک کے باعث بھی اموات میں اضافہ کیا ہے۔ لاک ڈاون کے باعث بیروزگاری کے سمندر میں غرق ہونے والوں کی اکثریت کنٹریکٹ ملازمین اور ڈیلی ویجیرز کی ہے جن کو اس نظام نے سرمایہ داروں کے رحم و کرم پر چھوڑا ہوا ہے۔

آکسفیم کی تازہ رپورٹ جو 9جولائی کو شائع ہوئی، کے مطابق اس سال کے آخر تک کورونا کی وجہ سے بھوک کا شکار ہو کر مرنے والوں کی تعداد یومیہ بارہ ہزار تک جا سکتی ہے۔ یومیہ بارہ ہزار افراد کا بھوک کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار جانا کورورنا کے باعث اموات سے کہیں گناہ زیادہ ہے۔ اب تک کورونا کے باعث ہونے والی اموات میں یومیہ دس ہزار اموات سب سے بلند رہی ہیں جو کہ اپریل کے مہنیے میں ریکارڈ کی گئیں۔ جبکہ اس سال کے آخر تک روزانہ بارہ ہزار افراد بھوک کی وجہ سے موت کے منہ میں جا سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق صرف اس سال 121ملین لوگ “بھوک وائرس” کا شکار بنیں گے۔ بھوک کا شکار ہونے والوں کی سب سے بڑی تعداد وینیزویلا، جنوبی سوڈان، انڈیا، جنوبی افریکہ، برازیل اور یمن سمیت باقی ترقی پزیر ممالک کے غریب عوام ہوں گے۔

المیہ یہ ہے ایک طرف لوگ لاعلاجی, بیروزگاری اور بھوک کے ہاتھوں مر رہے ہیں جبکہ دوسری طرف سرمایہ داروں کے منافعوں میں دن دگنی رات چگنی ترقی ہو رہی ہے۔

اسی رپورٹ کے مطابق وباء کے اسں عرصے میں خوراک اور مشروبات بنانے والی آٹھ بڑی کمپنیوں نے اپنے شیئر ہولڈرز کو جنوری سے اب تک 18بلین ڈالر کے منافعے تقسیم کئے ہیں۔
ایک اور رپورٹ کے مطابق ایمازون، فیس بک اور زوم ایپلیکیشن کے مالکان بھی اس وباء کے عرصے میں اربوں ڈالر کے منافعے کمانے والوں میں سرفہرست ہیں۔ پوری دنیا کی ریاستوں اور حکمرانوں نے عوام کی بجائے سرمایہ داروں کو بیل آؤٹ مالیاتی پیکیجز سے نوازا ہے اور عوام کو بیماری اور بھوک کے وحشی شیر کے پنجرے میں دھکیل دیا ہے۔ یہی اس نظام معیشت کی بنیادی فطرت اور نظریاتی بنیادیں ہیں جہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ غریب، غریب سے غریب تر اور امیر، امیر سے امیر تر ہوتا جا رہا ہے جبکہ دولت کی غیر منضفانہ اور استحصالی تقسیم یعنی امارت اور غربت کی خلیج میں بے پناہ اضافہ کر رہی ہے۔
ذرائع پیداوار کی نجی ملکیت پر قائم اس منافع کے نظام میں پیداوار کا مقصد بنیادی انسانی ضروریات کی تکمیل کی بجائے سرمایہ داروں کے منافعوں میں بڑھوتری اور اس کا تخفظ ہے جو تمام سماجی و معاشی محرومیوں کی بنیاد ہے۔

اج دنیا میں اتنی خوراک موجود ہے جو چھ سات ارب کی بجائے بارہ ارب انسانوں کی بھوک کا خاتمہ کر سکتی ہے۔ آج دنیا میں اتنی دولت موجود ہے جس کی منضفانہ تقسیم کے ذریعے تمام انسانوں کو مفت علاج سمیت تمام بنیادی ضروریات کی تکمیل کو عمل میں لایا جا سکتا ہے، مگر یہ سب اس نظام اور اسکی جکڑ بندیوں میں قید رہ کر ممکن نہیں۔ ایسا تب ہی ممکن ہوگا جب دنیا بھر کے محنت کش عوام تمام تر ذرائع پیداوار کو نجی سرمایہ داروں کے ہاتھوں سے چھین کر اپنے جمہوری کنٹرول میں لے کر دولت کی منضفانہ تقسیم کاری کے عمل کا آغاز کریں گے۔ یقیناً آنے والا عرصہ ان بنیادی طبقاتی تضادات کے خلاف ایک طاقت ور نظریاتی بحث اور مضبوط سیاسی، طبقاتی اور انقلابی جدوجہد کے آغاز کا عرصہ ہو گا جو اس نظام کے خاتمے کے ساتھ نئے معاشی و سماجی نظام کی بنیادیں رکھے گا اور وہ نیا سیاسی، معاشی اور سماجی نظام آج کے عہد میں “سوشلزم” کے علاوہ کوئی دوسرا نظام نہیں ہو سکتا۔ دنیا بھر کے محنت کشو! آگے بڑھو اور اپنی تقدیر کو اپنے ہاتھوں میں لینے کے لئے طبقاتی بنیادوں پر متحد ہو کر اپنے لئے اور اپنی آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے، جدوجہد کرو کیونکہ اگر جینا ہے تو پھر لڑنا پڑے گا۔

مارکس نے اسی لئے کہا تھا کہ محنت کش طبقے کے پاس کھونے کے لئے صرف زنجیریں ہیں اور پانے کے لئے سارا جہاں۔