ہماری اخلاقی اقدار

تحریر: احتشام خان

خطہ آزاد کشمیر بالخصوص پونچھ کی دھرتی آج سے چند سال قبل تک اپنی بہترین ثقافت اور اخلاقی قدروں کی وجہ سے جانی جاتی تھی۔ گو کہ کوئی قابل ذکر یا قدیم ثقافت پونچھ کا حصہ نہ رہی مگر کسی نا کسی حد تک ثقافت موجود رہی، اس کے مختلف رنگ تھے۔ کچھ رنگ لباس، کچھ رنگ مہمان نوازی اور اپنی مخصوص زبان پہاڑی کے تھے۔ مگر آج یہ تمام چیزیں ناپید ہوتی جا رہی ہیں۔اس کی کچھ اور وجوہات ہیں جن پر مفصل بحث کی جا سکتی ہے ۔ جو ظلم اپنی پہاڑی زبان کے ساتھ کیا گیا وہ ایک الگ داستان ہے۔ اس ظلم میں حصہ لینے والے پونچھ کی دھرتی کے 90فیصد پڑھے لکھے ہیں اور وہی اس کے ذمہ دارہیں۔

گزشتہ دو چار سالوں سے راولاکوٹ کے اندر چند مخصوص الفاظ گردش میں ہیں اور آئے روز وہ الفاظ طول پکڑتے جا رہے ہیں۔ ان مخصوص الفاظ میں چند قابل ذکر اور عام فہم الفاظ کچھ یہ ہیں۔ “ماسیرو، پیرو، ببلو، ربو”وغیرہ ۔ یہ الفاظ اس قدر تیزی سے ہمارے معاشرے کے اندر سرایت کر گئے ہیں کہ چھوٹے بچے اپنے ماں باپ کے نام بعد میں لیتے ہیں اور پہلے ان کی زبان پر یہ الفاظ ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے ان الفاظ کو قابل قدر شہرت حاصل ہوئی اور فیس بک پر ان ناموں کے کئی بلاگز ، ولاگز اور گروپس بنائے گئے۔ خوب تماشہ لگایا گیا اور اب بھی یہ تماشہ مزید رنگ و روپ کے ساتھ نکھر کر سامنے آ رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے دانشوروں نے کمال مہارت سے ان کو زبان زد عام کیا۔ مختلف علاقوں میں بسنے والے لوگوں اور ان کی عادات کا مذاق بنایا گیا اور اب بھی یہ عمل تیزی سے جاری ہے۔

دیکھنے میں آیا ہے کہ کم عمر لڑکے عجیب حلیے بنائے پھرتے ہیں۔ لمبی چادریں ، منہ میں نسوار اور بے ڈھنگے الفاظ ان کی ذات کا حصہ ہوتے ہیں اور وہ اس پر فخر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک دوسرے کو ناموں سے کم اور پیرو، ماسیرو کہہ کر زیادہ بلاتے ہیں۔ یہ تمام تر صورت حال انتہائی خطرناک ہے جو آنے والی نسلوں کو مزید تباہ کرے گی۔ ایک تو ان الفاظ کے ذریعے علاقوں کی تفریق ہو گی اور مختلف علاقوں میں بسنے والے لوگ اپنی روایات سے کم اور ان ناموں سے زیادہ پہچانے جائیں گے۔

نوجوان خود ان ناموں سے پکارے جانا فخر کا باعث سمجھتے ہیں اور عجیب طرز کی ذہنی کیفیت یا بیماری کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ یہی عوامل انہیں نشے اور دوسری برائیوں کی طرف راغب کرتے ہیں۔ نہ ہی ہماری دھرتی اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ گھٹیا ناموں اور الفاظ کے ذریعے علاقائی تفریق کی جائے اور نہ ہی اخلاقی قدریں۔ 90فیصد پڑھے لکھے جاہل لوگوں کو چاہیے کہ اس بات پر سنجیدگی سے سوچیں اور اس کے مد مقابل کوئی ایسا کام کریں جو اس غیر سنجیدہ مزاح کو ختم کرے۔

ہمارے علاقے میں پیرو ، ماسیر ، ببلو اور ربو کی نہ ہی کوئی اہمیت ہے اور نہ ہی دی جانی چاہیے۔ یہ تمام تر القابات ہمارے علاقے اور ہماری سوچ کی غلط عکاسی کرتے ہیں جو کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سوشل میڈیا پر ایسے تمام تر گندے مواد کی نفی اور حوصلہ شکنی کی جائے۔ ترقی کے اس دور میں نوجوانوں کو نئی جدت اور تحقیق کی طرف لایا جائے نہ کہ پیرو اور ربو کی طرف۔

شیکسپیئر نے کہا تھا کہ “سڑے ہوئے پھول کانٹوں سے زیادہ بدبودار ہوتے ہیں”۔ یہ نہ ہو کہ معاشرے کے سڑے ہوئے پھول اس معاشرے کو کانٹوں سے زیادہ نقصان پہچائیں۔ میں نے اپنی سوچ کے مطابق ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں معاشرے کے ایک غلط عنصر کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اختلاف رائے سب کا حق ہے مگر اختلاف بھی اگر بہتری کے لیے کیا جائے تو کیا ہی بات ہو۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: