سوچ زار،ایک تاثر…….مریم مجید ڈار کی تصنیف پر تبصرہ

تحریر: اظہر مشتاق

بہت سے مصنف اور قارئین اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ موجودہ صدی کتب بینی اور کتب نویسی کی آخری صدی ہے۔ شاید ان کی رائے اس لئے درست ہو کہ تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، سماجی روابط کی ویب سائٹ ، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی اور کاغذ کی کتابوں کی چھپائی میں کمی کے باعث عین ممکن ہے کہ کتب نویسی صرف ڈیجیٹل میڈیا پر ہی ہو اور کتابوں کا چھپنا آہستہ آہستہ متروک ہوجائے ۔ موجودہ عہد میں بھی ایک نئے نظام کا سماج میں داخل ہونا اور پرانے کا اس کے اثر اور اپنی معدومی سے بچنے کیلئے مزاحمت کرنا ایک فطری عمل ہے لیکن نئے نظام اور ٹیکنالوجی کےدنیا پر موجود سارے انسانوں میں یکساں مقبول ہوجانے کیلئے ایک مخصوص وقت درکار ہوتا ہے، اسی لئے موجودہ وقت میں بھی کتابیں چھپنے کا عمل بالکل متروک نہیں ہوا

یہ قیاس کرنا بھی کسی حد تک درست ہو سکتا ہے کہ کتابیں چھپ تو رہی ہیں مگر قارئین کی تعداد یا دلچسپی میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے۔ یہ اندازہ لگا لینا بھی درست نہیں کہ موجودہ وقت کا انسان ادب اور ادبی تخلیقات میں دلچسپی ظاہر نہیں کرتا۔رہی بات تخلیق کار کی تو تخلیق کار بھوکا تو رہ سکتا ہے لیکن تخلیق کے بغیر زندہ رہنا اس کے لئے ممکن نہیں۔ اس کی تخلیقات کو پذیرائی ملے یا نہ ملے اس سے قطع نظر وہ ادبی تخلیقات کرتا نظر آئے گا۔ موجودہ وقت میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی بدولت تخلیقات کو قارئین تک پہنچانے کا اہم ذریعہ سماجی روابط کی ویب سائیٹس ہیں۔

مریم مجید ڈار کی تخلیقات سے میرا پہلا تعارف سماجی رابطے کی ویب سائٹ سے ہوا، ان کا پہلا افسانہ جو میری نظر سے گزرا وہ “ادھوری عورت کی کتھا ” تھا ۔ جس میں ایک عورت کی اپنے سوتے ہوئے شوہر سے وہ کلام تھا جسے وہ سن نہیں سکتا تھا۔ اس پوری کہانی میں الفاظ کا چناؤ ، جملے کی بنت اور استعارے ایسی مستعدی سے استعمال کئے گئے تھے کہ اگر اس افسانے کی مصنّفہ کا نام کو کاٹ کر قراۃالعین حیدر، بانو قدسیہ، پریم چند ،کرشن چندریا سعادت حسن منٹو کا نام لکھ دیا جاتا تو قاری بالکل اعتبار کر لیتا کہ یہ تحریر اردو ادب کے انہی کہنہ مشق ناموں میں سے کسی ایک کی ہے۔

“سوچ زار” مریم کے ستائیس افسانوں پر مشتمل ان کی پہلی تصنیف ہے، ان افسانوں کے ادبی محاسن پر تکنیکی رائے ادب کا کوئی معتبر نام یا ناقد دے سکتا ہے اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ناقد نوآموز مصنفہ کی صرف تعریف ہی کریں یا مصنفہ تنقید کے عمل سے گزرنے کے لئے تیار نہ ہو ۔ ان کا پیش لفظ کا مندرجہ ذیل جملہ ہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ تنقیدی عمل کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں ۔ مریم لکھتی ہیں:

” میری تخلیقات کے کردار ارضی ہیں سماوی نہیں۔۔۔ اکثر تو اس قدر کہ مجھے نام دینے کی حاجت درکار نہیں ہوتی کہ وہ ایک فرد کو نہیں بلکہ معاشرے کے ایک طبقے کو بیان کر رہے ہوتے ہیں ۔ وہ آپ بھی ہو سکتے ہیں اور میں بھی۔۔۔ میں نے انہیں سڑکوں پر پایا ہے۔ اینٹیں دھوتی پورے دنوں کی حاملہ عورت کے ماتھے پر پڑی سلوٹوں میں، کچرے کے ڈبے میں پڑے بیکار اور متروک زنانہ زیر جاموں کو سونگھتے اوردونوں ہاتھوں میں بھینچتے ، خواہش کے بوجھ سے ریزہ ریزہ ہوتے مرد کی آنکھوں میں اور سڑک پر دوپہر کی دھوپ میں پانی بیچتےبچے کی پیاس میں مجھے کہانیاں ملتی ہیں”۔

وہ اپنے افسانوں کے کردار اور اس کے پلاٹ کے بارے میں خود کچھ ایسے راقم طراز ہیں؛

“اکثر مجھ سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ میرے افسانوں کے انجام خوشگوار نہیں ہوتے، وہ تلخ نمکین اور لہو کی باس میں بھیگے ہوتے ہیں اور ان میں بھوک ، غربت ، بے بسی اور موت کے گہرے رنگ نمایاں ہوتے ہیں۔ کیا یہ قاری کے ساتھ زیادتی نہیں؟ اور اس کے جواب میں ، میں محض اتنا کہتی ہوں کہ کیا آپ نے زندگی کا انجام پریوں کی کہانیوں کی مانند دیکھا ہے؟ کیا ایسا ممکن ہے کہ ایک قریب المرگ اور سسکتے جانور کےنیم مردہ وجود پر گدھ منڈلا رہے ہوں اور اسکے ممکنہ انجام کو بدل دیا جائے”۔

مریم کے بقول انکی کہانیاں سوال نہیں ہیں اور نہ ہی جواب ،جو مسائل کا حل قاری کو پیش کرتی ہیں، انکی کہانیاں” سوچ ” ہیں اور سوچ کو ہرذی شعور کے دوش پر رکھا ہوا قرطاس ہے۔ وہ زندگی کے رنگوں کو ٹیڑھے ، بھدے اور کرخت روپ میں دیکھنے کی قائل ہیں اور بقول منٹو وہ الفاظ کی ملمع کاری سے عاری دکھائی دیتی ہیں۔

سوچ زار کا پہلا افسانہ ” مقدمہ ابلیس و آدم وحوا” ایک چار کرداروں کا مکالمہ ہے اور وہ چار کردار خدا، آدم ، حوا اور ابلیس ہیں ۔ اس پورے مکالمے کو جس خوبصورتی سے نبھایا گیا ہے اسے پڑھتے ہوئے یہ شائبہ ہوتا ہے کہ مصنفہ اس مقدمہ کی گواہ تو نہیں۔ آدم ، حوا، ابلیس اور خدا کے مکالمے میں آدم و حوا کے اپنی پیروی میں دلائل کے جملے اور ان کی بُنت سے یہ نہیں لگتا کہ ہم کسی نوآموز لکھاری کا افسانہ پڑھ رہے ہیں۔ لیکن افسانے کے انجام میں شاید ناقدین یہ کہہ دیں کہ مریم روایت پسندی کا شکار ہو کر ایک مسلم بیانئے کی رو میں بہتے ہوئے قارئین سے گفتگو کرتی نظر آئیں۔

” اس ازلی جنگ کے دونوں فریق اصل مقصد کو بھلا بیٹھے ہیں اور اگر کوئی فریق پوری جانفشانی اور تندہی سے اپنے مقاصد کے حصول کیلئےسرگرم عمل ہے تو وہ عزازیل ہے، ابلیس ہے، شیطان ہے”

لیکن اس کو خیر و شر کی مذہبی تفہیم سے ہٹ کر سماجی بیانیے کے تناظر میں بھی لیا جا سکتا ہے۔ بحیثیت عام قاری اور ذرا سا غور کرنے پر مجھے ایسا لگا کہ کہ مریم شیطان اور آدم و حوا کو برائی اور بھلائی کے ضمن میں ہی لے رہی ہیں ۔ “چاند کا آنسو” نامی افسانے میں مریم نے ان تمام سماجی رویوں کا ذکر کیا ہے ، جو جبر و استبداد کے سائے تلے پنپتے ہیں اور مایوسی و یاس کو جنم دیتے ہیں۔ افسانہ” بکھی-ایک تلخ سچ” ایک ایسی بستی کی کہانی ہے جس کے مرد ایک لاچار عورت کو جنسی ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد گزری راتوں کے قصّے چوکوں چوراہوں میں سر عام سناتے پھرتے ہیں ۔ بکھی، کچی بستی کا وہ کردار ہے جس کی کھولی میں مرد اس کی ہڈیاں تک بھنبھوڑنے کے درپے ہوتے ہیں مگر کم پڑھے لکھے دیہاتیوں کے سارے جنسی مظالم سے بچ کر بھی بکھی ایک شہری بابو اور اسکے دوستوں کی ہوس کا نشانہ بننے کے بعد موت کا شکار ہوجاتی ہے۔

کال کلیچیاں کے عنوان سے لکھے گئے افسانے کا پلاٹ ایک بچے کی خود اعتمادی کی بحالی کو موضوع بنایا گیا ہے کہ ایک کمزور بچے میں جب اعتماد بحال ہوتا ہے تو اس کے بعد اس کے اندر سے خوف کا عنصر ختم ہوجاتا ہے۔ پھر وہ خود اعتمادی اسکے دوستوں میں اسے مقبول کرتے ہوئے ایک خوددار عورت کے اعتماد کے برابر لا کھڑا کرتی ہے ۔ اس افسانے میں مریم نے روایت پسندی اور مردوں کی خود غرضی کو کچوکہ لگایا ہے کہ کس طرح ایک عورت کو شیشے میں اتار کر مرد فائدہ اٹھانے کے بعد اس سے بے پرواہ ہو کر اپنے معمول میں مگن ہوجاتا ہے لیکن جب عورت کے اعتماد کا بت ٹوٹتا ہے تو وہ خودکشی کو ترجیح دیتی ہے۔ کال کلیچیاں کے سب کردار اس معاشرے کے زندہ کردار ہیں اور کال کلیچیاں معاشرتی بے حسی اور بے اعتنائی کا نمائندہ افسانہ ہے جس میں نازک رشتوں اور احساسات کا خیال نہ کرنے کا رونا رویا گیا ہے۔ افسانہ قاری کو افسردہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ارد گرد موجود کرداروں میں مماثلت کے لئے اکساتاہے۔

سوچ زار کا سب سے خوبصورت افسانہ ” ادھوری عورت کی کتھا” ہے۔ جس میں ایک مغربی معاشرے میں کامیابی کے زینے طے کرتے ہوئے شوہر کے ساتھ اس کی نیند کے دوران وہ مکالمہ ہے جس کو وہ سن نہیں سکتا۔ ادھوری عورت کی کتھا میں مریم نے جس بے باکی سے جذبات کو الفاظ کا روپ دیا ہے وہ یا تو تجربات کی مرہونِ منت ہوتے ہیں اور یا گہرے مطالعے کے۔ مریم نے جنسی عمل کو مناسب الفاظ میں بیان کرنے سے احتراز نہیں برتا ۔ انہوں نے جنسی عمل اور دو جسموں کے درمیان ہونے والے جنسی روابط کو خوبصورت تشبیہات اور استعاروں میں بیان کیا ہے۔ ایسے استعاروں کا بیان قاری کو کہیں محسوس نہیں ہونے دیتا کہ کہیں فحش گوئی ہو رہی ہے۔ مذکورہ افسانے میں عورت خالی کوکھ کا رونا روتی ہے اور یہ بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ مرد کی کامیاب زندگی کی دوڑمیں عورت کے ماں بننے کی فطری خواہش کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ دوسروں کے بچوں کو دیکھ کر عورت ان کو پیار کرتے ہوئے ان کو چمکارتے ہوئے اپنے اندر کے خالی پن کو محسوس کرتی ہے ۔ اس افسانے کا پلاٹ ، کردار، ماضی کی یادوں کا بیان اور مستقبل کی پیشن گوئیاں خوبصورتی سے بیان کی گئی ہیں۔

مریم کے دیگر افسانوں کے کردار بھی زندہ کردار ہیں دیگر افسانوں میں بھی انہوں نے سماجی رویوں اور ان کی بے حسی کو قلم بند کیا ہے اورمعاشرتی قدروں کو ایک ناقدانہ نظر سے دیکھتے ہوئے ضبط تحریر میں لانے کی کوشش کی ہے۔ کنکھجورا، تلسی کے پتے، پرایا ہاتھ اور سرخ ہاتھ جیسے افسانے اپنے بھرپور پلاٹ اور کرداروں کی وجہ سے قاری کو ایک مختلف زاویے سے سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔چھپر کھٹ کے ناگ میں مریم نے ایک مجبور بیوی اور روایتی سسرال کو موضوع بنایا ہے ۔ اور سماج کی ان قدروں پر سوال اٹھایا ہے جن کی وجہ سے عورت کو ایک مرد کے ساتھ باندھ دیا جاتا ہے اور واپس پیچھے دیکھنے پر ایک طرح کی سماجی قدغن لگا دی جاتی ہے اور کسی عورت کا میکہ اگر معاشی اور سماجی طور پر کمزور ہو تو اسے سسرال کا جبر حتّٰی کہ گھریلو تشدد بھی سہنا پڑتا ہے ، ایسی حالت میں ایک مجبور عورت تشدّد سے نمٹنے کے لئے ساون کے ایک ناگ سے اپنے خاوند کو ڈسوانے کے ہیبت ناک عمل کو کس طرح سر انجام دیتی ہے وہ چھپر کھٹ کے ناگ میں بتایا گیا ہے۔

مریم نے چھوٹا گوشت، مکڑی صفت ، آوارہ عورت میں بھی اس سماج کے ان کرداروں کے رویوں کا نقشہ کھینچا ہے جن پر معمول میں بات کرنا مشکل یا ناممکن سمجھا جاتا ہے۔ دو بوند انقلاب میں مریم نے روس کی پرولتاری تحریک اور مزدوروں کی کسمپرسی کو موضوع بناتے ہوئے تلخیوں اور گھریلو پریشانیوں کے باوجود ایک معاشی اور سماجی تبدیلی کے عمل میں مصروف مزدوروں کی جدوجہد کو خراج پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

محبت کی مرغابی، حرامی، بٹن، پیٹ، گمشدہ خدا اور اپنا اپنا جہنم بھی اپنی نوعیت کے منفرد افسانے ہیں جو سوال کرنے پر مجبور کرتے ہیں ۔ لفافے کی موت میں ایک سزائے موت کے قیدی کے تاثرات ایسے بیان کیے گئے ہیں جیسے مصنفہ خود سارے عمل کا حصہ رہی ہوں ۔ سب سے منفرد بات یہ ہےکہ جب پولیس والے سزائے موت کے قیدی کو پھانسی گھاٹ پر لیجانے سے پہلے نماز کیلئے کہتے ہیں تو وہ انکاری ہو کر کہتا ہے، ” میں اس کے سامنے سر کیوں جھکاؤں؟ جس نے ساری دنیا کے سامنے مجھے جھکایا ہے”۔ قیدی پھانسی گھاٹ تک جاتے ہوئے بھی ہر لمحے کا لطف لیتا ہے اور اس خوشی میں پھانسی کے پھندے پر جھوم جاتا ہے کہ موت کے بعد وہ اپنی وفات پا جانے والی ماں سے مل سکے گا۔

حرافہ کا عنوان دیکھ کر ایسا لگتا ہےکہ یہ اس سماج کے ناپسندیدہ اور ناقابل قبول کردار کی کہانی ہے مگر مکمل افسانے کے مطالعے کے بعد غربت اور فاقہ زدہ گھر کی ایک ایسی کہانی ملتی ہے جس کے کردار سماج میں موجود ہیں مگر ان پر بات کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔ حرافہ کا اختتام ڈرامائی اور سبق آموز ہے۔۔ کہ لوگ اس عورت کو حرافہ نہیں سمجھتے جو بغیر کسی مروجہ قانونی رشتے کے ایک بچی کو جنم دیتی ہے لیکن سماج ان سب قانونی ، سماجی اور معاشرتی بندھنوں سے بے بہرہ انسان کو حرافہ کا لقب دیتا ہے جو ان سب بندھنوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔

کتاب میں شامل آخری پانچ افسانے محبت کی پہلی، دوسری،تیسری، چوتھی اور پانچویں کہانیا ں ہیں، جن میں مصنفہ نے محب اور محبوب کے احساسات ، جذبات اور کیفیات کو بیان کیا ہے۔ یہ کہانیا ں رومانوی کہانیوں سے مختلف ہیں ، ان کے پلاٹ اور اسلوب شائستہ ، مہذب لیکن جذباتی ہیں ان کے کردار مرد اور عورت ہیں اور انکا اول و آخر محبت ہے۔ محبت جو فاتح عالم ہے۔

سوچ زار 275 صفحات پر مشتمل افسانوی مجموعہ ہے اور اسے اب تک معیاری کتابیں چھاپنے والے ادارے فکشن ہاؤس نے شائع کیا ہے۔ کتاب کی قیمت چھے سو روپے ہے اور یہ مصنفہ سے یا فکشن ہاؤس سے منگوائی جاسکتی ہے۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: