تحریر:آصف اشرف
مجھے اپنے ماجھے گامے ہی اچھے لگتے ہیں
برسوں پہلے کہا گیاعطاء الحق قاسمی کا لکھا یہ شعر آج مجھے اس وقت یاد آیا جب حسب معمول شام کی آخری چائے کی چسکی لینے دن بھر فضولیات میں مصروف رہنے کے بعد شام گئے کچہری چوک کے ہوٹل کی طرف قدم اٹھ رہے تھے تو اس چوک میں لگے ایک سٹال نے یہ یاد دلا دی ریاست جموں کشمیر چھوڑ دو کی تحریر کے سائے تلے دھڑوں میں بٹے مقبول بٹ کو بابائے قوم ماننے والے ایک ساتھ ایک جدوجہد میں موجود تھے جو چند روز بعد دارالحکومت مظفر آباد میں موجود اسمبلی کو 47کی باغی انقلابی حکومت کے طور پر منوانے ایک بڑے مارچ کی تیاری کر رہے تھے۔ وہ بھی ایک ایسے وقت جب کشمیر کی عوامی تحریک کو ہائی جیک کرنے پھر ٹیپو سلطان کو بنی گالہ سے اور محمد بن قاسم کو منصورہ سے سامنے لانے کی ناکام سعی ہو رہی ہے۔ دھرتی کے حقیقی بیٹے پہلی بار غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حالات کے ادراک کے ساتھ ریاست کے انقلابی اور آزادی پسندوں کے حقیقی نمائندہ اتحاد جموں کشمیر پیپلز نیشنل الائنس (JKPNA) کے پلیٹ فارم تلے ایک ہو چکے ہیں۔
یہ ماجھے گامے ٹیپو سلطان اور محمد بن قاسم پر بھاری نظر آر ہے ہیں۔ بڑا عجیب منظر ہے کہ ترہگام، سوئیہ بگ اور صورہ کی عفت مآب اور جرات مند ماؤں بہنوں بیٹیوں کی جھلک اب کی بار بھارت کی طرف سے جاری کرفیو کے بعد مجھے اپنے شہر راولاکوٹ میں آئے روز نظر آرہی ہے۔ پونچھ یونیورسٹی کی آزادی پسند اور وہ بھی ہزاروں طالبات کے کئی ایک احتجاجی مظاہروں کے بعد لبریشن فرنٹ کے تیتری نوٹ دھرنے اور آزادی مارچ میں جذباتی انداز میں بڑے پیمانے پر شرکت کی پیش کش اور پھر اب پی این اے کی عوام رابطہ مہم میں دل پھینک انداز میں تعاون اور یکجہتی ایک نئی امید کا باعث ہے۔ اس چوک میں جہاں کئی سرفروش دن پورا آزادی کے ترانے لگائے ایک نیا ماحول پیدا کیے ہیں انقلابیوں اور حریت پسندوں کی جڑت جہاں نئے انقلاب کی نشاندہی کر رہی ہے وہاں شہر سے گزرنے والی خواتین کا اس کیمپ میں آکر توجہ سے بینرز کو پڑھنا اور پھر اپنے پرسوں سے نقدی نکال کر چندہ دینا ایک اور ہی منظر سامنے لائے ہے۔
ماجھے گامے مقبول بٹ کے روپ میں نظر آ رہے ہیں۔ برسوں پہلے پیر و مرشد سردار آفتاب نے ایک انوکھی منطق سامنے لائی تب اس کو ماننے میں بھی انکاری تھا لیکن آج مرحوم کی دور اندیشی کو سلام کرنے جی چاہ رہا ہے۔ اس وقت ان کا کہنا تھا کہ کارکن جو بھی ہو سب ایک ہیں۔ لیڈر شپ میں اختلاف ہو سکتا ہے۔ لیڈر شپ میں کمی کوتاہی ہو سکتی ہے۔ دس اگست کو پیپلز نیشنل الائنس کے قیام کے بعد چھبیس اگست کو جب راولاکوٹ میں پہلا مظاہرہ ہوا تو شہر راولاکوٹ میں ایک نئی امید دیکھی۔ ہر فرد جس کو بھی آزادی سے عشق تھا وہ خوش تھا اور پھر بھارت کی طرف سے لگائے کرفیو کے بعد یہ اس کشمیر میں پہلی عوامی آواز تھی۔ اس آواز پر ہر اپنے پرائے نے لبیک کہا۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ اگر چھبیس اگست کو آزاد کشمیر کے ہیڈ کوارٹرز پر PNAکی کال پر آزادی پسند یوں جرات سے نہ نکلتے تو شاید سات ستمبر کو تیتری نوٹ کی طرف جانے والا آزاد کشمیر کی تاریخ کا سب سے بڑا آزادی مارچ یوں کامیاب نہ ہوتا۔ PNAمجھے اس لیے بھی اچھی لگی کہ چھبیس اگست کو مظفر آباد میں برسوں بعد جب آزادی پسندوں نے اپنے ماضی کی یاد تازہ کی۔ گل نواز بٹ کے سارے ہم سفر لڑھکتے جسموں، بوڑھے چہروں اور سفید داڑھیوں کے ساتھ جب ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے 90کی دہائی کی طرح پھر سڑکوں پر نکلے تو اس دور میں جنم لینے والے احسن اسحاق کو بھی یہ تلخ حقیقت ماننا پڑی کہ این ایس ایف نئی ہو یا پرانی، این ایس ایف این ایس ایف ہی ہے۔ میرے پاس اس بات کے مصدقہ ثبوت ہیں کہ اس آواز سے خوف کھا کر پاکستان کے بزرگ صحافی ضیاء شاہد نے پھر “بڑوں “تک ویسے ہی اپنا احتجاج نوٹ کروایا جیسے بینظیر بھٹو کی طرف سے حق آزادی کا آپشن تسلیم کرنے اور نواز شریف کی طرف سے تہران میں تھرڈ آپشن کی وکالت کرنے اس وقت کے بزرگ صحافی مجید نظامی نے اپنا “اثر و رسوخ” استعمال کر کے ان دونوں حکمرانوں سے اس آپشن کی تجویز واپس کروائی تھی۔ پی این اے خوبصورت پھولوں کا گلدستہ یادوں کو تازہ کر گیا۔
میرپور جو نیشنلزم کی ماں کی حیثیت رکھتا ہے برسوں سے جمود اور خاموشی کا سامنا کیے ہے۔ بس اکیلا راجہ ذوالفقار ایک شناخت بنا ہے لیکن اس پی این اے نے پھر ماضی کے نیشنلسٹ کو زندہ کر دیا۔ کال پی این کی تھی اور عوامی آواز کو کامیاب بنانے میر طارق، میر فاروق، منور شاہ، محفوظ چوھدری سارے ہی میدان میں آچکے تھے۔ وہ عوامی لگاؤ جس نے نوے میں گل نواز بٹ کے ہاتھوں منحوس خونی لکیر کو روندھوایا۔ وہ عزت جو پیر و مرشد سردار آفتاب کو 89میں راجیو گاندھی کی آمد کے موقع پر اسلام آباد میں دفع 144توڑ کر آزادی کی صدائیں بلند کرنے ہفتوں اڈیالہ جیل میں ساتھیوں سمیت پابند سلاسل کرنے کے بعد اہل آزاد کشمیر نے دی وہ تعاون جو 99میں قائد تحریک مرحوم امان صاحب کو دیا گیا۔ آج پھر پیپلز نیشنل الائنس اس کی یادیں تازہ کیے ہے۔ ہر سو آزادی کا نعرہ گونج رہا ہے۔ شہر شہر ترانے بج رہے ہیں۔ اختلاف کرنے والوں کو بس ایک نکتے کا Advantageرہا کہ مقبول بٹ کے نام لیوا ایک کیوں نہیں ہوتے۔
تحفظات کے باوجود یاسین ملک کی تنظیم جے کے ایل ایف نے اب کی بار جو فریڈم مارچ اور دھرنہ دیا اس میں صغیر خان سے لے کر اوروں تک سب نے جس طرح دھرنے کے شرکاء سے جا کر اظہار یکجہتی کیا اس اختلاف کے تاثر کو اس نے زائل کیا اور اب پھر بائیس اکتوبر آنے کو ہے۔ یہ وہی منحوس دن ہے جب قبائلیوں نے کشمیر کی سر زمین پر مداخلت کی۔ باوجود اس کے کہ کشمیر کے اپنے سرفروش پونچھ میں کیپٹین حسین خان کی قیادت میں میرپور میں خان آف منگ کی قیادت میں، منگ میں کرنل شیر احمد خان کی قیادت میں، گلگت بلتستان میں کرنل حسن مرزا کی قیادت میں ان خطوں کو ڈوگرہ سامراج سے آزاد کروا چکے تھے۔اگر قبائلی نہ آتے تو شاید باقی جموں کشمیر بھی ایک ہو جاتا۔ سو اس غلطی کا خمیازہ آج تک اہل وادی پونچھ راجوری جموں اور لداخ کے لوگ بھگت رہے ہیں۔ ایسے میں جب اس کرفیونے جموں لداخ اور وادی کو ایک آواز بنا دیا ہے۔ وادی کے مسلمان کی طرح جموں کا ڈوگرہ، پنڈت اور ہندو بھی پچھلے کم و بیش 80دنوں سے کرفیو کا سامنا کیے ہے۔ ایسے میں وقت نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ کوئی اور ملک یا ریاست جموں کشمیر میں فوجی مداخلت نہیں کر سکتی اور نہ کوئی باہر سے آکر ان کو آزادی دلوا سکتا ہے۔
عالمی حالت کے تناظر میں نہ صرف کرفیو زدہ قوم کو اس بحران سے نکالنے ایک راستہ موجود ہے بلکہ سارے جموں کشمیر کو حقیقی آزادی سے ہمکنار کرنے بھی ایک راستہ موجود ہے جو مظفر آباد سے ہوتے ہوئے سرینگر جاتا ہے۔ یہ راستہ جموں کشمیر کی انقلابی حکومت کے قیام کا راستہ ہے۔ جو 47میں قائم کی گئی تھی مگر معائدہ کراچی اور ایکٹ74کے نفاذ سے اس کی حیثیت کٹھ پتلی کی رہ گئی اب کی بار جب اس کٹھ پتلی حکومت کے سربراہ راجہ فاروق حیدر نے جسکوال چناری میں فریڈم مارچ کے دوران دھرنہ دیے یاسین ملک کے کارکنوں کی طرف سے اقوام متحدہ کے نمائندوں کو بلوانے راجہ فاروق حیدر نے خط لکھا تو اس خط کو قبول کرنے سے انکار کر دیا گیا کہ آزاد حکومت کی کوئی حیثیت نہیں۔ راجہ فاروق حیدر نے پھر اپنا مدعا خط کے ذریعے شاہ محمود قریشی کو بھیجا تو پھر یہ انکشاف بھی ہوا کہ شاہ محمود قریشی نے وزیر خارجہ پاکستان ہونے کے باوجود اس خط کو اقوام متحدہ کے لیے نہیں بھیجا۔ آخر جب نیو یارک میں یو این او کے دفتر کے باہر مظاہرہ کرنے والے لبریشن فرنٹ کے کارکنوں کے نوٹس پر یو این او کا وفد دھرنہ کے شرکاء سے مذاکرات کے لیے مظفر آباد آیا تو فاروق حیدر کے وہاں موجود ہونے کے باوجود ان سے گفتگو کرنا بھی گوارہ نہ کی۔ اور یہ سارے مذاکرات لبریشن فرنٹ کے ترجمان رفیق ڈار نے کیے۔یہ وہ ثبوت ہیں جن کی بنا ء پر کہا جا سکتا ہے کہ آزاد کشمیر حکومت کی حیثیت واقعی کٹھ پتلی ہے۔ اور اس حیثیت کو نمائندہ بنانے پھر مقبول بٹ کے پیروکار میدان میں آئے ہیں۔
وہ قانون ساز اسمبلی پر قبضہ کرتے ہیں یا اسمبلی کے باہر دھرنہ دیتے ہیں یا پھر ایک قدم آگے بڑھ کر جلا وطن حکومت کا قیام عمل میں لاتے ہیں یہ وقت ہی بتائے گا۔لیکن ان کا یہ اقدام کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر مشتمل انقلابی حکومت بحال کی جائے اور اس کا پہلا سفارت خانہ اسلام آباد کھولا جائے وقت کی بڑی آواز ہے۔ آج یہ آواز قوم پرستوں کی ہے شنید یہی ہے کہ کل سارے اس آواز کو اپنائیں گے یہی وہ آواز ہے جس پر عمل درآمد ہونے سے پاکستان کی جموں کشمیر میں مداخلت کا بھارتی پروپیگنڈہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گااور یہی وہ راستہ ہے جو مظفر آباد سے ہوتے ہوئے سرینگر جا کر کشمیریوں کو حقیقی آزادی سے ہمکنار کرے گا۔ تاریخ جب اپنا وجود غیر جانبدار حیثیت میں سامنے لائے گی تو Micheal, Johnson, Pitter اور حافظ سعید بخت زمین مسعود اظہر کی جگہ ان ماجھے گاموں کو ہی خراج تحسین کرے گی۔ جنہیں لوگ لچے لفنگے بیلے ایجنٹ کہنے سے گریز نہیں کرتے لیکن حقیقت میں یہ سب حریت پسند سرفروش اور انقلابی ہیں۔ جدوجہد کے نازک مرحلے میں استقامت سے آگے بڑھنے والے ان سارےJKPNAکے سرفروشوں کو سلام عقیدت جنہوں نے مقبول بٹ کی روح کو ایک آواز ہو کر تسکین پہنچائی۔












21 تبصرے “”ماجھے گامے””