آو توبہ کرتے ہیں

تحریر: عتیق احمد سدوزئی

جس شہر کے اکثریت لوگ عمرہ اور حج کر کے آئے ہیں اس شہر کی عیدگاہ میں آج اجتماعی توبہ کی دعا کی جائے گی۔ فالٹ زون اور منگلا ڈیم کی وجہ سے دلدل پر بسنے والے شہر کو بچانے کے اقدامات نہ اٹھائیں بس معصوم قوم کو باور کرا دیں کہ تم گناہگار ہو اس لئے زلزلہ آتا ہے۔ شکر ہے جاپان کے حکمران کافر تھے ورنہ وہ ہر سال لاکھوں گناہگار مروا کر توبہ کرواتے۔ وہاں کے کافروں نے زلزلے کی سائنس کو سمجھا اور اس سے بچنے کے لئے ایسی عمارتیں بنا دیں جو 9 ریکٹر سکیل سے بھی بڑے زلزلے کو برداشت کر جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں 2005 میں ایک زلزلہ آیا لاکھوں غریب کچے مکانات میں بسنے والے شہید ہو گئے لاکھوں زخمی ہوئے کوئی مکان سلامت نہ رہا اور ہمارے دانشور شہدائے زلزلہ کو قوم لوط سے ملانے میں دلیلیں پیش کر رہے تھے۔

اللہ پاک نے نبی کریم محمد ص کو خوشخبری سنا دی تھی کہ اے نبی ص آپ کی قوم پر قیامے تک کوئی عذاب نہیں نازل کیا جائے گا اور ہم اس وعدے کی نفی کر دیتے ہیں کہ یہ زلزلہ اللہ کا عذاب ہے۔ عجیب عذاب ہے جو صرف ان غریبوں پر نازل ہوتا ہے جو دو وقت کی روٹی سے مجبور، کچے گھروں میں رہتے ہیں اور اس حکمران اشرافیہ پر نازل نہیں ہوتا جو صدیوں سے مجبور و بے کس عوام کا خون نچوڑ رہی ہے۔ یہ زلزلہ لاہور کے بازار حسن، اسلام آباد کے خفیہ نائٹ کلبوں اور سندھ میں کتوں کی طرح مرجانے والے انسانوں کے حاکموں پر نازل نہیں ہوتا۔ یہ عذاب عدالتوں میں بیٹھے انصاف فروشوں پر نازل نہیں ہوتا، ساہیوال میں بچوں کے سامنے انکے والدین کو گولیوں سے بھون ڈالنے والے محافظوں پر نہیں نازل ہوتا اور قصور میں معصوم بچوں کے ساتھ حیوانیت کی داستانیں رقم کرنے والوں پر بھی نازل نہیں ہوتا۔ یہ عذاب بس ان پر نازل ہوتا ہے جو فالٹ زون کے اوپر بستے ہیں۔ ہم نے 14 برس قبل لاکھوں انسان مروانے کے باوجود آج تک زلزلہ سائنس کو اپنے سلیبس کا حصہ نہیں بنایا عام آدمی کو علم ہی نہیں کہ زلزلہ کیا ہے اور اس سے بچاو کے لئے کیا کرنا چاہیے
بس توبہ کریں اور خود کو گناہ گار تسلیم کر لیں۔ عجب گناہوں کی داستان ہے سکول کے ٹھیکے میں کرپشن کر کے اپنا گھر زلزلہ پروف بنانے والے ٹھیکیدار حاجی صاحب بچ جاتے ہیں اور غریبوں کے گناہگار بچے اس سرکاری سکول کی بلڈنگ کے نیچے آ کر مارے جاتے ہیں۔ مسجد کی جائے نماز بچ جاتی ہے اور مخیر حضرات کے چندوں سے بنے سو سو فٹ اونچے میناروں کے نیچے گناہگار طالبان مدرسہ مارے جاتے ہیں۔

میری منطق میں زلزلہ عذاب نہیں یہ سسٹم اور حکمران اشرافیہ عذاب ہے جنکی وجہ سے کبھی 200 لوگ تیل کا الٹا ہوا کنٹینر لوٹتے جل کر جہنم واصل ہوتے ہیں تو کبھی سیلاب میں بہہ جاتے ہیں۔ نہیں مرتے تو یہ حکمران اور انکا بنایا ہوا سسٹم۔۔۔۔

مکے گیاں گل مُکدی نا ہیں،،،،،
پانویں سو سو جُمعے پڑھا ئیے
گنگا گیاں گل مُکدی ناہیں
پانویں سو سو غوطے کھائیے
بُلھے شاہ گل تائیوں مُکدی
جے میں نُوں منوں گوائیے

Leave a Reply

%d bloggers like this: