تحریر:آصف سید
پاکستان میں تقریباً ہر دوسرے تعلیمی ادارے میں تقریری مقابلے ہوتے ہیں اور آخر پر بہترین اور پُرجوش تقریر کو انعام سے نوازہ جاتا ہے اور اگر تقریر انگریزی میں ہو تو مزید سراہا جاتا ہے اس لیے نوجوانوں میں یہ نفسیات پروان چڑھی کہ انگریزی میں یا پُر جوش تقریر اس بات کی دلیل ہے کہ مقرر کا موقف درست ہے گزشتہ روز سے وزیراعظم پاکستان سوشل میڈیا اور ٹی وی شوز پر بہت زیادہ داد وصول کر چکے ہیں حتی کہ سابق وزیر خارجہ قصوری صاحب نے یہاں تک کہہ دیا کہ میں حیران ہوں وزیراعظم صاحب نے بغیر پرچی کے انگریزی میں زبانی تقریر کردی اس بات سے یہاں کی مجموعی فکر کا اندازہ لگا سکتے ہیں.
مسئلہ کشمیر پاکستانی اور بھارتی حکمران طبقے کیلئے ایک انٹرٹینمنٹ کے سوا کچھ نہیں مسئلہ کشمیر پر آٹھ گھنٹے کی ایک لمبی تقریر بھارت کے کرشنا متن نے کی جسے اعزاز سے بھی نوازا گیا اس کے علاوہ اقوام متحدہ میں آج تک کی سب سے جاندار تقاریر فیڈرل کاسترو اور ہوگو شاویز نے کی دونوں نے دنیا بھر میں ہونے والی دہشتگردی، معاشی پابندیوں اور نوآبادیاتی مظالم کا ذمہ امریکن سامراج کو ٹھہرایا دونوں کو پزیرائی ملی اور ہاؤس نے کھڑے ہوکر تالیوں سے خیر مقدم کیا۔راہنماؤں کا وطن واپسی پر پابندیوں اور دھمکیوں کا نیا سلسلہ شروع ہو جاتا تھا لیکن اقوام متحدہ خاموش تماشائی بنی رہتی اور کھبی بھی امریکن سامراج کی پیش کردہ قراردادوں کے علاوہ کوئی بین الاقوامی معرکہ سر انجام دینے میں سنجیدہ نہیں رہی۔ آج بھی اقوام متحدہ سوائے سامراجی اداروں کے نمائندے کے کچھ نہیں، لبرل اور نیو لبرل قوتیں اس نظام زر کے ساتھ ساتھ اس نظام کے تمام اداروں کو مسلسل بیساکھیاں مہیا کررہی ہیں.
یوں تو پاکستان کے کئی نمائندوں نے اقوام متحدہ کی تقریری مقابلے میں حصہ لیا۔ ذوالفقار علی بھٹو پہلے نمائندے تھے جنہوں نے ہاؤس میں موجود تمام ممبران نے داد دی گویا وہ مقابلہ بھٹو صاحب بلا مقابلہ اپنے نام کیا لیکن ہاؤس نے تالیوں کے علاوہ کسی قسم کی ہمدردی سے معذرت کرلی ہاں البتہ اقوام متحدہ نے ہمیشہ پاکستان کو ایک ذمہ داری دی کہ افغانستان، فلسطین، برما، عراق اور مشرق وسطیٰ میں امن قائم رکھنے کیلئے سامراجی اداروں سے تعاون کریں اور اس کے عوض معاوضہ وصول کریں بھٹو صاحب کے بعد کوئی بھی حکمران پراعتماد تقریر کرنے میں ناکام رہا پھر حال ہی میں مغرب سے تعلیم یافتہ عمران خان کی تقریر کو برسوں بعد پزیرائی ملی شکایات اور فریاد کے بعد تالیوں کی آواز بھی ختم ہوئی پراعتماد وطن واپس پہنچے تو معلوم ہوا کہ ملکی معیشت، سیاست ،ڈینگی مرض اور دوسری وارداتوں پر کوئی اثر نہیں ہوا کرپٹ سیاستدانوں، سرمایہ کاروں اور تاجروں پر پابندیوں کے باوجود ملکی معیشت بہتری کے بجائے مزید تنزلی کا شکار ہے بلکہ ایک وزیر فرما رہے تھے کہ ہمارے لیڈر نے مغرب سے کرپٹ لوگوں کو پناہ دینے کے حوالے سے بہت شکایات کی ہیں اب وہ اس پر غور کریں گے اور ہماری لوٹی گئی دولت واپس ملے گی جو وزیراعظم کے عین منشور کے مطابق ہے.
سچ تو یہ ہے کہ نیولبرل سرمایہ دار طاقتوں نے کمزور ریاستوں کے حکمرانوں کو اپنا کمیشن بنا رکھا ہے اسلامی پاکستان، ترکی ملائشیا ہو یا مغرب کی کوئی لبرل ریاست سب اس سرمایہ دارانہ نظام کے بحرانات سے انتہائی خوفزدہ ہیں اور اپنی ریاستوں کے اندر بغاوتوں کو کنٹرول کرنے میں بُری طرح ناکام ہورہے ہیں یہاں تک کہ ریاستی ادارے براہ راست لاٹھی چارج اور گولیاں برسا رہے ہیں پاکستان اور ہندوستانی ریاستیں اس حد تک خون خوار ہوچکی ہیں کشمیر، وزیرستان اور بلوچستان میں لوگ جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں لیکن دونوں ریاستیں عوامی توجہ ہٹانے کیلئے اقوام متحدہ جیسے بانجھ ادارے کے سامنے فریادوں کی پروموشن کیلئے اربوں روپے کے کمرشل ایڈ لگوا رہی ہیں اور کئی دنوں تک انہی موضوعات سے عوام کو بیوقوف بنایا جاتا ہے یہ کھلواڑ کب تک چلے گا؟ دونوں اطراف حکمرانوں کے اس تماشے سے غریب عوام کو لمبے عرصے تک الجھائے نہیں رکھا جا سکتا۔۔












12 تبصرے “اقوام متحدہ میں تقریری مقابلے”