سامراجی اداروں سے آزادی مانگنا جموں کشمیر کے محکوم انسانوں کی جدوجہد سے غداری ہے،این ایس ایف

التمش تصدق
(ایڈیٹر عزم جے کے این ایس ایف)

آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک جیسے مالیاتی اداروں کے ذریعے سامراجیوں نے ساری دنیا کے محنت کشوں کی دولت پر قبضہ جما رکھا ہے.سیکورٹی کونسل کے ذریعے امریکی سامراج اور دیگر سامراجی ممالک تنازعات ختم نہیں کرتے ہیں بلکہ مسائل خود اپنے مفادات کے لیے پیدا کرتے ہیں، مسئلہ کشمیر سمیت دنیا میں دیگر بے شمار مسائل انہی سامراج کے دلال اداروں کے پیدا کردہ ہیں.سامراجی ممالک عسکری اور معاشی طاقت کے ذریعے ساری دنیا کے وسائل کو لوٹ رہے ہیں.
اقوام متحدہ جیسا ادارہ جس کا کردار امریکی سامراج کی لونڈی کا ہے اس سے اپنی آزادی کی توقع رکھنا بہت بڑی حماقت ہوگی. اگر سامراجی ممالک اور سامراجی اداروں کے ذریعے آزادی مل بهی گئی تو وہ آزادی عراق، شام اور افغانستان سے مختلف نہیں ہو گی. ماضی میں بھی انہی سامراجی طاقتوں نے 1947 میں آزادی کے نام پر قتل عام کرایا ، ہزاروں سالہ پرانی تہذیبیوں کو چیراگیا، اٹھائیس لاکھ انسانوں کو مذہب کے نام پر مارا گیا .ہزاروں عورتوں کا ریپ کیا گیا.برطانوی سامراج کے پالے ہوئے درندوں نے مذہب کے نام پر جس بے دردی سے یہاں کی معصوم عوام کا قتل عام کیا اور جو دہشت اور خوف پھیلایا تھا اسی خوف کے سائے تلے برصغیر کے کروڑوں لوگوں کو آج بھی امریکی سامراج کے دلال حکمران طبقے نے غلام بنا کر رکھا ہوا ہے.
سامراجی طاقتوں نے جب برصغیر کا پٹوار کیا تو جموں کشمیر کے سینے میں ہی نہیں خونی لیکر کھینچی گئی ہے بلکہ پنجاب، بنگال سمیت بلوچستان اور پختونوں کو بھی کاٹا گیا ہے.مسئلہ کشمیر کو برطانوی سامراج نے ایسے مسئلہ کے طور پر چھوڑا کے نفرت اور مذہبی جنونیت کی آگ کو مسلسل ہوا دی جائے تاکہ تقسیم کے زخم ہرے رہیں اور تقسیم جواز قائم رہے.مسئلہ کشمیر ذریعے جنگی جنون ابھار کے دونوں ممالک کے محنت کشوں کی توجہ بنیادی مسائل سے ہٹائی جاتی ہے، عالمی اسلحہ ساز اجارہ داریوں کا سلحہ بکتا ہے مقامی اشرفیہ کو کمشن ملتا ہے.اس جنگی جنون کو ابھارنے کے لیے جو جنگی ناٹک کیا جاتا ہے وہ پھر جموں کشمیر کے کنٹرول لائن کے علاقوں میں کیا جاتا ہے.
اس خونی کھیل میں جموں کشمیر میں ایل او سی کے دونوں اطراف بسنے والے باسیوں کی زندگیوں کو اجیرن کردیا ہے.گزشتہ کہیں دنوں سے بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں کرفیو اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر ان سامراجی اداروں نے نصیحتوں کے سوا کچھ نہیں کیا کیونکہ بھارت ایک بڑی منڈی ہے جس سے سب ممالک کے سرمایہ داروں کے مفادات وابستہ ہیں.
جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن سمجھتی ہے اگر ہم نے آزادی حاصل کرنی ہے تو مسئلہ کشمیر سے جڑے محکوموں کو اپنی لڑائی خود لڑنا ہو گئی اور دنیا بھر کے حکمران طبقے کو اپنا کھلا دشمن تصور کرنا ہوگا اور محنت کشوں اور محکموں کو اپنا اتحادی سمجھنا ہو گا.ایک آقا کی غلامی سے نجات لینے کے لیے دوسرے آقا کی مدد لینا غلامی سے نجات کے بجائے نئی غلامی کی جدوجہد ہے. مسئلہ کشمیر اگر جموں کشمیر کے عوام کا قومی مسئلہ ہے تو یہ ہندوستان اور پاکستان کے محنت کشوں کا معاشی مسئلہ ہے اس کا حل بھی مشترکہ جدوجہد کے ذریعے ممکن ہے.