کھائی گلہ: مبینہ روحانی شخصیت پر مسجد بند کروانے سمیت دیگرالزامات، اہل علاقہ کا احتجاج

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی تحصیل راولاکوٹ کے نواحی علاقہ دوتھان میں ایک مبینہ روحانی شخصیت پر بذریعہ پولیس مخالف فرقے کی مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی رکوانے اور علاقے کےلئے آنے والے حکومتی فنڈز آستانے کےلئے استعمال کروانے سمیت دیگر الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ یہ الزامات پیر محمد حسین قادری کے چچا زاد بھائی سمیت قریبی عزیزوں نے کھائی گلہ پریس کلب میں پر ہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے عائد کئے اور ذمہ داران سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔

پریس کانفرنس میں صوبیدار عبدالحسین، صوفی محمد نذیر، حبیب افسر، حاجی رفیق، حاجی یوسف، چوہدری افسر، سردار شفیق، اصغر خان، انور خان، عمران خان، غفور احمد، محمد حبیب خان اور دیگر شریک تھے۔

شرکاءپریس کانفرنس کا کہنا تھا کہ پیر محمد حسین قادری نے ایک روحانی شخصیت کا روپ دھار کر عوام علاقہ کا استحصال کیا، اہل محلہ سے ووٹ دلوائے لیکن ایم ایل اے فنڈز سے ذاتی سڑک بنوائی ، اہل محلہ کے نام پر ایک واٹر ٹینک لیا جو ذاتی استعمال کررہے ہیں، محکمہ برقیات کی ملی بھگت سے دو عدد پول لے کر آستانے کا گیٹ بنوایا اور گاﺅں کیلئے آنے والے ٹرانسفارمر پر قبضہ کر رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عرس ،قوالیوں، ڈھول باجوں اور دوران خطبہ فوٹوگرافی وغیرہ پراعتراضات کی وجہ سے اہل محلہ نے اپنی تین سو سالہ قدیم مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ نماز جمعہ کی ادائیگی روکنے کی غرض سے مذکورہ پیر نے بھائی کے ذریعے پولیس بلوا کر ہمارے مذہبی معاملات میں مداخلت کی جو قابل مذمت ہے۔

شرکاءپریس کانفرنس نے الزام عائد کیا کہ پیرمحمد حسین قادری نے ہر موقع پر عوام علاقہ کا استحصال کیا اور اپنے مذموم مقاصد کے لئے سادہ لوح عوام کو استعمال کیا۔ اہل محلہ سے ووٹ دلوائے گئے لیکن پانی ، بجلی، سڑک جیسے منصوبے اپنی ذات کےلئے حاصل کئے گئے۔ دین کی آڑ میں عوام علاقے کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔

انکا کہنا تھا کہ اختلاف اور متوقع تصادم سے بچنے کے لئے عوام علاقہ نے تقریباً تین سو سالہ قدیم مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ نماز جمعہ کی ادائیگی کے دوران مذکورہ پیر نے اپنے بھائی صوبیدار محمد عزیز کے ذریعے پولیس منگوا کر دوران نماز بدنظمی پیدا کی اور اپنی مذہبی اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش کی ،جس پر عوام علاقہ نے اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس مذموم سازش کو ناکام بنا دیا۔

انہوں نے کہاکہ لوگوں کی اصلاح کے دعویدار خود ایسے اعمال کے مرتکب ہوں گے تو کیا معاشرہ بگاڑ کی طرف نہیں جائے گا۔ کیا اپنی مرضی سے نماز پڑھنا ، مسجد یں آباد کرنا اور مذہبی شعائر کو بجا لانا صرف دولت مند وں، سرمایہ دار وں، وڈیروں اور جاگیرداروں کا ہی حق ہے یا غریب عوام بھی ایسا کرنے کے حقدار ہیں۔

انہوں نے حکام سے اپیل کی کہ معاشرے میں پلنے والی ایسی سوچ کو ختم کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں ۔ ہم محمد حسین قادری اور انکے ساتھیوںکے فعل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور حکام بالا سے اپیل کرتے ہیں کہ اس استحصالی طبقے سے ہمیں نجات دلائی جائے ورنہ ہم احتجاج کے لئے سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوں گے۔ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس معاملے کا نوٹس لیں ورنہ حالات کی خرابی کی تمام تر ذمہ داری ان پر عائد ہوگی۔

واضح رہے کہ پیر محمد حسین قادری دوتھان کے مقام پر ایک آستانہ میں بیٹھتے ہیں، اس کے علاوہ پاکستان کے شہر لاہور سمیت مختلف جگہوں پر بھی بیٹھتے ہیں، انکے ہزاروں مریدین ہیں۔ تاہم انکے اپنے عزیز و اقارب اور اہل محلہ ان کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔پریس کانفرنس سے متعلق ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو انکے ایک مرید خاص و ترجمان سے بات ہوئی جنہوںنے اس عمل کو مخالف مذہبی فرقے کی سازش قرار دیا۔ تاہم تفصیلی موقف دینے کےلئے انہوں نے وقت مانگا ہے۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: