پاکستان میں‌مسخروں‌کی حکومت، سیاسی نقشہ مضحکہ خیز عمل ہے، توقیر گیلانی

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ پاکستانی زیر انتظام کشمیرو گلگت بلتستان زون کے صدر ڈاکٹر توقیر گیلانی نے کہا ہے کہ بھارتی زیر قبضہ جموں کشمیر میں بھارتی ظلم و بربریت کا خاتمہ اور ریاست بھر سے تمام غیر غیر ملکی افواج کا مکمل انخلاء کیے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن وترقی اور مسئلہ جمو کشمیر کا پرامن اور حتمی حل ممکن نہیں۔ پانچ اگست دو ہزار انیس کو بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں آرٹیکل 370کے خاتمے کے بعد بھارتی ظلم و بربریت کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ عالمی براردری ریاست جموں کشمیر میں مودی حکومت اور اسکی افواج کی بربریت بند کروائے اور یسین ملک، ظہور بٹ، شبیر شاہ سمیت تمام سیاسی و آزادی پسند راہنماؤں و کارکنان کو رہا کروائے۔

وہ کوٹلی میں لبریشن فرنٹ و سٹوڈنٹس لبریشن فرنٹ کی طرف سے منعقدہ احتجاجی ریلی کے بعد کیے جانے والے جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے۔

ڈاکٹر توقیر گیلانی نے کہا کہ ریاست کے عوام پاک و بھارت حکومتوں کی طرف سے تقسیم جموں کشمیر کی سازشوں اور ریاست کو بھارت اور پاکستان کے نقشوں میں ضم کر کے دکھانے کے عمل کو مسترد کرتے ہیں۔ ہماری مطالبہ ریاست سے بیرونی قبضے کا خاتمہ اور ریاست کی مکمل آزادی و خودمختاری کی بحالی ہے اور یہ ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی مسئلہ ہے جس کے تحت اقوام متحدہ اس امر کی پابند ہے کہ وہ ریاست جموں کشمیر سے بھارت، پاکستان اور چائینہ کی افواج کا انخلاء کروائے۔

انہوں نے کہا کہ آج ریاست جموں کشمیر کے بھارتی مقبوضہ حصے میں کرفیو کا نفاذ ہے اور وہاں کے عوام، ذرائع ابلاغ اور سیاسی و سماجی کارکنان کو قید میں ڈال کر بھارتی حکومت عوام کی آواز کو مکمل طور پر دبا رہی ہے جبکہ ریاست کے اس حصے کے عوام اور دنیا بھر میں مقیم ریاستی باشندوں نے لاکھوں کی تعداد میں باہر نکل کر بھارتی وحشت و بربریت کا چیلنج کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کو واضح پیغام دیا ہے کہ ریاست کے عوام آزادانہ طور پر اپنے مسئلے کا حل چاہتے ہیں اس لیے عالمی ادارے کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ مسئلہ جموں کشمیر کو حک کروانے کیلئے اپنا طے شدہ کردار ادا کرے اور ریاست سے تمام افواج کا انخلاء کرتے ہوئے ریاست کو دوبارہ متحد کر کے یہاں اقوام متحدہ کی امن فوج کو تعینات کرے او ر قابض افواج کے مکمل انخلا کے دس سے پندرہ سال بعد ایک آزادانہ رائے شماری یا ریفرنڈم کے ذریعے مسئلہ کو حتمی طور پر حل کرے۔

ڈاکٹر توقیر گیلانی نے عمران خان کی حکومت کو مسخروں کی حکومت قرار دیتے ہوئے عمران خان کی کابینہ کی طرف سے ریاست جموں کشمیر کو پاکستان کے نقشے میں شامل کر کے دکھانے کے عمل کو مضحکہ خیز منافقت قرار دیا اور کہا کہ پاکستانی حکمران منافقت اور بے ایمانی کی آخری حدوں کو چھو رہے ہیں۔یہ کوئی حکومت نہیں بلکہ سیاسی جوکروں کی ”لکی عمرانی سرکس“ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف عمران خان ریاست جموں کشمیر کو متنازعہ قرار دیتا ہے اور جموں کشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت کی بات کرتا ہے اور دوسرے ہی لمحے ریاست کو پاکستان کے نقشے میں شامل کر کے دکھانے کو بہت بڑی کامیابی قرار دیتا ہے جو کہ خود فریبی، احساسِ کمتری اور خود غرضی کی بھونڈی مثال ہے۔انہوں نے کہا کہ الحاق پاکستان اور الحاق بھارت ریاست کے عوام کا موقف نہیں بلکہ پاکستان اور بھارت کا موقف ہے۔ ریاست کے عوام کا موقف ریاست کی مکمل آزادی ہے اور اس موقف کی ترجمانی لبریشن فرنٹ کر رہا ہے۔

انہوں نے سیز فائر لائن پر دونوں افواج کی گولہ باری کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ سیز فائر لائن پر ریاست کے عوام کے جان و مال کا زیاں بند کروائے۔

احتجاجی جلسہ سے قبل لبریشن فرنٹ اور سٹوڈنٹس لبریشن فرنٹ کے سینکڑوں کارکنان نے کوٹلی شہر میں پانچ اگست 2019کے بھارتی اقدام کا ایک سال مکمل ہونے پر بھارتی وحشت و بربریت کے خلاف زبردست احتجاج کیا اور مودی حکومت کے خلاف، ریاست کی مکمل آزادی کے حق میں اور یسین ملک سمیت جملہ سیاسی و آزادی پسند زعما کی رہائی کے حق میں نعرے بلند کیے۔ احتجاجی جلسہ سے لبریشن فرنٹ کے ضلعی صدر راجہ اشفاق کشمیری، ڈاکٹر لیاقت نقشبندی، عدنان ملک، عاصم راجہ، ظہور کشمیری اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔