تحریر: عدیس الطاف
اب کوئی جبر کوئی زور نہیں کشمیر پر ظلم و ستم اور نہیں
دب جائے آواز وہ دور نہیں اب شعور ہے خالی شور نہیں
1947 سے لیکر آج تک کشمیری اپنی جان کی قربانی دیتے آئے ہیں مگر ہمیشہ واضح پالیسی و قیادت کا فقدان انہیں ڈبوتا رہا۔ ابتدا میں وقت و حالات کی وجہ سے محبت پاکستان کا جذبہ اٹھا جو کہ اس وقت ہونا بھی فطری تھا اس پار ہو یا وادی ہو اسلام کے نام پر بننے والی ریاست پر جان نچھاور کرنے والے کرنے کو تیار بیٹھے تھے مگر انہیں آزاکشمیر کے نام پر بننے والے اس تھوڑے سے خطے پر قابض اشرافیہ نے دھوکا دیا۔اپنے مفاد و اپنی کرسی کو بچانے کے لیے ہر وقت انہوں نے قابض قوتوں کی دلالی کی اور کشمیریوں کے وسائل کو لوٹا۔لوگوں کو یہ تاثر دیا کہ اگر یہ ہمارے سر پر نا ہوے تو گویا ہم نے مر جانا ہے۔ہمیں کھانے کو نہیں ملے گا ہم جی نہیں سکیں گے۔ ہماری تاریخ سے گھناونا کھلواڑ کر کے ہمیں بس مطالعہ پاکستان تک محدود کر کے کہا گیا “کچھ بھی تم نا کہو کچھ بھی میں نا کہوں” ۔
ہمیں تقسیم در تقسیم کیا گیا۔پھر وقت نے کروٹ بدلی اور اک نئی سوچ نے جنم لی اک نیا راستہ ملا ۔آزاد کشمیر میں قائد انقلاب مقبول بٹ کی صورت میں اک رہنما ابھرا جس نے کشمیر کے لوگوں کو بتانا چاہا کہ یہ تو آپکے ساتھ کھلواڑ ہے قابض قوتیں آپ کے حقوق کی پامالی کر کے اپنا الو سیدھا کر رہی ہیں۔کچھ لوگ اٹھے انہوں نے عسکری و سیاسی جدوجہد کی مگر پھر بھی محبت بھائی و روداری میں مارے گے ۔جب اک مسلحہ جدوجہد جاری تھی جو کہ کشمیریوں کی تھی ہمارے محترمین نے اس میں سپانسرڈ جہادی داخل کیے ۔لبریشن فرنٹ کے عسکریت پسندوں سے ان کو اور ان سے لبریشن فرنٹ کے عسکریت پسندوں کو مروایا۔دنیا کو یہ باور کروایا کہ کشمیر کی قومی جنگ تو کوئی ہے ہی نہیں کشمیر کا موقف کوئی معنی ہی نہیں رکھتا 1990 کی دہائی میں آزادی پسندوں کو تقسیم کر دیا گیا جس کے بعد آزادی پسند خود تقسیم در تقسیم کا شکار ہوتے رہے۔کبھی عہدوں اور کبھی برادریوں کے لیے گروہ در گروہ تقسیم ہوتے گے اور مسلہ کشمیر کہیں گہری کھائئ کی نظر ہو گیا۔
72 سالوں کے بعد مودی کی حکومت نے جب الحاق مہاراجہ کو ختم کر کے اور لداخ و جموں سمیت پورے مقبوضہ کشمیر میں اسٹیٹ سبجیکٹ کو ختم کرکے اسے انڈیا کا حصہ ڈکلیر کرنے کی کوشش کی تو مسلہ کشمیر اک نئی راہ اور نئی امید کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا۔اسی فکر کو محسوس کرتے ہوے یہاں آزاکشمیر کی آزادی پسند اور ترقی پسند تنظیموں نے اک نعرے تلے کام کرنے کا فیصلہ کیا۔اس نعرے میں عوام کو ساتھ ملانے کی کوشش کی اور یہ کوشش کل تمام آزاد کشمیر میں اتنی بھرپور نظر آئی کے قابضوں کی پیشانی ٹھٹک کر رہ گئی۔
۔ہزاروں لوگ “اک نعرہ اک پکار کشمیر بنیگا خودمختار” کے جھنڈے تلے کل کھڑے اور بھرپور انداز میں کھڑے نظر آئے۔
میرے خیال میں آزاد کشمیر میں 72 سالوں میں ایسی یکجہتی کی مثال کسی نے نا دیکھی ہو گی۔بچے بوڑھے جوان مرد عورتیں ہر اک میداں میں تھا۔
جموں کشمیر نیشنل پپلز الائنس کا قیام اور انکا ایجنڈا تاحال عوام میں مقبول و منظور نقطہ نظر ہے۔JKPNA اس وقت کشمیریوں کی امید کا محور ہے۔ہم جیسے دیار غیر میں بیٹھے لوگ اور وہاں پر موجود کئی دھائیوں سے روندے جانے والے لوگ اب اس نظام سے آزادی چاہتے ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ حقیقی قیادت ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالے۔وہ چاہتے ہیں کہ اپنے ملک پر اپنا راج ہو۔
جموں کشمیر نیشنل پپلز الائنس کی اتحاد جماعتوں کو مستقبل میں بھی ایسے ہی پرواگرام ترتیب دینے ہوں گے۔جہاں پر عوام کے جوش و ولولے کو دیکھا جائے اور مستقل طور پر اپنے اتحاد کو برقرار رکھتے ہوے اس تحریک کو کشمیر کی قومی تحریک بنانا ہو گا۔اپنے مفادات کو جوتے کی نوک پر رکھ کر چلنا پڑے گا۔عہدوں اور مفادات کی لالچ کو دریا میں بہا کر آگے چلنا ہوگا۔۔
جموں کشمیر نیشنل پپلز الائنس کے قائدین اگر اب کی بار پیچھے ہٹے تو انکی سیاست بالکل ہی ختم ہو جائے گئ پھر آپ میں اور روایتی سیاست دانوں میں عوام کا فرق ختم ہو جائے گا غلامی اور تقسیم اس خطے کا مقدر بن کر رہ جائے گی ۔اب کی بار انکو ثابت قدم رہنا پڑے گا اب بھی نا جڑے تو پھر مٹنے کے آثار نمایاں ہو جائیں گے۔۔۔۔!!!












12 تبصرے “آر پار کی پکار۔۔۔۔”