گاڑی نمبر UN68-816کی آپ بیتی

عبدالحکیم کشمیری

میں گاڑی نمبر UN68-816ٹیوٹا لینڈ کروزر فائیو ڈور ہوں، وہ ایک خوبصورت دن تھا جب نیلے کاش کے اس پرے سے آفتاب اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ جلوہ افروز ہوا ، تب ہزاروں دیگر گاڑیوں کے ساتھ میرا وجود مکمل کیا جاتا ہے ۔ گاڑیوں کی پیداوار کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی اور معتبر کمپنی ٹیوٹا کارپوریشن میں میرا وجود میرے لیے ہمیشہ قابل فخر رہا ۔

3لاکھ 64ہزار سے زائد ملازمین کی خدمات کے ساتھ میری کمپنی پوری دنیا میں ہر سال 10ملین ( ایک کروڑ) گاڑیاں تیار کرتی ہے ، 1937میں قائم ہونے والی میری مادر کمپنی نے 2017میں 10کروڑ 35لاکھ گاڑیاں سفری سہولیات میں راحت اور خدمات کے لیے عالمی مارکیٹ میں بھیجیں ۔جو ایک ریکارڈ ہے ، میری کمپنی کے دنیا بھر میں 1200ڈیلر ہیں ، 272ارب ڈالر کے اثاثوں کے ساتھ ہمارا سال 2019میں خالص منافع پاکستانی کرنسی میں 8ارب سے زائد تھا ۔
میری اونچائی 74.2اور چوڑائی 74.4انچ ہے ، میرا وزن 2455کلو گرام ہے ،سر سبز وادیوں ،بہتے پانیوں برف پوش پہاڑوں کی دھرتی آزادکشمیر میں میری آمد ایک قلیل المدت پراجیکٹ کے ذریعے ہوئی ۔۔۔۔

میں بہت خوش تھی کہ شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین میں خدمات سرانجام دوں گی۔ پہلے دن ایک خوش شکل شخصیت نے میرے ارد گرد چکر لگایا، مجھے ہاتھ سے ٹھوک بجا کر دیکھا، پھر سٹارٹ کیا، ایک چکر لگا کر مجھے پاس کر دیا۔ یہ صاحب پراجیکٹ ڈائریکٹر تھے. پہلی نظر میں مجھے پسند آنے والے پی ڈی صاحب نے میرے اندر بیٹھ کر جب منصوبے ترتیب دیئے تو میں پریشان ہو گئی۔ بین الاقوامی امداد سے ترتیب دیئے گئے پراجیکٹس کے آفیسران کس قدر ڈھٹائی سے اپنے پاؤ بھر گوشت کے لئے قوم کی بھینس ذبح کرتے ہیں۔۔۔

میرے نام پر ڈیزل کی جعلی پرچیوں کی تفصیل بھی میرے حافظے کا حصہ ہے ، ایندھن کے چوروں کے وہ قہقہے مجھے آج بھی یاد ہیں ۔۔کچھ عرصہ بعد مجھے سنٹرل ٹرانسپورٹ پول سے ایک وزیر کے پاس بھیجا گیا ، وزیر اور اس کے خاندان نے بھی بے رحمی سے دن رات مجھے استعمال کیا ۔۔۔ پھر مجھے لوکل گورنمنٹ کے حوالے کیا گیا، وہاں کی دنیا ہی نرالی تھی۔ جہاں میرے نام کے بلات پر گھروں کے پلستر ہوئے،لیپ ٹاپ اور موبائل خریدے گئے، شراب اور شباب کی محفلیں سجائی گیئں، بلکہ ایک مرتبہ کسی مسجد کا چندہ بھی دیا گیا۔۔۔۔ اس پورے عرصہ میں میرے نام پر 39لاکھ 29 ہزار روپے حاصل کیے گئے، جن میں سے مجھ پر چند لاکھ لگائے گئے ، باقی یار لوگ کھا گئے ، میرے نام پر جو اخراجات کیے گئے ان میں سے کچھ کی تفصیل بذیل ہے ۔

فرنٹ اینڈ رئیر یمپر قابلی 44500روپے، انجن مکمل تبدیلی قابلی 535000، فرنٹ سسپنشن مکمل 335000، رئیر سسپنشن مکمل 205000، ڈیش بورڈ مکمل قابلی 150000، مکمل باڈی پینٹنگ جینوئن کلر بمعہ سامان 96500، باڈی ڈینٹنگ و دیگر ڈنٹری مزدوری 5000، سائیڈ مررز الیکٹرک قابلی 32500، انجن آئل اینڈ فلٹر 15000، بریک یونٹ مکس سپیڈ (ABSسسٹم) 210000، فرنٹ گرل 30000، فیول ٹینک قابلی گیج 60000، رم 4عدد جینوئن 155000، ونڈ سکرین 1عدد جینوئن 52000، رئیر سکرین 1عدد 42000، مڈ فلپر سیٹ قابلی ، 28500، پائیدان قابلی 30500، ہیڈ لائٹ سیٹ بمعہ پارکنگ مکمل 78500، ایکسٹینشن سوئچ معہ چابی سنٹروک 5000، ریڈی ایٹر تبدیلی قابلی 32500، اسٹیرنگ بکس مکمل قابلی 80000، بانٹ تبدیل قابلی 57000، ڈگی مکمل تبدیلی 75000،دروازے 4عدد الیکٹرک قابلی 110000، وائپر سیٹ بمعہ موٹر 25500، باڈی بش سیٹ 70000، بریک لائٹ 28000، وائرنگ مکمل بمعہ کمپیوٹرائزڈ نیوز بکس 200000، سیٹ مکمل تبدیلی الیکٹر قابلی 120000، اسٹرگ ویل بمعہ شافٹ قابلی 63000، سائلنسر مکمل یونٹ قابلی 78500، بیٹری 2عدد 240000، اے سی مکمل یونٹ بمعہ فٹنگ قابلی 160000، گیئر مکمل (قابلی) 200000، شافٹ کراس مکمل قابلی 47000، الیکٹر ایکسل سینڈل 21500،ٹائر جاپانی 180000، مزدوری الیکٹرکل ورک 40000، ٹیکنیکل ورک /لیبر 60000روپے اس طرح مجھ پر ٹوٹل 39لاکھ 29ہزار روپے کے اخراجات آئے ۔

میرا انگ انگ بدل دیا گیا ، کبھی قابلی کے نام پر کبھی جینوئن کے نام پر۔۔ سچ پوچھیں آج میری یہ حالت ہے کہ میںمکمل دیسی ہو چکی ہوں بس فائلوں میں میرے پرزے قابلی ہیں۔ کبھی کبھی میں اپنی کمپنی ٹیوٹا کارپوریشن کی دوسری گاڑیوں کو دیکھتی ہوں توشرم کے مارے تیزی سے ان کے پاس سے گزر جاتی ہوں ۔میں انہیں کیا بتائوں کہ میں بدیسی سے دیسی ہو چکی ہوں ، میری قیمت سے زیادہ مجھ پر اخراجات کے لیے رقم تو وصول ہوئی ہے مگر میں عملاً کٹھارہ ہوں۔۔۔

اب ایک مرتبہ پھر مجھ پر 7لاکھ روپے اخراجات کی منظوری ہو چکی ہے ،ایک مرتبہ پھر میرے نام پر یار لوگ پیسے اڑائیں گے ۔ خیر میری جو حالت ہوئی سو ہوئی میرے ساتھ یا میرے بعد آنے والی دیگر گاڑیوں کے ساتھ بھی یہی ہوا ،ہم شرم کے مارے ایک دوسرے سے اصل معاملہ چھپا کر بھرم رکھے ہوے ہیں ۔ ہر سال ہمارے نام پر کروڑوں روپے کھائے جاتے ہیں ۔ آج میں اپنی طبعی عمر پوری کر چکی ہوں ۔ میرے نام پر پھر 7لاکھ روپے لگائے جا رہے ہیں.مگر سوال یہ ہے کہ کب تک ہمارے نام پر یہ لوگ اپنا پیٹ بھرتے رہیں گے۔