آزادکشمیر میں 100سے زائد تاریخی مقامات، حکومتی توجہ سیاحت کو نئی مہمیز دے سکتی ہے

دانش ارشاد

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں غیر ملکی سیاحوں کوجانے کے لئے وزارت داخلہ حکومت پاکستان سے پیشگی اجازت نامہ حاصل کرنے کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔جس کے بعد بین الاقوامی سیاحوں نے آزاد کشمیر کا رخ کیا اور مظفرآباد اور راولاکوٹ میں سیاحوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔وزارت داخلہ سے جاری نوٹیفکیشن نمبر 18/97/1973ـPEـII,21ـ3ـ2019 کے مطابق گلگت بلتستان میں پاک چین سرحد سے 10میل کے فاصلے تک ، آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول سے 5میل کے فاصلے تک اور سیاچن میں پاک بھارت ایکچوئل لائن آف کنٹرول سے 10میل کے فاصلے تک تمام غیر ملکیوں کو بغیر پیشگی اجازت نامہ جانے کی اجازت دی گئی ہے۔
اس سے قبل آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سیاحت کے فروغ کیلئے نجی شعبے کو آزادکشمیر کے سیاحتی منصوبوں میں سرمایہ کاری اورمحکمہ سیاحت کی جانب سے نجی سرمایہ کاروں کو زمین یا بلڈنگ لیز پر منتقل کرنے کے بارے میں آرڈیننس منظور کیا گیا تھا اور وزیر سیاحت کی سربراہی میں ایک انتظامی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جسے سٹیٹ ٹورازم ایگزیکٹو کمیٹی کہا جائے گاجو آرڈیننس رولزاور سیاحتی پالیسی پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گی۔ اب بین الاقوامی سیاحوں کو ریاست پاکستان کی جانب سے اجازت نامہ جاری کرنے کے بعد جہاں مقامی حکومت کی ذمہ داریاں بڑھیں گی وہیں آزاد حکومت کو اس صنعت سے اچھا زر مبادلہ بھی حاصل ہو گا۔
آزاد کشمیر میں آمدنی کے سب سے زیادہ مواقع ہائیڈل پاور کے بعد سیاحت میں ہیں۔ ہائیڈل پاور کے حوالے سے آزاد حکومت اور ریاست کے پاس اختیارات نہیں ہیں جس وجہ سے آزاد حکومت اور آزاد کشمیر کے عوام اس صنعت سے مستفید نہیں ہو سکتے تاہم سیاحت آزاد کشمیر کیلئے ایسی صنعت ہے جس سے عام آدمی سے لیکر آزاد حکومت تک مستفید ہو سکتے ہیں۔ پانچ ہزار مربع میل کے اس علاقے میں سینکڑوں خوبصورت سیاحتی مقامات کے ساتھ ساتھ سینکڑوں تاریخی مقامات اور آثار قدیمہ بھی موجود ہیں جو آزاد کشمیر میں سیاحت کے فروغ کا سبب بن سکتے ہیں۔
سیاحت بنیادی طور پر تفریح، فرحت بخشی،صحت افزائی، اطمینان بخشی یا قدرتی نظاروں کو دیکھنے کے مقاصد کے لئے سفر کو کہتے ہیں۔اس سے مختلف ثقافتوں اور خطوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔سیاحت کی مختلف اقسام ہیں جیسے قدرتی نظاروں کو دیکھنے والی سیاحت، مذہبی سیاحت جس میں لوگ مختلف مذہبی جگہوں کو دیکھنے جاتے ہیں،تاریخی سیاحت جس میں لوگ آثار قدیمہ وغیرہ دیکھتے ہیں اور ایڈونچر ٹورازم(مہم جوئیانہ سیاحت) جس میں مختلف دشوار گزار راستوں اور دریائوں وغیرہ کا سفر کیا جاتا ہے۔
آزادریاست جموں وکشمیرمیں قدرت کے بے شمار نظارے موجود ہیں،اس کے ساتھ ساتھ مختلف قلعے،تاریخی مقامات،آثار قدیمہ عمارتیں، وادیاں، دریا، جنگلات، جھیلیں اور بہت کچھ موجود ہے۔اس طرح آزاد کشمیر میں تینوں اقسام کی سیاحت فروغ پا سکتی ہے۔ زیر نظر مضمون میں آزادکشمیرمیں موجود تاریخی اور مذہبی سیاحتی مقامات پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی جائیگی۔
آزاد کشمیر آثار قدیمہ اور ثقافتی ورثہ میں ممتاز مقام رکھتاہے۔ جہاں نامور حکمرانوں کے بنائے قلعہ جات طرز تعمیر کی عکاسی کرتے ہیں تو وہیں مساجد ، مندر، گردوارے اور درگاہیں مذاہب کے ساتھ لوگوں کی دلچسپی کا آئینہ دار ہیں۔2008 میں آزاد حکومت نے 26 تاریخی مقامات کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کو سیاحتی مقام کا درجہ دینے کا نوٹیفیکیشن کیا تھا لیکن تاحال اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ ایک تحقیق کے مطابق آزاد کشمیر 100سے زائد قدیم تاریخی مقامات ہیں۔ جن میں قلعے ، مذہبی عبادت گاہیں، باولیاںاور کئی تاریخی عمارات کی بڑی تعداد موجود ہے جو ریاست جموں کشمیر کی تاریخ کا عکاس ہے تاہم آزاد حکومت کی عدم توجہی اور عدم دلچسپی کے باعث آثار قدیمہ کی حفاظت نہ کی جا سکی۔ ان مقامات کو آزاد حکومت سیاحت کے مقاصد کیلئے استعمال کرے اور ان کی حفاظت کرے تو آزاد کشمیر کی سیاحت میں انقلاب برپا ہو سکتا ہے اور اس سے بین الاقوامی سیاحوں کی آزاد کشمیر میں دلچسپی بھی بڑھے گی۔ لیکن آزاد کشمیر میں تاریخی ورثہ ہمیشہ سے خطرات سے دوچار رہا تاہم اب آزاد حکومت کی جانب سے آثار قدیمہ کے حوالے سے دلچسپی دکھائی جا رہی ہے اور آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی میں آرکیالوجی کا شعبہ قائم کیا گیا ہے جس سے آثار قدیمہ کے حوالے سے تحقیق ہو سکے گی۔
آزاد کشمیر میں آثار قدیمہ کے حوالے سے سب سے زیادہ شہرت پانے والا مقام شاردہ ہے جو نیلم میں موجود ہے۔ یہ قبل مسیح سے تہذیبوں کا مرکز رہا ہے۔ یہ مقام آج بھی ہندو مت، بدھ مت اور شیو مت کے نزدیک مقدس جانا جاتا ہے اور جب پاکستان کی جانب سے سکھوں کیلئے کرتار پور بارڈر کھولا گیا تو ہندوں کی جانب سے شاردہ کا رستہ کھولنے کا مطالبہ کیا گیا جو اس مقام کی اہمیت کا ایک ثبوت ہے۔محققین کے مطابق3058 قبلِ مسیح میں وسط ایشیا میں آنے والے برہمن، جو علم آشنا اور مہذب لوگ تھے، اس جگہ آ کر آباد ہوئے۔ شاردہ انہی قبائل کی تخلیق بتائی جاتی ہیں جن کے نام پر شاردہ گاں آج بھی تابناک تاریخ اور اجڑے مقامات لیے موجود ہے۔یہاں کی قدیم تعمیرات لوگوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتی ہیں۔یہاں بڑے بڑے پتھروں کی 18سے28فٹ اونچی دیواروں کا بغیر چھت کا چبوترہ موجود ہے۔جو تہذیبوں کے مرکز کے طور پر مشہور ہے۔ہر سال ہزاروں سیاح شاردہ کے آثارِ قدیمہ دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔(اس مقام پر ہونے والی تحقیق پر تفصیلی مضمون آئندہ لکھا جائے گا)۔ اس کے علاوہ نیلم میں کشن گیتی غار بھی مشہور تاریخی مقام ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر میں بڑی تعداد میں قلعے موجود ہیں جو یہاں کے حکمرانوں کی طرز حکمرانی اور فن تعمیر کے عکاس ہیں:
آزاد کشمیر میں موجود قلعوں میں
٭ قلعہ اور جھیل باغ سر( بھمبر کا ایک خوبصورت اور تاریخی مقام باغسرمیں واقع ہے۔ اس کی تعمیر مغلیہ دور میں ہوئی۔ یہ قلعہ ایک تاریخی روایت کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ کہتے ہیں کہ شہنشاہ جہانگیر جب دورہ کشمیر پر آیا تو واپسی میں وہ قلعہ باغ سر میں بیمار ہوا اور یہیں پر اس نے وفات پائی۔ اس کے جسد کو باغ سرسے لے جاکر لاہور میں دفن کیا گیاتھا۔ مغلوں کے بعد دیگر بادشاہ بھی قلعہ باغ سر میں رہے۔ قلعے کے دامن میں واقع باغ سر جھیل اس جگہ کے حسن کو دوبالا کرتی ہے اور دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔)

قلعہ رام کوٹ میرپور

٭ قلعہ رام کوٹ ضلع میر پور (قلعہ رام کوٹ آزاد کشمیر کا منگلا جھیل میں گھرا ہوا ایک گمنام قلعہ جو ڈھنگروٹ کے قریب ہے۔ قلعہ رام کوٹ جہلم اور پونچھ دریائوں کے سنگم پر ایک اونچی پہاڑی پر قائم ہے،جو تین اطراف سے دریائوں میں گھرا ہے منفرد طرزِ تعمیر کی بنا پر رام کوٹ قلعہ کشمیر میں تعمیر کیے گئے باقی قلعوں سے کافی مختلف ہے۔ یہ قلعہ 900 سال قبل 1150 عیسوی میں گکھڑ دور میں سلطان راجن نے تعمیر کروایا اور اس کا نام ” قلعہ ترلو” رکھا۔ 1206 میں مسلم حکمران شہاب الدین غوری نے اسے فتح کیا۔ پھر سکھوں نے جب یہ علاقے فتح کئے تو1585 میں رانی منگو نے اس قلعے کی ایک بار پھر سے تزہین و آرائش کی اور نام بھی بدل ڈالا۔یہ قلعہ انیسویں صدی میں کشمیر کے ڈوگرا مہاراجہ کے زیرِ تسلط آیا۔ یہ قلعہ ایک قدیم ہندو شیو مندر پر تعمیر کیا گیا تھا، لیکن اس کی موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے اس بات میں شک کرنا مشکل ہے کہ اس کی آخری تعمیر سولہویں صدی میں ہوئی۔پانی کے تالابوں کے بارے میں مرخین یہ اندازہ لگانے میں ناکام ہیں کہ آخر اس نسبتا چھوٹے قلعے میں اتنے بڑے تالاب کیوں بنائے گئے ہیں۔ اس وقت قلعے کا زیادہ تر حصہ کھنڈر میں تبدیل ہو گیا ہے، لیکن ماضی کی شان و شوکت کی چند علامات اب بھی باقی ہیں۔ )،

قلعہ بارل پلندری

٭ بارل قلعہ پلندری (پلندری سے بارہ میل جنوب کی طرف دو بڑے نالوں کی درمیان اونچی گھاٹی پر ایک عمر رسیدہ اور خستہ حال عمارت جو قلعہ بارل کے نام سے مشہور ہے، زمانے کی مسلسل بے اعتنائیوں کے باوجود اپنی مثال آپ ہے۔ یہ عمارت تقریبا پونے دو سو سال قبل تعمیر ہوئی۔ یہ قلعہ بارل کے وسط میں واقع ہے اور ایک سو برس تک ڈوگرہ حکومت کامقامی مرکز رہا ہے۔ اس کے مشرق میں کوہالہ، مغرب میں اٹکورہ، شمال میں پلندری اور جنوب میں سہنسہ و اقع ہیں۔ اس کا سنگ بنیاد 1837 میں مہاراجہ گلاب سنگھ کے دور میں رکھا گیا۔ اسکے پتھر سہر نالہ (جو ڈیڑھ میل کی دوری پرہے)سے لائے گئے۔ علاوہ ازیں سرخی اور چونا پنیالی(جو پانچ میل کی دوری پر ہے)سے لایا گیا۔قلعہ کی تعمیر میں جو پتھر استعمال ہوئے ہیں وہ مختلف سائز کے ہیں جن میں سب سے چھوٹا پتھر 47 انچ جبکہ سب سے بڑا 127 انچ کا ہے۔قلعے کی اندرونی دیواریں 22 انچ چوڑی ہیں جبکہ باہر کی دیوار 38 انچ چوڑی ہے جس میں بندوکوں اور ہلکی توپوں سے فائر کرنے کی جگہیں موجود ہیں۔ قلعے کی تکمیل اس کی تاریخ آغاز سے لے کر مسلسل کام کے باوجود 1839 میں ہوئی۔ ڈوگرہ سا مراج کے قدم اکھڑتے ہی وہی قتل گاہ خاص و عام بچوں کی ایک تربیت گاہ میں بدل گئی۔ 1947 سے 1957 تک اس قلعے سے مڈل سکول کا کام لیا گیا۔ کیونکہ سکول کیلئے کوئی دوسری عمارت موجود نہ تھی۔ یہ عمارت جو آج کل اپنی بے بسی اور کسمپرسی پر سرگر یہ کناں ہے دو ہال اور اٹھارہ کمروں پر مشتمل ہے۔ اس کے وسط میں ایک کنواں جسکی گہرائی بہت زیادہ ہوا کرتی تھی جو اب مٹی اور پتھروں سے بھر چکی ہے۔) ،
٭باغ قلعہ( ضلع باغ میں واقع ہے اور باغ پولیس کے انتظام میں ہے) ،
٭ قلعہ کرجائی (یہ قلعہ کوٹلی کی تحصیل کھوئی رٹہ سے تقریبا 13 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔)،
٭ بھرنڈ قلعہ سہنسہ(سہنسہ میں موجود اس قلعے سے پورے سہنسہ کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ قلعہ ڈوگرہ دور میں تعمیر ہوا )،
٭ قلعہ منگلا میرپور( یہ قلعہ میرپور میں دریائے جہلم کے کنارے تعمیر کیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس قلعہ کا نام بادشاہ پورس کی بیٹی منگلا دیوی کے نام سے منسوب کیا گیا تھا)،

لال قلعہ مظفرآباد

٭لال قلعہ(ریڈ فورٹ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ مظفر آباد شہر میں واقع ہے ۔ یہ قلعہ چک دور کے حکمرانوں نے تعمیر کروایا)،
٭قلعہ گوجرا (اسے بلیک فورٹ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ قلعہ بھی مظفرآباد شہر میں واقع ہے)،
٭برجان فورٹ(یہ قلعہ میرپور میں موجود ہے)
٭منگلا قلعہ ( یہ قلعہ میرپور میں موجود ہے۔ روایت ہے کہ اس قلعہ کا نام منگلا بادشاہ پورس کی بیٹی منگلا دیوی کے نام سے منسوب کیا گیا تھا۔ )
٭ تھروچی قلعہ( یہ قلعہ ضلع کوٹلی کے علاقے گلپور میں واقع ہے اور منگرالوں کے دور میں اس کی تعمیر ہوئی۔ )،
٭63۔ سوہلناں قلعہ ( یہ کوٹلی میں واقع ہے)۔

بلیک فورٹ مظفرآباد

٭ایون قلعہ (یہ قلعہ دریائے جہلم کے کنارے پر واقع ہے اور ڈوگرہ دور میں تعمیر کیا گیا)، اس کے علاوہ ٭چک قلعہ،اور٭آئن فورٹ شامل ہیں ۔
تقسیم سے پہلے آزاد کشمیر کے علاقے میں غیر مسلموں کی آبادی 12 فیصد تھی اور ہندو اور سکھ پورے علاقے میں موجود تھے۔ کاروبار کے ساتھ ساتھ ان کی کئی جاگیریں تھیں اور معاشی اعتبار سے بہت مضبوط تھے۔ اس کی معاشی حالت مضبوط ہونے کے باعث وہ پورے علاقے میں پھیلے ہوئے تھے اور ان انکی عبادت گاہیں (گردوارے اور مندر ) پھیلی ہوئی تھیں۔ اس لیے آزاد کشمیر میں آج بھی ان کی عبادتگاہیں موجود ہیں جو تاریخی ورثے کا حصہ ہیں۔
آزاد کشمیر میں گردوارے خاصی تعداد میں موجود ہیں۔ جن میں ٭۔علی بیگ گوردوارہ( یہ گوردوارہ بھمبر میں موجود ہے اور ابھی تاریخی سیاحتی مقام کے طور پر مشہور ہے۔

دیری صاحب گوردوارہ راولاکوٹ

٭دیری صاحب گردوارہ( یہ راولاکوٹ میں موجود ہے مقامی طور پر سیاحتی مقام کے طور پر جانا جاتا ہے تاہم اس کی صورتحال زیادہ بہتر نہیں) ،
٭۔دھمنی گوردوارہ راولاکوٹ میں ہے اس کے علاوہ بھی پونچھ کے مختلف علاقوں میں مندر پائے جاتے ہیں جن کی نشان دہی اور تحقیق ہونا باقی ہے۔
اسی طرح مندر بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں جن میں٭۔سیتا رام مندر( مدینہ مارکیٹ مظفرآباد میں موجود ہے)،٭۔ پرانا سیکرٹریٹ مندرمظفرآباد، ٭چناری مندر، اس کے ساتھ کوٹلی میں کئی مندر موجود ہیں جس طرح موجودہ وقت میں کوٹلی میں مساجد کثیر تعداد میں موجود ہیں کسی وقت یہاں مندروں کی تعداد درجنوں میں رہی ہے۔ کوٹلی میں دریائے پونچھ کے کنارے کئی مندر ہیں جو آج بھی صحیح سلامت ہیں جن میں٭بلیاں محلہ مندر کوٹلی،٭ شیوا مندر(جمال پور کوٹلی۔ کوٹلی شہر کے محلہ جمال پور میں واقع ہے۔)٭۔ کوٹلی میں دریائے پونچھ کے کنارے تین مندر ہیں جن میں ایک چھوٹا اور دو بڑے مندر ہیں، ٭۔ کوٹلی شہر کے محلہ شاہی جامعہ مسجد میں ایک مندر زیر زمین ہے جو ابھی تک موجود ہے۔ یہ مندر گھروں کے درمیان میں موجود ہے ، اہل محلہ کی دیکھ بھال کے باعث یہ مندر اچھی حالت میں موجود ہے۔ ٭منڈھول مندر ،٭ دھیرہ مندر ،٭ سیری مندر، ٭بھانگانہ مندر ،٭ بھرنڈ مندر ، ٭کیانی بیان مندر اور ٭ مترانی مندر شامل ہیں۔
سکھ دور کی کئی باولیاں بھی موجود ہیں جو اس دور کے فن تعمیر اور تاریخ کا بڑا حوالہ ہیں۔(”باولی ” پانی کے چشمے کو کہا جاتا ہے ۔ سکھوں کی باولیوں کی خاص بات یہ ہے کہ مخصوص طرز پر تعمیر کی گئیں ہیں جو اب بھی منفرد نظارا رکھتی ہیں) آزاد کشمیر میں موجود ان باولیوں کی تعداد کافی زیادہ ہے تاہم کئی مشہور باولیاں ہیں جن میں ٭رانی کی بائولی تیتری نوٹ( یہ ضلع پونچھ میں لائن آف کنٹرول کے قریب واقع ہے یہاں سے آج بھی اہل محلہ پانی بھرتے ہیں)، ٭رانی بلاس پوری کی باولی (رانی بلاس پوری کی باولی کے نام سے مشہور عمارت پلندری شہر کے قریب واقع ہے، پلندی شہر سے نصف کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے۔)٭رانی کی بائولی اور چھپر بھمبر،٭سیتا بائولی بھمبر،٭برنا باولی ،٭ چڑھوئی بائولی ،٭ سیری بائولی ،٭ چوخ بائولی ،٭ منڈھول بازار بائولی ،٭ رکھنتری بائولی ،٭ شمس آباد بائولی ،٭ آرارہ بائولی ،٭ اپر کوئیاں بائولی (راولاکوٹ کے نواحی علاقے کھائیگلہ کے قریب پائی جاتی ہے) ، ٭خوشیانی بہک بائولی (راولاکوٹ سے براستہ دھمنی تولی پیر جاتے ہوئے راستے میں ہے) ، ٭نالہ بائولی ،٭ دحیرہ باغ بائولی ،٭ بھگت کیر باولی ،٭ ناوان بائولی،٭ طلب رام سنگھ بائولی میرپور ،٭ ناوان ویل میرپور شامل ہیں۔

میرپور میں ہندوؤں کا مندر

آزاد کشمیر کے تاریخی ورثے میں مغلوں کی یادیں بھی موجود ہیں جن میں مغل روڈ دونوں اطراف کشمیر میں مغلوں کی بہترین یادگار مانی جاتی ہے اس کے علاوہ ٭۔مغل مسجد بھمبر،٭ہاتھی گیٹ بھمبر ، ٭سرائے سعد آباد سماہنی ، ٭36۔مغل سرائے کوٹلی، ٭رانی باغ حویلی ، ٭نوری چھمب (آبشار) حویلی میں موجود ہیں ۔
کئی اولیا کرام کے دربار بھی موجود ہیں جو تقسیم سے قبل سے ابتک اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ان درباروں میں ٭دربار سائیں سہیلی سرکار، ٭دربار پیرچناسی (مزار پیر شاہ حسین بخاری) ،٭ دربار کھڑی شریف میرپور، ٭دربار بابا شادی شہید ، ٭دربار مائی طوطی صاحبہ کوٹلی، ٭دربار سائیں میٹھا،٭ دربار کائیاں شریف ، ٭ دربار سالک آباد،٭ بابا شیر شاہ دربار کوٹلی،٭،دربار بابا شادی شہیدبھمبر، ٭دربار حاجی پیر ضلع حویلی(لائن آف کنٹرول کے پاس موجود ہے)، شامل ہیں۔

رانی باؤلی پلندری میں سکول کی کلاس جاری ہے

ان کے علاوہ کئی متفرق مقامات بھی ہیں جن میں ٭یادگار شہدائے منگ ہے ۔ یہاں ایک درخت ہے جس سے باندھ کر 1832 میں سکھ حکمرانوں سے بغاوت کے جرم میں 29زندہ افراد کی چمڑیاں اتاری گئیں۔٭۔ڈاک بنگلہ ٹائیں ، ٹائیں ڈاک بنگلہ کے نام سے مشہور یہ ریسٹ ہائوس تاریخ پونچھ اور کشمیر میں منفرد حیثیت کا حامل ہے۔ وجہ شہرت یہ ہے کہ یہ مہاراجہ ہری سنگھ اور برطانوی سرکار کے زیرِاستعمال رہا ہے۔ستم ظریفی یہ کہ زمانے کے استبداد اوراربابِ اختیار کی روایتی بے حسی اور عدم توجہی کا شکار ہو کر اب تیزی سے کھنڈرات کی شکل اختیار کر چکا ہے۔٭ قائد اعظم ٹورسٹ لاج ،برسالہ مظفرآباد،اس کی تعمیر ڈوگرہ میں ہوئی۔ اس کی اہمیت اس لئے ہے کہ یہاں 25 جولائی 1944 کو یہاں رکے تھے جب وہ کشمیر کے دورے کے بعد سری نگر سے راولپنڈی جا رہے تھے۔٭کشن کور کی حویلی کھاوڑہ ،یہ حویلی مظفرآباد محض40کلو میٹر دور واقع ہے۔ڈنہ کچیلی گورنمنٹ کالج سے ملحق کشن کور کی تاریخی حویلی اور اسکے ساتھ پانی کی باولی ہے۔حویلی کی تعمیر مہاراجہ پرتاب سنگھ کے دور میں1916 میں ہوئی۔ ایک صدی کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود یہ عمارتیں اپنی پوری شان و شوکت سے کھڑی رہ کر گزرے حالات کا قصہ سنا رہی ہیں۔ 1947 سے یہ عمارت خالی پڑی ہے۔

کسگمہ حویلی بھمبر

کوٹلی کھوئی رٹہ میں کئی عجیب و غریب مقامات ہیں جو کسی تہذیب کا پتا دیتے ہیں ٭ وادی بناہ کی غاریں ،” پریوں کے گھر ”کے نام سے مشہور یہ مقام کوٹلی میں ہے۔ ان غاروں کی دیواروں پر کشیدہ کاری موجود ہے جو کسی پرانی تہذیب کا پتا دیتے ہیں۔ اسی طرح قریب ہی ایک دوسری سرنگ ” بن گنگا سرنگ کھوئی رٹہ،” موجود ہے جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ سرنگ کھوئی رٹہ سے راجوری جانے کا مختصر راستہ تھا تاہم اب یہ سرنگ بند ہو چکی ہے۔ ٭ بارات کے پتھر، کھوئی رٹہ کے مقام پر موجود ان پتھروں سے کئی عجیب کہانیاں منسلک ہیں تاہم یہ مقام بھی ایک تاریخ رکھتا ہے اور تحقیق کرنے والوں کو دعوت دیتا ہے۔، ٭۔ منجواڑ کھوئی رٹی کے مقام پر کسی پرانی تہذیب کے آثار ملتے ہیں اس کے علاوہ ٭۔قدیم غاریں نزد دربار مائی طوطی،٭ اصحاب رڈا( سات قبریں) بھی مشہور ہیں تاہم اس بارے تحقیق ہونا ابھی باقی ہے۔
یہ آزاد کشمیر میں قدیم مذہبی، تاریخی اور ثقافتی مقامات کی تفصیل ہے جن کی مرمت کے بعد آزاد حکومت ان کو سیاحت کیلئے کھول سکتی ہے اور اربوں روپے کا زرمبادلہ حاصل کر سکتی ہے۔

شاردہ

آزاد کشمیر کے تاریخی مقامات کے حوالے سے ثقافتی ورثہ پر تحقیق کرنے والی پروفیسر ڈاکٹر رخسانہ خان کہتی ہیں کہ آزاد حکومت نے تاریخی اور قدیم ثقافتی ورثہ کو محفوظ بنانے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کیے اور نہ ہی ان کو سیاحت کیلئے استعمال کرینکی کوئی پالیسی بنائی ہے۔ آزاد حکومت ابھی تک مظفرآباد میں موجود تاریخی مقامات کو زلزلہ کے بعد مرمت نہ کر سکی تو دیگر جگہوں کو کیسے درست کرے گی؟ ان کا کہنا تھا کہ ایسی تاریخی اور مذہبی جگہوں کو سیاحت کے استعمال سے قبل محفوظ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور ان کو محفوظ کرنے کے کئی مراحل ہوتے ہیں۔ جن میں ابتدائی مرحلہ کسی جگہ کی نشاندہی (ڈاکیومنٹ) کرنا ہوتا ہے،پھر اس کی پروٹیکشن کا مرحلہ آتا ہے جس میں جگہ کی صفائی وغیرہ کرنا ہوتا ہے اور حفاظت کا بندوبست کیا جائے، پھر کنزرویشن شروع کی جاتی اور پھر اس کو اصل اور پرانی حالت میں لانے کے اقدامات کرنا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ سائٹ کی تاریخ پر مبنی تختی لگائی جاتی ہے اور اس کے بعد سیاحوں کیلئے کھولی جاتی ہے۔ آزاد حکومت زبانی طور پر سیاحت کا سال منا رہی ہے لیکن ثقافتی ورثہ کو محفوظ بنا کر سیاحتی مقامات کیلئے استعمال کرنے کیلئے کوئی عملی اقدامات نہیں کر رہی ہے۔

شاردہ قلعہ

مذہبی ، تاریخی اور ثقافتی سیاحت کے حوالے سے وزیر اعظم آزاد کشمیر کے ترجمان راجا وسیم نے بتایا ہے کہ ثقافتی ورثے کو سیاحتی مقامات میں تبدیل کرنے کیلئے حکومت نوٹیفیکیشن کرچکی ہے اور اس کے ساتھ ٹورازم ڈیپارٹمنٹ میں آرکیالوجی ونگ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس میں یونیورسٹی سے فارغ التحصیل آرکیالوجل ایکسپرٹ رکھے گئے ہیں جو ان سائٹس پر کام کر کے ان کی تعمیر نو یا سیاحتی مقام بنانے کیلئے کام کر سکیں گے۔ اس سال بھی ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کے کام نہ کرنے کے باعث ثقافتی سیاحت کیلئے مختص کئی فنڈز سرنڈر ہوئے ہیں جس پر وزیر اعظم آزاد کشمیر نے سخت نوٹس بھی لیا۔اب آرکیاجیکل ونگ کے تحت ان سائٹس کی مرحلہ وار تعمیر نو کیلئے ایک کمپنی(جس کمپنی نے پاکستان کی کئی آرکیالوجیکل سائٹس کی تعمیر نو کی تھی) کی خدمات حاصل کی گئی ہیں تاکہ آزاد کشمیر میں مذہبی ثقافتی سیاحت کو فروغ دیا جا سکے۔ اس کے ساتھ سیاحوں کی سہولیات کے سیاحتی منصوبہ جات میں ہوٹلز، رہائشی مکانات ، لاگ کیبن ، گیسٹ ہا سز، ٹورسٹ ہٹس ، لکڑی کے بنے گھر،کیمپنگ سائٹس ،سیاحوں کے گروپ کے لیے رہائشی سہولیات ،ریسٹ ہاسز، ریسٹورنٹس ،ٹینٹ اور دیگر منصوبے بنائے گئے ہیں جن پر کام جاری ہے۔

قلعہ تھروچھی گلپور کوٹلی

ضرورت اس امر کی ہے کہ پانچ ہزار مربع میل علاقے پر محیط آزادریاست جموں و کشمیر میں سیاحت کو ایک صنعت کا درجہ دینے کیلئے قدرتی حسن، مذہبی مقامات ، آثار قدیمہ اور ایڈونچر ٹورازم کو مختلف کٹیگریز میں تقسیم کرتے ہوئے حکومتی سرپرستی اور نجی شعبے کے اشتراک سے ڈیویلپ کیا جائے، تمام علاقوں تک آسان رسائی کیلئے سڑکوں کی بہترگی اور پختگی کے علاوہ سیاحوں بالخصوص بین الاقوامی سیاحوں کو تمام تر جدید سہولیات کی فراہمی کیلئے ترجیحی اقدامات کئے جائیں اورپھر بین الاقوامی سیاحوں کا رجحان اس حسین و جمیل خطے کی جانب موڑنے کیلئے تمام تاریخی، قدرتی اور مذہبی مقامات کی عالمی برانڈنگ کیلئے اقدامات کئے جائیں تاکہ اس شعبے کو باضابطہ صنعت کا درجہ دیکر نہ صرف اس خطے کی معیشت کو ترقی دی جا سکے بلکہ اس کے ساتھ ہی پاکستان کے خوبصورت اور پر امن چہرے کو دنیا کے سامنے لایا جا سکے۔


دانش ارشاد

اسلام آباد میں کشمیری اخبار کے ساتھ منسلک ہیں، مسئلہ کشمیر پر گہری نظر رکھتے ہیں، قومی و کشمیری اخبارات میں آر پار ان کے مضامین تواتر کے ساتھ شائع ہوتے رہتے ہیں۔تعلق راولاکوٹ سے ہے۔

2 تبصرے “آزادکشمیر میں 100سے زائد تاریخی مقامات، حکومتی توجہ سیاحت کو نئی مہمیز دے سکتی ہے

Leave a Reply

%d bloggers like this: