ٹرمپ عمران ملاقات اور مسئلہ کشمیر

ہاشم قریشی

ٹرمپ کے کشمیر مسلے پر اظہار خیال کرنے سے ہندوستان، پاکستان اور کشمیر میں اپنے اپنے حوالے سے طوفانِ بدتمیزی مچایا گیا۔ یہ جانے بغیر کہ اصل میں ہوا کیا ہے؟ قارئین کی اطلاع کے لئے ہوایوں ہے کہ ایک پاکستانی جرنلسٹ نے عمران،ٹرمپ کی ملاقات کے دوران ایک سوال کشمیر مسلہ پر کیا ہے جس میں اُس نے کشمیر کے بارے میں ٹرمپ سے سوال پوچھا کہ مسلہ کشمیر کے سلسلے میں آپکی رائے کیا ہے؟ ہو سکتا ہے کہ یہ سوال پاکستانی صحافی کو حکومت نے ہی پوچھنے کے لئے کہا ہوگا؟
تو اس پر صدر ٹرمپ نے انتہائی Unexpected جواب دیا کہ ”کشمیر بڑا خوبصورت ہے اور مجھے دو ہفتے پہلے مسٹر مودی ملے اور انہوں نے مجھے کہا کہ آپ ہماری میڈیشن کرائیں۔ میں نے کہا کہ کس پر۔ تو اُس نے کہا کشمیر پر“
مسٹر عمران نے ملاقات کے دوران کہا کہ”اگرآپ میڈشن کرالینگے تو ڈیڑھ ارب لوگ آپکو دعائیں دیں گے“۔
لیکن اس بات پر پہلے ہندوستان میں کہرام مچایا گیا کہ ہمارا پاکستان کے ساتھ سارا معاملہ Bilateral ہے اور اپوزشن نے BJP اور مودی کو پارلیمنٹ میں رگڑادیا اور باہر بھی شور مچایا اور مانگ کی کہ مودی اس پر بیان دے لیکن حکومت کی طرف سے بیان دیا گیا کہ مودی نے ٹرمپ سے ایسی کوئی بات نہیں کی ہے کیونکہ یہ ایک Bilateral مسئلہ ہے اس پر ہمیں کسی کی ثالثی کی ضرورت نہیں ہے۔
بہر حال اپوزشن نے ہندوستان میں مودی کے خلاف خوب احتجاج کرتے رہے جبکہ پاکستان میں عمران کے حامیوں نے اسکو سابقہ وزیر اعظموں کی طرح کشمیر کی آزادی جیسے عمران خان نے امریکہ سے اپنے ساتھ لائی کا خوب پروپیگنڈا کیا۔جبکہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ کشمیریوں نے جذباتی اور عقل سے کام نہ لیتے ہوئے خوشی سے بغلیں بجانی شروع کر دیں، یہاں تک کہ گیلانی صاحب نے بھی عمران خان کی اس بات کی تعریف کی عمران نے ٹرمپ کے ساتھ کشمیر مسئلہ اُٹھایا جبکہ یہ مسئلہ عمران خان نے نہیں بلکہ ایک پریس رپورٹر نے سوال کی صورت میں اُٹھایا تھا۔
70 سال کے عرصے میں ریاست جموں کشمیر کے باشندوں کو ظلم و جبر، نا انصافی، اقتصادی، تعلیمی استحصال کے سِوا کچھ نہیں ملا لیکن ہمیں ہمیشہ ہندوستان اور پاکستان کے لیڈرکشمیر کو برصغیر میں اسلحہ کی دوڑ، ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ،دونوں ملکوں میں انسانوں کو غربت کی لائین سے نیچے رکھنے میں مقابلہ بازی کرتے رہے۔بر صغیر کے لوگوں کا المیہ اس سے بڑا کیا ہوسکتا ہے کہ ہزاروں لوگ آج بھی غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گزار رہے ہیں بلکہ بیماری اور sanetaryسسٹم نہ ہونے کی وجہ سے بھی کروڑوں لوگ مرتے ہیں اور یہ دونوں ملک کشمیر کا کھیل کھیل رہے ہیں اور دُنیا کی بڑی طاقتیں ان کو کھربوں ڈالروں کا اسلحہ بیچتے ہیں۔
جہاں تک امریکہ کا ثالثی کا تعلق ہے جو لوگ تاریخ کے حوالے سے امریکہ کے کردار پر نظر نہیں رکھتے وہ ہمیشہ امریکہ کے استحصالی چکر میں پھنستے رہے۔ جیسے کہ مڈل ایسٹ کے ملک دیکھ لیں۔ سعودی عرب اور گلف ممالک اور مصر وغیرہ کا حال دیکھیں۔نہ صرف یہ کہ امریکہ نے شام، اعراق، یمن کی اینٹ سے اینٹ بجائی، مڈل ایسٹ سے کھربوں ڈالر اسلحہ فروخت کرنے کے زمرے میں حاصل کررہا ہے بلکہ وہاں پر اپنی افواج رکھ کر انکے اخراجات بھی وہ ان ہی سے حاصل کررہا ہے۔آج اسرائیل کے تحفظ کے لئے سعودیہ سے ملکر ایران کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔یہی نہیں افغانستان سے روس کے نکلنے کے بعد پاکستانی فوج کا استعمال کرکے افغانستان کے طالبان اور وہاں کے لوگوں کے ساتھ امریکہ نے کیا سلوک کیا اسکے لئے کسی فلسفی کی ضرورت نہیں ہے۔
یہ تو تازہ امریکی مفادات کی کہانی ہے اگر ماضی کو دیکھ لیں تو جاپان میں ایٹم بم پھینک کر تین لاکھ لوگوں کو زندہ جلادیا اور نسلوں کے لئے بھی تباہی کا سامان پیداکیا۔ یہی نہیں بلکہ ویت نام، لاؤس، کمبوڈیا میں امریکہ نے انسانی زندگیوں کی ایسی توہین کی کہ انسانیت نہ صرف شرمسار ہوئی ہے بلکہ خود امریکہ کے لوگ اور یورپ کے لوگ سٹرکوں پر نکل کر ان انسانیت سوز کاروائیوں کے خلاف احتجاج کرتے رہے۔ میں نے ہی نہیں بلکہ بے شمار امریکی، یورپی اور ایشائی لیڈروں، صحافیوں اور قلم کاروں نے باربار لکھا اور کہاکہ امریکی اور یورپی طاقتوں کے سامنے دُنیا کا کوئی ہیومن رائٹس، دُنیا کا کوئی مذہبی اصول انکو کسی جگہ انصاف کرنے کے لئے نہیں اُکساتا بلکہ امریکہ اور یورپ نے جنگ عظیم دوئم کے بعد ایک ہی اصول اپنا یا ہے وہ ہے اقتصادی مفادات کا تحفظ اور جہاں پر بھیانک اقتصادی مفادپر نقصان کا خدشہ ظاہر ہو تو وہیں پر وہ مداخلت کرتے۔
اب کشمیر کے مسئلے کو ہی لے لیجئے،پہلے 1947-48میں ہندوستان مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے گیا، جہاں پر مختلف processکے گزرنے کے بعد UNکمیشن کے سامنے کچھ قرار دادیں منظور ہوئیں لیکن جس پر نہ ہی پاکستان نے عمل کیا اور نہ ہی ہندوستان نے جبکہ قرارداد کے مطابق پاکستان کو اپنے زیر قبضہ جموں کشمیر یعنی گلگت، بلتستان اور آزاد کشمیر میں مکمل فوجی انخلاء کرکے اقوام متحدہ کے کمیشن کے حوالے یہ علاقے کرنے تھے اور ہندوستان کو اپنے زیر اِنتظام کشمیر میں of forces bulk نکالنی تھیں اور اقوام متحدہ کے کمیشن کو پاکستان کے زیر قبضہ علاقوں میں ہندوستانی سیکورٹی فورسز کو تعینات کرنا تھا اور بعد میں امن قائم ہونے کے ساتھ ہی اقوام متحدہ کمیشن رائے شماری کی تاریخ طے کرتے۔ لیکن پاکستان نے ہر فورم اور ہر جگہ اپنی فوجیں نکالنے سے اِنکار کیا اور کہا کہ ہندوستان بھی جموں کشمیر سے اپنی ساری فوج نکالے جبکہ اقوام متحدہ کی قرارداد پر پاکستان نے دستخط کئے تھے۔
ایک اور بدنصیبی یہ ہوئی کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی 13اگست 1948کی قرارداد جسمیں self determinationیعنی کہ حق خوداردایت کا حق دیا تھا کے بعد 5جنوری1949کو اقوام متحدہ میں ایک ترمیمی قراردادپیش کی جس میں مسئلہ کشمیر کو رائے شماری کے وقت صرف انڈیا اور پاکستان کے درمیان کسی ایک ملک کو چننے کا حق دیا گیا، اقوام متحدہ نے یہ ترمیمی قرارداد منظور کرلی۔ اسطرح ریاست جموں کشمیر کے لوگوں کا لامحدود حق خوداردایت جسکے معنی آزادی اور خودمختار رہنے کے ہیں، اس قرار داد نے دو ملکوں کے درمیان ایک علاقائی مسئلے میں تبدیل کردیا۔ یہ پاکستان کا مسئلہ کشمیر کو باہمی مسئلہ بنانے کی پہلی غلطی تھی۔ پاکستان نے یہ قرارداداس لئے پیش کی کیونکہ اسکو یہ معلوم تھا کہ ریاست میں 68% مسلمان تھے اور وہ ہمارے ساتھ ہی الحاق کرینگے اور اسطرح انہوں نے مسئلہ کشمیر کا انٹر نیشنل لیول پر گلا دبا دیا۔
اسکے بعد 1965کی جنگ نے تاشقند میں ہندوستان کے ساتھ معاہدہ کرکے باہمی طور تمام مسئلے بشمول کشمیر بھی باہمی حل کرنے کا معاہدہ کیا لیکن اس معاہدے کا اصل ڈراپ سین شملہ میں ہوا جہاں پر ہندوستان پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو دنوں کی رضامندی کے بغیر تیسرے فریق کے پاس نہ لے جانے کا معاہدہ کرکے اسکو بھی ہندوپاک کے درمیان باہمی طور طے کرنے کا معاہدہ کیا اور یہی نہیں بلکہ انہوں نے سیز فائر لائین کو کنڑول لائن میں بدل دیا یہ مسئلہ کشمیر کو آپس میں میں حل کرنے کا سب سے بڑا ثبوت تھا۔ لاہور ڈیکلریشن بھی شملہ معاہدے کی تصدیق تھا۔
یہ معاہدے کرنے کے باوجود پاکستان نے صدق دل سے ان معاہدوں پر عمل کرنے کے بجائے ہمیشہ چوری چھپے adventurismکرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔انہوں نے 1988میں ISIاور لبریشن فرنٹ کے ساتھ ملکر وادی میں بندوق متعارف کروائی اور پھر اسکو کس طریقے سے مذہبی فسادات اور ایکدوسرے سے قتل و غارت کے ساتھ بدل دیا یہ کہانی لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ہمارے قبرستان کس طرح نوجوانوں کی لاشوں سے بھر کر یہاں پر سیاستدان آر اور پار ان لاشوں پر سیاست کرتے رہے۔جبکہ پوری دُنیا میں ایک بھی مسلمان ملک یا انسانی حقوق کی تنظیموں یا آزادی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے ملکوں نے ہماری جدوجہد کی حمایت کرنے کی بجائے اسکو مذہبی اور دہشت گردی کی تحریک قرار دیا۔ اسی لئے انہوں نے ان تمام مسلح تنظیموں اور لیڈروں پر دہشت گردی کی صورت میں پابندی لگادی۔
ٹرمپ کا مسئلہ یا امریکہ کامسئلہ افغانستان ہے،کھربوں ڈالر افغانستان میں خرچ ہوتے ہیں لیکن اسکے باوجود خودکش حملے اور طالبان کی لڑائی جاری ہے۔یہ بات ہمیں ماننی پڑے گی کہ پاکستان کی فوج منظم فوج ہونے کی وجہ سے یہ اب تک افغانستان میں طالبان کو حکمت عملی کے تحت انکی مددکرتے رہے۔ انکو اسلحہ دیتے رہے، انکو پناہ دیتے رہے،جن میں حقانی نیٹ ورک زیادہ اہم ہے۔ امریکہ مستقل طور پر صرف چند ہزار فوجی ایڈوائزر اور فوجی چھوڑکر افغانستان سے نکلنے کی کوشش کررہا ہے۔ اسکے لئے قطر میں امریکہ کے ساتھ طالبان کی بات چیت بھی جاری ہے۔چونکہ پاکستان کے فوج کا طالبان پر اثر و رسوخ ہے اس لئے ٹرمپ کو مشورہ دیا گیا کہ پاکستان کو اس میں شامل کریں اور اُس سے مددلیں۔ یہی امریکہ کا سب سے بڑا مفاد پاکستان کے ساتھ اسوقت ہے۔ اس لئے نہ صرف ٹرمپ نے عمران خان سے ملاقات کی بلکہ ان سے افغانستان کے سلسلے میں وعدہ لیا۔لیکن یہ بات یاد رہے کہ عمران خان فوجی قیادت کو ساتھ لیکر گیا تھا اور عمران خان کو گرمجوشی سے امریکہ میں کسی اعلیٰ وفد نے استقبال نہیں کیا۔
رہی بات کشمیر کی توٹرمپ نے کشمیر کے بارے میں ایسی بات کیوں کی یہ صرف عمران خان اور پاکستانی فوج کو خوش کرنے کا ایک عمل تھا کشمیریوں کو یہ بات یا د رکھنی چاہیے جو اسرائیل کو زندہ رکھنے کے لئے فلسطینیوں اور مسلمانوں کا لہو پوری دُنیا میں پانی کی طرح بہا رہا ہو،جس نے مصر میں جمہوری حکومت برطرف کرنے کے لئے مصر کے عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور مردوں پر دن دیہاڑے ٹینکوں سے کچلا ہو، کیا کشمیریوں کے مسئلے کا حل نکال سکتا ہے؟ ایسے بیانات انڈیا کو روس سے میزائل400 اور فرانس سے جنگی جہاز خریدنے سے روکنے کا ایک طریقہ قرار دیا جا سکتا ہے؟
اس بیان میں بھی امریکہ کے اپنے ہی مفادات نظر آتے ہے اسلئے ضروری ہے کہ دوسروں کے استحصالی بیانات اور پروپیگنڈوں پر خوش ہونے کی بجائے جموں کشمیر کے عوام کو ہم آہنگی کے ساتھ پاکستان اور ہندوستان سے مکمل فوجی انخلاء کیلئے پراَمن سیاسی جدوجہد ایک ہی پلیٹ فارم پر لڑنی چاہیے۔ جب اتحاد ہواور نعرہ ایک ہوتو قربانی ضائع نہیں ہوگی بلکہ آزادی و خودمختاری کی صورت میں ضروررنگ لائیگی۔ایک بات ضروری ہے کہ ہم انڈیا پاکستان کے عوام کو اپنے حقوق کے لئے قائل کریں نہ کہ نفرت پر۔
”ً لاکھ کہتے رہیں ظلمت کو نہ ظلمت لکھنا۔۔۔ہم نے سیکھا نہیں پیارے بہ اجازت لکھنا“


مضمون نگار: ہاشم قریشی
جموں کشمیر ڈیموکریٹک لبریشن پارٹی کے چیئرمین ہیں