نظریاتی زوال پذیری، تنگ نظری اور موقع پرستی کا الزام، پی این اے کی کوآرڈی نیشن کمیٹی سے فنڈز کے آڈٹ اور استعفیٰ کا مطالبہ

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کی قیادت نے ایک ویڈیو کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ ترقی پسند اور قوم پرست تنظیموں کے اتحادپیپلز نیشنل الائنس کی کوآرڈی نیشن کمیٹی کی قیادت نظریاتی زوال پذیری، تنگ نظری اور موقع پرستی کا شکار ہو کر اتحادی جماعتوں کو ساتھ لیکر چلنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ بارہا اجلاسوں میں نشاندہی کے باوجود آمرانہ بنیادوں پر فیصلہ جات مسلط کرنے کی روش کو ترک نہیں کیا گیا۔ بلکہ ذاتی نوعیت کے فیصلہ جات کو رکن تنظیموں پر مسلط کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔کوآرڈی نیشن کمیٹی کے عہدیداران پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے الائنس کی تشکیل نو کے بغیر اس اتحاد کو آگے چلایاجانا ناممکن ہو چکا ہے۔ ہم نے اتحاد کی تشکیل سے لیکر آج تک اس اتحاد کو چلانے کےلئے متعدد بار تحریری تجاویز پیش کیں اور ہر اجلاس میں ان کو دہراتے رہے ہیں لیکن کوآرڈی نیشن کمیٹی کے عہدیداران نے اتحادی تنظیموں کے موقف کو نظر انداز کرتے ہوئے چند افراد پر مشتمل موقع پرست اور فرقہ پرور گروہوں کی ایماءپر الائنس کو ایک پارٹی کے نظم و ضبط کے مطابق چلانے کی کوشش کی اور آمرانہ بنیادوں پر فیصلہ جات کرتے ہوئے نہ صرف عوامی تحرک کو زائل کیا بلکہ کارکنان کو بدترین ریاستی تشدد کا نشانہ بنوانے کے بعد ریاست اور حکمران اشرافیہ کے ساتھ ملنے اور تعلقات استوار کرنے کےلئے الائنس کو بطور سیڑھی استعمال کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

یہ ویڈیو کانفرنس جے کے این ایس ایف کی جانب سے پی این اے کی مرکزی کوآرڈی نیشن کمیٹی کے ممبرکامریڈ خلیل بابر نے مرکزی قیادت کے ہمراہ مرکزی سیکرٹریٹ میں کی۔ اس موقع پران کے ہمراہ مرکزی صدر ابرار لطیف، چیف آرگنائزر تیمور سلیم، ایڈیٹر عزم التمش تصدق، مرکزی رہنما واجد خان، ضلعی چیئرمین سبحان عبدالمالک کے علاوہ دیگر عہدیداران و کارکنان بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔

خلیل بابر نے مزید کہا کہ جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن نے اتحاد کے قیام کے موقع پر تجاویز دی تھیں کہ الائنس کو چلانے کےلئے کچھ مشترکہ نکات پر تمام تنظیموں کا متفق ہونا ضروری ہے، جس کےلئے تمام تنظیمیں اپنے تحریری دستاویزات جمع کروائیں اور ان دستاویزات کی بنیاد پر ایک مشترکہ لائحہ عمل اور پروگرام تشکیل دیا جائے ، جو پروگرام تمام تنظیموں کےلئے قابل قبول ہو اور تمام تنظیمیں مشترکہ پروگرام اور لائحہ عمل کے گرد مل کر جدوجہد کریں جبکہ اپنے نظریات، جھنڈوں اور بینرز کا کھل کر پرچار کرنے کا حق بھی تمام تر تنظیموں کو فراہم کیا جانا چاہیے۔ چونکہ کوئی بھی الائنس صرف اسی صورت تشکیل دیا جا سکتا ہے کہ اس الائنس میں شریک تمام سیاسی قوتیں کسی ایک یا ایک سے زائد فوری نوعیت کے مطالبات پر جدوجہد کےلئے آمادہ ہوں۔ الائنس اور اتحادمیں شریک سیاسی قوتیں اپنی نظریاتی اور عدد حیثیت کی بنیاد پر ہی رائے سازی اور ووٹ کا حق استعمال کر سکتی ہیں۔ یہ کسی صورت نہیں ہو سکتا کہ کسی ایک شہر، تحصیل یا گاﺅں میں کام کرنے والا چند افراد پر مشتمل ایک گروہ بھی اتنا ہی حصہ دار ہو جتنا کئی ضلعوں میں ایک بڑی عددی اور نظریاتی حیثیت رکھنے والی سیاسی قوت حصہ دار ہو۔ لیکن کوآرڈی نیشن کمیٹی کے قائدین نے یہ باور کروانے کی کوشش شروع کر دی کہ الائنس کی قیادت انکو سونپ دی گئی ہے، حالانکہ قیادت کوآرڈی نیشن کمیٹی کے پاس تھی اور ہے۔ کمیٹی کے اتفاق رائے کے بغیر ہونے والا کوئی بھی فیصلہ الائنس کے فیصلہ کے طور پر نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ کوئی سیاسی پارٹی نہیں بلکہ مختلف پارٹیوں کا الائنس تھا۔ لیکن اس سب کے باوجود الائنس میں شامل سب سے بڑے حجم کی حامل تنظیموں کی مخالفت کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں جھنڈے پرنٹ کروائے گئے، چند افراد پر مشتمل نظریاتی زوال پذیری کا شکار اور مہاراجہ کی شخصی حکمرانی کی وکالت کرنے والے گروہ کی طر ف سے تیار کردہ تنگ نظر قوم پرستانہ نظریات پر مشتمل پمفلٹ اور سیاسی پروگرام بڑے پیمانے پرچھپوایا گیا۔ مظفرآباد لانگ مارچ کا فیصلہ بھی بڑی پارٹیوں کی مخالفت کے باوجود کیا گیا، اسی طرح نومبراورجنوری کے پروگرامات بھی کسی اجلاس میں زیر بحث لائے بغیر اور ممبر تنظیموں سے مشاورت کے بغیر کئے گئے۔گیارہ فروری کے پروگرامات بھی اسی طرح بغیر کسی اجلاس کے اعلان کر کے منعقد کرنے کی کوشش کی گئی۔ حالانکہ الائنس میں شریک کچھ سیاسی گروہ مقبول بٹ شہید کو سرعام ایجنٹ قرار دیتے ہیں لیکن موقع پرستی کی تمام تر حدوں کو پار کرتے ہوئے اتحاد میں شامل بڑی سیاسی تنظیموں کے خلاف محاذآرائی کی غرض سے مقبول بٹ شہید کے یوم شہادت کو بھی استعمال کیا گیا۔ اور اب بغیر کسی کو دعوت دیئے پانچ اگست کو یوم سیاہ منائے جانے کے پروگرامات کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ اس سارے عمل کے دوران جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے اختلافی نقطہ نظر کو بنیاد بنا کر کمیٹی کے عہدیداران نہ صرف جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن بلکہ دیگر بڑی سیاسی قوتوں کے خلاف بھی زہریلی مہم چلاتے ہوئے سوشل میڈیا اور عوامی جگہوں پر یہ باور کروانے کی کوشش کرتے رہے کہ جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن اور کچھ دیگر سیاسی تنظیمیں اس الائنس کو چلنے نہیں دے رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن جدید سائنسی سوشلزم کے نظریات کی بنیاد پر ایک واضح لائحہ عمل اور پروگرام رکھتی ہے۔ اتحاد اور الائنس کی سیاست میں ہمارا ایک وسیع تجربہ ہے۔نہ صرف جموں کشمیر کے دونوں اطراف بلکہ پاکستان کے تمام صوبوں میں محنت کشوں اور نوجوانوں کے ساتھ اتحاد کی بنیاد پر ایک طویل جدوجہد جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کا خاصہ ہے۔الائنس میں شامل تنظیموں سے اگر تقابلی جائزہ لیا جائے تو جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن نہ صرف تمام تنظیموں سے بڑی ممبر شپ کی حامل ہے بلکہ محنت کشوں، نوجوانوں اور عام عوام میں مختلف رجحانات کے طورپر سیاسی پوزیشن کو دیکھا جائے تو ہمارا ایک کامریڈ علی وزیر پاکستان کی قومی اسمبلی کا ممبر ہے جہاں وہ محنت کشوں اور مظلوم قومیتوں کی بھرپور نمائندگی کر رہا ہے۔اس کے علاوہ جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن اس خطے کی وہ واحد سیاسی قوت ہے جس کے پاس ایک واضح سائنسی نظریات پر مشتمل پروگرام موجود ہے۔ ہم سالانہ ملکی اورعالمی حالات کے پیش منظر کے علاوہ پندرہ روزہ میگزین، متعدد ویب سائٹس اور پمفلٹس کی شکل میں بڑے پیمانے پر لٹریچر شائع کرتے ہوئے نوجوانوں اور محنت کشوں کی سیاسی و نظریاتی تربیت کا عمل جاری رکھے ہوئے ہےں۔

انہوں نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی بھی ایسا اتحاد جس کا کوئی واضح پروگرام اور لائحہ عمل نہیں ہوگا۔ جس اتحاد میں شامل اتحادی کسی واضح پروگرام پر متفق نہیں ہونگے، یا ایسے چند افراد جن کی کوئی سیاسی پہچان نہیں ہے اگر ان کو کسی اتحاد کی فیصلہ سازی کا اختیار دیا جائے گا تو ایسا اتحاد کسی صورت کوئی فیصلہ کن کردار ادا نہیں کر سکتا بلکہ تاریخ کا کوڑے دان ایسے اتحادوں اور الائنسوں سے بھراپڑا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ دو روز قبل پی این اے کا بلایا گیا اجلاس ماضی کے تسلسل میں اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا، جس کے بعد ایک تنگ نظر گروہ کی جانب سے جھوٹی اور بے بنیاد پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے یہ باور کروانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اجلاس میں شریک نہ ہونے والی تنظیمیں اتحاد چلنے نہیں دینا چاہتی ہیں۔ بلکہ حقیقت میں کسی بھی رکن تنظیم سے مشاورت کے بغیر پانچ اگست کے پروگرامات کا اعلان کیا گیا، اور بعد ازاں ایک غیر جمہوری فیصلے کو تحفظ دینے کےلئے من پسند گروہوں پر مشتمل ایک اجلاس بلا کر جھوٹ پھیلایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر این ایس ایف یہ مطالبہ کرتی ہے کہ ماضی میں پیپلز نیشنل الائنس میں شامل تنظیموں کی ساکھ اور کارکنوں کو استعمال کر کے جمع کئے گئے تمام تر فنڈز کا آڈٹ کروایا جائے۔ کمیٹی کے عہدیداران کا انتخاب تین ماہ کےلئے ہوا تھا جس کے بعد جمہوری طریقہ اختیار کرتے ہوئے کمیٹی کے مستقل عہدیداران کا انتخاب اور ذیلی کمیٹیاں تشکیل دی جانی تھیں۔ یہ تمام امور کوآرڈی نیشن کمیٹی کے عہدیداران کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس لئے یہ ضروری ہو چکا ہے کہ کوآرڈی نیشن کمیٹی کو تحلیل کرتے ہوئے از سر نو اتحاد کی تشکیل کےلئے اقدامات کئے جائیں۔ اور اگر تمام تنظیمیں کسی واضح پروگرام پر متفق نہیں ہوتیں تو اس اتحاد کو ختم کرنے کا اعلان کیا جائے۔

انکا کہنا تھا کہ ہم کسی بھی آمرانہ فیصلے کو نہ صرف تسلیم نہیں کریں گے بلکہ ان فیصلوں کے خلاف بھرپور احتجاج کا حق بھی رکھتے ہیں۔ پوری دنیا میں موجود کشمیری ترقی پسند کارکنان آج اگر یہ سوال کر رہے ہیں کہ پی این اے کیوں ناکام ہوا تو اس کا جواب قیادت کے پاس نہیں ہے۔ لیکن ہمارے پاس اس کا جواب موجود ہے۔ ہم نے تحریری طور پر اتحاد کو چلانے کےلئے تجاویز پیش کی تھیں،جو آج بھی اس خطے میں محنت کشوں اور نوجوانوں کے کسی اتحاد کےلئے ایک مشعل راہ ہیں۔لیکن فرقہ پرور گروہوں کی ایماءپر یکسر نظر انداز کرتے ہوئے من مانے اور مہم جوئیانہ فیصلہ جات کئے گئے جن کے نتائج موجودہ حالات کے علاوہ کوئی اور نہیں نکل سکتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ حکمران چاہے کشمیر کے ہوں، یا کسی سامراجی ریاست کے ہوں انکا مقصد محنت کش عوام کے استحصال کے ذریعے اپنے اقتدار کو دوام دینا ہوتا ہے۔ محنت کش عوام کی بقاءاور آزادی کی جدوجہد کی راہ میں رکاوٹ نہ صرف سامراجی حکمران ہوتے ہیں بلکہ مقامی حکمران بھی انکے حاشیہ بردار کا ہی کردار ادا کرتے ہیں۔ اس لئے حکمران طبقات کے ساتھ مل کر آزادی اور انقلاب کی جدوجہد کو استوار نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن یہ سمجھتی ہے کہ جموں کشمیر کی آزادی سے مراد اس خطے کے محنت کشوں اور عام انسانوں کی ہر طرح کے استحصال اور طبقاتی تفریق سے آزادی ہے اور جب تک سرمایہ دارانہ حاکمیت موجود ہے ،اس وقت تک حقیقی آزادی کا حصول ممکن نہیں ہے۔ اس نظام کے خلاف جدوجہد کو محنت کش طبقہ اور نوجوانوں کے اتحاد کی بنیاد پر استوار کیا جا سکتا ہے۔ اس جدوجہد میں پاکستان اور بھارت کے مظلوم و محکوم محنت کش عوام اور نوجوان ہمارے اتحادی ہیں اور اس پورے ریجن کے حکمران ہمارے دشمن ہیں۔ ہمیں وسیع تر اتحاد کی بنیاد پر اس نظام کے خلاف فیصلہ کن جدوجہد کا آغاز کرنا ہوگا۔ بھارت نے پانچ اگست کو آئینی کھلواڑ کرتے ہوئے جموںکشمیر کے مظلوم و محکوم عوام کے حق آزادی پر ڈاکہ ڈالا ہے، اس خطے کے وسائل کی سامراجی لوٹ مار کی راہ ہموار کی ہے، ایسی ہی صورتحال دوسری جانب بھی کی جا رہی ہے۔ بیروزگاری عروج پر ہے، عوام فاقہ کشی کا شکار ہیں، طالب علموں کےلئے تعلیم کے دروازے بند ہو چکے ہیں، صحت کی سہولیات ناپید ہیں۔ وبائی کیفیت نے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ اس تمام تر صورتحال کا ذمہ دارنجی ملکیت پرمبنی سرمایہ دارانہ نظام اور اس کی آلہ کار حکمران اشرافیہ ہے۔ جس کے خلاف جدوجہد کو جدید سائنسی نظریات کی بنیاد پر استوار کرنے کے علاوہ محنت کش طبقے کے پاس اور کوئی راستہ موجود نہیں ہے۔ ہم اس جدوجہد کو آخری دم تک لڑیں گے۔ ہم اس جدوجہد میں ہر اس اتحاد ، ہر اس الائنس اور ہر اس احتجاج کا بلاشرکت غیرے حصہ بنیں گے جو محنت کش طبقے کی بقاءکے لئے میدان میں اترے گا۔ اور ہم ہر اس گروہ، اتحاد اور الائنس کے خلاف ایک بے رحم لڑائی لڑنے کو بھی تیار ہیں جو حکمران اشرافیہ کی ایما پر محنت کشوں کو نفرت اور تعصب کی بنیادپر تقسیم کرنے کا موجب بنے گا۔ دنیا بھر کے محنت کشوں کے پاس نجات کا واحد راستہ سائنسی سوشلزم کے نظریات ہیں۔ ہمارے پاس کھونے کو صرف زنجیریں ہیں اور پانے کو سارا جہاں پڑا ہے۔

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کی جانب سے پیپلز نیشنل الائنس کی کوآرڈینیشن کمیٹی کے ممبر کامریڈ خلیل بابر، مرکزی صدر این ایس ایف ابرار لطیف، مرکزی چیف آرگنائزر تیمور سلیم، مرکزی رہنما واجد خان، ایڈیٹر عزم التمش تصدق اور ضلعی چئیرمین سبحان عبدالمالک کے ہمراہ پی این اے کے حوالے سے ویڈیو کانفرنس کر رہے ہیں.

Posted by Daily Mujadala on Friday, July 31, 2020

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: