کراچی پاکستان: پولیس کا 6 دہشت گرد گرفتار کرنیکا دعویٰ، را سے تعلق کا الزام

پاکستان کے صنعتی شہر کراچی غربی کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) فدا حسین نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ سے تعلق رکھنے والے 6 مبینہ دہشت گردوں کو گرفتار کرکے کراچی میں دہشت گردی کی بڑی منصوبہ بندی ناکام بنا دی۔

کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے بتایا کہ مشتبہ دہشت گرد بلوچستان میں آرمی، ایف سی اہلکاروں اور ان کی پوسٹوں پر حملے میں ملوث رہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ملزمان دہشت گردی کے بڑے منصوبے کے ارادے سے کراچی آئے تھے، تاہم زیر حراست ملزمان نے کراچی میں کوئی واردات نہیں کی۔

فدا حسین نے بتایا کہ زیر حراست ملزمان کو صرف اپنے گروپ کی معلومات ہوتی ہے تاکہ گرفتاری کی صورت میں دیگر ہم خیال گروپ کی معلومات فراہم نہ کی جا سکے۔

ایس ایس پی غربی نے بتایا کہ کالعدم دہشت گرد تنظیم (بی آر اے ایس) کے 6 مبینہ دہشت گرد گرفتار کیے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار دہشت گردوں میں شیر خان، کریم بخش عرف بگل، دلشاد، موران خان عرف مولو، درخان عرف ناری اور امیر بخش عرف نری شامل ہیں۔

فدا حسین نے بتایا کہ گرفتار مبینہ دہشت گردوں کے قبضے سے آوان لانچر، 5 دستی بم، 6 آوان بم، 3 کلاشنکوف برآمد کرلی گئیں۔

انہوں نے بتایا کہ چھاپے کے دوران نائن ایم ایم پستول کی گولیاں، دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ چینی قونصل خانے پر حملے میں ملوث دہشت گرد تنظیم کے کارندوں ہی اسٹاک ایکسینچ پر حملہ کیا تھا۔

ایس ایس پی فدا حسین نے کہا کہ اسٹاک ایکسچینج پر حملے کی منصوبہ بندی کمانڈر بشیر زیب نے کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ملزمان سے بھارتی ایجینسی ‘را’ سے تعلق کے واضح ثبوت ملے، اسٹاک ایکسچینج پر حملے کے لیے بھارتی ایجنسی نے علیحدگی پسند تنظیموں کے گمراہ کن دہشت گردوں کو آلہ کار بنایا۔

خیال رہے کہ 30 جون کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کی عمارت پر حملے کی کوشش کرنے والے چاروں دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

بعد ازاں محکمہ انسداد دہشت گردی کے انچارج راجہ عمر خطاب نے کہا تھا کہ 4 حملہ آوروں میں سے 3 کی شناخت فنگر پرنٹس کے ذریعے سلمان، تسلیم بلوچ اور سراج کے ناموں سے ہوگئی تھی۔

کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر ہونے والے دہشت گردی کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ وزیرستان کے حملے کے بعد بیان دیا تھا کہ بھارت نے سلیپر سیل متحرک کیے ہیں اور مذکورہ حملے کے تانے بانے اٹھا کر دیکھ لیے جائیں تو انہی سلیپر سیل سے ملیں گے۔