تفتان بلوچستان: غیر قانونی یورپ جانیکی کوشش میں 70 کشمیری و پاکستانی گرفتار

پاکستانی صوبہ بلوچستان کے ایرانی سرحد سے متصل ضلع چاغی کے شہر دالبدین میں‌ 72 کشمیری اور پاکستانی شہریوں‌کو گرفتار کیا گیا ہے. یہ شہری ایک مال بردار ٹرک میں‌سوار ہو کر غیر قانونی طریقے سے ایران کے راستےیورپ جانا چاہتے تھے. ایف آئی اے کے مطابق گزشتہ ماہ جولائی میں‌ 263 ایسے شہریوں‌کو گرفتار کیا گیا ہے جو انسانی سمگلروں‌کے ذریعے غیر قانونی طریقے سے براستہ ایران و ترکی یورپ پہنچنے کےلئے روانہ ہوئے تھے. گزشتہ ماہ 14 ایسے افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جنہیں‌انسانی سمگلر یا انکے سہولتکار قرار دیا جا رہا ہے.

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ اس نے ایک ترپال سے ڈھکے مال بردار ٹرک کو رکنے کا اشارہ کیا، ڈرائیور نے ترپال کھولنے میں‌لیت و لعل سے کام لیا. اس پولیس اہلکار کے مطابق ’جب میں نے ٹرک کے پچھلے حصے سے ترپال اوپر اٹھائی تو مجھے دیکھ کر وہاں بیٹھے درجنوں نوجوانوں کے چہروں کا رنگ فق ہو گیا۔‘

مجموعی طور پر ٹرک میں 72 افراد موجود تھے جو کہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تین سو کلو میٹر سے زائد کا سفر ٹرک میں طے کرنے کے بعد ایران سے متصل شہر دالبندین پہنچے تھے۔

ان تمام افراد نے کوئٹہ سے اپنا سفر یہ سوچ کر شروع کیا تھا کہ وہ مختلف ممالک کے بارڈر عبور کرتے بالآخر یورپ پہنچنے میں کامیاب ہو جائیں گے، تاہم یہ سب اپنے ہی ملک میں دھر لیے گئے۔

دالبندین پولیس کے ڈی ایس پی ارشد جدون نے بتایا کہ گرفتار ہونے والے تمام افراد پاکستانی ہیں اور ان کی اکثریت کا تعلق پنجاب کے مختلف شہروں سے ہے جبکہ چند کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے بھی ہے۔

پولیس افسر کے مطابق گرفتار ہونے والے تمام افراد نوجوان تھے لیکن ان میں سے ایک بڑی تعداد ایسی بھی تھی جن کی عمریں 20 سال سے کم تھی۔

ان گرفتار افراد نے ابتدائی تفتیش کے دوران پولیس کو بتایا کہ انھیں کوئٹہ سے اس ٹرک میں بٹھایا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق کوئٹہ شہر سے دالبندین تک کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کئی چیک پوسٹ ہیں مگر شاید ترپال کے باعث ٹرک میں سامان ہونے کی تاثر کی بنیاد پر ان چیک پوسٹوں سے وہ نکلتے گئے، لیکن ایران سے متصل سرحدی ضلع چاغی کے ہیڈکوارٹر دالبندین شہر کی پہلی ہی چیک پوسٹ انھیں گرفتار کر لیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ یورپ جانے کے ان خواہشمند نوجوانوں کے علاوہ ٹرک ڈرائیور کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق گرفتار افراد کے منصوبے کے مطابق انھیں پاکستان سے ایران، پھر ترکی، یونان اور اس کے بعد مختلف یورپی ممالک تک پہنچنا تھا اور اس کام کے لیے انھوں نے انسانی سمگلنگ میں ملوث ایجنٹس کو بھاری رقوم ادا کی تھیں۔

اقوام متحدہ کی مائیگریشن ایجنسی آئی او ایم کی رپورٹ برائے 2019 کے مطابق پاکستان میں انسانی سمگلنگ کا سب سے عام اور معروف زمینی راستے کو ‘ایسٹرن میڈیٹرینئن روٹ’ کہا جاتا ہے جسے زیادہ تر پاکستان انسانی سمگلر یورپ تک جانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

یہ روٹ افغانستان، پاکستان، ایران، ترکی اور یونان کو جوڑتا ہے۔ یورپ جانے کے خواہشمند بیشتر پاکستانی افراد دھوکہ دہی سے حاصل کردہ جعلی دستاویزات، بعض اوقات حقیقی دستاویزات اور چند مقامات پر چھپ چھپا کر سفر کرتے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق اس روٹ کے ذریعے انسانوں کی سمگلنگ کرنے والے گروہ انتہائی منظم اور آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔

آئی او ایم کی رپورٹ کے انسانی سمگلر پاکستان سے بذریعہ ایران، ترکی اور پھر یونان تک پہنچانے کی قیمت چار ہزار امریکی ڈالرز تک وصول کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ایک سروے میں یہ بھی کہا گیا کہ چند افراد نے اس زمینی سفر کی قیمت پانچ ہزار ڈالرز سے بھی زائد کی۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان سے غیرقانونی طور پر ایران داخل ہونے کا معروف راستہ بلوچستان کا سرحدی علاقہ ‘منڈ بوللو’ ہے جہاں سے ایران داخل ہوا جاتا ہے۔

پولیس کے مطابق سرحدی شہر سے گرفتار ہونے والے تمام نوجوانوں کو وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

کورونا کے بعد ایک مرتبہ پھر غیرقانونی طریقے سے یورپ جانے کی کوششوں میں اضافہ
کوئٹہ میں ایف آئی اے کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جب کورونا کے حوالے سے سخت پابندی تھی تو زمینی راستے سے غیر قانونی طور بیرونی ممالک جانے والے افراد کی تعداد لگ بھگ صفر ہوگئی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ جونھی کورونا کے حوالے سے سفری پابندیوں میں نرمی ہوئی ہے تو ایک مرتبہ پھر غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی کوششوں میں بہت زیادہ ہوا ہے۔

ایف آئی اے کے اہلکار نے بتایا کہ صرف جولائی کے مہینے میں غیر قانونی طور پر ایران داخل ہونے والے 263 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ 14 سہولت کاروں کی گرفتاری اس کے علاوہ ہے۔

زمینی راستے سے پاکستان سے غیر قانونی طور بیرون ملک جانے کی کوشش کرنے والوں کو سب سے پہلے انسانی اسمگلر ایران لے جاتے ہیں۔ ایران کے بعد وہ ترکی پہنچتے ہیں جبکہ ترکی سے یونان میں داخل ہوکر یورپی ممالک کا رخ کرتے ہیں۔

چونکہ ایران کے ساتھ بلوچستان کے پانچ اضلاع کی ساڑھے نو سو کلومیٹر سے زائد کی سرحد لگتی ہے اس لیے انسانی سمگلر انھیں ان اضلاع سے ایران میں داخل کراتے ہیں۔ ان اضلاع میں چاغی، واشک، پنجگور، کیچ اور گوادر شامل ہیں۔

ایران سے متصل ان پانچ اضلاع کے سرحدی علاقے انتہائی دشوار گزار راستوں پر مشتمل ہیں اس لیے نگرانی بہت زیادہ مشکل ہونے کے باعث وہ ان راستوں سے پہلے ان کو ایران میں داخل کراتے ہیں۔

پانچ چھ سال قبل غیر قانونی طور پر ایران جانے کی کوشش کرنے والے لوگوں کی اکثریت کو مکران ڈویژن کے دو اضلاع کیچ اور گوادر سے ایران لے جایا جاتا تھا۔

یہ افراد پہلے کراچی میں جمع ہوتے تھے جہاں سے گاڑیوں کے ذریعے کیچ اور گوادر کے سرحدی علاقوں سے ان کو ایران میں داخل کرایا جاتا تھا۔

لیکن اب انسانی سمگلروں نے اس روٹ کی بجائے کوئٹہ تفتان روٹ کو زیادہ استعمال کرنا شروع کیا ہے۔

ضلع چاغی سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی علی رضا رند نے بتایا کہ پہلے والے روٹ کی بجائے کوئٹہ تفتان روٹ پر زیادہ انحصار کی شاید ایک بڑی وجہ کیچ اور اس سے متصل علاقوں میں ہونے والے وہ حملے ہیں جن میں غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے کی کوشش کرنے والوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب چاغی میں لانے کے بعد ان افراد کو چاغی سے متصل واشک کے علاقے ماشکیل اور اس سے جڑے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقوں سے ایران پہنچایا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ ضلع کیچ اور اس سے متصل بعض علاقے شورش سے زیادہ متاثر ہیں۔ چند سال قبل ضلع کیچ کے سرحدی علاقوں سے غیر قانونی طور پر ایران جانے والے پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد پر ہونے والے حملوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔

ایف آئی کے حکام کے مطابق ان افراد کا زیادہ تر پنجاب سے ہوتا ہے لیکن غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے کی کوشش کرنے والوں میں خیبر پختونخوا اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاوہ افغانستان کے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں۔

کوئٹہ میں ایف آئی اے حکام کے مطابق جب تک پنجاب میں انسانی سمگلروں کے خلاف موثر کارروائی نہیں کی جاتی اس وقت تک انسانی سمگلنگ کا خاتمہ ممکن نہیں۔

ایف آئی اے کے اہلکار نے بتایا کہ افغانستان سے بھی جو لوگ غیر قانونی طور پر یورپی ممالک یا ایران جانا چاہتے ہیں ان کو بھی انسانی سمگلر بلوچستان کے راستوں سے لے جاتے ہیں۔

یورپ تک پہنچنے کا سفر آسان نہیں؟
یورپ تک کا زمینی راستوں سے یہ سفر نہ صرف انتہائی مشکل بلکہ زندگی کو داﺅ پر لگانے والا سفر ہوتا ہے۔

غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے والوں کے لیے اس مشکل آغاز کوئٹہ یا کسی اور علاقے سے ایرانی سرحدی علاقوں کے لیے سفر کے ساتھ شروع ہوتا ہے لیکن اصل مشکل کا سامنا ایران سے متصل سرحدی علاقوں میں اور اسکے بعد کرنا پڑتا ہے۔

کوئٹہ سے ایران تک سفر کے دوران ان افراد کی ایک بڑی تعداد کی گرفتاری بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھ ہوتی ہے ۔

بلوچستان کے بعد ایرانی حدود میں آنے والے سرحدی علاقے نہ صرف دشوار گزار ہوتے ہیں بلکہ ایرانی سرحدی فورسز کے اہلکار غیر قانونی طور پر داخل ہونے والی گاڑیوں اور لوگوں پر فائرنگ بھی کرتے ہیں جس میں بعض لوگ ہلاک اور زخمی ہوتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں بڑی تعداد میں نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر ممالک سے بھی غیر قانونی تارکین وطن نے یورپ پہنچنے کی کوشش کی

چونکہ ان افراد کو ایران میں ایک بڑے علاقے سے گزرنا ہوتا ہے اس لیے ان کی ایک بہت بڑی تعداد کی ایرانی سیکورٹی فورسز کی ہاتھوں گرفتاری بھی عمل میں آتی ہے۔

ایف آئی اے کے اہلکار نے بتایا کہ یہی وجہ ہے آئے روزایرانی حکام ان افراد کو بلوچستان کے سرحدی شہر تفتان میں سرحدی حکام کے حوالے کرتے رہتے ہیں۔

ایف آئی اے کے اہلکار نے بتایا کہ ایسے لوگ جو پاکستان میں گرفتار ہوتے ہیں یا ایران میں گرفتار ہونے کے بعد ڈی پورٹ کیے جاتے ہیں ان کی اوسطاً سالانہ تعداد 20ہزار سے زائد ہوتی ہے۔

ایف آئی کے اہلکار کا کہنا تھاکہ جس طرح پاکستان اور ایران کے سرحدی علاقے دشوار گزار ہیں اسی طرح ایران اور ترکی کے سرحدی علاقے بھی انتہائی دشوارگزار ہونے کے ساتھ سردیوں میں برف سے بھی ڈھکے رہتے ہیں۔

اہلکار کے مطابق ان علاقوں میں کبھی کبھار پھنس جانے کی وجہ سے متعدد افراد کی موت بھی واقع ہوتی ہے جن کو انہی علاقوں میں دفن کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح ان لوگوں کو ترکی اور یونان کے سرحدی علاقوں میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ایف آئی اے کے اہلکار نے بتایا کہ مشکلات کے باوجود بہت سارے لوگ ان راستوں سے یورپ پہنچ جاتے ہیں لیکن ان کے مقابلے میں ایک بہت بڑی تعداد کو گرفتاریوں کا سامنا کرنے کے علاوہ جمع پونجی سے بھی ہاتھ دھونا پڑتا ہے کیونکہ انھیں ایک بہت بڑی رقم انسانی اسمگلروں کو ایڈوانس دینا ہوتی ہے۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: