مریم مجید مغل ایڈووکیٹ
اے میرے ہم نشین چل کہیں اور چل اس چمن میں اپنا گزاراہ نہیں۔
بات ہوتی گلوں تک تو سہہ لیتےہم’اب تو کانٹوں پہ بھی حق ہمارا نہیں۔
ایکٹ 74 جس کو خطہ ریاست آزاد جموں کشمیر(پاکستانی زیر انتظام جموںکشمیر) کا نمائندہ آئین کا درجہ بس کہنے کی حد تک دیا گیا یہ پاکستان کو با اختیار بناتا ھے کہ اگر آزاد کشمیر(پاکستانی زیرانتظام کشمیر) میں ایسے حالات ہو جائیں جس سے حکومت پاکستان کے دفاع کو خطرہ ہوتو آزاد گورنمنٹ کو برطرف کر سکتی ھے۔ اس آئین کے تحت کوئی فرد یا جماعت تب تک آزاد کشمیر کے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتی جب تک وہ الحاق پاکستان کے خلف نامے پر دستخط نہ کرے۔ پولیس آئی-جی، سیکریٹری فنانس،چیف سیکر یٹری، اکاونٹینٹ جنرل اور سیکریٹری صحت اور دوسرے عہدے لینٹ افسران کو دئیے جاتے ہیں اور اہم بات یہ کہ ان سب کا پاکستانی باشندہ ہونا ضروری ھے۔ آزاد کشمیر کے اپنے آئین کہ تحت ہی آزاد جموں کشمیر کونسل بنائی گئ۔ ٹیکس کولیکشن، انڈسٹری لگانے اور ججز کی تعیناتی جیسے احتیارات بھی کشمیر کونسل کے پاس ہیں۔اپنے مالیاتی احتیارات میں یہ کونسل مکمل آزاد ھے حتی کے ریاست جموں کشمیر کو بھی جواب دہ نہیں۔ ریاستی باشندے سالانہ اربوں کے حساب سے فنڈز فراہم کرتے ہیں جنکا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہوتا۔
ابھی تک اس عبوری آئین میں 13 ترامیم کی گئ ہیں اور 14th ترامیم زیر غور ھے۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ یہ ترامیم آزاد ریاست جموں کشمیر کو زیادہ بااختیار بناتی مگر یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ھے۔
اس پر مزید بات کرنے سے پہلے ہم ساعتوں کا گھوڑا کچھ پیچھے کی طرف دوڑاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ 5 جنوری 1949 میں حق خود ارادیت جو کسی بھی آزاد ریاست یا آزادی کی راہ پر چلنے والی ریاست کی بنیاد ہوتی ھے سر ظفر جمالی پاکستان کے وزیر خارجہ نے UNO میں ایک عرضداشت بھیجی جس پر بھارت نے کوئی اعتراض نہ کرا اور حق خود ارادیت کو پس پشت ڈال کر بڑے ہی خوش اسلوبی سے مطالبے کو محض پاکستان یا بھارت کے ساتھ الحاق تک محدود کر دیا گیا۔ مگر اس پر کوئی خاطر خواہ ایکشن نہ ہوا اور اسی طرح ریاست جو اپنی الگ شناخت’ تہذیب و تمدن اور بالارستی کی علامت ہوتی ھے اب 14th ترمیم کے تحت لفظ “ریاست” خذف کرنے کی تجویز پیش کی گئ ھے جو کہ ریاست جموں کشمیر کے باشندوں کے لیے کسی طور خوش آئیند بات نہیں ہو سکتی۔
اسی طرح 28 اپریل 1949 کو ایک معاہدہ کراچی عمل میں لایا گیاجس میں گلگت بلتستان کو ریاست جموں کشمیر سے الگ کر کے سر دھڑ سے جدا کر دیا گیا۔اور برائے راست پاکستان کی تحویل میں دیتے ہوئے یہ بھلا دیا گیا کہ مستقبل قریب میں اسکا خمیازہ چاہئے پاکستان کا صوبہ بنانے کی صورت میں ہو یا گلگت بلتستان کا خطہ آزاد ریاست جموں و کشمیر سے قطع تعلقی اور عوام میں عدم اعتماد کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔
اس میں مزید یہ شامل ہے کہ حکومت آزاد ریاست جموں کشمیر اور آزاد کشمیر اسمبلی دفاع’ کرنسی’ اقوام متحدہ کمیشن برائے بھارت و پاکستان اور خارجہ پالیسی پر کوئی قانون سازی نہیں کرے گی۔ اگر یہ تجویز دی جا رہی ھے ترمیم کے لیے تو ایسا ہونا چاہیئے کہ آزاد گورنمنٹ ہونے کے ناطے 73 سالوں میں ریاستی باشندوں کا اتنا حق ہو کہ وہ اپنے مطالبات برائے راست اپنے ہی منتخب کردہ ریاستی باشندوں کے ذریعے اقوام عالم اور اقوام متحدہ کے سامنے رکھ سکیں۔
مزید یہ کہ آزاد کشمیر کے کسی باشندے کو یہ اجازت نہیں ہو گی کہ وہ الحاق پاکستان کے خلاف کوئی پراپیگنڈا کرے یہاں ایک بات قابل ذکر ھے کہ کشمیری باشندے کسی پراپیگنڈا کا حصہ نہیں بنتے بلکہ حق خودارادیت مانگتے ہیں جو کہ پہلا اور بنیادی حق ھے اور پاکستان کے آئین 1973 کے آرٹیکل 257 کے تحت بھی ریاست جموں کشمیرکے باشندوں کو حاصل ھے۔ اب الحاق پاکستان کے خلاف کسی پراپیگنڈا کرنے کا نام دے کر ریاستی باشندوں کے بولنے کا حق بھی محدود کیا جا رہا ھے۔ اور دیکھا جائے تو بڑھتے ہوئے شعور آزادی اور آگاہی کو مزید روکنے کی طرف اقدام بھی لگتا ھے۔
انڈین مقبوضہ کشمیر(بھارتی زیر انتظام جموںکشمیر) میں بھی بھارت نے اپنے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35A ختم کر کہ یونینز بنا دی۔ جیسے جیسے ریاست مستحکم اور متحد ہونے کی طرف گامزن ہو رہی سے ویسے ویسے انڈین مقبوضہ کشمیر اور آزاد جموں کشمیر میں قانون سازی اور ترامیم وقوع پزیر ہو رہی ہیں۔ 14th ترامیم کہ تحت آزاد کشمیر میں انڈین مقبوضہ کشمیر کے لیے 12 نشستیں مختص کی جا رہی ھیں جو کہ تب تک خالی رہیں گی جب تک وہ حصہ بھارت کےتسلط سے آزاد نہیں ہو جاتا اب یہاں پر ہر ذی شعور کی طرف سے سوال اٹھانا بنتا ھے کہ جو چیز ابھی کسی اور کے زیر اقتدار ھے اسکے لیے نشستیں خالی چھوڑ کر سیاسی خلاء پیداکرنے کا کیا جواز ھے؟ اس وقت ضرورت اس امر کا ھے کہ گلگت بلتستان اور آزاد جموں کشمیر کی جوائنٹ اسمبلی بنائی جائے اور گلگت بلتستان کی نشستیں متعین کر کے آزاد جموں کشمیر میں ریپریزنٹیشن دی جائے ۔ بلدیاتی الیکشن پچھلے کئ برسوں سے نہیں ہو رہے آزاد جموں کشمیر گورنمنٹ کو چاہیئےکہ اس طرف اپنی توجہ مبزول کرے تاکہ چھوٹے درجہ پر بھی ایڈمنسٹریٹیو کام ہو سکیں۔
اسی طرح کشمیر کونسل کے ذریعے منظور کردہ بل کے لیے صدر کی رضا مندی ضروری نہیں ہو گی اور کونسل کے چئیرمین کے ذریعے اسکی توثیق ہونے پر قانون بن جائے گا جو کونسل کا ایکٹ کہلائے گا۔
اگر ہم بات کریں 13th ترمیم کی تو آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی اور آزاد جموں کشمیر کونسل کی 13th ترمیم کے حوالے سے ہونے والے اجلاس نے آزاد جموں کشمیر کی 70 سالہ پرانی انتظامی تاریخ میں ایک اہم کامیابی حاصل کی تھی
یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ کشمیر کونسل کے اختیارات کی منتقلی نے آزاد جموں کشمیر حکومت کو نہ صرف مالی طور پر بااختیار اور خود مختار بنایا تھا بلکہ حکومت پاکستان میں بھی متعلقہ معاملات کو براہ راست حل کرنے میں مدد دی تھی۔
مبینہ طور پر ایکٹ 74 آزاد جموں کشمیر آئین میں13th ترمیم سے قبل کشمیر کونسل اعلی بیوروکریسی کے رحم و کرم پر تھی۔ یہ بھی دیکھا جا سکتا ھے کہ کشمیر کونسل منتخب قانون ساز اسمبلی کے مقابلے میں زیادہ مالی اور انتظامی اختیارات سے لطف اندوز ہو رہی تھی اور اس بات پر یقین رکھتی تھی کہ آزاد کشمیر میں ایک متوازی اتھارٹی کے طور پر کام کر رہی ھے ۔
کشمیر کونسل آزاد جموں کشمیر کے 52 مضامین/محکموں کو اپنے انڈر کنٹرول چلا رہی تھی جن میں اہم لینڈ ریونیو (انکم ٹیکس، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن) ڈیپارٹمنٹ بھی شامل تھے۔
اس 13th ترمیم نے نہ صرف کونسل کے مالی اور انتظامی دونوں اختیارات کو کلپ کیا تھا بلکہ ان اختیارات کو واپس آزاد جموں کشمیر حکومت کو منتقل کیا تھا اس طرح 73 سالوں میں آزاد جموں کشمیر اتھارٹی کو وسعت دی گئی تھی۔
اب جہاں کشمیر کونسل کے خاتمے نے آزاد کشمیر کو مالی طور پر مستحکم کیا اب اس 14th ترمیم کے بعد آزاد کشمیر گونمنٹ کا کوئی پرسان حال نہیں ہوئے گا۔آزاد جموں کشمیر کو ملی ہوئی اتھارٹی پھر سے چلی جائے گی جو اس بات کا ثبوت ہو گی کہ آزاد جموں کشمیر کسی حوالے سے آزاد ریاست کا درجہ نہیں رکھتی مزید ستم یہ کہ کوئی بھی ترمیم یا قانون سازی کرتے وقت آزاد جموں کشمیر کی حکومت کو براہ راست اعتماد میں نہیں لیا جاتا اور 14th ترمیم کرتے وقت بھی یہی ہوا، ترمیم کا مسودہ تیار کر کے آزاد جموں کشمیر کی اسمبلی کو متعین وقت میں منظور کرنے کے لیے بھیج دیا گیا۔
مختصرا یہ کہ 73 سال گزرنے کے بعد ریاست جموں کشمیر کے باشندوں کا حق’ شناخت اور سالمیت مضبوط و مربوط ہونے کی بجائے مزید خستہ خالی کا شکار ہوتی جا رہی ھے آزاد کشمیر کی دور حاظر حکومت اور عوام دونوں کو اپنے روشن مستقبل کو مد نظر رکھتے ہوئے خاطر خواہ اقدام کرنے کی اشد ضرورت ہے یہ نا ہو کہ بعد میں چڑیا چگ جائیں کھیت اور ہاتھ نہ آئےکچھ۔۔












18 تبصرے “متوقع14ویں ترمیم کے تناظر میں۔۔”