زمینی خدا اور کمیونزم

تحریر:التمش تصدق (ایڈیٹر عزم این ایس ایف)

جب بھی کمیونسٹ سرمایہ دارنہ نظام کے ظلم اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں تو ان پر یہ الزام لگایا جاتا ہے یہ لوگ مذہب کے خلاف ہیں.یہ لوگ خدا کو نہیں مانتے.حکمران طبقات کے اس الزام کو اگر درست مان لیا جائے تو دوسرے لفظوں میں وہ خود کو مذہب اور خدا کہہ رہے ہیں. جو کروڑوں محنت کشوں کی تقدیر کا فیصلہ کرتے ہیں.کہاں جنگ مسلط کرنی ہے کہاں قحط سے غریبوں کو مارنا ہے. کہاں بم دھماکے کرنے ہیں تو کہاں بمباری کرنی ہے. جن کی لوٹی ہوئی دولت پر اعتراض کرنا توہین ہے اور اس دولت کی مشترکہ ملکیت کا مطالبہ شرک.

اللہ تعالیٰ کے نذیک تو سب برابر ہیں پر زمین پر انسان کی برابری الحاد،غریب کی مدد کی جائے لیکن کوئی مستقل غربت کے خاتمے کی بات کرے وہ گناہ، غربت، جہالت، لاعلاجی، بیماری اور بیروزگاری کی وجوہات کیا ہیں؟

جی یہ سب کچھ تقدیر ہے خدا کی طرف سے لکھا ہے.کون سے خدا کی؟

انہی زمینی خداؤں کی طرف سے جن کا قبضہ ہے زمینوں پر،کارخانوں پر بینکوں پر ریاستوں پر سیاست پر، جن کی دولت اور ملکیت کے محافظ فرشتے ہیں جو مسلحہ جتھوں فوج اور پولیس کی صورت میں موجود ہیں.

کون نیک اور کون بد ہے اس کا فیصلہ انہی سرمایہ داروں کے بنائے ہوئے قوانین کرتے ہیں.عزت کا معیار تقویٰ نہیں دولت ہے.

بدکار کون ہے؟ جو غریب ہے، مزدور ہے، مجبور ہے.

جاہل کون ہے؟ جو سوال کرتا ہے، سوچتا ہے، جوزمینی خداؤں کی اطاعت نہیں کرتا،جو طبقاتی تقسیم کو خدا کی تقسیم نہیں مانتا، یعنی وہ سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور بینک کاروں کو خدا تسلیم نہیں کرتا وہ انکار کرتا ہے، منکر ہے، وہ جاہل ہے، جو اتنا بھی نہیں جانتا کہ ہماری اجازت کے بغیر یہاں پتہ بھی نہیں ہل سکتا. اس جہالت کی سزا سنائی جائے اگر برائے راست فرشتوں(پولیس اور فوج) کی کارروائی سے اس مخلوق کی عزت پر حرف آتا ہے تو مشعال خان کی طرح توہین مذہب کا الزام لگا کر قتل کر دیا جائے.

عالم کون ہے؟ عالم وہ ہے جو علم کا سب سے بڑا دشمن ہو، جس کے منہ سے وہی لفظ نکلیں جو حاکم وقت کے مفادات کی تکمیل کریں. مختصر یہ کہ زبان چاہے کسی کی بھی ہو لفظ ان کے مطلب کہ نکلنے چاہئیں.

عابد کون ہے؟ جو ان کے دربار میں سجدہ ریز ہو جائے، وہ سب صحافی، وکیل، مذہبی پیشوا، استاد اور فنکار عابد ہیں جو انکے حق میں ہیں اوراس عبادت کا اجر اجرت کی صورت میں وصول کرتے ہیں.

مٹهی بر ایک فیصد لوگوں کا اقتدار اسی فریب سے قائم ہے. جنہوں نے محکوموں کے حقوق کے لیے کی جانے والی جدوجہد کو غیر اخلاقی اور غیر قانونی بنایا ہوا ہے.

حقیقت میں ان کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ زر پرست ہیں نہ کہ خدا پرست. جن کو خدا پر یقین نہیں ہے دولت پر یقین ہے. دولت کی ہوس نے انہیں اس قدر اندها کر دیا ہے کہ اور کچھ بھی انہیں نظر نہیں آتا.

کروڑوں محنت کشوں کی پیدا کردہ دولت کو لوٹنے میں یہ اس قدر مصروف ہیں کہ زندگی کی حقیقت بھی بھول چکے ہیں. ان کی لوٹی ہوئی دولت کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ ان کی نسلیں بھی ختم نہیں کر سکتی.

سرمائے کی نہ ختم ہونے والی ہوس نے انسان کو درندہ بنا لیا ہے. جن کا مذہب لوٹ مار ہے. جن کی قوم دولت ہے. امریکی سامراج انکا کعبہ ہے.

دنیا کے تمام سرمایہ دار بھائی بھائی ہیں، چاہے ان کا تعلق کسی قوم یا مذہب سے ہو. ان کے لیے کوئی سرحدوں کی قید نہیں ہے. ان کے کاروبار دنیا کے مختلف ممالک میں ہیں. جہاں چاہیں جا سکتے ہیں. جہاں چاہیں رہ سکتے ہیں. الگ الگ قوموں اور مذہب سے تعلق رکھنے والے سرمایہ داروں کا مشترکہ کاروبار ہے. یہ مزدور طبقے کی محنت سے پیدا کی ہوئی دولت کو لوٹنا اپنا حق سمجھتے ہیں.مزدور طبقہ جب اپنے حقوق کے لیے اٹھتا ہے تو کہیں انکا مذہب خطرے میں پڑ جاتا ہے تو کہیں وطن.کیوں کے مذہب بھی یہ خود ہیں اور قوم بھی خود ہیں.

دوسری طرف محنت کشوں کو مذہبی،لسانی ، علاقائی اور قومی بنیادوں پر تقسیم کیا جاتا ہے کہ کہیں انہیں ان کے مشترکہ دشمن طبقات پر نظر نہ پڑھ سکے، جو صدیوں سے انہیں لوٹ رہے ہیں. کمیونسٹوں کے یہ اس لیے دشمن ہیں کہ کمیونزم کا فلسفہ محنت کشوں کو تمام تعصبات سے بالاتر ہو کر طبقاتی بنیادوں پر متحد ہونے کی ترغیب دیتا ہے.

مارکس کا دیا گیا نعرہ ”دنیا بھر کے محنت کشو ایک ہو جاؤ” سرمایہ داروں کے نظام کی موت ہے. کمیونسٹ سرمایہ داروں کے مذہبی دشمن نہیں ہیں بلکہ طبقاتی دشمن ہیں. ان کے مخالف محنت کشوں کے لیے کمیونزم ایک اوزار ہے جس سے مزدور انکے نظام پر وار کرتے ہیں.

کمیونزم آئینہ ہے سماج کا جو دکھاتا ہے کہ سماج کیسے وجود میں آئے، کون کون سے مراحل سے گزرتے ہوئے یہاں تک پہنچے اور کون سا طبقہ ہے جس کی بدولت یہ سماج چل رہا ہے.

وہ محنت کش طبقہ ہے جس کا ہاتھ چلتا ہے تو یہ نظام چلتا ہے اگر ایک دن وہ اپنا ہاتھ روک لے تو نظام زندگی درہم برہم ہو جائے. کوئی گاڑی نہ چل سکے. کوئی فیکٹری نہ چل سکے، کوئی ہوائی جہاز نہ اڑ پائے، حتیٰ کہ بجلی کا بلب بھی انہی کے مرہون منت ہے.

لیکن یہ جو طبقہ زندگی دیتا ہے خود ہی زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم ہے. جو ہر شے کا خالق ہے اپنی ہی پیدا کردہ اشیاء کا غلام ہے. وہ کسان جو سارے ملک کے لیے گندم پیدا کرتا ہے اس کے گھر میں فاقے ہیں. جو مزدور کپڑے بناتے ہیں ان کی اپنی اولاد ان سے محروم ہے. کیونکہ وہ اپنے لیے نہیں بلکہ سرمایہ داروں کے لیے اشیاء پیدا کرتے ہیں. جو مہنگے داموں فروخت کی جاتی ہیں. قوت خرید نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنی بنائی ہوئی چیز کو دور سے ہی دیکھ سکتا ہے.

کمیونزم مزدوروں کو اپنی پیداوار کا حاکم بنانے کی بات کرتا ہے اور پیداوار کے مقصد کو چند سرمایہ داروں کے منافع کے خلاف انسانی ضروریات کی تکمیل قرار دیتا ہے. تمام قدرتی اور انسانی وسائل کو انسانوں کے اجتماعی ملکیت کے حصول کی جدوجہد کا درس دیتا ہے.

اور فلسفہ کمیونزم مزدوروں کا رہنما ہے، جو طریقہ کار بتاتا ہے کہ کیسے اس سرمایہ دارانہ استحصالی نظام کا خاتمہ کر کے طبقات سے پاک انسانی معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے. جہاں انسان حقیقی معنوں میں انسان ہو گا، جہاں نفرتیں تعصبات، مقابلہ بازی جیسی غلاظتوں کی مادی وجوہات ختم ہو جائیگی. ہر انسان کو اسکی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملے گا.

یہ وہ کمیونزم کی سچائی ہے جس نے ان زمینی خداؤں کی چیخیں نکالی ہیں. بہت جلد مزدور ان سے اس خدائی کو چھین کر اپنی تقدیر خود لکهیں گے.

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: