میرپور زلزلہ : حکومتی اقدامات ، چیلنجز

رپورٹ : شوکت علی ملک (محکمہ تعلقات عامہ)

24 ستمبر کے میرپور و مضافات میں شدید زلزلہ کے نتیجہ میں ہونے والے نقصانات کے فوری ازالہ کے لئے حکومت کو ساڑھے پانچ ارب سے زائد فنڈز درکار ہوں گے جبکہ درپیش چیلنجز میں فنڈز کی دستیابی کے علاوہ سردیوں میں لگ بھگ ایک ہزار خاندانوں کی رہائش کے لئے شیلٹرز بھی درکار ہوں گے ۔ اس وقت یہ خاندان خیموں میں رہائش پذیر ہیں ۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کی ہدایت پر سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو فیاض علی عباسی کی زیر نگرانی زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میںاب تک ہونے والے سروے کے مطابق 40اموات ہوئیں ۔ 180افراد شدید زخمی جبکہ 1046معمولی زخمی ہوئے اور دو افراد تاحیات معذور ہو گئے ۔ 45018گھروں کا سروے کیا گیا جن میں 2575پکے مکانات کو مکمل طور پر جبکہ 6249جزوی طور پر نقصان پہنچا ، کچے مکانات میں 435گر گئے جبکہ 1081کو جزوی نقصان پہنچا اور 1101حفاظتی دیواریں بھی گر گئیں ۔مکمل تباہ ہونے والوں کی کل تعداد 390رہی جبکہ 7330کو جزوی نقصان پہنچا۔سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو فیاض علی عباسی کی حکومت کو دی گئی بریفنگ کے مطابق 375کمرشل ڈیری ، 561ڈیری شیڈز ، 37پولٹری شیڈز، 515بھینسیںاور گائیں ،137بکریاں اور بھیڑیں ، 44چھوٹی گاڑیاں اور 14موٹر سائیکل کا بھی نقصان ہوا۔ سرکاری انفراسٹرکچر میں 37سکولوں کی عمارتیں متاثرہ ہوئیں جن میں 10سکول مکمل جبکہ 27جزوی طور پر متاثر ہوئے ، 2کالجوں کی عمارت مکمل جبکہ 2جزوی ، ایک سرکاری عمارت مکمل جبکہ 3جزوی ، ایک ہاسٹل مکمل اور ایک کی عمارت کو جزوی نقصان پہنچا اس کل 54سرکاری عمارات متاثر ہوئیں ۔ زلزلہ سے 14کلومیٹر لمبی سڑکیں مکمل جبکہ 13کلومیٹر کو جزوی نقصان پہنچا کل 27کلومیٹر سڑکیںمتاثر ہوئیں ۔اندازے کے مطابق3010مکمل تباہ شدہ مکانات کے لئے 3ارب ایک کروڑ ، جزوی متاثرہ 7330مکانات کیلئے 2ارب 19کروڑ 90لاکھ ، جو کل متوقع اخراجات 5ارب 20کروڑ 90لاکھ روپے بنتے ہیں چاہیے ہونگے جبکہ نقصان زدہ 44گاڑیوں کے لیے 33لاکھ ، 515گائیں بھینسیں، بچھڑوں کا نقصان پورا کرنے کے لیے 5کروڑ 15لاکھ، 137بکریوں اور بھیڑوں کا نقصان 20لاکھ 55ہزار ، 973تباہ پولٹری و ڈیری شیڈز کے نقصان کے لیے 4کروڑ 86لاکھ 5ہزار روپے ہوئے جو کل 10کروڑ 55لاکھ 5ہزار بنتے ہیں درکار ہیں ۔ اسی طرح پبلک انفراسٹرکچر کی بحالی کے لئے 4ارب 62کروڑ 33لاکھ 80ہزار درکار ہوں گے ۔ جن میں صحت 6کروڑ 5لاکھ ، سکولز 43کروڑ 62لاکھ 71ہزار ، کالجز 33کروڑ 82لاکھ ، مسٹ 25کروڑ 12لاکھ 26ہزار ، پل اور سڑکیں 1ارب 54کروڑ 84لاکھ 67ہزار ، پی ڈبلیو ڈی کی بلڈنگز (جیل ، پی ایس ، ایس سی ، پاسپورٹ آفس)1ارب 27کروڑ 10لاکھ لوکل گورنمنٹ کے تحت انفراسٹرکچر 41کروڑ 90لاکھ ، آبپاشی و چھوٹے ڈیمز1کروڑ 24لاکھ 65ہزار ، زراعت 13کروڑ 90لاکھ ، بجلی 9کروڑ 30 لاکھ ، میونسپل کارپوریشن 4کروڑ86لاکھ 71ہزار۔ اوقاف 50لاکھ ، دیگر ادارے 5لاکھ 80ہزار روپے کے فنڈز درکار ہوں گے اور یہ کل درکار فنڈز4ارب 62کروڑ 33لاکھ 80ہزار روپے بنتے ہیں ۔اسی طرح اموات اور زخمیوں کے لیے معاوضہ کی ادائیگی کے لئے 14کروڑ 79لاکھ درکار ہوں گے ۔ زلزلہ کے بعد ریسکیو آپریشن میں آزاد جموں وکشمیر ، پنجاب اور کے پی کے کی ٹیموں نے حصہ لیا۔ افواج پاکستان کی یونٹس بھی تعینات کی گئیں ۔ سول سوسائٹی ، غیر سرکاری تنظیموں اور حکومتی محکموں نے بھی ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا ۔ وزیر اعظم آزادحکومت جو زلزلہ کے وقت لاہور تھے فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں پہنچے اور ریسکیو سرگرمیوں کی سپر ویژن کی اسی دوران اعلیٰ شخصیات نے متاثرہ علاقوں کے دورے بھی شروع کئے ۔ زلزلہ کے فوری بعد اپر جہلم کنال کو بند کر دیا گیا ۔ شہداءکی میتیں برآمد کر کے اور زخمیوں کو ملبہ سے نکال کر ہسپتالوں میں منقل کیا گیا اور اس طرح ریسکیو آپریشن 24گھنٹوں میں مکمل کر لیاگیا ۔ بریفنگ کے مطابق 24گھنٹوں میں ہی 90فیصد متاثرہ علاقوں میں بجلی کی سپلائی بحال کی گئی ، کھڑی شریف جاتلاں ہائی وے 48گھنٹوں میں استعمال کے قابل بنائی گئی ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال کے نئے بلاک کو زلزلہ متاثرین کے لیے کھول دیا گیا ۔ اس طرح این ڈی ایم اے ، ایس ڈی ایم اے ، پی ڈی ایم اے، پاکستان آرمی ، سول ایڈمنسٹریشن اور این جی اوز ریلیف آپریشن کا حصہ بن گئیں ۔ اس موقع پر ایس ڈی ایم اے کے پاس سٹاک شدہ ریلیف ایٹمز مظفرآباد سے میر پور روانہ کی گئیں ۔ چیئرمین این ڈی ایم اے ریلیف اشیاءکے ساتھ موقع پر پہنچے ۔پی ڈی ایم پنجاب ، کے پی کے اور سندھ کے سینئر آفیشلز بھی موقع پر پہنچے اور ریلیف کی اشیاءحوالہ کیں ۔ اسی دوران کمشنر آفس میں کرائسس مینجمنٹ سنٹر قائم کیا گیا جس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور این آری ایس پی کی نمائندگی بھی شامل تھی ۔ متاثرہ علاقوں کو 7زونز میں تقسیم کیا گیا اور ہر زون کی سربراہی کے لئے اسسٹنٹ کمشنر کو تعینات کیا گیا ۔ متاثرہ خطرناک عمارتوں کی فہرستوں کی تیار ی کے لئے ماہر سٹرکچرل انجینئر ز کی ٹیم بنائی گئی اور ساتھ ہی متاثرہ علاقہ کو آفت زدہ قرار دیا گیا اور کمشنر میرپور ڈویژن کو ریلیف کمشنر مقرر کیا گیا ۔ بریفنگ کے مطابق نقصانات کا تخمینہ لگانے کیلئے آئی ٹی بورڈ نے فوری طور پر اپلیکیشن تیار کی ، 30تخمینہ لگانے والی فلمیں بنائی گئیں جن میں محکمہ مال ، لوکل گورنمنٹ ، فزیکل پلاننگ اینڈ ہاﺅسنگ ، این آر ایس پی اور این ڈی ایم اے کے نمائندے شامل تھے ۔ فیلڈ سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کو آئی ٹی بورڈ سرور آن لائن اور ان کی ہارڈ کاپیاں تیار کر کے محفوظ کی گئیں ۔ بحالی کے دوران این ڈی ایم اے نے اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کے نمائندوں کے دورہ کا اہتمام کیا تاکہ متاثرین زلزلہ کی حوصلہ افزائی کی جاسکے ۔ چیئرپرسن بی آئی ایس پی احساس پروگرام نقصان کے تخمینہ میں گہری دلچسپی دکھائی مختلف بین الاقوامی این جی اوز نے بھی بحالی میں بھر پور کردار ادا کیا ۔ جبکہ زلزلہ میں شہید ہونے والوں کے لواحقین کو 10لاکھ فی شہید دیے گئے ۔ حکومت نے متاثرہ علاقوں میں بجلی کے بلوں اور بنک قرضہ جات کی ادائیگی میں نرمی کا اعلان کیا ۔ زلزلہ کے بعد اقوام متحدہ اور انسانی بنیادوں پر کام کرنے والی تنظیموں کے ساتھ رابطے کئے گئے یکم اکتوبر کو اجلاس بلایا گیا جس میں 12یواین ایجنسیوں نے شرکت کی ۔ اسی اجلاس میں مستقبل کی تعمیر کے حوالے سے منصوبہ بندی پر تبادلہ خیال کیا گیا اور مستقبل کے چیلنجز کی نشاندہی کی گئیں ۔ اجلاس میں تمام ایجنسیوں نے حکومت آزاد کشمیر کو اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔اب تک اقوام متحدہ کی ایجنسیوں اور دیگر غیر سرکاری تنظیموں کی طرف سے ملنے والا رسپانس اس طرح ہے ۔ ڈبلیو ایف پی نے متاثرہ علاقوں میں سکولوں کے بچوں ، بنیادی مراکز صحت کے لئے خوراک کے پیکجز ، اور کام کر لیے نقدی دی ۔ ےو اےن ڈ ی پی نے سڑکوں کی عارضی مرمت،ہاﺅسنگ ےونٹس اور کام کےلئے نقدی دی،ےونسےف نے سکولز سےفٹی پروگرام کو آرڈینیشن مےں مدد کی پی پی اے اےف نے سردےوں کےلئے خےمے دئےے اےن آر اےس پی نے صحت انصاف کارڈز،مائےکروفنانس ٹرےنگز اور سوشل مےڈےا موبلائشن کی مدد کی۔اےکٹرو پاکستان نے 700خاندان اور ان کی ٹرےٹمنٹ کےلئے2300فی کس کے حساب سے گرانٹ دی،ہےنڈز کراچی نے سردےوں کے خےمے کورٹ او ر مسلم ہےڈز نے کم قےمت زلزلہ پروف مکانات کے ےونٹس او ر سےودی چلڈرن ےو کے نے بھی سردےوں کے خےمے دئےے۔برےفنگ کے مطابق16اکتوبر کو سےنٹ کی سٹےنڈنگ کمےٹی کو رےلیف اور بحالی آپرےشن پر برےفنگ دی گئی کمےٹی نے حکومتی اور سرکاری تعلےم کی خدمات کو سراہا اورکہا کہ وہ حکومت آزادکشمےر کو درکار فنڈز کی فراہمی کےلئے حکومت پاکستان کی سفارشات بھےجوائے گی۔برےفنگ مےںتوقع ظاہر کی گئی کہ بےن الااقوامی اےن جی اوز کی طرف سردےوں خےمے مہےا کیے گئے جانے اور ملبہ ہٹانے مےں مدد ملے گی اور حکومت آزادکشمےر زخمےوں کی مالی امداد کےلئے جلد فنڈز مہےا کرے گی۔برےفنگ کے مطابق درپےش چےلنجز مےن سمےک سروے اور بلڈنگ کوڈ پر عملدآمد عمارتوں کو محفوظ بنانے کےلئے ان کو بہتر بنانا،سرکاری انفراسٹرکچر پرائےوےٹ ہاﺅسنگ انفراسٹرکچر کی بحالی اور تعمےر نوکےلئے ادارہ جاتی مےکنزم کی تےاری شامل ہے۔وے فاروڈ میں قلیل المدتی اور طوےل المدتی سٹریٹجی کی تےاری بھی شامل ہے جس مےں کھڑی شرےف جاتلاں روڈ کی ری الاٹمنٹ،بلڈنگ کوڈ کا مکمل نقصان نفاذ ،واٹر سپلائی سکےموں کی بحالی متاثرےن کےلئے عارضی رہائش گاہوں کی فراہمی اور متاثرین کی مالی امدابھی شامل ہے۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: