اسکاٹ لینڈ یارڈ نے برطانیہ کے کشمیری مظاہرین پر 27 اکتوبر 2019 کو بھارتی ہائی کمیشن کے باہر جمع ہونے پر پابندی عائد کردی ہے۔ اس روزبرطانیہ سے ہزاروں کشمیریوں نے بھارت کے خلاف ایک بڑے احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔
پابندیاں پبلک آرڈر ایکٹ 1986 کی دفعہ 14 کے تحت عائد کی گئی ہیں اور مظاہرین کو جلوس کو بھارتی ہائی کمیشن کے باہر آنے سے منع کیا گیا۔
یہ پیشرفت اس وقت ہوئی ہے جب بدھ کے روز برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے پارلیمنٹ میں زور دے کر کہا تھا کہ تشدد اور دھمکیاںقطعی طور پر ناقابل قبول ہیں اس منصوبے کے خلاف احتجاج کی اطلاعات پر ایک رکن پارلیمنٹ کے سوال کے جواب میںجانسن نے مزید کہا تھا کہ اس معاملے کو حل کرنے کے لئے ہوم سکریٹری پریتی پٹیل پولیس سے بات کریں گے۔
مظاہرین نے پارلیمنٹ ہائوس سے انڈین ہائی کمیشن تک ‘فری کشمیر جلوس ‘کیلئے اجازت کی درخواست دی تھی ، تاہم پولیس نے منتظمین سے کہا ہے کہ وہ ٹرافلگر سکوائر کے منظور شدہ روٹ پر احتجاج کر سکتے ہیں۔
ہوم آفس کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ سیکشن 14 کا نفاذ پولیس کیلئے ایک آپریشنل معاملہ ہے جس کا وزارت داخلہ سے کوئی تعلق نہیں۔ پاکستانی اخبار دی نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سرکاری خط وکتابت دیکھی ہے جس میں پولیس نے کہا ہے کہ مسلم ایکشن فورم ، ورلڈ مسلم فیڈریشن ، پاکستان پیٹیاٹرک فرنٹ ، اوورسیز پاکستان ویلفیئر کونسل ، جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی ، پی ٹی آئی اے جے کے یا کشمیر کے کسی بھی حامی گروپ کی حمایت میں 27 اکتوبر کو لندن میں کسی بھی اجتماع کیلئے یہ بات یقینی بنانی ہوگی کہ وہ پارلیمنٹ سٹریٹ پر ہو اور بعدازاں جلوس لازمی طور پر ٹرافلگر سکوائر میں نکالا جائے جس کیلئے پولیس نے منتظمین کو روٹ میپ فراہم کر دیئے ہیں۔












11 تبصرے “لندن: 27 اکتوبر کو بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے کشمیریوںکے احتجاج پر پابندی عائد کر دی گئی”