8 سال سے بھارت میں مقیم پاکستانی ہندو خاندان کے 11 افراد ہلاک

بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع جودھپور میں ایک کھیت میں پاکستان سے انڈیا آ کر رہنے والے ایک خاندان کے گیارہ افراد کی لاشیں ملی ہیں۔ اس خاندان کا اب صرف ایک فرد ہی زندہ بچا ہے۔

راجستھان پولیس نے معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ جائے وقوعہ سے کیڑے مار ادویات کے استعمال کے اشارے ملے ہیں۔ جودھپور کے دیہی علاقے کے پولیس اہلکار راہُل بارہٹ نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو بتایا کہ فارینسک معائنے کے ماہرین نے معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ پولیس کی ابتدئی تفتیش میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے کی وجہ خاندان کا اندرونی مسئلہ ہو سکتا ہے۔

اتوار کے روز کھیت میں لاشیں ملنے پر مقامی افراد نے پولیس کو مطلع کیا۔ سبھی متاثرہ افراد کا تعلق قبائلی بھیل برادری سے تھا جو آٹھ برس قبل پاکستان سے انڈیا گئے تھے اور پھر کبھی واپس نہیں لوٹے۔

پولیس کے مطابق متاثرہ خاندان کرائے پر کھیت لے کر محنت مزدوری کرتا تھا اور اسی سے اپنا پیٹ بھرتا تھا۔ خاندان کے ایک 37 سالہ شخص ہی حیات بچے ہیں جن کا نام کیول رام ہے۔ پولیس کیول رام سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔

مرنے والوں میں کیول رام کے والدین کے علاوہ ایک بھائی اور تین بہنیں، ایک بیٹی اور دو بیٹے بھی شامل ہیں۔ مرنے والوں میں 75 سالہ بُدھا رام خاندان کے سرپرست تھے۔

متاثرہ خاندان جودھپور میں لوڑتا اچلاوتا گاوٴں میں کھیت پر ہی گھر بنا کر رہتا تھا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق کیول رام اسی لیے زندہ بچ گیا کیوں کہ وہ گھر سے دور جا کر سویا ہوا تھا۔ مقامی افراد کو جیسے ہی اتوار کی صبح واقعے کے بارے میں پتا چلا انہوں نے پولسی کو مطلع کیا۔

پولیس اہلکار بارہٹ نے بی بی سی سے کہا کہ وہ معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور وجہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پاکستان سے پناہ کی درخواست لے کر انڈیا آنے والے ہندووٴں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم سیمانت لوک کے سربراہ ہندو سنگھ سوڑھا نے بی بی سی کو بتایا کہ متاثرہ خاندان انڈین شہریت کا مطالبہ کر رہا تھا۔

سوڑھا نے کہا کہ ‘یہ بہت افسوسناک واقعہ ہے۔ پاکستان سے انڈیا آنے والے ہزاروں ہندو اس سے افسردہ ہیں۔ اس وقت کم از کم بیس ہزار پاکستانی ہندو افراد انڈین شہریت کی قطار میں ہیں۔ ان میں سے دس ہزار شہریت حاصل کرنے کے لیے طےشدہ شرائط پر پورے بھی اترتے ہیں۔’

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: