ایل او سی: بھارتی فوج کا دہشت گردوں‌کے ٹھکانے تباہ کرنیکا دعویٰ پاکستان نے مسترد کر دیا

بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی فوج نے پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں دہشت گردوں کے چار ٹھکانے تباہ کر دئیے ہیں۔

جبکہ پاکستانی فوج کے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اپنے ایک ٹویٹ میں‌ دعویٰ‌کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزی کے نتیجے میں ایک پاکستانی فوجی اور تین سویلینز کی موت ہوئی ہے. دو فوجی اور پانچ سویلین زخمی ہوئے ہیں.


ٹویٹ میں‌ڈی جی آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی فوج کی جوابی کارروائی میں‌نو بھارتی فوجی ہلاک، متعدد زخمی ہو گئے ہیں جبکہ دو بھارتی فوجی بنکر بھی تباہ کر دیئے گئے ہیں.

ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک اور ٹویٹ میں بھارتی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر بین الاقوامی برادری اور صحافتی برادری کےلئے کھلا ہے، وہ خود جا کر دیکھ سکتے ہیں، بھارتی فوج اور میڈیا عسکریت پسندوں‌کے کیمپوں کو ٹارگٹ کرنے کا جھوٹا دعویٰ کر رہا ہے. ٹویٹ میں لانس نائیک زاہد کی بیج لگی وردی کی تصویر بھی شیئر کی گئی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جس فوجی اہلکار کی موت واقع ہوئی اسکا نام لائیک زاہد ہے.


اپنے تیسرے ٹویٹ میں بھی ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارتی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے ہمیشہ جھوٹے دعوؤں‌کا سہارا لیا ہے. پاکستانی فوج سول آبادی کا دفاع کرتی رہے گی، بھارت جھوٹ کا سہارا لے رہا ہے، ہم انہیں‌بے نقاب کرتے رہیں‌گے.

دوسری جانب بھارتی نشریاتی اداروں انڈیا ٹوڈے، ٹائمز آف انڈیا اور اے این آئی پر شائع ہونے والی خبروں کے مطابق بھارتی زیرانتظام جموں کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے ٹانگدھار سیکٹر میں پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی حدودمیں بھارتی فوج نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیاہے کہ بھارتی فوج نے بھاری آرٹیلری گنوں سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایاہے جہاں سے دہشت گردوں کو بھارتی زیر انتظام کشمیرکی حدود میں داخل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھاری نقصانات پہنچائے گئے ہیں۔ اس عمل میں بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا ہے۔


بھارتی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ سب بھارتی فوج نے پاک فوج کی فائرنگ کے جواب میں کیا گیا ہے۔ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب پاک فوج کی فائرنگ سے دو بھارتی فوجی اور ایک سویلین ہلاک ہوگئے تھے۔ جبکہ پاک فوج کی فائرنگ سے ایک مکان، چالوں کا گودام، دو گاڑیاں، دو مویشی خانے تباہ ہو گئے تھے جس کے نتیجے میں مویشی بھی ہلاک ہوئے۔

مقامی افراد کے مطابق زیادہ نقصانات چڑی کوٹ گاؤں میں ہوئے جہاں پاکستانی فوج کی فائرنگ سے چھ مکانات تباہ ہوئے۔

دوسری طرف کنٹرول لائن پرفائرنگ سے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حدود میں‌تین زخمی مزید دم توڑ گئے، مرنے والوں‌کی تعداد چھ ہو گئی، جبکہ آٹھ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، نوسیری نوسدہ میں حاجی اعظم ، رفاقت اور حاجی سرفراز نامی اشخاص کی بھارتی گولے لگنے سے موت ہو گئی تھی جبکہ تین خواتین زخمی تھی، زخمی خواتین کو علاج کےلئے مظفرآباد منتقل کیا جا رہا تھا جہاں‌راستے میں‌ہی وہ بھی زندگی کی بازی ہار گئیں. فائرنگ سے مکانات، دکانوں اور گاڑیوں سمیت متعدد دیگر املاک تباہ ہو گئی ہیں. جبکہ نوسیری ڈیم کے قریب شدید گولہ باری سے ڈیم کو بھی خطرات لاحق ہو گئے ہیں.

نیلم سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق شاہ کوٹ میں برقیات ملازم شوکت کے رہائشی مکان پر بھارتی فوج کا گولہ گرنے سے مکان مکمل طور پر تباہ ہو گیا، تاہم مکین محفوظ رہے.

اسلام پورہ محلہ بشنئ میں عبدالغفور اعوان کی اہلیہ کے شیل لگنے سے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں .

کنور کٹھہ کے مقام پہ شبیر نامی شخص شیل لگنے سے شدید زخمی ہو چکا ہے. جبکہ جورا میں‌دو دکانیں، ایک گاڑی اور نیلم سالخلہ میں‌ایک دکان تباہ ہو گئی ہے. اسلام پورہ میں‌ایک خاتون جبکہ پٹہکہ کنور میں‌دو افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں.

کنٹرول لائن نیلم سیکٹر پر افواج کی فائرنگ سے ہونے والے نقصانات کے مناظر

Posted by Daily Mujadala on Sunday, October 20, 2019

ہفتہ کی رات ساڑھے گیارہ سے بارہ بجے سے شروع ہونے والی بھاری توپ خانے کی گولہ باری سے علاقہ میں‌خوف و ہراس کی کیفیت نے، گولہ باری کی آوازیں پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد تک سنائی دے رہی ہیں. وادی نیلم میں‌آبادی محصور ہو کر رہ گئی ہے.تاہم بھارتی زیر انتظام جموں‌کشمیر کی حدود میں‌ہونے والے نقصانات کی کوئی معلومات حاصل نہیں کی جا سکی ہیں.

کنٹرول لائن پر جاری موجودہ فائرنگ گزشتہ لمبے عرصے کی شدید ترین فائرنگ قرار دی جا رہی ہے، جس سے کنٹرول لائن کے علاقہ میں‌جنگی ماحول بن چکا ہے. ڈپٹی کمشنر نیلم راجہ محمود شاہد نے تمام اداروں‌کو ہائی الرٹ کر دیا ہے. اٹھمقام ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے. لوگوں‌نے نقل مکانی کا عمل شروع کر دیا ہے. نیلم کے مقامی ذرائع کے مطابق آمدہ چھ ، سات ایام میں‌ مزید شدید گولہ باری کے امکانات ظاہر کئے جا رہے ہیں.

سرسبز و شاداب وادی نیلم پر اس وقت خوف کے سائے منڈلا رہے ہیں، جبکہ نوسیری ڈیم کے علاقے میں کام کرنے والے چینی اہلکاروں‌کو مظفرآباد منتقل کئے جانے کی اطلاعات ہیں. آئندہ اڑتالیس گھنٹوں‌کے دوران مزید شدید فائرنگ کے امکانات ظاہر کئے جانے شدید سرد موسم میں مقامی آبادیوں‌کےلئے کسی آفت سے کم نہیں‌ہے. کنٹرول لائن کے دیگر سیکٹرز پر بھی مقامی آبادیوں میں خوف و ہراس ہے. محدود جنگ کے شروع ہونے کی افواہیں‌بھی گردش کر رہی ہیں.

کنٹرول لائن پر رات بھر بھاری ہتھیاروں سے شدید فائرنگ کے تبادلے، چھ افراد کی ہلاکت اور آٹھ افراد کے زخمی ہونے کے علاوہ قیمتی مکانات دیگر املاک کے نقصان کے باوجود پاکستانی کے نجی و سرکاری ٹی وی چینلز اور میڈیا پر کوئی خبرجاری نہیں‌کی گئی، کسی طرح کی خبریں جاری نہ ہونے کی وجہ سے مقامی آبادیوں‌میں مزید خوف و ہراس پھیل رہا ہے.

دوسری طرف پی این اے کے چیئرمین ذوالفقار احمد راجہ ایڈووکیٹ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں‌گولہ باری کو دونوں‌ملکوں‌کی مشترکہ سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پی این اے کے مظفرآباد کی طرف مارچ میں‌لوگوں‌کی ممکنہ شرکت کو روکنے کےلئے فائرنگ کی جا رہی ہے. لوگوں‌میں‌خوف و ہراس پھیلایا جا رہا ہے، لوگوں‌کا قتل عام کیا جا رہا ہےا ورقیمتی املاک کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے. انکا یہ بھی کہنا تھا کہ دونوں‌ملکوں‌کی افواج داخلی تضادات سے توجہ ہٹانے کےلئے کنٹرول لائن پر فائرنگ کو ہتھیار بناتے ہیں. فوری طور پر فائرنگ کا سلسلہ بند کیا جائے اور معصوم انسانوں‌کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے. آبادیوں کو محفوظ بنانے کےلئے اقدامات کئے جائیں.

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: