بچوں کیلئے چینی سے بنی غذا پر عالمی ادارہ صحت کو تشویش

کوپن ہیگن: اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ برائے صحت کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمرشل سطح پر تیار ہونے والی بچوں کی غذا میں حد سے زیادہ چینی شامل ہوتی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی رپورٹ میں نومولود بچوں کی غذا کو بہتر بنانے کے لیے گائیڈ لائنز پیش کی گئیں۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے نومبر 2017 سے جنوری 2018 کے دوران آسٹریا، بلغاریہ، اسرائیل اور ہنگری کے 500 اسٹورز سے 8 ہزار مصنوعات کا جائزہ لیا گیا۔

ڈبلیو ایچ او کی یورپی شاخ کا کہنا تھا کہ ’زیر غور مصنوعات میں سے آدھی سے زائد میں 30 فیصد کیلوریز صرف چینی سے شامل تھیں اور تقریباً ایک تہائی مصنوعات میں چینی یا دیگر میٹھا کرنے والی چیزیں ڈالی گئی تھیں‘۔

عالمی ادارہ صحت نے نشاندہی کی کہ ’پھلوں اور سبزیوں جیسے غذا میں قدرتی طور پر چینی شامل ہوتا ہے جو کم عمر بچوں کی صحت کے لیے مناسب ہے تاہم کمرشل مصنوعات میں وافر مقدار میں موجود چینی تشویشناک ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ چینی کی زیادہ مقدار کے استعمال سے وزن بڑھنے اور دانتوں کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے ریجنل ڈائریکٹر برائے یورپ سوزینا جیکب نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’نومولود اور کم عمری میں بچوں کو اچھی غذا کے ملنا ان کی بہتر نشو نما کے لیے نہایت ضروری ہے‘۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ جائزہ لی گئی غذا میں سے 60 فیصد مصنوعات پر لیبل لگا تھا کہ یہ ’6 ماہ سے کم عمر بچوں کے لیے ہے‘ جو بچوں کو پہلے 6 ماہ میں صرف ماں کا دودھ دینے کے عالمی ادارہ صحت کی تجویز کے منافی ہے۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: