پاکستان: دواؤں‌کی قیمتوں‌میں سات سے دس فیصد اضافے کی اجازت

پاکستان کی وفاقی حکومت کی اجازت سے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے ملک بھر میں دواؤں کی قیمتوں میں 7 سے 10 فیصد تک اضافے کی اجازت دے دی۔

اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ کنزیومر پرائس انڈیکس کے تحت ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا

نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ وفاق اور ڈریپ کے پالیسی بورڈ کی جانب سے پیش کردہ سفارش کے بعد ڈریپ نے باضابطہ طور پر ڈرگ پرائسن پالیسی میں ترمیم کی۔

ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق نوٹی فکیشن میں واضح کیا گیا کہ دوا ساز اور درآمدی کمپنیاں بالترتیب 7 اور 10 فیصد تک اضافہ کرسکیں گی۔

علاوہ ازیں ڈریپ نے تمام دوا ساز اور درآمدی کمپنیوں کو پابند کیا کہ کسی بھی دوا کی قیمت میں اضافے کی صورت میں تمام تر شواہد پیش کیے جائیں گے۔

نو ٹیفکیشن کے مطابق مذکورہ کمپنپیاں، کمپنی کے چیف ایگزیکٹو افسر کے دستخط کے ساتھ قیمتوں میں اضافے سے متعلق ساری تفصیلات ڈریپ میں جمع کرانے کی پابند ہوں گی۔

اس ضمن میں ڈریپ نے اپنے نوٹی فکیشن میں گزشتہ برس ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق کہا گیا کہ گزشتہ برس ادویات میں اضافہ 5.14 فیصد اور دیگر ادویات کی قیمتوں میں 7.34 فیصد اضافے کی اجازت دی گئی تھی۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس جنوری میں ڈریپ نے ملک بھر میں ادویات کی قیمتوں میں 15 فیصد تک اضافہ کردیا تھا۔

بعدازاں پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ادویات ساز کمپنیاں ادویات کی قیمتون میں 40 فیصد اضافے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔