مظفرآباد واقعہ کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ، 6 نومبر کو بھارت مخالف احتجاج کا اعلان

پی این اے کے چیئرمین نے مظفرآباد واقعہ کا ذمہ دار آئی جی، چیف سیکرٹری اور ڈی ایس پی ریاض مغل کو قرار دیکر انکے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا، ہلاک ہونے والے قاضی اسلم کے ورثاء کو پچاس لاکھ، جبکہ زخمیوں، متاثرہ تاجروں اور پریس کلب کےلئے بھی امدادی رقم کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے، واقعہ کی تحقیقات کےلئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے، جبکہ چھ نومبر کو بھارت مخالف احتجاجی مظاہرے منعقد کرنے کا اعلان بھی کیا ہے.

قوم پرست و ترقی پسند تنظیموں‌کے اتحاد پیپلز نیشنل الائنس (پی این اے) کے چیئرمین راجہ ذوالفقار احمد نے مظفرآباد کے واقعہ کے حوالہ سے کشمیر پریس کلب میرپور میں پر ہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے 22 اکتوبر کو ہونے والے تمام واقعات کی تفیصیلات بتائیں۔

انہوں نے پولیس کے وحشیانہ تشدد۔اندھا دھند آنسو گیس کی پرزور الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ تمام واقعہ کے ذمہ دار چیف سیکریٹری۔ آئی جی پولیس اور ڈی ایس پی ریاض مغل ہیں جنہوں نے پرامن شرکا احتجاجی مارچ کے غیر جمہوری، غیر قانونی طریقے سے روکنے کا عمل کیا حالانکہ میری قبل ازیں حکومتی وفد سے ملاقات کے دوران ضابطہ اخلاق پر بات ہو چکی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ھمارے پرامن مارچ کو سبوتاژ کرنے کی چار وجوہات ہیں۔

دہلی و اسلام آباد جموں کشمیر کی مستقل تقسیم کا فیصلہ کر چکے ہیں اور اسکے بعد دہلی سرکار نے 5 اگست کا آرڈیننس جاری کیا ہے۔

اسلام آباد سرکار کو اندازہ ہی نہیں ھیکہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں عوام کی بڑی تعدادمکمل قومی آزادی کیلئے جدوجہد کر رہی ہے اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ جب پی این اے کی کال پر نکلے تو ریاست بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی اور تشدد کا راستہ اپنایا۔

بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں کرفیو کے جبر کی وجہ سے جیل میں بند ھمارے بہن بھائیوں تک ھمارا یکجہتی کا پیغام نہ پہنچنے پائے کہ جموں کشمیر کے دو کروڑ کشمیری عوام قومی آزادی کیلئے مصروف جدوجہد ہیں۔

اس روز UNO نے کچھ ممالک کے ڈپلومیٹس سیز فائر لائن پر دو طرفہ آئے روز گولہ باری و فائرنگ اور معصوم و نہتے کشمیریوں کے قتل عام کا جائزہ لینے بھیجا تھا اسلیئے لینٹ آفیسران کو فوری حکم ملا کہ یہ مارچ کسی صورت نہیں ہونا چایئے تاکہ کشمیری عوام کا درست بیانیہ دنیا تک نہ پنچ سکے۔

چیئرمین نے کہا کہ پی این اے کے بنیادی اہداف پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا.ھم مرحلہ وار اپنی منزل تک پہنچنے کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے مظفرآباد حکومت سے مطالبہ کیا کہ مظفرآباد واقعہ میں ملوث چیف سیکریٹری، آئی جی کی خدمات اسلام آباد حکومت کو واپس کی جائیں اور ریاض مغل کو ملازمت سے برطرف کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے معزز جج سے جوڈیشل انکوائری کروائی جائے تاکہ واقعہ کے ذمہ داران کا تعین ہو سکے۔

علاوہ ازیں اسلم شہید کے ورثا کو پچاس لاکھ معاوضہ دیا جائے تمام زخمیوں کو پانچ پانچ لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے۔ مظفرآباد کے دوکانداروں کا جتنا مالی نقصان ہوا ہے اسکا معقول معاوضہ دیا جائے۔ سنٹرل پریس کلب کا بھاری نقصان ہوا اسکا بھی معقول معاوضہ دیا جائے۔

انہوں‌نے کہا کہ مظفرآباد کلب کے تمام صحافیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں،جنہوں ڈھال بنکر پی این اے کی لیڈر شپ اور کارکنان کی زندگیاں بچائیں۔

انہوں نے پی این اے کی طرف سے 6 نومبر شہدا جموں منانے کا اعلان کیا اور کہا 6 نومبر 1947 کو بھارتی ریاستی بربریت اور مذھبی جنونیوں کی وجہ سے تقریباً دو لاکھ معصوم جموں کے انسانوں کا قتل عام کیا گیا تھا اسلیئے ان شہدا کی یاد میں پی این اے تمام ضلعی ہیڈکواٹرز پر اور بیرون ممالک دہلی سرکار کیخلاف بھرپور مظاہرے کرے گا۔