پولیس ترجمان نے کہا ہے کہ پی این اے کے مظاہرین کو معمولی لاٹھی چارج کے ذریعے منتشر کیا گیا. قاضی محمد اسلم احتجاج میںشامل نہ تھا بلکہ پہلے سے ہسپتال میںداخل تھا جس کی طبعی موت واقع ہوئی ہے، اسے پولیس تشدد سے غلط جوڑا جا رہا ہے.
پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے محکمہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میںلکھا گیا ہے کہ ترجمان محکمہ پولیس کے مطابق مورخہ 22-10-2019کو مظفرآباد میں پیپلز نیشنل الائنس کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے احتجاجی مارچ کے حوالہ سے ضلعی انتظامیہ مظفرآباد نے باقاعدہ اجازت دے رکھی تھی۔
احتجاجی مظاہرین کے ساتھ یہ بات طے تھی کہ وہ صر ف اپر اڈہ میں ہی احتجاج ریکارد کروائیں گے۔ جب مظاہرین ن قانون اسمبلی کی جانب مارچ کرنا چاہا تو پولیس نے مظاہرین کو روک دیا اور 02 گھنٹے مذاکرات کے بعد مظاہرین کے لیڈران کے ساتھ طے پایا کہ وہ صرف پریس کلب بنک روڈ تک مارچ کریں گے۔
جب انتظامیہ نے پرامن طور پر مظاہرین کو آگے بڑھنے کا کہا تو مظاہرین میں موجود چند شر پسند عناصر نے دانستہ طور پر پولیس اور انتظامیہ کے اہلکاران اور آفیسران کو دھکے دینا شروع کر دیے اور اینٹیں مارنا شروع کر دیں پولیس پر پتھراؤ کے بعد مظاہرین کو ہلکا لاٹھی چارج کر کے منتشر کیا گیا.
قاضی محمد اسلم ساکنہ بلگراں جو کہ احتجاج میں شامل نہ تھا بلکہ بیمار تھا اور احتجاج سے قبل سی ایم ایچ مظفرآباد لایا گیا جو بوجہ بیماری فوت ہوا جس کی موت کو چند شر پسند عناصر نے احتجاج سے جوڑنے کی کوشش کی اس حوالہ سے اخبار اور سوشل میڈیا پر خبریں شائع کی گئیں کہ مذکور کی موت پولیس تشدد سے ہوئی ہے کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
واضح رہے کہ قاضی محمد اسلم کے رشتہ دار خورشیدعباسی نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ قاضی محمد اسلم راہگیر تھے، پولیس تشدد اور شیلنگ کی وجہ سے دم گھٹنے سے انکی موت واقع ہوئی ہے.
تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق ورثاء میت کا پوسٹ مارٹم کروائے بغیر ہی میت حاصل کرتے ہوئے تدفین کےلئے لے گئے.












21 تبصرے “پولیس حکام نے پی این اے مظاہرین پر لاٹھی چارج کو معمولی قرار دیدیا”