کرپشن سے پاک پاکستان: وفاقی وزارتوں‌میں‌270 ارب روپے کے غبن کا انکشاف

آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے مختلف وزارتوں میں عوامی فنڈز میں 12 ارب روپے سے زائد کے غبن اور غلط استعمال کا انکشاف کیا ہے جبکہ سرکاری فنڈز میں 258 ارب روپے کی بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں۔

پاکستان کے معروف انگریزی جریدے ڈان کی رپورٹ کے مطابق اے جی پی کی رپورٹ مالی سال 19-2018، پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کی حکومت کے پہلے سال سے متعلق ہے اور اس میں ذمہ داران کے خلاف تحقیقاتی ایجنسیوں کو حوالہ جات سمیت سخت کارروائی کی تجویز دی گئی ہے۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے آڈٹ سال 20-2019 سے متعلق اپنی رپورٹ کو حتمی شکل دی ہے اور وہ آئندہ چند روز میں پارلیمنٹ اور صدر کو پیش کی جائے گی۔

رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آڈٹ ٹیموں کو متعدد اداروں اور اکاؤنٹس کا ریکارڈ نہیں دیا گیا تھا۔

حکومت وزیر نے آڈٹ رپورٹ پر تبصری کرتے ہوئے ماضی کی حکومتوں میں یہ بے ضابطگیاں 1000 ارب روپے سے زائد ہوتی تھیں۔

نجی چینل جیو ٹی وی کے مطابق وزیر برائے صنعت حماد اظہر نے کہا کہ اس تعداد میں 80 فیصد کمی ہوئی ہے اور مزید کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کو اسے مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

آڈٹ رپورٹ میں 12 ارب 56 کروڑ 11 لاکھ روپے کے عوامی فنڈز کے غلط استعمال اور غبن اور فرضی ادائیگیوں کے 56 کیسز کی نشاندہی کی گئی۔

اس کے ساتھ ہی 79 ارب 59 کروڑ روپے کی ریکوری سے متعلق 98 اور 17ارب 97 کروڑ روپے کا ریکارڈ پیش نہ ہونے سے متعلق 37 کیسز ہیں۔

اسی طرح آڈٹ میں کمزور مالیاتی انتظام سے متعلق 152 ارب 21 کروڑ روپے کے 35 کیسز کا بھی انکشاف کیا گیا۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے ریکارڈ میں شامل کیا ہے کہ آڈٹ ایئر 20-2019 کے آڈٹ پیراز میں ضابطے کی خلاف ورزیوں، داخلی کنٹرول کی کمزوریوں اور بے ضابطگیاں جنہیں رپورٹنگ کے لیے اہم نہیں سمجھا جاتا تھا، انہیں قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں رپورٹ نہیں کیا گیا تھا۔

ان نتائج کی بنیاد پر آڈٹ نے حکومت کو یہ یقینی بنانے کی تجویز دی ہے کہ پارلیمنٹ کی اجازت اور بجٹ میں شامل کیے بغیر کوئی بھی اخراجات شامل نا کیے جائیں اور مالی سال کے اختتام سے قبل ضرورت کے تعین اور پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر اضافی گرانٹس جاری نہیں کیے جانے چاہئیں۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے پارلیمنٹ کو یہ سفارش بھی کی کہ عوامی رقم کے سنگین غبن کے کیسز تحقیقاتی ایجنسیوں کو بھیجے جائیں اور حکومت کو ہدایت کی جائے کہ جہاں بھی قابل اطلاق ہو سرکاری وصولیوں اور خرچ نہ کی گئی رقوم کو سرکاری خزانے میں جمع کیا جائے۔