وفاق کا تعلیمی ادارے کھولنے پر غور، پاکستانی کشمیر میں‌فیسوں‌کیخلاف حکم امتناعی

پاکستان کے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ حکومت کورونا وائرس سے بچاؤ کے ایس او پیز کے تحت اسکول کھولنے کے معاملے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ جبکہ دوسری جانب پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی عدالت العالیہ نے تعلیمی اداروں‌کو فیسیں لینے سے روکتے ہوئے ایک وکیل کی درخواست پر حکم امتناعی جاری کر دیا ہے.

نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق اسکول کھولنے کے معاملے پر اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ تمام صوبوں بشمول پاکستانی زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان، مدارس اور پرائیویٹ اداروں سے تجاویز طلب کی ہیں۔ اس معاملے پر وزارت صحت کے ساتھ بھی میٹنگ رکھی ہے اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے ڈیٹا کو بھی مدنظر رکھا ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چاہتے ہیں تعلیم جیسے بنیادی اہمیت کے معاملے پر غیر یقینی کی فضا ختم ہو۔ گیلپ سروے کے مطابق احتیاطی اقدامات کے تحت اسکولز کھلنے پر 70 فی صد والدین نے بچوں کو اسکولز بھیجنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔ روڈ میپ تیار ہونے کے بعد والدین کو اعتماد میں لینے کے لیے پریس کانفرنس کے ذریعے خطاب کروں گا

دوسری طرف پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی عدالت العالیہ نے خطے میں‌فعال تمام نجی تعلیمی اداروں‌کو کورونا وباء کی تعطیلات کے دوران طلباء و طالبات سے فیس لینے سے روک دیا ہے.

مظفرآباد سے تعلق رکھنے والی ماہر قانون راحت فاروق ایڈووکیٹ ی جانب سے دائر کردہ رٹ پٹیشن کو عدالت العالیہ نے سماعت کےلئے منظور کرتے ہوئے نجی تعلیمی اداروں‌کو فیس لینے سے روک دیا ہے.

درخواست گزار نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ مارچ سے سکول بند ہیں، بچوں‌کا تعلیمی سال ضائع ہونے کا خدشہ ہے. جبکہ وباء کے دوران پریشان حال والدین دہرا نقصان برداشت کر رہے ہیں. ایک طرف بچوں‌کا تعلیمی نقصان ہو رہا ہے اور دوسری طرف ہر ماہ سکولوں‌کی فیسیں‌بھی ادا کرنا پڑتی ہیں. درخواست گزار نے اپیل کی کہ جو سکول فیسیں‌پہلے لے چکے ہیں انہیں‌وصول کردہ فیسیں تعلیمی ادارے کھلنے کے بعد اگلے مہینوں‌میں‌ایڈجسٹ کرنے کا حکم دیا جائے.