این ایف سی ایوارڈ:پاکستانی کشمیر و گلگت بلتستان کے مجوزہ حصہ پر صوبے معترض

دسویں‌ این ایف سی (قومی مالیاتی کمیشن) ایوارڈ میں صوبوں‌کے لئے مختص مالی حصے سے ‌پاکستان کے زیر انتظام جموں‌کشمیر، گلگت بلتستان اور سابق فاٹا کے علاقوں‌کےلئے تین فیصد اور نیشنل سکیورٹی اخراجات کےلئے چار فیصد حصہ مختص کئے جانے کی تجویز کو صوبائی حکومتوں‌اور اپوزیشن جماعتوں‌نے مسترد کر دیا ہے.

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے وسائل کی تقسیم کےلئے دسویں‌قومی مالیاتی کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفکیشن گزشتہ ماہ کی تیرہ تاریخ کو کیا تھا. سب سے پہلے پیپلزپارٹی نے مذکورہ نوٹیفکیشن کی خامیوں‌کی نشاندہی کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا تھا. لیکن ان خامیوں‌کا تذکرہ نہیں‌کیا گیا تھا.

ہفتہ کے روز چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے صوبوں کے حصہ سے پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقوں‌کےلئے حصہ مختص کرنے کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیکر این ایف سی ایوارڈ کو مسترد کر دیا. انہوں‌نے کہا کہ یہ اقدام مذکورہ علاقوں‌کو صوبہ بنائے بغیر نہیں‌کیا جا سکتا. ہم کشمیر اور گلگت بلتستان کو مالیاتی حقوق دینے کے مخالف نہیں ہیں، یہ وفاق کے زیر انتظام علاقے ہیں، آئین میں‌ترمیم کر کے انہیں‌صوبائی سٹیٹس دے دیں‌پھر این ایف سی میں ان علاقوں‌کو حصہ دیا جائے. تاہم بلاول بھٹو زرداری نے سکیورٹی اخراجات کی مد میں صوبوں‌کے حصہ سے چار فیصد کٹوتی پر کوئی رد عمل نہیں‌دیا.

صوبوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اپنے مالی حصص کا کچھ حصہ ترک کردیں یا اخراجات کی اضافی ذمہ داریاں لیں۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سمیت گزشتہ تین وفاقی حکومتوں کی غلط پالیسیوں سے نہ صرف اخراجات میں غیر معمولی اضافے ہوا اور قرضوں‌کا بوجھ بڑھا بلکہ گزشتہ دس سالوں‌میں‌فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کا ٹیکس سے جی ڈی پی کا تناسب بھی جمود کا شکار رہا ہے۔

مختلف شعبہ جات صوبوں‌کو تفویض‌کئے جانے کے باوجود مرکزی حکومتوں‌کو تعلیم، صحت اور دیگر شعبہ جات میں مالی مدد فراہم کرنا پڑ رہی تھی، بلکہ مرکز میں‌ان شعبہ جات کےلئے متوازی سیٹ اپ بھی قائم کئے گئے تھے.

آئینی و قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ صوبوں‌کے اعتراض کے بعد دسویں‌قومی مالیاتی کمیشن کے تحت وسائل کی تقسیم ممکن نہیں‌ہو پائے گی، اس طرح‌رواں‌سال بھی وسائل کی تقسیم دس سال قبل پیپلزپارٹی کے دور میں‌ جاری کئے گئے ساتویں‌این ایف سی ایوارڈ کے تحت ہی عمل میں‌لائی جائے گی. جو پانچ سال قبل زائد المعیاد ہو چکا ہے اور اسے صدارتی حکمنامے کے تحت ہر سال آگے اس لئے بڑھایا جاتا ہے کیونکہ نئے این ایف سی ایوارڈ پر اتفاق رائے نہیں‌ہو پارہا ہے.

دسویں این ایف سی ایوارڈ میں‌کیا ہے؟
ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت مرکز کو تقسیم پول سے 42.5 فیصد مل رہا تھا جبکہ باقی 57.5 فیصد حصہ متعدد فارمولوں کی بنیاد پر صوبوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔جس میں باسٹھ فیصد حصص آبادی کی بنیاد پر، 10.3فیصد غربت اور پسماندگی کی بنیاد پر، 5فیصد محصول اکٹھا کرنے پر اور2.7 فیصد آبادی کی کثافت کی بنیاد پر فراہم کیا جاتا ہے۔

انگریزی جریدے ٹربیون کے مطابق دسویں‌این ایف سی ایوارڈ کے ٹی او آرز میں‌کہا گیا ہے کہ متفقہ طور پر منظور کئے جانے والے آخری ایوارڈ کی وجہ سے وفاقی ٹیکسوں میں‌سے صوبوں‌کے حصص میں گیارہ فیصد اضافہ ہوا تھا. مرکز کو ہونے والے دس فیصد نقصان کا ازالہ کرنے کےلئے ٹیکس ٹو جی ڈی پی کے تناسب میں‌اضافے کا منصوبہ تیار کیاگیا تھا لیکن تینوں‌حکومتیں اس میں‌اضافہ کرنے میں‌ناکام رہیں. ہر حکومت کی طرف سے ایف بی آر کی ناقص کارکردگی اور سیاسی سمجھوتوں کی وجہ سے ٹیکس وصولی کا ہدف حاصل نہیں‌ہو سکا.

صدر مملکت نے دسویں این ایف سی ایوارڈ کے ایجنڈے پر چار نئے شعبوں‌کو رکھا ہے جنہیں زیر بحث لاکر فیصلہ کیا جائے گا. ٹی او آرز کے مطابق مذکورہ چار شعبہ میں‌قومی سلامتی، قدرتی آفات پر ہونے والے اخراجات کےلئے وسائل کا تخمینہ لگانا اور مختص کرنا شامل ہونگے.

وفاقی حکومت صوبوں پر زور دے رہی ہے کہ وہ سیکیورٹی کے اخراجات کےلئے کم از کم چار فیصد حصص کی قربانی دیں. صوبوں‌کی طرف سے یہ مطالبہ مسترد کرنے کے باوجود اسے ایجنڈے کا حصہ بنا دیا گیا.

ٹربیون کے مطابق مجموعی عوامی قرضے کا اندازہ لگانا اور اسکی ادائیگی کےلئے وسائل مختص کرنا بھی این ایف سی ایوارڈ میں‌ایک نیا ایجنڈا ہے. جبکہ قرض کی فراہمی آئین کے تحت وفاقی موضوع ہے اور مرکز صوبوں‌سے غیر ملکی قرضوں پر دوگنے سے زیادہ منافع بھی وصول کرتا ہے.

ٹی او آرز کے مطابق، صدر نے “سرکاری کاروباری اداروں کے نقصانات کو کم کرنے کے طریقوں کی کھوج کرنے اور وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کے مابین ان نقصانات کو بانٹنے کے طریقہ کار پر اتفاق کرنے” کوبھی ایجنڈے میں شامل کیا ہے۔

ٹربیون کے مطابق معاشی ماہر ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کہا کہ این ایف سی کا کام صرف وسائل کی تقسیم تک محدود ہے اور یہ کسی بھی طرح سے وفاقی حکومت کے اخراجات کی مالی اعانت کے لئے راہیں تلاش کرنے میں مدد نہیں کرسکتا ہے۔

ٹی او آرز کے مطابق، صدرمملکت نے پاکستان کے زیر انتظام جموں‌کشمیرکی حکومت ، (پاکستان کے زیر انتظام متنازعہ ریاست جموں‌کشمیرمیں‌شامل علاقے) گلگت بلتستان کی حکومت اور کے پی کے میں‌نئے ضم ہونے والے اضلاع (سابق فاٹا) سے متعلق اخراجات کو پورا کرنے کے لئے وسائل کی تشخیص اور مختص کرنا بھی ایجنڈا میں‌شامل کیا ہے۔ وفاقی حکومت مطالبہ کررہی ہے کہ صوبوں کو ان علاقوں میں فنڈز فراہم کرنے کے لئے اپنے حصص کا 3 فیصد حصہ دینا چاہئے۔ جبکہ صوبوں‌ نے وفاق کے اس مطالبے کو مسترد کردیا ہے۔

صوبوں‌کے حصص میں‌ردوبدل کیوں‌اور کیسے؟
نیشنل فنانس کمیشن کے سابق رکن قیصر بنگالی کا کہنا ہے کہ وفاق کو پہلے ہی قومی وسائل کا ساڑھے بیالیس فیصد ملتا ہے اس لیے اسے اپنے تمام اخراجات وہیں سے پورے کرنے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد عوامی سہولیات کی فراہمی وفاق کے پاس نہیں ہے۔

اگر صوبوں کے حصے کی کٹوتی کی جائے گی تو عوام براہ براست متاثر ہوں گے کیونکہ صوبائی بجٹ سے نہ صرف متعدد ترقیاتی منصوبے اور سڑکیں وغیرہ بنائی جاتی ہیں بلکہ صحت، تعلیم اور دیگر سہولیات بھی عوام کو صوبے ہی فراہم کرتے ہیں اور اگر ان کے پاس پیسے نہیں ہوں گے تو وہ عوام کو یہ سہولیات کیسے فراہم کریں گے۔

ٹربیون کے مطابق آئین کے تحت صوبوں کا حصہ 57.5 فیصد سے کم نہیں کیا جاسکتا اور وفاقی حکومت اب اس آئینی حد کو عبور کرنے کے لئے مختلف اختیارات کی تلاش کر رہی ہے لیکن اب تک صوبوں نے اس کی مزاحمت کی ہے۔

دوسری طرف ایک رائے یہ بھی ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام جموں‌کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقوں، کے پی کے میں‌ضم ہونے والے سابق فاٹا کے علاقوں سمیت سکیورٹی اخراجات کی مد میں‌صوبوں سے وسائل چھین کر وفاق کو دوبارہ سے مالیاتی طور پر مضبوط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے. کے پی کے میں‌ضم ہونے والے اضلاع کے وسائل کا معاملہ بھی اب کے پی کے کے مجموعی وسائل، آبادی کے تناسب اور پسماندگی کے تناسب میں‌شامل کرتے ہوئے کے پی کے کے مجموعی وسائل میں‌اضافہ کر کے حل کیا جا سکتا ہے. جبکہ وفاق کے اخراجات میں‌فاٹا کےلئے مختص حصص کو اب کے پی کے کے حصص میں‌منتقل کیا جانا چاہیے.

اسی طرح‌ وفاق کے زیر انتظام جموں‌کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقوں‌کے مستقبل کا فیصلہ ہونے تک ان کے وسائل کا اختیار مقامی حکومتوں‌کو تفویض‌کیا جانا چاہیے. یا پھر وفاق کو اپنےحصص میں سے دونوں‌زیر انتظام علاقوں‌کی حکومتوں‌کو دیئے جانے والے حصص کو بھی اسی طریقہ کار سے مختص کرنا چاہیے، جس طریقہ‌ سے صوبوں میں‌وسائل تقسیم کئے جاتے ہیں.

تاہم سکیورٹی اخراجات میں‌اضافے اور آئی ایم ایف کی شرائط کے پیش نظر حکومت ہر ممکن کوشش کرے گی کہ نئے این ایف سی ایوارڈ پر اتفاق رائے ہو سکے یا وسائل کی تقسیم کے کسی متبادل طریقہ کار کا انتخاب کیا جائے.