پاکستانی کشمیر: 20 محکمہ جات کا 2 ارب سے زائد بجٹ خرچ نہ ہو سکا، منتقلی کی تجویزارسال

پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر کے بیس محکمہ جات مالی سال 2019-20 کے ترقیاتی بجٹ سے 2 ارب ایک کروڑ تیس لاکھ روپے خرچ کرنے میں ناکام رہے، مذکورہ بجٹ کو دیگر محکمہ جات میں‌منتقل کرنے کےلئے محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ نے تجویز حتمی منظوری کےلئے وزیراعظم کو ارسال کر دی ہے.

مظفرآباد سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی عبدالحکیم کشمیری کی رپورٹ میں پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی طرف سے وزیر اعظم کو بھیجی گئی سمری کے مطابق پاور ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن 54کروڑ،ریسرچ اور ڈویلپمنٹ 4کروڑ 40 لاکھ،ماحولیات 45لاکھ 20ہزار، ایرگیشن 4کروڑ 10لاکھ،انفارمیشن اور میڈیا ایک کروڑ 90لاکھ،سیری کلچر 3کروڑ،انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ 12کروڑ 10لاکھ،معدنیات ایک کروڑ 30لاکھ،لیبر 2کروڑ 10لاکھ،ٹورازم 6کروڑ 30لاکھ،سپورٹس یوتھ اینڈ کلچر 8کروڑ،جنگلات واٹر شیڈ 2کروڑ 40لاکھ،وائلڈ لائف فشریز 4کروڑ 70لاکھ،کارپس اور ہارٹیکلچر 15کروڑ 50لاکھ،کمیونیکشن اینڈ ورکس نارتھ 77کروڑ18لاکھ،کمیونیکشن اینڈ ورکس ساوتھ 13کروڑ 70لاکھ،سینٹرل ڈئزاین 1کروڑ 50لاکھ،ٹرانسپورٹ ایک کروڑ 52لاکھ،سوشل ویلفیئر ایک کروڑ اور عباس انسٹی ٹیوٹ 5لاکھ روپے کے ترقیاتی فنڈز استعمال کرنے میں ناکام رہے۔

24ارب روپے 50کروڑ روپے کے ترقیاتی بجٹ میں سے بچ جانے والی رقم میں سے 3کروڑ لائیو سٹاک، 2کروڑ 30لاکھ ایس ڈی ایم،11کروڑ 60لاکھ محکمہ تعلیم کے آئی ڈی بی پراجیکٹ 7کروڑ 40لاکھ ہائیر ایجوکیشن 23کروڑ 70لاکھ محکمہ صحت 13کروڑ 90لاکھ انفارمیشن ٹیکنالوجی,برقیات 2کروڑ 70لاکھ،لوکل گورنمنٹ 8کروڑ 47لاکھ،اے کے سی آئی ایس 1کروڑ 42لاکھ،پی پی ایچ 20کروڑ،ٹیوٹا 12کروڑ 20لاکھ اور ٹیوٹا سکل ڈویلپمنٹ کیلئے 1ارب روپے منتقل کرنے کیلئے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ نے تجویز حتمی منظوری کیلئے وزیراعظم کو بھیج دی۔

واضح رہے کہ پوری دنیا کی طرح‌اس خطہ میں‌بھی کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کےلئے ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے. جس کی وجہ سے تین ماہ سے مکمل لاک ڈاؤن کے نفاذ کی وجہ سے لاکھوں‌افراد بیروزگار ہوئے، کئی گھروں‌کے چولہے بجھ گئے، لیکن اس سب کے باوجود ترقیاتی بجٹ میں‌کٹوتی کر کے لاک ڈاؤن متاثرین کی مالی امداد نہیں‌کی جا سکی.

سرکاری معلومات کے مطابق سینتالیس کروڑ روپے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے تدارک کی تمام تر سرگرمیوں‌پر خرچ کئے گئے، تاہم اس خرچ کی تفصیل ابھی تک میڈیا پر فراہم نہیں‌کی گئی ہے. دوسری طرف دو ارب سے زائد کا ترقیاتی بجٹ خرچ کرنے کی منصوبہ بندی ہی محکمہ جات کے پاس موجود نہ تھی جس کی وجہ سے فنڈز لیپس ہوئے، جنہیں‌پھر سے دیگر محکمہ جات کے ترقیاتی بجٹ میں‌منتقل کرنے کی تجویز مرتب کی گئی ہے لیکن لاک ڈاؤن سے متاثر ہونے والے شہریوں‌کو خیراتی اداروں کے آگے بھیک مانگنے پر مجبور کرنے کے علاوہ حکومت نے تاہم کوئی پالیسی نہیں‌مرتب کی ہے.

سیاسی و سماجی حلقوں‌نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ بجٹ کو کورونا ہیلتھ ایمرجنسی کے متاثرین کی بحالی اور مالی امداد کےلئے مختص کیا جائے اور شفاف بنیادوں‌پر متاثرین کی فہرستیں‌مرتب کر کے انہیں‌باعزت طریقے سے امدادی رقم مہیا کی جائے تاکہ وہ لاک ڈاؤن کے عرصہ میں‌پہنچنے والے مالی نقصان کا ازالہ کر سکیں. اس کے علاوہ آئندہ سال کے ترقیاتی بجٹ سے بھی کچھ حصہ مختص کر کے چھوٹے کاروبار اور خود روزگار کےلئے آسان شرائط پر بلاسود قرضوں کی فراہمی کی پالیسی بھی اپنائی جائے.