ایچ آر سی پی کا غریب عوام کومفت طبی سہولیات، خوراک فراہم کرنیکا مطالبہ

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی وبائی بیماری کے نتیجے میں‌ نافذ کی گئی قومی صحت ایمرجنسی کے معیشت پر اثرات پر گہری تشویش کا اظہارکیا ہے. خاص طور پر ڈیلی ویجرز(دیہاڑی دار مزدوروں) پر اسکے گہرے اثرات مرتب ہونگے جن کے گھرانے روزانہ کی انکی فروخت کی گئی محنت کی بنیاد پر بمشکل چلتے ہیں.

ایچ آر سی پی کے پریس ریلیز کے مطبق اسکولوں ، دفاتر ، دکانوں اور کاروباروں میں تالے پڑنے کے بعد ، گھر بیٹھ کر کام کرنے کا اختیار صرف ایک سفید پوش تعلیم یافتہ کارکنوں کے کو ہی حاصل ہے۔ یہاں تک کہ اگر اس بیماری سے انہیں‌بچایا بھی گیا تو کم آمدنی والے افراد خوراک کی شدید کمی جیسی آفت کا شکار ہونگے۔ مناسب معاشرتی تحفظ کی فراہمی، جیسے تنخواہ سمیت چھٹی اور طبی سہولیات کی فراہمی نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کارکنوں کی اکثریت اور ان کے کنبے خاص طور پر اس بحران کا شکار ہونگے۔

ہیومن رائٹس کمیشن موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے سخت مایوسی کا شکار ہے ، حکومت اکثریتی آبادی کو سہولیات کی فراہمی میں ناکام رہی ہے۔ استحکام اور نمو کے نام پر امیر افراد اور اداروں کو سبسڈی دینے سے لے کر ، عام شہریوں کی فلاح و بہبود کو کسی بھی منصوبہ بندی اور پالیسی کا مرکز بنانے تک ، ترجیحات کو تبدیل کرنے کا وقت آگیا ہے۔

کمیشن کا مطالبہ ہے کہ جانچ کے اوقات میں غریبوں اورروزانہ اجرت حاصل کرنے والے افراد کےلئے مفت طبی نگہداشت تک رسائی کو یقینی بنانے کے علاوہ فوری طور پر نقد رقم اور کھانے کی فراہمی کا اہتمام کیا جائے۔

ایچ آر سی پی نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ صحت کے کارکنان ، جو اس ایمرجنسی کی پہلی صف میں ہیں ، انہیں حفاظتی پوشاک فراہم کی جائے جس کی انہیں اپنی ملازمت کو محفوظ اور موثر طریقے سے انجام دینے کےلئے ضرورت ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن نے بیان میں کہا ، یہ خیرات نہیں بلکہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے تمام شہریوں کے لئے خوراک کی حفاظت اور صحت کی دیکھ بھال تک رسائی کو یقینی بنائے۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: