پاکستان: کورونا وائرس کا ایک مریض مرنے سے قبل ہزاروں تک وائرس پہنچا گیا

پاکستان میں کرونا وائرس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے پہلے بدقسمت مریض سعادت خان اس علاقے کے لوگوں اور باقی علاقے کے لیے کیا مسائل چھوڑ گئے ہیں اس کا اندازہ ماہرین کے مطابق اب شاید پورے گاؤں کے ٹیسٹوں سے ہی معلوم ہوگا۔

اس گاؤں کے ایک باشندے کشور خان نے برطانوی نشریاتی ادارے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پیشے کے لحاظ سے میڈیکل ٹیکنیشن سعادت خان سعودی عرب سے 21 روز عمرہ کرنے کے بعد نو مارچ کو پشاور پہنچے تھے۔ ان کے ہمراہ ان کے محلے کے 60 اور 25 سالہ دو اور ساتھی بھی تھے۔

ابھی یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا انہیں باچہ خان ائرپورٹ پر مناسب طریقے سے چیک کیا گیا تھا یا نہیں۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے آتے وقت محض صحت سے متعلق ایک کارڈ بھرا تھا۔

تاہم گاؤں منگا پہنچ کر انہوں نے اسی روز حسب روایت عزیز و اقارب، دوستوں اور محلے والوں کے لیے ظہرانے کا بندوبست بھی کر رکھا تھا۔ اس دعوت میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور ہر کوئی مرحوم سے ملا بھی۔

’جیسے کہ مقامی روایت ہے کہ ایسے موقع پر جا کر لوگ صرف مصافحہ ہی نہیں بلکہ گلے بھی ملتے ہیں ۔ لہذا جتنے لوگ اس دعوت پر گئے سب نے ان سے ہاتھ ملایا اور گلے بھی ملے۔‘

سعادت خان کے خاندان میں ان کی بیوی، تین بیٹے، دو بہویں، تین بیٹیاں اور چار نواسے نواسیاں شامل ہیں۔

حالانکہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی خبریں فروری سے گردش میں تھیں تاہم کسی نے اس کا احساس نہیں کیا کہ عمرے میں اسے یہ مرض لاحق ہو جائے گا۔ کشور نے مزید بتایا کہ اب گاؤں کے لوگوں میں قدرتی طور پر خوف وہراس پھیلا ہوا ہے اور وہ سب چاہتے ہیں کہ ان کا جلد از جلد معائنہ ہو۔

مریض کی کرونا وائرس سے ہلاکت کے بعد حکام حرکت میں آئے ہیں اور ان کے خاندان کے تمام لوگوں کو بدھ کی رات عبدالولی خان یونیورسٹی میں بند کر دیا گیا۔ تاہم پوری رات کھانے پینے اور سونے کا انتظام نہ ہونے کے باعث کچھ دیر پہلے بیس کے قریب لوگوں نے یونیورسٹی کے گیٹ پر ہلہ بول دیا اور باہر نکل آئے۔

انڈپینڈنٹ اردو کے مطابق ان بیس افراد میں سعادت خان کی بیوی، بچوں اور قریبی رشتہ داروں کے علاوہ ان کے دو دوست بھی شامل ہیں، جو حال ہی میں ان کے ساتھ عمرہ سے واپس آئے تھے۔

پچاس سالہ مرحوم سعادت خان کے برادر نسبتی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ حکام نے کسی کو بھی سعادت خان کو ایک نظر دیکھنے بھی نہیں دیا گیا اور ہسپتال سے سیدھا قبرستان دفنانے لے گئے۔ ’ہم نے تمام رات فرش پر بیٹھے بیٹھے گزار دی۔ بچے رو رہے تھے۔ انہیں بھوک لگی تھی۔ ہمارا کسی نے کل رات سے آج دوپہر تک کھانے پینے کا نہیں پوچھا۔ نہ ہی کوئی ڈاکٹر معائنے کے لیے آیا۔ میں نہیں بتا سکتا کہ ہم پر کیا گزری ہے۔ میں آپ کو اور کچھ نہیں بتانا چاہتا۔‘

تاہم جاتے جاتے انہوں نے کہا کہ وہ یونیورسٹی سے نکل آئے ہیں اور اب چنگ چی رکشوں میں سوار ہو کر گاؤں کی طرف روانہ ہو رہے ہیں۔

سعادت خان کی یونین کونسل منگا کو آج حکام نے تمام بیرونی اور اندرونی آمدورفت کے لیے بند کر دیا ہے۔ اسے پاکستان میں لاک ڈاون کی پہلی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

جبکہ مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی کو قرنطینہ مرکز ڈیکلئر کر دیا گیا۔

محکمہ ریلیف کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مردان میں واقع عبدالولی خان یونیورسٹی آج سے قرنطینہ مرکز ہوگی۔

مقامی ڈاکٹروں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سعادت خان تین روز قبل ڈسٹرکٹ ہسپتال مردان سانس میں دشواری، کھانسی اور بخار کی شکایت کے ساتھ معائنے کے لیے آئے بھی تھے۔ طبی عملے نے انہیں کرونا کا مشکوک مریض قرار دے کر ان کے نمونے اسلام آباد جائزے کے لیے روانہ کئے تاہم مریض نے قرنطینہ میں رہنے کی بجائے گھر جانے پر اصرار کیا۔

18 مارچ کو لیبارٹری رپورٹ میں اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ سعادت خان کو کرونا وائرس لاحق ہے۔ مقامی طبی حکام کی ایک ٹیم انہیں لینے اطلاعات کے مطابق ان کے گھر لینے گئی اور ہسپتال میں داخل کیا تاہم اس وقت تک کافی تاخیر ہوچکی تھی۔

اطلاعات کے مطابق ان کو چیک کرنے والی ایک ڈاکٹر بھی اب حکام کی نگرانی میں ہیں۔ حکام منگا پر اب کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور امکان ہے کہ انہیں 14 روز کے قرنطینہ میں تبدیل کر دیا جائے۔

تاہم اس واقعے سے یہ تعین کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ غلطی مریض کی تھی یا حکام کی۔ کس نے بیرون ملک سے آمد کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: