ایف آئی اے نے عبدالولی خان یونیورسٹی کے لیکچرر کو گرفتار کر لیا، طلبہ کا احتجاج

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی سائبر کرائم برانچ نے عبدالولی خان یونیورسٹی کے پولٹیکل سائنس ڈیپارٹمنٹ کے لیکچرراخترخان کو سوشل میڈیا پر مذہبی اور سیاسی منافرت پھیلانے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔

ذرائع کے مطابق وزیرستان سے تعلق رکھنے والے اختر خان وزیر کو فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی کی سائبرکرائم برانچ نے پیر اور منگل کی درمیانی شب کو علاقہ شیخ ملتون میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا۔

اختر خان وزیر عبدالولی خان یونیورسٹی کے پولیٹیکل سائنس ڈیپارٹمنٹ میں لیکچرر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہے تھے جب کہ ان کا شمارپی ٹی ایم (پختون تحفظ موومنٹ) کے مرکزی رہنماؤں میں ہوتا ہے۔

لیکچرر اختر وزیر کے وکیل شہاب خٹک کے مطابق اختر وزیر کو سائبرکرائم کی دفعہ 10اور دفعہ 11 کے تحت گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ان دفعات کے تحت کسی شخص کو اجازت نہیں ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر مذہبی اور سیاسی منافرت پھیلائے۔

پولیٹیکل سائنس کے لیکچرر کو منگل کے روز پشاور کی عدالت میں جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کے بعد جوڈیشل ریمانڈ پر پشاور جیل منتقل کردیا گیا۔

یونیورسٹی طلبہ کا گرفتاری کے خلاف احتجاج

مردان میں آج عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علموں نے گرفتار لیکچرر کی رہائی کے لئے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ طلبہ کی جانب سے پروفیسر اختر خان کے حق میں نعرے بازی کی گئی ۔ مظاہرین’ٹیچرکوعزت دو، رہا کرو، رہا کرو اخترخان کو رہا کرو، ظلم کے ضابطے نہیں مانتے‘ جیسے نعرے بلند کرتے رہے۔

مردان پریس کلب کے سامنے پولیٹیکل سائنس ڈیپارٹمنٹ کے طالب علموں کا مطالبہ تھا کہ ان کےاستاد اختر خان کی گرفتاری کی وجہ سے ان کی پڑھائی متاثرہورہی ہے لہذا انہیں جلد از جلد رہا کیا جائے۔ احتجاجی طلبہ کا کہنا تھا کہ پولیٹیکل سائنس ڈیپارٹمنٹ کے لیکچرر اختر خان بے گناہ ہیں اور وہ کسی قسم کے منافرت پھیلانے میں ملوث نہیں جب کہ اظہار رائے کی آزادی ہر شہری کا حق ہے۔

احتجاج میں شرکت کرنے والے پولیٹیکل سائنس کے طالب علم احتشام جاوید نے برطانوی نشریاتی ادارے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ہمارے استاد کی گرفتاری سے ہماری پڑھائی متاثرہورہی ہے جب کہ لیکچرار اختر خان سے کبھی بھی کلاس میں منافرت پھیلانے والی باتیں نہیں سنیں۔ وہ ایک ذہین استاد تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی آئے کے سائبرکرائم ونگ نے انہیں سوشل میڈیا پر اپنی رائے کا اظہار کرنے پر گرفتارکیا ہے جو کہ سراسر زیادتی ہے۔ ایک جمہوری نظام میں ہر شہری کو اپنی رائے کی اظہارکا حق آئین دیتا ہے۔ ایک لیکچرار کو رائے کا اظہار کرنے پر گرفتار کرنے سے طلبہ پر غلط اثر پڑھے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ لیکچرار اخترخان کوہمارے پڑھائی کی خاطرجلد از جلد رہا کیا جائے۔‘