طلبہ یکجہتی مارچ منتظمین کے خلاف مقدمات درج، چیئرمین لبریشن فرنٹ، ایمنسٹی انٹرنیشنل و دیگر کی مذمت

جموں‌کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ، انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل،جموں‌کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے رہنماؤں‌کے علاوہ دیگر سیاسی و سماجی رہنماؤں‌نے نے پاکستان کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طلبہ کے پرامن مظاہروں پر کیا جانے والا کریک ڈاؤن بند کریں۔ عالمگیر وزیر کو فی الفور بازیاب کیا جائے اور لاہور میں‌ طلبہ یکجہتی مارچ کے منتظمین کے خلاف درج کیا گیا مقدمہ فی الفور واپس لیا جائے.

ایمنسٹی نے مظاہرین میں سے ایک عالمگیر وزیر کو رہا کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے جو مبینہ طور پر سنیچر سے پنجاب یونیورسٹی کے لاہور کیمپس سے لاپتہ ہیں جبکہ اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ رپورٹ میں نامزد دیگر کارکنان کو بھی گرفتار کر لیا جائے گا۔

تنظیم کی جانب سے یہ بیان تب سامنے آیا ہے جب اتوار کو لاہور پولیس نے شہر کے مال روڈ پر طلبا یکجہتی مارچ کے سینکڑوں شرکا کے خلاف مقدمہ درج کیا۔

یاد رہے کہ جمعے کو لاہور سمیت پاکستان بھر میں سینکڑوں طلبا نے اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہوئے مارچ کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا تھا۔

کراچی، لاہور اسلام آباد اور پشاور سمیت کئی شہروں میں طالب علم اور نوجوان اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

لاہور میں ناصر باغ سے شروع ہونے والے اس مارچ میں طلبا کی بڑی تعداد نے پنجاب اسمبلی کے باہر پہنچ کر ’انقلاب انقلاب‘ کے نعرے لگائے اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔

کیا مقدمہ درج کیا گیا ہے؟
اتوار کو درج کی جانے والی پولیس ایف آئی آر میں الزامات عائد کیے گئے ہیں کہ 250 سے 300 افراد پر مشتمل ریلی کے مقررین نفرت انگیز اور اشتعال انگیز تقاریر اور نعرے بازی کر کے طلبا کو اکساتے رہے۔

مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 124 (اے)، 290، 291، پنجاب ساؤنڈ سسٹم (ریگولیشنز) ایکٹ 2015، اور پنجاب امنِ عامہ آرڈیننس 1960 کے تحت درج کیا گیا ہے۔

لاہور پولیس نے اس احتجاج کے خلاف درج اپنی رپورٹ میں پروفیسر عمار علی جان اور سماجی کارکن فاروق طارق سمیت مشال خان کے والد اقبال لالا کو بھی ایف آئی آر میں نامزد کیا ہے۔

مشال خان کو عبدالولی خان یونیورسٹی میں سنہ 2017 میں مبینہ طور پر توہین رسالت کے الزام میں طلبا نے تشدد کرکے ہلاک کر دیا تھا۔

ان کے والد نے جمعے کو لاہور میں ہونے والے احتجاجی مارچ میں شرکت کی تھی۔

اس کے علاوہ ایف آئی آر میں محمد شبیر اور کامل خان سمیت رکنِ قومی اسملبی علی وزیر کے بھتیجے عالمگیر وزیر کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

عالمگیر وزیر کہاں ہیں؟
رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے نے اپنی ایک ٹویٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کے طالبعلم عالمگیر وزیر کو یونورسٹی سے چند نامعلوم افراد اٹھا کر لے گئے ہیں جو ’انتہائی شرمناک‘ ہے۔

انھوں نے عالمگیر وزیر کو مبینہ طور پر پنجاب یونیورسٹی کے لاہور کیمپس سے لاپتہ کیے جانے کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب پنجاب یونیورسٹی کے چیف سکیورٹی آفیسر ریٹائرڈ کرنل عبید نے بی بی سی کی نامہ نگار ترہب اصغر کو بتایا کہ عالمگیر وزیر کل یونیورسٹی میں آئے تھے۔ ان کے مطابق عالمگیر گذشتہ سال یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کر کے فارغ ہو چکے ہیں اور وہ یہاں اپنی سند کے حصول یا کسی اور کام کے سلسلے میں آئے تھے۔

کرنل عبید نے کہا ہے کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج سے تصدیق ہوئی ہے کہ ’گذشتہ روز یونیورسٹی میں سرکاری نمبر پلیٹس والی گاڑیاں داخل ہوئیں تھیں اور یونیورسٹی میں کارروائی ہوئی تھی۔‘

مگر ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھوں نے کسی کو عالمگیر کو اٹھاتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ شام ساڑھے پانچ بجے موبائل لوکیشن سے معلوم ہوا کہ عالمگیر وزیر برکت مارکیٹ میں ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اطلاعات کے مطابق اس وقت عالمگیر وزیر سول لائن تھانے میں موجود ہیں اور ان کے خلاف پولیس نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

دوسری جانب طلبا تنظیموں کے نمائندوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جب وہ اپنے وکیل کے ہمراہ سول لائن تھانے میں گئے تو پولیس کا کہنا تھا کہ نہ ہی عالمگیر ان کی حراست میں ہیں اور نہ انھیں پتا ہے کہ وہ کہاں پر ہیں۔

طلبہ نے عالمگیر وزیر کو لاپتہ کئے جانے کے خلاف لاہور میں‌کیمپس پل پر احتجاجی دھرنا دیا اور عالمگیر وزیر کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا.

چیئرمین لبریشن فرنٹ کا مذمتی بیان
جموں‌کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ نے روزنامہ مجادلہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ یکجہتی مارچ پورے پاکستان، گلگت بلتستان اور جموں‌کشمیر میں‌منعقد کئے گئے، طلباء و طالبات نے انتہائی پر امن انداز میں‌اپنے جمہوری مطالبات حکمرانوں‌کے سامنے رکھے، طلبہ یونین کی بحالی سمیت دیگرطلبہ مسائل کے حل کا مطالبہ کیا گیا. حقوق کی آواز اٹھانے پر طلبہ یکجہتی مارچ منظم کروانے والوں‌کے خلاف مقدمات شرمناک اقدام ہے، اور ایک طالبعلم رہنما کو سکیورٹی اداروں‌کی جانب سے لاپتہ کیا جانا آمریت اور ریاست جبر کی مثال ہے.

انہوں نے مطالبہ کیا کہ فی الفور درج کئے گئے مقدمات واپس لئے جائیں، عالمگیر وزیر کو فوری بازیاب کروایا جائے اور طلبہ کے جائز مطالبات کو حل کرنے کےلئے عملی اقدامات کئے جائیں. مشال خان کے والد اقبال لالہ، فاروق طارق، عمار علی جان، عالمگیر وزیر، محمد شبیر اور کامل خان کے علاوہ دیگر نامعلوم تین سو افراد کے خلاف ایک جعلی مقدمہ درج کرنا حکمرانوں‌کی بوکھلاہٹ کانتیجہ ہے.

این ایس ایف کی جانب سے احتجاج کی دھمکی
دوسری طرف طلبہ یکجہتی مارچ منعقد کروانے والی طلبہ ایکشن کمیٹی کی رکن تنظیم جموں‌کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سابق صدور، موجود صدر کے علاوہ دیگر مرکزی عہدیداران نے بھی مقدمات کی شدید الفاظ میں‌مذمت کی ہے اور مقدمات فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے، عالمگیر وزیر کو فوری بازیاب کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے. طالبعلم رہنماؤں‌نے دھمکی دی ہے کہ اگر عالمگیر وزیر کو فوری بازیاب نہ کیا گیا تو بھرپور احتجاج کیا جائے گا.

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: