وفاقی وزارت داخلہ نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کا فیصلہ رکوانے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔
ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل طارق محمود کھوکھر نے سیکٹری داخلہ کی جانب سے غداری کیس کا فیصلہ روکنے کے لیے پیر کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ سیکٹری داخلہ سنگین غداری کیس میں شکایت کنندہ ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ’پرویز مشرف کو صفائی کا موقع ملنے اور نئی پراسیکیوشن ٹیم تعینات کرنے تک خصوصی عدالت کو کارروائی سے روکا جائے۔‘
درخواست میں خصوصی عدالت کا غداری کیس کا فیصلہ محفوظ کرنے کا حکم نامہ بھی معطل کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
اس سے قبل سابق صدر پرویز مشرف کے وکیل نے بھی پیر کو سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کا فیصلہ رکوانے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔
جنرل مشرف کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے خصوصی عدالت کا 19 نومبر 2019 کا فیصلہ چیلینج کر دیا ہے۔
وکیل نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ خصوصی عدالت کو 28 نومبر کو سنگین غداری کیس کا فیصلہ سنانے سے روکا جائے۔
مشرف کے وکیل نے اپنی درخواست میں مزید کہا ہے کہ پرویز مشرف سے قانون کے مطابق برتاو کیا جائے۔ ’اس کیس میں مجھے پرویز مشرف کا دفاع کرنے کے حق سے محروم کیا گیا۔‘
وکیل کے مطابق خصوصی عدالت کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل 4 اور 10 اے کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے عدالت سے گذارش کی کہ پرویز مشرف کو صفائی کا موقع ملنے تک خصوصی عدالت کو فیصلہ دینے سے روکا جائے۔
خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں مشرف کی درخواست پر متعلقہ بینچ نے عدالت عالیہ کے اس درخواست کو سننے کے اختیار پر سوال اُٹھایا تھا۔
’مشرف غداری کیس لاہور ہائی کورٹ کیسے سن سکتی ہے؟‘
لاہور ہائی کورٹ نے پرویز مشرف غداری کیس کا عدالتی فیصلہ محفوظ کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کیس لاہور ہائی کورٹ میں قابلِ سماعت ہونے پر قانونی سوال اٹھا دیا ہے۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب کی ہائی کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کے 28 نومبر کو سنائے جانے والے غداری کیس کے فیصلے کو روکنے کے لیے دائر درخواست پرسوال اٹھائے ہیں۔
پیر کو سابق فوجی صدر کی طرف سے دائر درخواست کی سماعت ہوئی تو لاہور ہائی کورٹ میں ان کے وکیل خواجہ طارق رحیم نے عدالت سے استدعا کی کہ خصوصی عدالت کو غداری کیس کا فیصلہ سنانے سے روکا جائے۔
سماعت کے دوران لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے سابق صدر پرویز مشرف کے وکیل سے استفسار کیا، ’آپ یہ بتائیں کہ پرویز مشرف اسلام آباد کے رہائشی ہیں تو لاہور ہائی کورٹ کیسے کیس سن سکتی ہے۔‘
انہوں نے اس بارے میں مثال طلب کی تو پرویز مشرف کے وکیل نے جواب دیا کہ شہباز شریف کا کیس بھی لاہور ہائی کورٹ میں سنا گیا۔
اس پر جسٹس مظاہر علی اکبر نے کہا کہ شہباز شریف لاہور کے رہائشی ہیں۔
’آپ نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے کیوں رجوع نہیں کیا؟‘
پرویز مشرف کے وکیل نے درخواست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ بیماری کی وجہ سے خصوصی عدالت میں اپنا مؤقف پیش نہیں کر سکے۔
انہوں نے مزید استدعا کی کہ قانون کے مطابق کیس کی دوبارہ سماعت کی جائے اور خصوصی عدالت کا فیصلہ محفوظ کرنے کا حکم معطل کیا جائے۔
واضح رہے کہ درخواست گزار کے مطابق خصوصی عدالت نے 19 نومبر کو مؤقف سنے بغیر غداری کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
سابق صدر کی جانب سے دائر کی گئی اس درخوادت میں عدالت میں یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ غداری کیس کی سماعت پرویز مشرف کے تندرست ہونے تک ملتوی کرنے کا حکم دیا جائے اور عدالت صحت کے تعین کے لیے غیر جانبدار میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دے۔
عدالت نے ابتدائی سماعت میں اٹھائے جانے والے درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق دلائل کے لیے کیس کی سماعت ایک روز کے لیے ملتوی کر دی ہے، اب مزید سماعت منگل 26 نومبر کو ہو گی۔
یاد رہے کہ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے دسمبر 2013 میں شروع کیا تھا۔ سابق صدر پر الزام ہے کہ انہوں نے نومبر 2007 میں ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کر کے آئین کی خلاف ورزی کی تھی۔












17 تبصرے “پی ٹی آئی حکومت نے مشروف کے خلاف غداری کیس کا فیصلہ رکوانے کےلئے عدالت سے رجوع کر لیا”